داستان گو ——– ادریس آزاد

0
  • 14
    Shares
تعارف 
 
’’داستان گو‘‘ بنیادی طور پرسائنس فکشن ہے۔اِس ناول کی کہانی میرے ذہن میں ۱۹۹۷ سے ہے، جب پہلی بار میں نے قدرے توجہ سے کلوننگ کی سائنس کا مطالعہ کیا۔داستان گو کا پلاٹ بنیادی طور پر تینوں زمانوں پر پھیلا ہوا ہے، یعنی ماضی، حال اور مستقبل پر۔اس لیے یہ ایک بہت بڑاپلاٹ ہے۔ ۲۰۰۱ میں نے یہ ناول انگریزی میں شروع کیا تھا۔ تب اس کا نام ’’ریڈ ایپل‘‘ یعنی سُرخ سیب رکھاتھا لیکن ایک سو چودہ صفحات لکھ لینے کے بعد میرا ذہن بننا شروع ہوا کہ انگریزی میں نہیں بلکہ مجھے اپنی زندگی کا یہ یادگار ناول اردو میں لکھنا چاہیے۔ اردو میں میرے پہلے کئی ناول موجود ہیں جو زیادہ تر تاریخی پس منظر میں لکھے گئے ہیں۔ جب میں نے یہ ناول انگریزی میں لکھنا شروع کیا تھا تو اس وقت میرے دِل میں اسے سائنس فکشن فلم کی کہانی میں تبدیل کرنے کی خواہش تھی۔ ایسا سوچنے کی بھی ایک وجہ تھی۔ میں ہالی وُوڈ کی تقریباً تمام سائنس فکشن فلمیں شوق سے دیکھتاہوں۔ میں گزشتہ بیس سال سے دیکھتاآرہا تھا کہ ہالی وُوڈ کی زیادہ تر فلمیں جو مستقبل کے پس منظر میں لکھی گئیں، بُری طرح قنوطیت پسند تاثرات کی حامل ہوتی ہیں۔ ایسی فلموں میں ہمیشہ دنیا تباہ ہوجاتی ہے ۔ کوئی بیماری پھیل جاتی ہے یا سیّارہ زمین کے خزانے لوٹنے باہر سے کوئی خلائی مخلوق زمین پر در آتی ہے جو اہلِ زمین کواپنے زومبیز بنالیتی ہے اور لازمی طور پر زمین کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔میری بڑی شدید خواہش ہوتی تھی کہ ’’اُمید‘‘ اور ’’خوشحال مستقبل‘‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھی کوئی فلمیں بنائی جاتیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کبھی نظر نہ آیا۔

میں نے اس ناول میں انسان کا، ایک روشن مستقبل پیش کیا ہے۔ فی زمانہ جس قدر سائنسی ترقیاں ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں ان میں سے زیادہ تر میری نظر میں ہیں۔ چنانچہ میری پوری کوشش ہے کہ ناول میں پیش کی گئی سائنس، منطقی اعتبار سے ، زیادہ سے زیادہ حقیقت کے قریب رہے۔ اکیسویں صدی سائنس کے مزید نئے نئے تصورات کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ہے۔فزکس انسانی عقل کی حدود سے کب کا تجاوز کر چکی ہے۔ بیالوجی، خاص طور پر ٹرانس جینک ریسرچ نے میکنکل دنیا کو بائیو میکنکل دنیا میں بدلنا شروع کردیا ہے۔ بات کلوننگ سے کہیں آگے جاچکی ہے۔آج ہم بے شمار ایسے پرندوں، پودوں اور جانوروں کے بیچوں بیچ رہتے ہیں جو آج سے صرف پچاس سال پہلے دنیا میں وجود ہی نہ رکھتے تھے۔ ٹرانس جینک ریسرچ سے بہت پہلے انسانوں نے ’’سیلیکٹو برِیڈنگ‘‘ کے ذریعے نئی نئی مخلوقات پیدا کرنا شروع کردی تھیں۔ پھرا س کے بعد کلوننگ کا دور شروع ہوا لیکن ابھی کلوننگ اپنے ابتدائی مراحل میں ہی تھی کہ ٹرانس جینک ریسرچ میدان میں اُتر آئی۔ ٹرانس جینک ریسرچ کیا ہے؟ اس کے بارے میں تفصیل جاننے کے لیے قارئین میرے مضامین پڑھ سکتے ہیں، جن میں سے ایک مضمون، ’’بطور انسان یہ ہماری آخری صدی ہے‘‘ کا لنک یہاں پیش کرتاہوں۔ بہتر ہے کہ اس مضمون کو ناول’’داستان گو‘‘ کے عارضی دیباچہ کے طور پرپہلے پڑھ لیں،

اس ناول میں جہاں آپ دیکھیں گے کہ آنے والی دنیا کیسے ہوگی؟ وہاں ساتھ ہی آپ ہمارے ماضی کے بے شمار ایسے تاریخی واقعات بھی پڑھتے چلے جائینگے جو دراصل ارتقائے حیات و ارتقائے عقلِ انسانی کے اہم ادوار ہیں۔ میں نے ناول جس عہد میں شروع کیا ہے وہ آج سے پندرہ سوسال بعد کا دور ہے۔ ناول میں دھیرے دھیرے یہ بھی بتایا جارہا ہے اور بتایا جاتا رہیگا کہ اِن پندرہ سوسال میں ترقی کیسے ہوئی اور کیا ترقی ہوئی۔

یہ ایک طویل کہانی ہے اور کافی عرصہ تک اس کی متواتر اور مسلسل قسطوں کے آنے کے امکانات ہیں چنانچہ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ناول کو اسی صورت شروع کریں جب لمبا انتظارکرسکنے کا صبر کرسکیں۔ابتدائی اقساط میں ناول کا ماحول واضح کیا جائے گا۔ کرداروں کو آہستہ آہستہ اُبھارنے اور مرکزی کردار داستان گو تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔ لیکن وہ قارئین جو میرے ساتھ ساتھ رہینگے، میں پورے یقین سے کہہ سکتاہوں کہ وہ ایک بار ناول کے کردار پوری طرح ڈیولپ ہوجانے کے بعد اِس ناول کو اپنی پسندیدہ ترین کہانیوں میں شمار کرینگے۔

  ادریس آزاد۔ 

داستان گو
قسط نمبر 1
 
جونہی مائمل کا سَر تالاب کی سطح سے برآمد ہوا جامن کے درخت سے ست رنگی پشت والی بُلبلوں کی ایک ڈار فضا میں اُٹھی۔ ساتھ ہی مائمل کے کانوں میں کوئل کی بَنسی بجی۔ مائمل نے سر کو دائیں بائیں جھٹکا تو اُس کے گیسُو ہوا میں لہرائے اور پانی کی ہزاروں بُوندیں کسی ٹُوٹی ہوئی مالا کے موتیوں کی طرح چہار اطراف سے گِریں۔ اُس نے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے چہرے پر آیا پانی ہٹایا اور ’’فُوہ‘‘ کی آواز کے ساتھ منہ میں پکڑی پھُوار سامنے شفاف پانی کے فرش پر اُچھال دی۔ بلبلوں کی ڈار گول گول دائرے میں گھومتی مائمل کے نزدیک آگئی اور پھر کسی پھُوٹتے شَگُوفے کی طرح یوں واپس پلٹی کہ ہوا میں ہی گویا پھول بن گئی۔

مائمل تالاب سے باہر نکل آئی۔ اس نے اپنے بدن کو سفید تولیے میں لپیٹا اور زینے اُترنے لگی۔ قیمتی یاقُوت سے بنائے گئے شفاف زینوں پر مائمل کے گورے پاؤں پڑتے تو پانی اُس کے پیروں سے یاقوتی زینوں پر پھِسل کر تھرتھرانے لگتا۔ تالاب کے زینے اُتر کر مائمل باغیچے کے محراب کی طرف بڑھی۔ یہ رنگارنگ پھولوں سے لدے پیڑ کے طور پر اُگایا گیا ایک محرابی شکل کا دروازہ تھا۔ مائمل باغیچے میں داخل ہوئی۔ سامنے تین حسین وجمیل دوشیزائیں مائمل کا لباس تھامے کھڑی مُسکرا رہی تھیں۔ مائمل بھی اُنہیں دیکھ کر مسکرا دی۔
صبح مبارک مائمل!

نزدیک پہنچنے پر تینوں نے ایک ساتھ مائمل کو صبح کی دُعادی۔ مائمل نے بھی جواب میں اُنہیں دعا دی۔ اِسی اثنا میں مائمل کی نظر دُور سے آتی ہوئے تِتلیوں کے جھُنڈ پر پڑی۔ ہزارہارنگوں کی بڑی بڑی تِتلیاں سیدھی قطار میں مائمل کی طرف آرہی آرہی تھیں۔ مائمل اور تینوں دوشیزائیں مُسکرا کر تِتلیوں کے فن کا مظاہرہ دیکھنے لگیں۔ مائمل کے ٹھیک سامنےپہنچ کر تِتلیاں دائیں بائیں، دو شاخوں میں تقسیم ہوگئیں۔ مائمل نے دیکھا کہ ہرتتلی کے بڑے بڑے پروں پر کچھ نہ کچھ لکھا تھا۔ کسی پر ’’صبح بخیر‘‘ تو کسی پر ’’اُجلادِن مبارک‘‘۔ مارے خوشی کے مائمل کا ہلکا سا قہقہہ فضا میں کھنکھنایا اور لڑکیاں بھی ہنسنے لگیں۔
’’جونیَرز بھی نا‘‘
مائمل نےقہقہہ ختم ہوتے ہی کہا اور پھر سوچنے لگی، ’’جونیَرز کے ہاں کسی دن چکرلگاتی ہوں۔ بچوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے‘‘۔مائمل نے لباس پہنا اور پھر ایک لڑکی کو تولیہ تھماتے ہوئے ہاتھ سے جانے کا اِشارہ کیا۔ تینوں دوشیزاؤں نے احترام میں ہلکا سا سرہلایا اور باغیچے سے باہر کو چل دیں۔ مائمل اب اتنے سارے پھولوں میں اکیلی تھی۔ اُس نے اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھا اور پھر مُٹھی بند کرلی۔ اب جو اُس نے مُٹھی کھولی تو اس کی ہتھیلی پر ایک گلاب سا روشن تھا۔ ہتھیلی پر گویا ٹی وی سکرین سی کھُل گئی تھی جو گلاب سے ملتے جُلتے کسی پھول کی تصویر دکھارہی تھی۔ مائمل نے دوبارہ مُٹھی بند کی اور پھر سے کھولی تو اب اُس کی ہتھیلی پر ایک جوان العمر مرد کی تصویر دکھائی دے رہی تھی۔ مائمل کی ہتھیلی پر چھوٹی سی ویڈیو چلنے لگی۔ مائمل نے نوجوان کو دیکھتےہی سوال کیا،
’’کیا بات ہے نائتلون؟‘‘
’’مائمل! ہم سے تین لاکھ نُوری سال کے فاصلے پر ایک شِپ گزر رہی ہے۔ اس میں انسان ہیں۔ وَرژن ون‘‘
مائمل کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی۔
’’اچھا؟؟ اور یہ کس زمانے کے لوگ ہیں؟‘‘
’’آخری برونز ایج ہے مائمل! ٹھیک اکیسویں صدی عیسوی کا وسط‘‘
مائمل کا تجُسس بڑھ گیا۔ اس نے خوشی سے بھرپور لہجے میں کہا،
’’اچھا ٹھہرو! میں آتی ہوں‘‘
مائمل نے مُٹھی دوبارہ بند کی تو ہتھیلی پر کھل جانے والی سکرین بند ہوگئی۔ اب مائمل تیز تیز قدموں سے باغیچے میں رکھے بنچ کی طرف بڑھی۔ بنچ پر بٹھتے ہی اُس نے آنکھیں بند کرلیں اور چشمِ تصور میں دیکھنے لگی کہ وہ ایک شیشے کے ہال میں کرسی پر بیٹھی ہے۔ میز کے دوسری طرف نائتلون بیٹھا ہے۔ مائمل نے بیٹھتے ہی اس سے پوچھا،
’’اچھا! اُن کی تعداد کتنی ہے؟‘‘
’’تین مرد، تین خواتین اور ایک بزرگ یعنی کُل سات انسان ہیں۔ تیرہ بڑے جانور ہیں، جن کے تاریخی نام کُتا، بلّی، خرگوش، چُوہا اور بندر ہیں، پچاس پرندے ہیں جن کے تاریخی نام۔۔۔۔۔ ‘‘
مائمل نے نائتلُون کی بات کاٹ دی،
’’ڈیٹا کی تفصیل بعد میں بتاتے رہنا۔ یہ بتاؤ کہ یہ لوگ کہاں سے آرہے ہیں اور کہاں جارہے ہیں؟‘‘
’’بظاہر تو اینڈرومیڈا گلیکسی سے آرہے ہیں اور سیدھا ارتھ کی طرف جارہے ہیں‘‘
’’اوہ! ارتھ کی طرف؟‘‘
مائمل کی آنکھوں میں ہلکی سی فکر مندی کی جھلک نظر آئی۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئی۔ تھوڑے سے توقف کے بعد اس نے پوچھا،
’’تم نے ’پالما‘‘ کو بتایا؟‘‘
’’نہیں مائمل! آپ کے حکم کے مطابق پہلے آپ کو بتایا‘‘
’’ہممم! تم رُکو!‘‘
مائمل نے خیالوں ہی خیالوں میں خود کو دیکھا کہ وہ ایک لمبی راہداری میں چل رہی ہے۔ راہداری کے دونوں طرف بے شمار کمرے ہیں۔ وہ ان میں سے ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سامنے چالیس کے پیٹے کا ایک خُوبرو شخص میز پر جھُکا کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔مائمل نے اندر داخل ہونے سے پہلے اُلٹے ہاتھ سے ہلکا سا دروازہ کھٹکھٹایا۔
’’میں اندر آسکتی ہوں، آئیسوان؟‘‘
’’اوہ! آئیے آئیے مائمل!‘‘
آئیسوان نامی شخص نے کھڑے ہوتے ہوئے مائمل کو خوش آمدید کہا۔ مائمل میز کے قریب پہنچی، آئیسوان کو سلام کیا اور ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ مائمل سے پہلے آئیسوان نے خود سوال کردیا،
’’خیریت ہے مائمل! آپ کو خود آنا پڑا‘‘
’’برونز ایج، اکیسویں صدی کے وسط میں زمین سے کتنے سیٹلائیٹس یا شِپس خلا میں بھیجی گئی تھیں؟ اور ان میں کیا کوئی ایسی شِپ بھی تھی جس میں سات انسان سوار ہوں؟‘‘
آئیسوان کی آنکھوں میں چمک لہرائی،
’’پروجیکٹ اینڈرومیڈا۔ سات انسان۔ تین مرد، تین خواتین اور ایک بزرگ۔ ارتھ کے ایک ادارے ناسا نے روانہ کیا تھا یہ مِشن۔ اینڈرومیڈا کے ایک سیّارے ’بی سیون سیون تھری‘ کے مدار سے واپس پلٹنا تھا اِسے، لیکن اپنی روانگی کے پہلے سال ہی مِشن کے ساتھ ناسا کا رابطہ کٹ گیا اور پھر کبھی پتہ نہ چل سکا کہ ’پروجیکٹ اینڈ رومیڈا‘ کا کیا انجام ہوا‘‘
’’ہممممم! پروجیکٹ اینڈرومیڈا واپس آرہا ہے اور اس کا رُخ سیدھا اَرتھ کی طرف ہے‘‘
مائمل نے آئیسوان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسے بتایا۔ آئیسوان کی آنکھوں میں نہایت خوشگوار حیرت نمودار ہوئی۔ وہ ہاتھ میں پکڑا پین میز پر رکھتے ہوئے پیچھے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور کسی قدر مُسکراتے ہوئے بولا،
’’اچھا! آپ ارتھ کی وجہ سے پریشان ہیں۔ سمجھ گیا۔ تو اُن لوگوں کو سمجھایا جاسکتاہے۔ اس میں فکرمندی کی تو کوئی بات نہیں‘‘
مائمل، آئیسوان کی بات پر مُسکرا دی،
’’وہی کرنے لگی ہوں‘‘
مائمل نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی آنکھیں بند کیں اور واپس شیشے کے ہال میں پہنچ گئی۔ اب وہ ایک بار پھر نائتلون کے سامنے بیٹھی تھی۔
’’نائتلون! تم اِس وقت کہاں ہو؟‘‘
’’میں شِپ کے ساتھ ساتھ ہی ہوں‘‘
نائتلون نے مائمل کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ تب مائمل نے نائتلون کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دوبارہ پوچھا،
’’تم خود؟ یا تمہارا اوتار؟‘‘
’’میرا اوتار مائمل!‘‘
’’اچھا! یوں کرو! تم خود وہاں پہنچو! اُن لوگوں سے بات کرو! انہیں خوش آمدید کہو! اوریہاں لے آؤ! تم جانتے ہو ہم اُن لوگوں کو اَرتھ کی طرف بھیجنے کے متحمل نہیں ہیں‘‘
نائتلون، مائمل کا حکم سنتے ہی اُٹھ کر کھڑا ہوگیا،
’’جی مائمل! میں اچھی طرح سمجھتاہوں‘‘
اتنا کہہ کر نائتلون شیشے کے ہال سے باہر جانے لگا۔ مائمل اسے کچھ دیر تک پیچھے سے دیکھتی رہی اور پھر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ ابھی تک باغیچے کے بنچ پر ہی بیٹھی تھی۔ اُس کے بال ابھی تک کھلے تھے۔ وہ اپنی زلفوں کو دائیں کندھے پر اکھٹا کرکے سلجھاتے ہوئے سوچنے لگی،
’’یہ لوگ پندرہ سو سال سے خلاؤں میں کیا کرتے پھررہے ہیں؟‘‘
*****************************
’’مسٹر ڈارون! آپ کے لیے پیغام ہے‘‘
ڈارون نے ہاتھ میں پکڑی شاخ کو آرام سے ایک طرف رکھا اور مٹی میں لِتھڑے ہاتھ آپس میں مسلتا اُس خوبصورت نوجوان کی طرف آنے لگا جو ڈارون کی کِیاری کے کنارے کھڑا اُسے بلا رہا تھا۔ نوجوان دراز قد تھا۔ اس کی چوڑی پیشانی اور بڑی بڑی آنکھیں دیکھ کر ڈارون کو اندازہ ہوگیا کہ ’ورژن ٹُو‘ ہے۔ اِسی خیال سے ڈارون نے نوجوان کی کمر کی طرف دیکھا۔ وہاں ایک قدرتی بیک پیک سا تھا۔ ڈارون جانتا تھا کہ یہ بیک پیک نہیں بلکہ نوجوان کے سمٹے ہوئے پَر ہیں۔ ڈارون اپنی پرانی زبان میں زیرِ لب بڑبڑایا،
’’فرشتہ‘‘
نوجوان نے ڈارون کے الفاظ پر کوئی تبصرہ نہ کیا۔ اس کے چہرے پر معصوم مسکراہٹ کھِلی ہوئی تھی۔ ڈارون اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے کہنا شروع کیا،
’’مسٹر ڈارون! آخری برونز ایج، اکیسویں صدی کے وسط کی ایک انسانی شِپ واپس آئی ہے۔ پالما نے ہمارے مہمانوں کے اعزاز میں ایک شام رکھی ہے۔ آپ کو اس خوبصورت محفل میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے مجھے بھیجا گیا ہے‘‘
اکیسوی صدی کے الفاظ سن کر ڈارون کی آنکھوں میں مسرت آمیز چمک نمودار ہوئی۔ ڈارون نے کسی قدر جذباتی انداز میں کہا،
’’ارے یہ تو میرے نزدیک کا زمانہ ہے۔ بہت خوب۔ میں ضرور شرکت کرونگا۔ بہت شکریہ نوجوان!‘‘
نوجوان نے ڈارون کی بات کا جواب مسکراہٹ کے ساتھ دیا۔ کچھ دیرڈارون اس سے مزید معلومات لیتا رہا اور پھر وہ ڈارون سے اجازت لے کر واپسی کے لیے مُڑا۔ ڈارون اُسے جاتاہوا دیکھنے لگا۔ وہ تھوڑی دیر سبزے پر چلتا رہا اور پھرڈارون نے دیکھا کہ اس کی پشت پر موجود ’بیک پیک‘ گویا کھلنے لگا۔ اب نوجوان کی کمر سے دو سُرمئی رنگ کے بڑے بڑے پَر برآمد ہوئے اور وہ ہواؤں میں اُڑنے لگا۔ ڈارون کے چہرے پر نہایت خوشگوار مُسکراہٹ پھیل گئی۔اسی اثنأ میں ڈارون کی نظر ’ایما‘ پر پڑی۔ ایما اپنے وِلا کی بالکنی میں کھڑی ڈارون کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ڈارون نے دور سے ہاتھ ہلایا اور پھر کسی قدر جوشیلے انداز میں گھر کی طرف جانے لگا۔
’’ایما! تمہیں وہ دن یاد ہے، جب میں ’اوریجن‘ تمہارے پاس رکھ کر خود چلا گیا تھا؟‘‘
رات کھانے کے میز پر ڈارون نے ایما سے سوال کیا۔ ایما نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا،
’’ڈارن! تم مجھ سے کتنی بار یہ سوال کروگے؟ ارے وہ بھی کوئی بھولنے والا دن ہے؟ بلکہ وہ رات کاٹنا میرے لیے دوبھر ہوگیا تھا۔ تم ساری ذمہ داری مجھ پر ڈال کر خود چلے گئے تھے۔ لیکن آج تمہارے سوال کرنے کی وجہ مجھے سمجھ آرہی ہے۔ تم اُس شِپ کے مسافروں سے ملوگے تو تمہیں خود بخود اندازہ ہوجائے گا کہ ’پرسنٹیج‘ کا فیصلہ غلط نہیں تھا‘‘
’’میں نے کب کہا کہ ’پرسنٹیج‘ کا فیصلہ غلط تھا۔ میں تو دل سے مانتاہوں کہ انہوں نے جو کیا ہماری خیرخواہی میں کیا۔ اور تم ساتھ تھیں تو مجھے کیا غم۔ ’آرمانول‘ تو کیا کسی نئے دریافت ہونے والے سیّارے پر بھی بھیج دیتے اور مِنرلز ڈھونے کے کام پر بھی لگا دیتے تو بھی میں تب بھی خوش ہوتا‘‘
ڈارون کی بات پر ایما ہنسنے لگی۔ ڈارون بھی ہنسنے لگا۔ کچھ توقف کے بعد ایما نے ڈاروان سے سوال کیا،
’’تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ لوگ ڈیڑھ ہزار سال زندہ کیسے رہے؟‘‘
ڈارون نے ٹِشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے جواب دیا،
’’ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ ٹائم ڈائیلیشن کا شکار ہوئے ہیں۔ کسی ورم ہول میں داخل ہوگئے ہونگے‘‘’’یعنی اُن کے حساب سے ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ہوگا؟‘‘
’’ہاں! ہوسکتاہے وہ چند سال کا عرصہ ہی سمجھ رہے ہوں۔ خیر! یہ تو کل پتہ چلے گا ناں۔ تم آؤگی ساتھ؟‘‘
ایما نے بھی کھانا ختم کرلیا تھا، ’’ہاں! مجھے تو لازمی آنا ہے۔ انسانوں کو اُن قدیم شکلوں اور مزاجوں کے ساتھ دیکھے ہوئے صدیاں ہی گزر گئی ہیں‘‘
ڈارون نے ایما کی بات کی وجہ سے متجسس اور مسکراتی نظروں سے اُس کی طرف دیکھا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے کہا،
’’ہاں! اور میں یہ دیکھنا چاہتاہوں کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والے لوگ کیسے تھے؟ مجھے ان کی ’پرسنٹیج‘ سے بڑی گہری دلچسپی ہے۔ یہ لوگ میرے مطالعہ کے مطابق اس وقت کے نام نہاد پوسٹ ماڈرن عرصہ میں پیدا ہوئے۔ میں دو بڑی جنگوں کے اثرات میں پیدا ہونے والے ’ورژن ون‘ کے بچوں کا کیریکٹر اور ’پرسنٹیج‘ دیکھنا چاہتاہوں‘‘
ایما کو اندازہ تھا کہ ڈارون کے لیے ورژن ون کے خالص نمونوں کی کتنی اہمیت ہوسکتی ہے۔ معاً کسی خیال کے تحت ایما نے سوال کیا،
’’ڈارون! ہم اُن کے ساتھ کون سی زبان میں بات کرینگے؟ میرا مطلب ہے کہ وہ لوگ تو انگلش سمجھتے ہونگے نا؟‘‘
’’ہاں! میں یہ سب بہت پہلے پڑھ چکاہوں۔ میں نے اس پورے عرصہ کی ویڈیوز بھی دیکھ رکھی ہیں۔ اکیسویں صدی کے وسط میں ابھی انگلش موجود تھی۔ ہم ان کے ساتھ انگلش میں ہی بات کرینگے‘‘
*************
دانش کی ذہنی حالت عجب سی تھی۔ اُسے یوں لگتا تھا جیسے وہ مَرے بغیر ہی اُخروی زندگی میں داخل ہوگیاہے۔ نائتلون نے اُن لوگوں کو جو کچھ بتایا تھا وہ اُن کے لیے اتنا عجیب تھا کہ سب کے سب ابھی تک چپ تھے۔ زیادہ تر لوگ ڈرے ہوئے تھے۔ وہ تو اس وقت بھی بُری طرح ڈر گئے تھے جب ان کی شِپ میں اچانک ایک شخص غیب سے نمودار ہوگیا۔ انیتا کی تو چیخیں نکل گئی تھیں۔ دانش اس وقت نیوی گیشن روم میں تھا۔ وہ انیتا کی چیخیں سن کر کاریڈور کی طرف بھاگا۔ اور پھر اس نے بھی اُس اجنبی نوجوان کو دیکھ لیا جس کے چہرے پر بلا کی طمانیت تھی۔ نائتلون اُنہیں قائل کرنے کے بعد الفا سینٹوری کے کسی سیّارے پر لے کر آگیا تھا۔ دانش اور اس کی ٹیم نے خود نیا کورس سیٹ کیا تھا۔ ان کی اپنی زمین ابھی ان سے بہت دور تھی۔ دانش کو ابھی تک نائتلون کی باتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اسے یہ سب کچھ جادُو لگ رہا تھا۔ کبھی اسے لگتا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے اور کبھی وہ محسوس کرتاہے کہ وہ دراصل مرچکا ہے اور یہ سب مرنے کے بعد اُس کے ساتھ پیش آرہاہے۔ وہ اس وقت ایک نہایت عالیشان مہمان خانے کے ایک کمرے میں مقیم تھا۔ ساتھ ہی بیڈ پر ایلس بظاہر گہری نیند سورہی تھی۔ معاً اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی ہو۔ دانش ڈر گیا۔ نئی جگہ، نئے لوگ، پتہ نہیں یہ سب کیا تھا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،
’’کون؟‘‘
’’دانش! میں ہوں انیتا۔ مجھے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے‘‘
دانش کا خوف یکلخت دور ہوگیا۔ اس نے اُٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے انیتا کھڑی تھی۔ دانش نے فوری طور پر بھانپ لیا کہ انیتا روتی رہی تھی۔ دروازے کی آہٹ سے ایلس کی آنکھ بھی کھل گئی۔ ایلس نے انیتا کو دیکھتے ہی سوال کیا،
’’کیا ہوا؟ تم نے تو رو رو کر اپنا حلیہ بگاڑ لیا ہے‘‘
’’پوچھو مت ایلس! اگر اس شخص کی بات سچ ہے اور ہم واقعی ٹائم ڈائلیشن کا شکار ہوگئےہیں تو سوچو! اب زمین پر کوئی بھی ایسا شخص زندہ موجود نہیں ہوگا جسے ہم اپنا کہہ سکیں۔ ہائے میری مما اور میرے پاپا اور میرے بہن بھائی! میں تو خوش تھی کہ بس اب گھر پہنچ کر سب سے ملنا ہے۔ سب کو خوب گلے لگانا ہے۔ لیکن ایلس! سب مر چکے ہیں اور انہیں مرے ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں اور۔۔۔۔ ‘‘
اور پھر انیتا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ دانش نے انیتا کو دلاسہ دینے کی کوشش کی،
’’دیکھو انیتا! اس شخص نے یہ بھی تو بتایا کہ اِن پندرہ سو سالوں میں سائنس نے ڈی این اے کی مدد سے مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا سیکھ لیا تھا۔ اور یہ کہ اب پُرانے لوگوں کو ان کی اپنی اصل یاداشت کے ساتھ موت کی نیند سے جگایا جاسکتاہے۔ اس نے یہ بھی تو بتایا نا کہ ہمیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو ہمارے دَور سے بہت پہلے مر گئے تھے۔ اگر یہ سب سچ ہے تو تمہاری فیملی بھی تو تمہیں دوبارہ مل سکتی ہے نا‘‘
انیتا نے پہلے کسی قدر اُمید افزأ نظروں سے دانش کی طرف دیکھا اور پھر یکدم مایوس لہجے میں کہنے لگی،
’’مجھے اس شخص کی ہر بات جھوٹ لگی۔ وہ کوئی ایلیَن ہے۔ ہم اغوا کرلیے گئے ہیں اور۔۔۔۔۔۔ ‘‘
ایلس نے انیتا کی بات کاٹ دی،
’’یہ کیسے ایلیَنز ہیں جن کی شکلیں ہُوبہُو انسانوں جیسی ہیں؟‘‘
’’شکلوں سے کیا ہے؟ اور تم نے دیکھا نہیں وہ کس طرح غیب سے اچانک نمودار ہوا تھا؟ یہ لوگ شکلیں بدل لینے کے ماہر ہونگے شاید‘‘
انیتا نے بدستور روتے ہوئے کہا۔ دانش نے ایلس کی تائید کرتے ہوئے کہا،
’’وہ ایلیَنز نہیں ہیں۔ وہ ہماری ہی اولادیں ہیں۔ تم تو ہر بات جانتی ہو۔ ٹائم ڈائلیشن کی وجہ سے ہمارا وقت بہت کم گزرا ہے اور زمین پر موجود لوگوں کا وقت بہت زیادہ گزر گیا ہے۔ زمین پر موجود انسانوں نے ہمارے پیچھے بے پناہ ترقی کرلی اور آپس کے لڑائی جھگڑے ختم کردیے۔ اور زمین کے علاوہ کئی اور سیّارے آباد کرلیے۔ تمہیں یاد ہے جب نائتلون کو ہم نے بتایا کہ ہم زمین کی طرف جارہے ہیں تو اس نے جواب میں پہلا جملہ کیا بولا تھا؟‘‘
دانش نے بات کرتے کرتے اچانک انیتا اور پھر اپنی بیوی ایلس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کردیا۔ ایلس نے جواب دیا،
’’اس نے کہا تھا کہ زمین تو ہمارا مانومینٹ ہے‘‘
’’بالکل! میں یہی کہنا چاہتاہوں۔ اس نے کہا کہ زمین توہمارا مانومینٹ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین اب ایک بہت خاص الخاص سیّارہ ہے۔ شاید اسی لیے کہ وہاں قدیم انسانوں کی یادگاریں ہیں، یعنی ہماری۔ تم غور کرونا! زمین پر تو ویسے بھی اب اتنے انسان نہیں رہتے ہونگے جتنے دوسرے سیّاروں پر ہونگے۔ ہم اِس وقت انسانوں، بلکہ بہت اچھے انسانوں کے مہمان ہیں‘‘
انیتانے سسکیاں لینا بند کردیا۔ ایلس نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ دانش کا ذہن مسلسل گردش میں تھا۔’’پندرہ سو سال!!! خدا کی پناہ‘‘دانش نے دل ہی دل میں مناجات پڑھنا شروع کردیں۔ معاً ایلس نے سوال کیا،
’’یہ پرسنٹیج کیا چیز ہے دانش؟‘‘
’’جیسا نائتلون نے بتایا اس کے مطابق تو یہ اُن انسانوں کے لیے بولا جاتاہے جو مرگئے یا پھر ہمارے لیے بولا جاسکتاہے۔ یہ پرسنٹیج ہے، جذباتی شدت کی پرسنٹیج۔ وائیلنس لیول کہہ لو! ٹیمپرامنٹ لیول کہہ لو! یہ لوگ ڈی این اے اور تاریخی ریکارڈ کے ذریعے کسی بھی مرے ہوئے شخص کا پرسنٹیج جان لیتے ہیں۔ اگر کسی بھی فوت شدہ شخص کا پرسنٹیج ساٹھ ہو تو اسے زندہ کرکے اُن سیّاروں پر رکھا جاسکتاہے جہاں یہ لوگ خود رہ رہے ہیں، یعنی وہ سیّارے جہاں انسان وائیلنس پر قابو پانے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جن لوگوں کا پرسنٹیج ساٹھ سے کم ہوتاہے یہ لوگ انہیں دور دراز کے نودریافت سیّاروں پر بھیج دیتے ہیں۔ اُن نو دریافت سیّاروں پر غالباً تعمیراتی یا لائف سائیکل پیدا کرنے کا ابھی بہت کام باقی ہے۔ وہاں رکھ کر وائیلنس والے لوگوں کی تربیت کی جاتی ہے۔ جلد یا بدیر جب ان کی تربیت ہوجاتی ہے تو انہیں پروموٹ کردیا جاتاہے اوروائیلنس کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے اُنہیں کسی سیّارے پر آباد کردیا جاتاہے‘‘
دانش نے جو کچھ نائتلون سے سنا تھا ایلس کے سامنے دہرا دیا۔ ایلس اور انیتا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے گھور رہی تھیں۔ ایلس نے کسی قدر ناگواری کے ساتھ پوچھا،
’’اگر سائنس اتنی ہی ترقی کرگئی ہے تو پھر یہ لوگ مرے ہوئے انسان کو جگانے سے پہلے اس کے ڈی این اے میں سے وائیلنس کو نکال کیوں نہیں دیتے؟‘‘
’’نہیں۔ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا وائرس کے لیے کیا جاسکتاہے اور یہ لوگ کرتے بھی ہیں۔ لیکن وائلنس کے لیے نہیں۔ وہ اس لیے کہ کسی کے ڈی این اے میں سے وائیلنس کو نکالنے کا مطلب ہے اس میں سے ’’غصے اور مسابقت‘‘ کے جینز کا نکال دینا۔ سوچو! اگر انسانوں میں سے غصہ نکال دیا جائے تو معاشرے کا کیا حال ہوگا؟ مثلاً ایک کھیل کا میدان سوچو! کیا دومخالف ٹیموں کے درمیان مسابقت کے جذبہ کے بغیر مقابلہ کروایا جاسکتاہے؟ میرا مطلب ہے جب تک کھلاڑیوں میں مخالف ٹیم کے لیے غصہ نہیں ہوگا وہ کیسے کھیل پائینگے؟ کوئی جیتنے یا مخالف کو ہرانے کے جذبہ کے بغیر کیسے کھیل سکتاہے؟ ضروری ہے کہ زندہ اور باشعور وجود کو تربیت کے عمل سے گزارا جائے۔ عادات بدلی جائیں۔ کوئی اگر غصہ نہ کرے تو اپنی مرضی سے نہ کرے۔ اپنے جذبات پر قابو پا کر بھی سب خوشی خوشی جئیں۔ ایسا وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی باقاعدہ تربیت کی گئی ہو یا پھر وہ بچہ جو کسی بہت ہی اعلیٰ ماحول میں پرورش پائے۔ جیسے کہ یہ لوگ خود ہیں‘‘
ایلس دانش کی بات پر مسلسل سرہلا رہی تھی۔ دونوں لڑکیوں کی آنکھوں میں اُداسی اور حیرت کے گہرے سائے تھے۔ دانش البتہ اداس کم اور متجسس زیادہ تھا۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ آنے والے دن میں ان کے سامنے بے پناہ راز کھلنے والے ہیں۔ ایک ایسی کیفیت میں مبتلا تھے یہ لوگ کہ جس کا ذائقہ اس سے قبل کبھی نہ چکھا تھا۔ ہیجان تھا کہ خدا کی پناہ۔ ایلس نے کسی قدر سہمے ہوئے لہجے میں ایک اور سوال کردیا،
’’اور اگر ہم لوگوں کا پرسنٹیج ساٹھ سے کم ہوا تو؟‘‘

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: