ہر چیز میں سازش نہ ڈھونڈیں — زوہیب اکرم

0

ہر خبر، ہر حادثے، ہر معاملے اور ہر قسم کے اتفاق میں تنازعہ ڈھونڈنے والے اکثر تندور کی روٹی لیتے وقت اس بات کو سوچ کر تنازع کا شکار ہوجاتے ہیں کہ چپاتیاں کتنی تھیں اور نان کتنے۔۔ ایسا نہیں ہے کہ میڈیا، خبر، حادثے، سانحے میں کنٹرول اور کانسپریسی تھیوری لاگو نہیں ہوتی — لیکن کچھ چیزیں حالات کے دھارے اور رخ کو دیکھتے ہوئے — بھی سوچی جا سکتی ہیں — ضروری تو نہیں کہ ہر بات میں سازش ہو۔۔ ہر حادثہ پلان ہو، ہر مدعا پلانٹڈ ہو، ہر واقعہ سکرپٹڈ ہو —
شاید ہماری بحیثیت قوم ایکسٹرا آرڈنرنی سوچنے، یعنی فضول سوچنے — بغیر کسی مقصد کے سوچنے کی عادت ہم میں نفسیاتی مریض پیدا کر رہی ہے — سوچ در سوچ میں گندھتا ہوا یہ معاشرہ جو کسی کو پانچ روپے کے لیے قتل کردیتا ہے تو کسی کو صرف گھورنے پر – تو ہمیں عدم برداشت پر سوچنے کی ضرورت ہے — یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ برداشت کی حد وہاں تک ہے جہاں پر مقدس ہستیوں کا احترام ہے — وہ کسی نے کراس کی تو پھر عدم برداشت ایمان کا حصہ ہے– بہرحال اس ضروری وضاحت کے بعد صرف اتنا کہنا تھا کہ ہم بحیثیت قوم عدم برداشت کے کلچر میں رنگتے جارہے ہیں — بہت چھوٹی چھوٹی مثالیں کچھ یوں دی جاسکتی ہیں۔
ٹریفک جام کے دوران بجائے انتظار کے ہارن پر ہارن دینا جبکہ آپ کو معلوم ہے کہ آگے رش ہے اور ہارن دے کر کچھ نہیں ہونا۔
آفس یا رہائشی بلڈنگز کی لفٹ کا انتظار کرنے کے دوران بجائے ایک سائیڈ پر کھڑے ہونے اور دوسروں کو باہر نکلنے کا موقع دینے کے خود اندر داخل ہونے کی کوشش کرنا —
سگنل پر نہ رکنا یہ تو انتہائی گھسی پٹی مثال ہے لیکن ہے۔
پیڈسٹرین برج کو نظر انداز کرتے ہوئے دوڑتی بھاگتی گاڑیوں کے بیچ کسی حادثے کو دعوت دیتے ہوئے بھاگتےہوئے سڑک کراس کرنا –
دوران سفر، گاڑی ہو یا موٹر سائکل — غلط سائیڈ سے اوور ٹیک کرنا -اور اس کا اپنا حق سمجھنا۔
یہ سب وہ مثالیں ہیں جو ڈسپریشن یعنی بے چینی کی عکاس ہیں — یہ بےچینی بہتے سارے معاملات کی وجہ سے نفوذ کرگئی ہے —
میڈیا اس میں بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے — سنسنی خیزی، حوادث کو اس طرح رپورٹ کرنا گویا گلی محلے سڑکیں پارک سب غیر محفوظ ہیں اور باہر نکلتے ہی کوئی نہ کوئی آپ کو ٹارگٹ کرلے گا یا حادثہ ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ۔۔
سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال — بغیر کسی ریگولیشن کے — بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے — چیک اینڈ بیلنس سےمراد– کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کیے اس کے صحیح غلط ثابت ہونے سے پہلے اس کو شئیر کردینا — جنگل کی آگ کی طرح اس کو وائرل کردینا – اور پھر اگر اس خبر کی صحت درست ثابت نہ ہوسکے تو اپنی انا یا ناک بچانے کے لیے اس کی تردید پر اس طرح محنت نہ کرنا — یا سرے سے اس کو نیوز فیڈ کے انبار میں دبا دینا — جب کہ وہ خبر اپنا اثر کہاں کہاں تک پہنچا چکی ہوگی۔۔ شاید یہ سوچنا بھی مشکل ہے –
بحیثیت سوسائٹی ہمارے یہ بدلتے روئیے کسی یہودی سازش کا نتیجہ نہیں — بلکہ ہمارے اپنے شعور، ذہنی تربیت، تعلیم کی کمی بلکہ شاید یوں کہیں تدبر کی قلت، شہری اخلاقیات یعنی سوک سینس کا فقدان ہے — جس میں قصور شاید عوام کا بھی اتنا زیادہ نہیں — مجموعی طور پر سب کا ہے — عوام کو روٹی کپڑا مکان لوڈ شیڈنگ کی دوڑ میں لگا کر بھیڑ بکری بنا دیا گیا ہے — دو وقت کی روٹی اور سرکاری نوکری — کے پیچھے بھگاتے بھگاتے، ہمیں سوکالڈ لیڈروں نے مشین، مزدور یا یوں کہیں کہ جانور کے لیول پر لا پھینکا ہے — کھاو پیو سو جاو بجلی ہو نا ہو– بے حس ہوجاو اور اس کے علاوہ کچھ مت سوچو — یہ شاید کوئی سازش ہوگی — لیکن اس سوچ سے نکلنے کے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے مثلا مذکورہ مثالوں میں موجود چھوٹی چھوٹی اخلاقیات پر عمل کر کے اپنے پڑھے لکھے بلکہ باشعور قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہئے– حکمرانوں سے کوئی مایوسی نہیں تو کوئی امید نہیں — مسیحا کا انتظار کرتے کرتے ہم اپنی بنیادی روایات — حسن سلوک(اس سے جو مستحق ہو) کو بھی کھوبیٹھے ہیں —

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: