لیونہ مجرم ہے ۔۔۔ بابر عباس خان

1

نیویارک شہر کے معروف حصہ مین ہیٹن میں واقع عظیم الشان عمارت (helmsle palace hotel) کے مالک رئیل اسٹیٹ کی ایک بہت بڑی ایمپائر کے مالک مسٹر ہیری ہلمسلے ہیں۔ ثروت اور حثیت کی بنا پر انکا شمار امریکہ کی صف اول کی پانچ اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔
یہ ہوٹل مسٹر ہلمسلے کے کاروبار کی کامیابی کا ایک نمونہ ہے کیونکہ 1989 تک جب انکی حسین اور محبوب بیوی (leona mindy )لیونہ مینڈی کو ٹیکس چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ہلمس لے کی کل جائیداد کا تخمینہ پانچ ارب ڈالر تھا۔ ہلمسلے کا کاروبار کئ شہروں پر محیط تھا جس میں 26 دیگر ہوٹل اور کئ ٹریڈ سینٹرز شامل تھے۔ آج کے افراط زر اور شرح تبادلہ کی روشنی میں یہ کہنا درست ہوگا کہ ہلمسلے کی کل جائیداد سو ارب روپے کے لگ بھگ کی تھی۔ جبکہ یہ گھرانہ پچاس ملین ڈالر سے زائد ٹیکس ادا کرتا تھا اور اسکے علاوہ کئ رفاعی کاموں میں مالی اعانت بھی کرتا تھا۔
لیونہ ہلمسلے خود بھی ایک مستعد اور کاروباری زہن کی خاتون تھیں ۔ازدواجی رشتہ میں منسلک ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد لیو نہ نے ہلمسلے پیلس ہوٹل کا اتتظام و انصرام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اتنی کامیاب ثابت ہوئیں کہ بورڈ آف ڈائیریکٹرز نے لیونہ کو تمام ہوٹلوں کا انتظامی سربراہ چن لیا۔ لیونہ نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا اور مسٹر ہلمسلے کے کا روبار نے پہلے سے بہت زیادہ ترقی پائ۔

ہوا یوں کہ مسٹر ہلمسلے نے اپنی با صلاحیت اور خوبصورت بیوی کی کامیابیوں پر اسکو امریکہ کے ایک حسین و دلکش علاقہ میں چھبیس ایکڑ اراضی پر مشتمل رقبہ تحفہ میں پیش کیا جس میں باغات اور ایک محل نما کوٹھی پہلے سے موجود تھے۔
لیونہ جہاں ایک ماہر منتظم تھی وہاں اپنے جاہ و جلال اور حثیت کا بھی ادراک رکھتی تھی اور اس ضمن میں خاصی شاہ خرچ بھی ثابت ہوئ تھی۔ قیمتی اور نایاب اشیا کو حاصل کرنا اسکا جنون تھا اور اسطرح کے شاہانہ شوق ہی محترمہ کو عدالت تک لے گئے۔
لیونہ نے اپنے اس محل کی اپنے مزاج اور اٹھان کے مطابق تعمیر نو اور تزئین و آرائش کا کام اپنی نگرانی میں شروع کروا دیا۔ڈانس ہال کے لئے قیمتی ترین سنگ مرمر خریدا گیا، پھول وپھلدار پودے جو دنیا کے مختلف حصوں سے منگوائے گئے سے گھرے سرد اور گرم پانیوں کے سوئمنگ پولز بنوائے گئے۔ایران، پاکستان اور چین سے اعلی قسم کے قالینوں سے فرش ڈھانپے گئے۔آنے والے مہمانوں کی جمالیاتی تسکین کے لئے رنگا رنگ روشنیوں سے منور فانوس لگائے گئے اور مشہور زمانہ مصوروں کے تخلیقی آرٹ کے ہر ممکن حصول کو یقینی بنایا گیا، کے علاوہ ماہر مجسمہ سازوں نے محل کے مختلف حصوں کی مناسبت سے اعلی مجسمہ سازی کے مظاہرے میں بھی کوئ کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔
تزئین و آرائش کے ان سلسلوں پر اخراجات اندازے سے کہیں زیادہ نکلے جن پر متوقع ٹیکس سے بچنے کے لئے لیونہ نے بعض اشیاء پر اٹھنے والے اخراجات کو ان ہوٹلوں کے کھاتوں میں دکھانے کا انتظام کیا جو اسکی نگرانی میں چل رہے تھے۔اس طرح ان رقوم کو وہ کاروباری خرچ (Business expense) کی مد میں دکھا کر ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔جن فرموں سے یہ قیمتی اشیاء خریدی گئ تھیں انکو طاقتور لیونہ کے کارندوں نے رسیدیں بھی لیونہ کے ذاتی اکاونٹ کے بجائے مختلف ہوٹلوں کے اکاٶنٹس اور مصرف میں دکھانے پر یہ کہہ کر مجبور کیا کہ “آئیندہ کے بزنس کا خیال کرو “۔
کونسا لمحہ مکافات عمل کے سفر کا آغاز بن جائے۔کسی طرح اس “وائٹ کالر گھپلے ” کی خبر ایک غیر معروف اور لوکل جریدہ کو ہوگئ اور اسکے تحقیقاتی سیل نے بڑی کاوش اور سراغ رسانی کے بعد کچھ معلومات حاصل کر لیں۔ایک کمزور اور مقامی سطح کے اخبار کے لئے طاقتور ہملسلے خاندان پر ہاتھ ڈالنا قطعآ آسان نہیں ہو سکتا تھا۔بڑی بحث و تمحیص کے بعد نیو یارک پوسٹ نامی اخبار نے ایک آرٹیکل کے زریعے اس انکم ٹیکس دھاندلی کا انکشاف کیا۔جسے شروع میں ہلمسلے خاندان سے متعلق ایک سکینڈل سے زیادہ کوئ اہمیت نہ دی گئ۔
حکومتی اداروں نے تو برعکس اس معاملہ کو تحقیر کی نظر سے دیکھا کہ یہ کوئ پانچ ہزار ٹیکس ادا کرنے والا شرافت کے لبادے میں ملبوس خائن خاندان نہیں بلکہ یہ تو ایک پچاس ملین ڈالر سالانہ ٹیکس ادا کرنے والا معزز گھرانہ ہے جسکو چند ملین کی ٹیکس چوری کے الزام میں کیسے معتوب کیا جا سکتا ہے۔
جیمز آر ڈی ویٹا اس وقت کے اٹارنی جنرل تھے۔ان کے کسی اسسٹنٹ نے اس آرٹیکل کی ایک کاپی انکی معمول کی فائلوں میں رکھ دی جو فائلوں سے ہوتی ہوئ جیمز کی میز پر پہنچ گئ۔اس “عمومی سوچ “کے خلاف کہ ایسے طاقتور اور امیر و کبیر خاندان ایسے جرائم میں کہاں پکڑے جا سکتے ہیں، کے برعکس اس نے الزامات کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا۔
قانون کی بالادستی مجبور و مقہور اور غریب لوگوں کو سزا دلوانے سے قائم نہیں ہو سکتی جو بسا اوقات تو بجز معاشرے کی نا انصافیوں اور حالات سے مجبور ہو کر جرم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، جنکو پکڑنا بھی آسان اور انکا جرم ثابت کرنا بھی آسان اور سزا تو کمزور ناکردہ جرم کی بھی پا لیتا ہے۔
قانون اور عدالت کا امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب اسکا سامنا کسی بڑے اور طاقتور آدمی سے ہوتا ہے اور یہ امتحان تب اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب یہ بڑا آدمی کوئ گھاک سوداگر بھی ہو”۔
اٹارنی جنرل جیمز آر ڈی ویٹا نے اس بڑے گھرانے پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا جس کا اثر و رسوخ، رعب اور دبدبہ نیویارک کے حلقوں میں خصوصاً اور پورے امریکہ میں عموماً مانا جاتا تھا۔
اگلے تین سال پبلک پراسیکیوٹر اور اٹارنی جنرل کے عملے نے کئ ہوٹلوں اور فرموں کے اکاونٹس کی چیکنگ کرتے، ان فائیلوں اور کاغذات کی نقول حاصل کرتے اور شہر شہر جا کر گواہوں سے گھنٹوں سوال جواب کرنے میں صرف کئے۔اس کہنہ مشق تفتیش اور مکمل چھان بین کے بعد بالاخر ایک دن انہوں نے حکم جاری کر دیا کہ “لیونہ مینڈی ہلمسلے کے خلاف ٹیکس چوری کا مقدمہ درج کیا جائے۔ “
آگ کی طرح پھیلتی اور پورے نیویارک میں سنسنی مچاتی اس خبر پر ہمارے “بڑے اور شریف خانوادوں ” کی طرح جو کہ نہ صرف قانون کی پکڑ میں نہیں آتے اور نہ ہی ثابت شدہ جرم کا اعتراف کرتے ہیں بلکہ اپنے خلاف لگنے والے الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور اعلی خاندانی شرافت پر الزام تراشی قرار دیتے ہیں، ہلمسلے فیملی نے محض ایک سکینڈل قرار دے کر رد کردیا۔
پراسیکیوٹر نے لیونہ پر چار ملین ٹیکس چوری کا مقدمہ پیش کیا جسے لیونہ کے گھریلو اخراجات کا ایک معمولی حصہ کہا جا سکتا تھا۔
استغاثہ کہ جانب سے اٹارنی جنرل کی معاونت کے لئے روڈلف گیومانی پیش ہوئے، یہ وہ روڈلف گیومانی ہیں جو اس وقت نیویارک کے میئر تھے جب نیو یارک میں 11ستمبر کا واقعہ پیش آیا۔اس وقت انکے انتظامات اور حادثہ کو بھرپور ریسکیو کرنے پر انکو بہت سراہا گیا۔گیومانی نے یہ مقدمہ بڑی محنت سے پیش کیا۔گواہان کے بیانات کا استغاثہ کے الزامات سے تعلق کسی بھی مقدمے میں بہت اہم ہوتا ہے اور گیومانی اسے ایک بہترین ترتیب سے پیش کر رہے تھے۔
لیونہ کی جانب سے فوجداری قانون کے صف اول کے وکیل جیرالڈ ایک پوری ٹیم کے ساتھ پیش ہوئے لیکن تین سال کی اٹارنی جنرل اور پراسیکوٹر کی JIT (اصطلاحاً) کی تفتیش اور گواہان کی شہادتیں دستاویزی شواہد سے ایسی مطابقت رکھتی تھی کہ جیرالڈ لیونہ کو اس مقدمہ میں بے گناہ ثابت نہ کر سکے۔ اور 30اگست 1985 کو دو تین یا چار پانچ کی نسبت سے نئ الجھنوں اور گھمن گھیریوں کو جنم دیتا کوئ کنٹراسٹ فیصلہ نہیں دیا بلکہ ایک بہترین شفاف تحقیقات کے نتیجہ میں جیوری نے ایک متفقہ فیصلہ دیا کہ لیونہ کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے۔جیوری کے فیصلے کا اعلان ایک جیوری ممبر کرتا ہے، جو صاحب جج کو فیصلہ سنانے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انکا لہجہ اس قومی چوری کی ملزمہ جو کہ اب ایک ثابت شدہ مجرم تھی کے لئے انتہائ سخت اورتحقیر امیز تھا۔انہوں نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا کہ “لیونہ مجرم ہے”
امریکی قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے کا فیصلہ تو جیوری کرتی ہے لیکن سزا کا تعین جیوری کے اعلان کی روشنی میں مقدمہ پر مامور جج نے کرنا ہوتا ہے چنانچہ فیڈرل جج جان ایم واکر سابق صدر جارج بش کے کزن بھی تھے نے لیونہ ہلمسلے کو چار سال کی سزا اور ٹیکس چوری کی مد میں بچائ گئ رقم کی ادائیگی کے علاوہ ستر لاکھ ڈالر جرمانہ کی سزا سنا ئ۔
عدل و انصاف پر قائم معاشرے ہی خیر کی علامت بنتے ہیں۔ برائ ہر جگہ کم یا زیادہ ضرور پائ جاتی مگر سزا و جزا کے شفاف و عدول نظام کے ساتھ ساتھ اعتراف جرم اور اس پر ندامت بھی ضرور ایک اخلاقی صفت ہے۔فیصلے کے موقع پر لیونہ ہلمسلے کا بیان،
میں تسلیم کرتی ہوں کہ میں ایک سنگین جرم کی مرتکب ہوئ ہوں، میں اس وقت اپنے آپ کو بہت چھوٹا محسوس کر رہی ہوں اور بیحد شرمندہ ہوں۔دل چاہتا ہے کہ زمین مجھے نگل جائے۔میں اس مقدمہ کے دوران یوں محسوس کرتی رہی ہوں جیسے میں ایک بہت ڈراونا خواب دیکھ رہی ہوں ۔مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔
I feel as though i have been living through a night mare for three years۔
اختصار کے باوجود بات طوالت کا شکار ہوتی محسوس ہوتی ہے پر قارئین سے معذرت۔اس مقدمے کی اہمیت اور شہرت کسی طور سے بھی ہمارے ہاں اس وقت عدالت میں موجود انتہائ اہم اور بد نام زمانہ مقدمے سے کم نہیں تھی فیصلے کے دن کے فوٹیجز اور مقدمہ سے متعلق لیونہ ہلمسلے کے انٹرویوز آج بھی یو ٹیوب پر موجود ہیں جس میں لیونہ کے ندامت بھرے مناظر ضرور ایک سبق ہیں۔جس میں وہ اصل سزا اپنی عزت اور وقار کے کھو جانے کو کہتی ہے۔
یہ ہوتو بڑی اہم شے ہے”۔
1999 کے جنرل پرویز مشرف کے ٹیک اوور پر چلنے والے مقدمہ میں عدالت کے اس غیر آئینی حکومت کے جواز، اسکو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور اسکی مدت کے تعین کے فیصلے کے ضمن میں ہوتی بحث کے موقع پر شاہد اورکزئ جرنلسٹ نے آج کے حالات سے میل کھائ ایک بات کہی تھی،
Gradual recovery is
though time consuming but uproots a disease and is better than a faster pain killer۔
علاج مکمل کیا جائے اور فوراً “جمہوریت” بحال کرنے کا نسخہ استعمال کرنے کے بجائے طویل مدت علاج سے بیماری کو ختم کیا جائے۔
دورانیہ ساٹھ دن کا ہو یا چھ سو دن کا قوم اب مکمل علاج چاہتی ہے۔
جج جان ایم واکر کا فیصلہ اور جیمز آر ڈی ویٹا کی تفتیش۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ماضی کا بہترین استعمال “تقابل” ہوتا ہے۔ حالات کا، واقعات کا، اور ان حالات و واقعات کو اپنے زمانے کی مختلف کسوٹیوں پر پرکھ کر ان سے مطلوبہ نتائج اخذ کرنا ہی اصل مدعا ہوتا ہے۔
    وہ قومیں جو ماضی سے سیکھتی نہیں ہیں، جسمانی طورپر جلد ختم ہوجاتی ہیں، ان کی زندگی کا دورانیہ محض تبھی تک ہے جب تک وہ زمین پرہیں، ادھر زمین سے نیچے ہوئیں اُدھر وہ قصہِ پارینہ ہوگئیں۔
    عباس صاحب کی اس تحریر سے جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ کسی قوم کے عروج اور زوال میں عدل و انصاف ایک بنیادی عنصر ہے۔ جس قوم نے اسے فرض رکھا کامیاب ٹھہری، اور جس نے اسے “اختیاری” حیثیت دی وہ داستانوں میں بھی “منفی” پیرائے میں ہی بیان ہوئی۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: