جنسی حیوانیت اور معصوم بچے — فارینہ الماس

0

ہم جس دور میں جی رہے ہیں یہ ترقی اور تیز رفتاری کا زمانہ ہے۔اور ترقی بھی ایسی کہ جس کے حصول کی خاطر بے لگام اور بے قابو انسان ایک ہی جست میں گردش زمان و مکاں کو بھی عبور کرنا چاہے ۔ مشینی دور کی اس جستجو اور طلب میں خود انسان کے اندر در آنے والی مشینی میکانکی کی علامت ایسے لاتعداد واقعات کا تسلسل ہے جو انتہائی غیر انسانی اور بہت حد تک حیوانی ہیں۔کیونکہ یہ واقعات و حادثات انسان کا اس کے احساسات سے عاری ہو جانے کا بین ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ وقت محدودہے اور سفر انگنت منزلوں کا متلاشی۔۔۔۔ لیکن انسان کی ترقی کو دیکھ کر کہیں شبہ ہونے لگا ہے کہ انسان آگے کی طرف جانے کی بجائے کہیں پیچھے ہی کی جانب بھاگتا جارہا ہے ۔ جنگل کا وہی دور جس کی گزر بسر میں حیوانیت اور حیوان پروری کے خصائص غالب تھے ۔وہ خصائص جن کی بہتات میں اس کی جان یا عزت کچھ بھی محفوط نہ تھا ۔ وہ دور جس میں خود اپنی ہی وحشتوں سے نجات میسر نہ تھی ۔ جس کی غیر متمدن طرز زندگی سے چھٹکارے کو انسان نے معاشرے تشکیل دئیے،سماج بنائے ،تمدن کو سنوارا ۔لیکن ہزاروں سالوں کی مسافت سے جڑی وہی تہذیب ،جس کے لبادے کو اوڑھنے اور اپنانے کی تگ و دو میں انسان گھائل ہوتا رہا ، آج جدت ادوار کے کسی کونے کھدرے میں چھپی بیٹھی سسکیاں بھرتی سنائی دیتی ہے ۔ہمیں بربریت کا آسیب اس طور جکڑ چکا ہے کہ ہمارا شعور ہمارا غرور بن کر ہمیں فرعون کے آدرش سجھا تا نظر آرہا ہے۔ ستاروں اور سیاروں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم انسانیت اور تہذیب انسانی کے سرابوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ہم آسماں کو چھونے کے زعم میں خلا ہی میں معلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم اپنے بے جہت اور بے سمت سفر میں الجھے ہوئے ، معلومات کا سبق یاد کرتے کرتے محسوسات کی صفت سے عاری ہو گئے ہیں ۔ بھلا کیا ظلم اور بربریت کے کئی حادثات و واقعات سے لتھڑی اس گزر بسر کو ہم معاشرت و انسانیت کا نام دے سکتے ہیں ۔ جس کے جرائم کچھ اس طرح سنگین ہو چکے ہیں کہ جن کے ہاتھوں فطرت کے جنے معصوم اور پھول سے بچے بھی محفوظ نہ رہے ہوں ۔ جہاں ننھے جسموں کو ابھی مکمل ہو نے سے بھی پہلے نوچ کھایا جائے ۔ان ادھ کھلی کونپلوں کو اپنی حرص اور غلاظت سے لتھڑی طلب کے بے درد قدموں تلے روند دیا جائے ۔ انہیں تمام عمر کے لئے احساس سے خالی اور خوشی سے عاری کر دیا جائے ۔ انہیں اس بے رحم معاشرے کے طعنوں کی بھٹی میں جھونک دیا جائے ۔ ان کے آج اور کل کو ایسا داغدار کر دیا جائے کہ وہ جیتے ہوئے بھی جینے کی امید چھوڑے رہیں اور اسی طرح اپنے احساس محرومی اور احساس کمتری کی بھٹی میں روز مرتے اور جیتے رہیں۔ کیسی اندوہ ناک حقیقت ہے یہ آج کی معاشرت اور ٹیکنالوجی،سائنس اور تعلیم کے انگنت کارناموں اور تسخیروں سے اٹے سماج کی ،کہ یہاں انسان اپنی حیوانی جبلتوں کی تسکین ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی روح کو بے دردی سے مسل کر ممکن بنانے لگا ہے، جو اس اذیت ناک کیفیت اور اس کے مجروح احساس سے پھر عمر بھر نکل نہیں پاتے ۔نتیجتاً وہ بعد ازاں معاشرے سے اس استحصال کا بدلہ اپنے تلخ اور منفی رویے سے لیتے ہیں ۔وہ قاتل اور دہشت گرد بھی بن سکتے ہیں ،وہ اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ بھی کر سکتے ہیں یا پھر تمام عمر جرائم یا نشے کی دلدل میں دھنس کر اس سماج کا ناسور بنے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بچوں سے ہونے والے جنسی استحصال کی صورتحال صرف ایشیا، مشرق وسطیٰ یا معاشی طور پر پسماندہ افریقی ممالک میں ہی نظر نہیں آتی بلکہ یورپ بھی اس ناسور کا بری طرح شکار ہے۔پوری دنیا میں تقریباً چالیس ملین بچے جنسی استحصال کا شکار ہیں ان بچوں کی اوسط عمر پندرہ سال تک کی ہے ادارہءعالمی صحت کے مطابق 2001 سے 2004ء تک 150 ملین لڑکیاں اور 73ملین لڑکے زبردستی جنسی استحصال کا شکار بنائے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ ہی میں ہر سال بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تقریباً بیس ہزار کے قریب کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔ روس میں یہ تعداد دس سے گیارہ ہزار کے قریب ہے اور محض انگلینڈ میں ہی ان کی تعداد 16000کے لگ بھگ ہے۔ جب کہ آسٹریلیا میں ہر سال بچوں سے ہونے والے جنسی جرائم کے تقریبا 50,000کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ان کیسز میں اکثر بچوں کا انجام کار شدید طور پر گھائل ہونا یا موت کے منہ میں چلے جانا ہے ۔ لاتعداد بچوں کو تو اس گھناؤنے فعل کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے ۔ 2012 ءمیں پوری دنیا میں تقریباً 95 ہزار بچوں کو اس جنسی فعل کے بعد قتل کر دیا گیا ۔ ترقی پزیر یا غربت کا شکار ملکوں میں بھی یہ صورتحال مختلف نہیں ۔ یہاں بچوں سے جبری مشقت کی ایک بدنما اور مکروہ شکل معصوم بچوں کو جنسی کاروبار میں استعمال کرنا اور انہیں معمولی قیمت پر غربت کا شکار والدین سے خرید کر اس کاروبار میں جھونک دینا ہے ۔ انہیں پورن فلموں یعنی فحش فلموں میں استعمال بھی کیا جاتا ہے ۔ 2010ءمیں تھائی لینڈ اور برازیل بچوں کو جنسی کاروبار کے لئے سمگل کرنے والے ملکوں میں سرفہرست تھے۔چائلڈ سیکس ٹورزم دنیا میں عام ہے اور اب تو یہ کاروبار کئی ہزار ملین ڈالرز پر پھیل چکا ہے۔ اس کاروبار سے دنیا کے تقریباً دو کروڑ بچے منسلک ہیں جن میں ذیادہ تر تعداد جبراً اس کاروبار سے وابستہ ہے ۔ان میں سے اغوا کئے گئے بچے یا غربت سے لتھڑے والدین سے چند روپوں میں خریدے گئے بچے شامل ہیں۔یا پھر کچھ سکوں کے عوض اپنے لئے نئے جوتے،کپڑے کھانا یا کھلونے خریدنے کی حسرت اور خواب لئے بچے اس جبر واستحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں ہر سال بچوں سے جنسی ذیادتی کے تقریباً سات سے آٹھ ہزار واقعات جب کہ بنگلہ دیش میں تین ہزار ، پاکستان میں دو ہزار اور افغانستان میں اٹھارہ ہزار واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ کئے جاتے ہیں جب کہ ان ممالک میں بچوں سے جنسی ذیادتی کے اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے ۔ یہاں تک کہ بچوں کی نشاندہی کے باوجود انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر ان کے ساتھ ہونے والے ایسے کسی حادثے کو سرے سے مانا ہی نہیں جاتا۔ بچوں کے جنسی استحصال کے دیگر واقعات میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جو خانہ جنگیوں یا ملکی بدحالی کی صورت میں دوسرے ممالک میں پناہ گزین بننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یورپ میں شامی پناہ گزینوں میں شامل بچوں خصوصاً جن کا کوئی سرپرست زندہ نہیں رہا ان سے ایسی بدسلوکی کے واقعات بہت عام ہو چکے ہیں ۔ خود اقوام متحدہ کے امن دستوں کے فوجیوں کی طرف سے بھی ایسی بد سلوکی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ مذہبی عبادت گاہیں اور تربیت گاہیں اور یتیم بچوں کی پناہ گاہیں بھی اب بچوں کے لئے محفوظ نہیں رہیں۔ یورپ میں تو کئی بڑی درسگاہوں کے اساتذہ ہی اپنے شاگرد بچوں سے ایسی بدفعلی کے مرتکب پائے گئے ہیں ۔افغانستان میں “بچہ بازی” جیسے فعل سے خوبرو لڑکوں کو امیر لوگوں کے ہاتھوں بیچا جاتا ہے جو پہلے انہیں رقص کی محفلوں میں استعمال کرتے ہیں اور پھر ان سے بد فعلی کرتے ہیں۔
پاکستان کی چالیس فیصد آبادی پندرہ سال سے کم عمر افراد پر مبنی ہے ۔ اور دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر چار میں سے ایک بچی جب کہ ہر چھ میں سے ایک بچہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی استحصال کا شکار ہو چکا ہوتا ہے ۔ ہمارے ملک میں ذیادہ تر بچے کم سنی میں اپنے خاندان ہی کے کسی فرد کے ہاتھوں اس استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں ۔جس کی بنیادی وجہ خاندان کا ضرورت سے ذیادہ وسیع ہونا اور ذیادہ تر خاندانوں میں مشترکہ خاندان کی روایت کا موجود ہونا ہے ۔ جہاں ایک ہی گھر میں تایا ،چچا، کا موجود ہونا بچوں کو غیر محفوظ کر دیتا ہے ۔بچوں کے اپنے چچا،تایا،ماموں یا خالو کے ہاتھوں اس جبر کے شکار ہونے میں مجرم کے ساتھ ساتھ خود والدین کی غفلت اور لاپرواہی کا بھی ہاتھ ہوتا ہے ۔ ایسے کیسز میں بچوں کا استحصال ذیادہ تر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے یا فحش گفتگو سے بھی ہوتا ہے ۔بیمار اذہان کے حامل افراد ان کے جنسی اعضاءکو چھو کر بھی اپنی تسکین پا لیتے ہیں۔بچوں کے جنسی استحصال کے رونما ہونے والے ذیادہ تر واقعات میں سوتیلے باپ اور سوتیلے بھائی کا بھیانک روپ بھی ابھر کر سامنے آیا ہے ۔عموماً بچوں کو ان کی کسی غلطی کو راز رکھنے کا جھانسہ دے کر بھی انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے ۔ یا ڈرا دھمکا کر بھی ایسے فعل میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ بچوں کو جنسی آسودگی کے لئے استعمال کرنے کا ان مجرموں کو ذیادہ تر فائدہ ان بچوں کو خوف میں مبتلا رکھنے اور اس خوف میں زباں بند رکھنے سے ہی میسر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں 2014ءمیں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے تقریباً 2278 واقعات رپورٹ ہوئے ۔جب کہ 2015 میں ان واقعات کی تعداد ساڑھے تین ہزار تک پہنچ گئی۔ ذیادہ تر گھریلو سطح پر رونما ہونے والے ایسے واقعات کو تو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔ دیگر واقعات میں بھٹوں یا کارخانوں میں کام کرنے والے یا جبری مشقت پر مامور بچے خصوصاً گھریلو ملازمت پر مامور بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔ مدرسوں کے اساتذہ کی طرف سے بچوں کے ساتھ ایسی بدفعلیاں بھی جڑ پکڑ رہی ہیں ۔ پاکستان میں پورن انڈسٹری میں بھی بچوں کو جھونکا جانے لگا ہے جو کہ ایک بہت ہی مکروہ فعل ہے۔
قصور اور پھر سوات میں پکڑے جانے والے گروہوں کو اسی قبیح کاروبار میں ملوث پایا گیا جو بچوں کی ویڈیوز بناتے اور انہیں بلیک میل کرتے۔ 2015 ءمیں چھپنے والی ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور کا جناح پارک کمسن سیکس ورکروں کا گڑھ بن چکا ہے ۔ غریب اور کم سن بچوں کو استحصال کی اس راہ پر ڈالنے والے خود ان کے رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔ اس پارک کو رات کے اندھیروں میں اس مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں سے امیر لوگ بچوں کو مہنگے ہوٹلوں میں بھی لے جاتے ہیں۔
پاکستان میں اس مکروہ فعل کی ایک روایت عرب شہزادوں کو شکار کے دوران معصوم بچے اور بچیاں ان کی عیاشی کے واسطے فراہم کرنے کی بھی قائم کی گئی ہے ۔ جس کے دوران بچوں خصوصاً بچیوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے ۔اور انتہائی بے غیرتی کا باعث ہے یہ امر کہ اس ساری کاروائی میں کسی حد تک ہماری حکومتوں کی سرپرستی بھی موجود رہتی ہے ۔گویا بچے اب ہمارے معاشرے کے بدکردار اور بدقماش عناصر کے ہاتھوں محض ایک کھیلنے کی شے بنتے جا رہے ہیں اور ہماری بے حسی ا س بھیانک کھیل کی پر ورندہ بن چکی ہے ۔ اس سے ذیادہ وحشت کی مثال کیا ہو گی کہ اب اس انسانی معاشرے کے جنسی اشتہاءکی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں دو سال اور تین سال کے بچے بھی آنے لگے ہیں ۔
ابھی یہ آرٹیکل لکھنا ختم بھی نا ہوا تھا کہ خبر پڑھنے کو ملی کہ بھارت میں ایک چالیس سال کے مرد نے محض ایک ڈیڑھ سال کی بچی کو اپنی حوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایک اور دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات بھی اب گینگ ریپ کی شکل اختیار کرنے لگے ہیں ۔جیسا کہ حال ہی میں سندھ کی ایک کم سن گھریلو ملازمہ سے گینگ ریپ کا واقعہ سامنے آیا ۔ گویا انسان انتہاؤں کو چھونے کے اشتیاق میں اپنے غیر انسانی اور گھٹیا رویوں کی ان انتہاؤں کو چھونے لگا ہے کہ انہیں دیکھتے ہوئے اب دنیا کے اختتام کا اشارہ بھی سمجھ میں آنے لگا ہے ۔ جہالت،ظلم و بربریت اور وحشت کی انتہاؤں کے آگے اب اختتام کے سوا کچھ دکھائی دے بھی نہیں سکتا ۔ اس ظلم کا قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ ایسے واقعات میں اکثر مجرم سزا سے بچ جاتے ہےں ۔ اور اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں ابھی تک اس جرم کو سنگین جرم سمجھا یا مانا ہی نہیں گیا۔ الٹا کچھ معاشرے اسے قانوناً جواز دلوانے کے درپے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں چائلڈ سیکس ٹورزم کے خلاف کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں۔ معاشرے کی اس بڑھتے ظلم اور وحشت کا کا راستہ تو قانون کو مضبوط بنا کر اور ایسے مجرموں کو سخت سزائیں دے کر ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔لیکن گھریلو سطح کے استحصال سے بچوں کو بچانے کے لئے جہاں افراد خاندان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے وہیں خود بچوں کے افعال ، ان کی عادات کو بھی جانچتے رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں اس سلسلے میں وقت کے ساتھ ساتھ آگاہی دینا والدین کا فرض ہے تاکہ بچوں کو آنے والے حالات سے آگاہ رکھ کر ان کی مثبت تربیت کی جا سکے ۔انہیں ان کے بچاؤ اور تحفظ کے طریقے بھی سمجھائے جا سکیں ۔
معاشرے سے رخصت ہوتی انسانیت اور انسانی صورتحال کو سمجھتے ہوئے والدین کو بچوں کے معاملے میں اپنے ہمسایوں،رشتہ داروں،دوست احباب ، دوکانداروں،حتیٰ کہ اساتذہ تک پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ وہ مرد جو بیروزگار ہیں یا جن کی شادی بر وقت نہیں ہو پاتی وہ بھی جنسی طور پر مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور اس فرسٹریشن کو وہ جنسی حملوں سے دور کرتے ہیں ۔لہذا مجموعی طور پر خاندان کو ایسے افراد کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے۔ایسے واقعات کے تسلسل کی وجوہات میں کہیں نہ کہیں والدین کی کمزور پڑتی تعلیم و تربیت کا بھی ہاتھ ہے۔ شاید والدین بھی اب تربیت سے منہ پھیر چکے ہیں اور اپنے معاشی مفادات کے حصول کے تحت محض بچوں کی ڈگریوں اور اعلیٰ ملازمتوں سے ہی غرض رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تربیت ہی کی خامی ہے کہ ہمارے معاشروں میں ایسے واقعات تسلسل سے ہونے لگے ہیں۔ ورنہ شاید انسانیت سوز حادثے یوں اس سرعت سے انسانی سماج کو داغدار نہ کرتے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: