ڈان لیکس کا معمہ —– سلمان عابد

0

پاکستان کی قومی سلامتی، داخلی خودمختاری اور سیکورٹی کے سوال کا تعلق کیا محض طاقت کے چند اداروں تک محدود ہے یا اس کا ایک براہ راست تعلق ریاست میں موجود عوام سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ بنیادی طور پر قومی ریاست کی سیکورٹی کا تعلق محض عسکری بنیادوں سے نہیں بلکہ یہ مجموعی طور پر ریاست کی سیاسی ،سماجی ، معاشی اور انصاف پر مبنی پالیسیوں اور اس کے لوگوں کے ساتھ جڑے تعلق سے ہے ۔ لیکن ہمارے یہاں سیکورٹی ،سلامتی اور داخلی و خارجی خود مختاری کو فوج اور حکومت کے اداروں تک محدود ہوکر دیکھا جاتا ہے ۔
حال ہی میں جو ایک حساس نوعیت کا مسئلہ ڈان لیکس کی صورت میں حکومت اور فوج کے درمیان تحفظات کی صورت میں سامنے آیا اس نے ایک بار پھر سول ملٹری تعلقات میں سنگینی کا احساس دلایا تھا ۔بالخصوص حکومت نے اس رپورٹ کی بنیاد پر جو ابتدائی فیصلے کیے اس پر فوج کی جانب سے نامکمل اور مسترد کرنے کا سخت ردعمل آیا جس سے صورتحا ل اور زیاد ہ سنگین ہوگئی ۔
اگرچہ اب حکومت اور فوج کے درمیان ڈان لیکس پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ۔ اس اتفاق رائے میں فوج کی جانب سے سخت لفظوں پر مبنی ٹویٹس کو بھی واپس لے لیا گیا ہے اور وزیر اعظم کی حیثیت سمیت جمہوری اداروں کی خود مختاری کو بھی تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ فوج کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا گیا کہ فوجی ٹویٹس پر بلاوجہ فوج اور حکومت کے درمیان میڈیا سمیت کچھ قوتوں نے مسائل پیدا کیے۔ اس میں کوئی شک نہیں فوجی ترجمان جس نے یقینی طور پر فوجی قیادت کی مرضی سے ٹویٹس کیا تھا ، وہ مناسب عمل نہیں تھا ۔ اس لیے اگر ٹویٹس کے الفاظ کو واپس لیا گیا ہے تو یہ مناسب عمل ہے اور اس کی تعریف کی جانی چاہیے ۔لیکن کیا اس رپورٹ کو میڈیا نے خوب اچھالا یا جو ردعمل فوج کا تھا اس کی بنیاد پر میڈیا نے گرم جوشی دکھائی ، فوج کو اس پر غور کرنا چاہیے ۔
لیکن جو وزارت داخلہ نے اعلامیہ جاری کیا اس میں اور فواد حسن فواد کی طر ف سے جاری کردہ مندرجات میںصرف پرویز رشید کے نام کا اضافہ تھا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس ڈان لیکس پر اعتراض بھی فوج کی جانب سے آیا تھا ، عدالتی کمیشن بھی ان ہی کی خواہش پر بنا اور جن تین لوگوں کو اس میں قربان کیا گیا جن میں طارق فاطمی ، پرویز رشید اور راو تحسین شامل ہیں اس میں بھی فوج کی رضا مندی شامل ہوگی ۔ اب اگر فوج کہتی ہے کہ اس کے ڈان لیکس پر تحفظات ختم ہوگئے ہیں او رمعاملات خوش اسلوبی سے طے ہوگئے ہیں تو اس کو سب فریقین قبول کریں، لیکن جو سوالات ہیں وہ ابھی بھی مبہم ہیں ۔حکومت نے ڈان لیکس پر سخت موقف اختیار کرکے اپنی رٹ کو تسلیم کروایا ہے اور بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ فوجی بالادستی کے مقابلے میں جمہوری بالادستی کی جیت ہے ۔
یقینا وزیر اعظم نواز شریف او ران کے ساتھی خوش ہونگے کہ ان پر ڈان لیکس کا جو بڑا بوجھ تھا وہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے اور ان کے سیاسی مخالفین اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر ان کے جو بڑا طوفان پربرپا کرنا چاہتے تھے ان کو ناکامی ہوئی ہے ۔لیکن ڈان لیکس کے معاملے میں حکومت اور فوج کے درمیا ن سمجھوتے کے حوالے سے چند بنیادی نوعیت کے سوالات اب بھی موجود ہیں اور یہ کھیل ختم نہیں ہوا بلکہ اس پر بات کسی نہ کسی شکل میں ہوتی رہے گی ۔
اول کیا واقعی ڈان لیکس کی خبر کو کسی خاص مقصد کو بنیاد بنا کر کسی فریق نے کسی دوسرے فریق کے خلاف استمعال کرنے کی کوشش کی ۔دوئم طارق فاطمی ، پرویزرشید اور راو تحسین کو کس جرم میں سز ادی گئی ، اگر ان کا جرم محض خبر کو رکوانے میں ناکامی کا ہے تو یہ مضحکہ خیز ہے ۔ سوئم کیا وجہ ہے کہ رپورٹ کو جاری نہ کرنے پر دونوں فریقین کا اتفاق ہوا ہے ۔ چہارم کیا مسئلہ محض فوج او ر حکومت کے درمیان تھا ،اگر ایسا نہیں تو پوری قوم سے ڈان لیکس کے حقایق کیوں چھائے گئے ہیں۔پنجم کیا ڈان لیکس پر جو یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اس پر فوج کے اپنے ادارے میں سخت ردعمل ہے وہ ردعمل ختم ہوگیا ۔کیا اب ڈان اخبار ، رپورٹر ، ایڈیٹر کے خلاف جو کاروائی ہونی ہے وہ آگے بڑھ سکے گی ۔
بظاہر اس ڈان لیکس کی رپورٹ پر جو کچھ حکومت اور فوج نے کیا اس میں ان کی غلطیوں کی بہت بڑی فہرست نظر آتی ہے اور جو ملک میں اس خبر کو بنیاد بنا کر جو تماشہ لگایاگیا اس سے حکومت اور فوج کی کوئی بڑی نیک نامی نہیں ہوسکی ۔ یہ ڈان لیکس کا معاملہ بظاہر ختم ہوگیا ہے ، لیکن اس پر بحث جاری رہے گی اور مختلف لوگ اس پر سوالا ت اٹھاتے رہیں گے ۔ سوشل میڈیا پر جو بڑی تنقید فوج پر ہورہی اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت ہوئی یا فوج نے اپنی کمزوری دکھائی اس سے بھی فوج کا اپنا مورال بھی کمزور ہوا ہے ۔جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس مفاہمت سے فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات بہتر ہوگئے ہیں ۔ وہ کچھ دن او رانتظار کریں ، اس تعلقات کے حوالے سے جو نئے مسائل پیدا ہونگے وہ ایک دوسرے کو پھر ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کردیں گے ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: