قندیل بلوچ اور ہماری منافقت —- ثاقب ملک کا جواب

1

سلام ان مصنفہ کو جنھوں نے ایک نان یا ڈیڈ ایشو کو اپنی احساس کمتری اور زعم پارسائی کے چکر میں پھر نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ کوئی فلم بناتا ہے تو بنائے کیا ایک دوسرے درجے کی فلم کسی کو معاشرے کا آئیکون بنوا سکتی ہے؟ وہ بھی قندیل بلوچ جیسی مرحوم مگر اپنی زندگی میں ایک بدنام عورت کو؟ یہ ہمارا بزدلانہ رویہ ہے کہ ہم ہر چیز پر جذباتی تقریریں کرتے ہیں اور زبردستی اسلامی اقدار کو گھیسٹ لاتے ہیں۔ معاشرے کی اکثریت قندیل بلوچ کے مظلوم قتل کے ساتھ تھی بس! ورنہ کسی ایک بھی نمایاں سوشل ورکر یا نوجوان لڑکیوں کی نمائندے اداروں اسکولز کالجز نے اسے ہیرو نہیں بنایا تو ہمیں زبردستی کس چیز کی فکر ہے؟ دراصل ہمارے منفی ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ قندیل کو مشہور بھی تو ہمارے ہی لوگوں نے ویڈیوز دیکھ کر اور اسے شئیر کرکے کیا تو کیا ایسے گھٹیا لوگوں کے خلاف بات نہیں ہونی چاہئے؟ یا وہ بھی میڈیا پر تھوپ کر کپڑے جھاڑ لینے چاہیں؟ ہمیں بس ایک پنچنگ بیگ چائیے ہوتا ہے اور آجکل میڈیا وہ پسندیدہ پنچنگ بیگ بن چکا ہے۔ ٹھیک ہے بحثیت مجموعی میڈیا نہایت منفی کردار ادا کر رہا ہے مگر اسکو دیکھنے اور کامیاب کروانے والے ہم اور آپ ہی ہیں۔ اگر عامر لیاقت جیسےسوقیانہ مزاج اینکر کے رمضان شو کامیاب ہوتے ہیں تو ادنی تحائف کے لئے ہمارے لوگ ہی رالیں ٹپکاتے وہاں پہنچتے ہیں اور پھر آنکھیں جما کر دیکھتے ہیں۔ قندیل کی ویڈیوز سینکڑوں بار دیکھ کر اسے کنجری کہنے والے کیا خود ایسے نہیں۔ یو ٹیوب پر میں نے خود ریسرچ کی کہ مجرے والی ویڈیوز کے ویوز اسلامی اور اخلاقی ویڈیوز سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر ہم ان مجروں کو برا کیوں کہتے ہیں؟ نیم برہنہ انڈین ایکٹریس کے مجروں کو ہم پرفارمنس اور آئٹم سونگ کہتے ہیں کیوں؟ اس فحاشی پر کالم کیوں نہیں لکھے جاتے؟ ہماری ایک چوتھائی آبادی ایک ڈیڑھ کمروں کے گھروں میں چھ چھ بچوں اور اسی کمرے میں مزید پیدا ہونے والے بچوں اور انکے ماں باپ کے ساتھ جس شرم و حیا اور مشرقی اقدار کی اوڑھنی لیکر پلتی ہے اس پر ہمارے پیٹ میں مروڑ کیوں نہیں اٹھتے؟ محترمہ “مشرقی اقدار “اگر اپنی آنکھوں کو زحمت دیں تو ذرا ان مجبور اور” فحش” عورتوں کو دیکھ سکیں جو سوزوکی اور ویگنوں میں کسی اہل ایمان با شرع اجنبی کے ساتھ ٹانگیں جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ اقدار کا روحانی روح پرور منظر آپکو ہسپتالوں میں جا کر دیکھنا چائیے جہاں دو دو حاملہ عورتیں ایک بیڈ پر بچے جن کر امت مسلمہ کے اتحاد کا عملی مظاہرہ کر رہی ہوتی ہیں۔
آپ قندیل بلوچ کی فحاشی کو روتے ہیں مگر آپکی آنکھیں ان پیر فقیروں کے آستانوں پر نہیں جاتیں جہاں پیر و مرشد خواتین کا سب کچھ اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام لیکر پامال کرتے ہیں۔ آپ کس اقدار کو روتے ہیں؟ صرف ٹی وی پر کوئی برہنہ نظر نہ آئے؟ آپ سر کے بل کھڑے ہوجائیں آپ ہمارے اندر کے گند کو کب تک روک سکتے ہیں جبکہ وہ گلی گلی بکھرا پڑا ہے؟ آپ لوگ ان بنیادی وجوہات پر بات کیوں نہیں کرتے جن میں بہتری ہوگی تو یہ معاشرہ تب ہی حقیقی اسلامی اقدار کی جانب مائل ہوگا؟ مفتی قوی پر تو ایک لفظ نہ نکلا جو ایک فاحشہ کے گلے لگ کر بیٹھے تھے۔ قندیل بلوچ کو میں اور آپ اپنے گھر نہ بلاتے لیکن مفتی قوی صاحب کیوں فحش نہیں ہوتے؟
قندیل بلوچ پر اگر کسی نے فلم بنانی ہے تو بنائے ریلیزہوگی تو اندازہ ہوجائے گا کہ کیسی ہے۔ جن مثالوں کا حوالہ محترمہ نے دیا ان میں اکثر کو عام لوگ جانتے ہی نہیں۔ فلم تو اسی کی کامیاب ہوسکتی ہے جسے کچھ لوگ جانتے ہوں۔ یہ تو کامن سینس ہے۔ اب اگر کوئی جنید جمشید یا امجد صابری پر فلم بناتا ہے تو اسے طعنہ نہیں دیا جا سکتا کہ باقی مر جانے والے اتنے عظیم سنگرز پر کیوں پر کیوں فلم نہیں بنائی؟ مہدی حسن، نور جہاں اور بڑے غلام خان کا حق پہلے تھا۔
جہاں تک اخلاقی فبرک کی بات ہے تو وہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ کب کا ادھڑ چکا وہ اب ان بے ضرر کالموں سے نہیں جڑے گا۔ اسکے لئے ایک ہمہ جہت تحریک کی ضرورت ہے جس میں خود اخلاقی طور پر مضبوط لوگ اپنی مثال آپ ہوں۔ اخلاق صرف لباس تک ہی محدود نہیں ہے۔ افسوس ہم یہ اخلاقی فبرک صرف عورتوں کا ہی درست کرنا چاہتے ہیں حالانکہ مرد اگر نر کے بچے ہوں تو انکے گھروں سے مضبوط اور اخلاقی اقدار کی محافظ خواتین نکلیں۔ جب اپنے اندر ہی گند ہو تو کس کس کو منع کرینگے؟ نان ایشوز کو چھیڑنا ہی حماقت ہے۔
آپکا درد تو ہمارا مشترکہ درد ہے اس پر اعتراض ہی نہیں۔ لیکن ہم اگر پوری طرح سے مسئلہ کا احاطہ کرنے کے بجائے، صرف جذبات اور اسلام کے حوالے دیکر لوگوں کو کلچرل وار سے بچا کر اپنی اقدار بچانا چاہتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہوگا اور شکست یقینی ہے۔ ہمیں تہہ در تہہ وجوہات کو کھول کر انکو سمجھنا اور پھر انکا تدارک کرنا ہوگا اور پھر معیاری رول ماڈل سامنے لانے ہونگے۔ ایک آدھ بدنام شخصیت پر فلم بننا اسے ہیرو نہیں بنا سکتا نہ ولن لیکن مظلوم موت تو معاشرے پر اثر کرتی ہے اس پر مکمل خاموشی مجرمانہ غفلت ہے۔ جن جن لڑکیوں یا عورتوں کی دوستوں یا بہنوں کو غیرت کے نام پر قتل ہونا پڑا وہ تو ایسی فلم میں اپنا زخم تلاش کرینگی۔ اس پورے کالم میں اس قتل پر بھی دو جملے تنقید کے ہوجاتے تو بہتر تھا۔ ہمارا ایلیٹ طبقہ اخلاقی اقدار کو روز اپنے پاؤں تلے روندتا ہے اس پر گرفت کرنی ہوگی، یہ مڈل کلاس پیروی کرتی ہے۔
آئیں پہلے اپنے گھروں کے گند کو اٹھا کر باہر پھینکیں۔ ہمیں قندیل کے اس بےغیرت بھائی کی طرح بننا ہے جو اپنی بہن کا کھا کر اسی کو ڈنگ مار گیا یا ہمیں وہ بھائی بننا ہے جو صرف اپنی ہی نہیں سب بہنوں کے دوپٹے سنبھالتے ہیں؟ کہاں ہے گھر کی تربیت؟ کہاں ہیں اے گریڈ کے دیوانے والدین؟ ہر گالی میں ہماری ماں بہن ہوتی یہ خالص مشرقی اقدار کب چھوٹے گی؟
یہ ٹی وی چینلز والے کون ہیں؟ یہ پاکستانی نہیں؟ انکی ماں بہنیں نہیں؟ یہ گھٹیا اشتہاروں پر کیوں نہیں بولتے؟ کیوں ہڑتال نہیں کرتے؟ اس وقت اپنی نوکری عزیز ہوتی تو پھر دس بیس برس بعد گلہ نہ کیجئے گا۔ آپ اور ہم ان اداکاراؤں، برینڈرز کمپنیوں کا سماجی بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے؟ یہ غیرت کہاں سو جاتی ہے؟ ہم تو وینا ملک اگر قندیل بلوچ کو سپر اسٹار بنا دیتے ہیں۔ جائیں اپنے گھر جھانکیں کہیں کوئی قندیل بلوچ پیدا تو نہیں ہورہی۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ثاقب بھائی نے حالات کی خوبصورت منظر کشی کی ہے اور ہمیں باور کروانے کی کوشش کی ہے منافقنہ طرز عمل سے باز آنا ہی ہماری ترقی اور احساس ذمہ داری،اخلاقی اقدار پر عمل کا پہلا اور لا زوال زینہ ہو گا۔۔

    ویسے میرا تبصرہ تو ایسے ہے کہ جیسے اندھاا لوگوں کو راہ بتائے کیونکہ ثاقب ملک کی حثیت اور علمی قابلیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔۔۔۔

    ہمارا معاشرہ واقع میں گھٹن زدہ ہے المیہ تو اصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں “وہ ” لوگ بھی روشن خیال یا مثبت خیالی کا مجموعہ نہیں جن کو اپنے سب بلند بانگ دعوے اور کالم “اعتدال پسندی معلوم ہوتی ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: