نواں کٹا کھل گیا ۔ احسن قریشی

0

نواں کٹا کھل گیا۔
لو ایک اور کٹا کھول دیا ۔
یار یہ روز روز کے کٹوں سے تنگ آگئے ہم تو کس قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑ گیا وغیرہ وغیرہ ۔
یہ کٹا کھلنا بھی ایک شاندار محاورہ ہے۔
اس کے پیچھے ایک کہانی ہے جو کچھ یوں ہے کہ بھینس پالنے والے کو دودھ بچانے کے لئے کٹے کو الگ باندھنا پڑتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار کٹا کھل بھی جاتا ہے اور سیدھا بھینس کے پاس جاکر گوالے میاں کے ارمان خاک میں اور دودھ کو پیٹ مں پہنچا دیتا ہے۔ لہذا کٹا کھلنا ایک گوالے کے سارے دن کو برباد کر سکتا ہے۔
(اس کہانی کے غلط ہونے کا امکان ہے لہذا اس سے بہتر کہانی لائی جاسکتی ہے)
ہمارے پاکستان میں روز ہی کٹا کھلتا ہے اور ہمیشہ نیا ہوتا ہے۔ ( غالبا اس کی وجہ یہ ہو کہ پرانا ہمارے میڈیا سمیت کسی کو اچھا نہیں لگتا )۔
آج کل کٹا کھولنے کا آسان ترین طریقہ سوشل میڈیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ ان تمام گفتنی و غیر گفتنی کٹوں کا سماجی رابطے والے بھینسے سے کوئی تعلق نہیں۔
آپ چاہے گوالے ہیں یا نہیں یہ جملہ روز یا تو آفس میں سن لیتے ہیں یا سنا دیتے ہیں کسی نہ کسی کو۔
چلئے اس بامحاورہ کٹے کے کھلنے کی ممکنہ اشکال بیان ہوں۔

معاشرتی کٹے:
بھئی سنتے ہوپڑوس میں شادی ہے شرکت ضروری ہے۔۔
ہائے مر گیا ان کو کس نے کہا تھا مہینے کی آخری تاریخوں میں کٹا کھول دیں اب بتاؤ کہ سلامی کہاں سے لاؤں؟
بھئی وہ کچھ خبر ہے آپ کی ( گندی) اولاد نے گاڑی مار دی۔۔۔
لو یہ گاڑی کیا خریدی نیا کٹا ہی کھل گیا۔
لیں جی ! اگر کسی شوہر کے صبح شام ڈرتے ڈرتے گزریں تو مان لیں کہ اس گھر میں یقینا کوئی نہ کوئی کٹا کھلا ہوا ہوتا ہے جو شوہر دم دار کے قابو سے باہر ہوتا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ شوہر عموما بھینسا ہی ہوتا ہے تمام تر خواتین کی نظر میں لیکن ڈرتا کٹوں سے ہے۔ اور کٹے ہیں کہ کتوں اور بلوں کی طرح برستے چلے آتے ہیں۔ (Its raining cats and dogs)
ایسے کٹا کٹی کے معاملات کچن سے بیڈ روم تک ہر وقت کھلتے کٹے کی زد میں ہوتے ہیں۔
ہر شادی شدہ ( مرد ہو یا عورت) کا دن (اور رات بھی) یا تو کٹے کے ساتھ گزرتی ہے یا کٹی کے ساتھ۔
اگر وہ کٹا/کٹی، ریلو کٹا/کٹی ہو تو بدنامی کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔
بجلی کا بل بھی ایک کٹا ہے جو کھلاہی رہتا ہے۔ جبکہ بجلی کا نہ آنا اس سے بڑا کٹا ہے
سمجھ یہ نہیں آتی کہ بجلی تو آئی نہیں بل کاہے کا لیکن سنا ہے آج کل آرہی ہے۔ دنیا منتظر ہے روز2018 کی۔
گیس کا بل آیا کٹا آیا۔
اور ساتھ یہ درزی کا بل بھی؟
بھئی آخر تم نے کتنے کپڑے ایک وقت میں پہننے ہیں؟ اب اس کٹے کو کہاں اور کسیے باندھوں؟
کیا کریں مجبوری ہے ہم انسان نہیں؟ آخر کھاتے پیتے گھر کے ہیں ( کہاں جی ! آپ تو کٹا ہیں، جو کبھی بندھ ہی نہ سکا)
چانچہ مل ملا کے بھائی بہن سالا سالی ساس سسر نند بھابھی سب ہی کٹے کی مختلف اشکال بن سکتے ہیں۔ یا یوں کہیں کہ بالقوۃ سب ہی لوگ کٹے ہیں۔
ان میں سے کچھ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو کٹا باندھنے کے ماہر ہوتے ہیں اور انھی کے دم سے معاشرہ تاحال بچا ہوا ہے۔

سماجی رابطے کے کٹے:
جب سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کا نظام آیا تب سے کٹے بتدریج سٹیٹس میں جابسے ہیں بلکہ کٹا ہائے اقسام یہیں مل سکتے ہیں۔
اس میں بھی نمبر وار کئی اقسام ہیں جن میں “چہرے کی کتاب” اور “چڑیا کی چہکار” سر فہرست ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ چہرے کی کتاب کو کئی وجوہ پہ فوقیت ہے ۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ شاید انٹرنیٹ کا سب سے اول سماجی رابطہ تھا یا یہ کہ اس میں ایک پوسٹ کی حد بندی “چہکار” کی ایک پوسٹ کی حد بندی سے کہیں زیادہ ہے۔ آجکل جو کچھ چہکار پہ ہو اس کو چہرے کی کتاب پہ ڈسکس کرنا زیادہ آسانی سے ممکن ہے ۔
لہذا یہ مشاہدے اور تجربے سے متعلق ہے کہ آپ کٹا چہکار پہ کھولیں اور کتاب چہرہ پہ باندھیں۔
اور اگر چہرہ کی کتاب پہ سارا پاکستان مل کے بھی “چہکار” کا کھلا کٹا نہ باندھ سکے تو ایک پریس کانفرس کرکے اس کو آپ خود ہی باندھ لیں۔ رہے نام اللہ کا۔
(“چڑیا کی چہکار” کی ترکیب کے لئے میں جناب شاہد اعوان صاحب کا مشکور ہوں)۔

صحافتی کٹے:
کئی سال قبل ہمارے ملک میں صرف ایک چینل تھا پی ٹی وی لہذا کٹا کھولنا یا نہ کھولنا اس کے کنٹرول میں تھا چناچہ کٹے ہمیشہ حکومت کے تابع رہا کرتے تھے اور یوں راوی چین ہی چین لکھا کرتا تھا۔
پھر 90 کی دہائی میں کسی نے ہمت کی اور شالیمار ٹیلیویشن نیٹورک کے نام سے ایک کٹا کھولا جو درست طریق سے کھ بھی نہ پایا تھا کہ گردن زدنی ہوا اس کی وجوہات جو بھی ہوں
لیکن بعد ازاں صحافتی میدان کا سب سے بڑا کٹا جنگ گروپ نے کھولا جس کو جیو کہتے ہیں ۔
وہ دن اور آج کا دن قسم ہا قسم کے کٹے آزاد ہیں اور کھلے ہیں۔ اور جب چاہے جس بھینس کا چاہیں دودھ پی جاتے ہیں بعد میں روتا پڑے گوالا اپنی بھینس کو۔
اس کا ایک فائدہ نما ضرور ہوا کہ کٹے امیر ترین ہوگئے اور ان کٹوں میں وہ کٹے جو لنگر (اینکر) ہیں ان کا تو پوچھئے ہی مت۔
بہر حال اب صحافت سرخ، سبز، نیلی یا زرد نہیں رہی بلکہ کٹے کا رنگ اپنا چکی ہے۔
آپ سب کو کالا کٹا مبارک کہ یہی اس کا اصل رنگ ہے۔
برسبیل تذکرہ اگر انٹرنیٹ کے سماجی رابطے نہ ہوتے تو صرف وہ ہوتا جو اصل صحافی چاہتا۔ یا صحافی کا بھرنے والا چاہتا۔
اسی ضمن میں یاد آیا کہ سماجی رابطوں میں اہم ترین کام کرنے والے لوگ ہم سب، دانش، مکالمہ وغیرہ ثابت ہوئے۔
اولا سب کو لگا کہ فلاں لکھنے لکھانے کا فورم ایک نیا کٹا ہے لیکن دیکھا یہ گیا کہ سب ہی کٹے اپنی اپنی جگہ کامیاب ہوئے۔ سب کی اپنی اپنی کیفیت اور ان کے لکھنے والے سب ہی اچھے لوگ ہیں۔
عام انسان کا سچ اور اس کے اندر کی آواز اصلا سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ہی بنے چانچہ آئے دن کٹے کھلنے لگے اور اصل صحافت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ لیکن صاحب یہ کٹا بھی بندھنے والا نہیں۔
سماجی رابطوں کے ان پلیٹ فارموں سے جون ایلیا کا شکوہ دور ہوا کہ؎
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی۔

حکومتی کٹے:
بے تحاشا ہیں اور ان کو اکثر جان بوجھ کے کھولا اور حسب منشا بند کرلیا جاتا ہے۔ اس سے ذیادہ کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ عموما اپوزیشن انھی میں الجھی رہتی ہے اور حکومت اطمینان سے جو کرنا چاہتی ہے کرتی رہتی ہے۔
عوام کو کسی نہ کسی کو برا بھلا کہنے کا موقع دینا بھی بے حد اہم کام ہے۔

سیاسی کٹے:
سیاسی کٹے بھی کئی قسم کے ہیں لیکن سب سے اہم کٹے وہ ثابت ہوتے ہیں جو ہمہ وقت خبروں میں رہنے کا فن جانتے ہوں اور خبروں مین رہنا کوئی آسان ہے بھلا۔ اگرچہ بہت سے کٹے اصلا صرف ریلو کٹے ہی ثابت ہوتے ہیں۔
عسکری کٹے:
شششش اس کے لئے عثمان سہیل کی ناراض پھو پھو پڑھ لی جائے۔
عالمی کٹے :
چند کٹے ہیں جو بے حد بامقصد اور اتنے ہی بے مقصد اور گویا کھلے رہنے کے لیئے ہیں۔ پچھلے 70 سال سے بند نہیں ہوئے کہ اگر بند ہوجائیں تو دنیا کس بنیاد پہ مزید کٹا کھلوائی کرے گی؟
ان کی کل تعداد تین ہے ایک کشمیر دوسرا اسرائیل تیسرا تیل۔
ناظرین میرا یہ مضمون بھی ایک کٹا ہی ثابت ہوا۔کھول تو لیا تھا باندھنا مصیبت بن گیا۔
12 مارچ کو شروع کیا جناب شاہد اعوان صاحب کی فرمائیش پہ لیکن آج 11 مئی آن پہنچی ہے۔ کٹے بر ہزار قسم است لیکن میں اس کٹے کو اب بہر صورت باندھنا ہی چاہتا ہوں۔ لہذا کٹا بازی ختم جو کہ ختم نہیں ہوسکتی۔
نوٹ : میری اس نگارش سے کسی کا تعلق صرف اتفاقی ہو گا۔ اورحلفیہ بیان کہ یہ سنجیدہ تحریر نہیں ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: