خلافت کی ناگزیریت کی بحث (حصہ دوم) —- عرفان شہزاد

0
  • 1
    Share

محترم ڈاکٹر زاہد مغل کے جواب میں

محترم جناب زاہد مغل صاحب نے خلافت کے قیام کے اثبات کے لیے اس کی ناگزیریت کے عنوان سے ایک مقدمہ قائم کیا، جس کے مطابق انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض اور عدل و قسط کا قیام ایک ناگزیر تقاضا ہے، اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے جس قوت نافذہ کی ضرورت ہے، اس کا قیام بھی ناگزیر ہے، اسلام میں اسے خلافت کہتے ہیں، چنانچہ خلافت کا قیام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، استخراجی منطق سے نکلنے والا یہ نتیجہ نص سے زیادہ قطعیت رکھتا ہے۔

اس پر راقم نے ایک کالم لکھا کہ ناگزیریت کی راہ سے ایک کے بعد دوسری چیز کو فرض قرار دیتے چلے جانا شریعت کا طریقہ نہیں۔ راقم نے مثال دی کہ:

“زکٰوۃ ایک منصوص حکم ہے۔ زکٰوۃ کے نظام کا قیام قرآن مجید کی رو سے مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر فرض بھی قرار دیا گیا ہے۔ زکٰوۃ سے غربت و افلاس کو ختم کرنے کا ناگزیر تقاضا بھی وابستہ ہے۔ لیکن دیکھیے کہ اس کے باوجود دین نے زکٰوۃ ادا کرنے کے لیے مسلمانوں پر مال کمانا فرض قرار نہیں دیا۔”

 زاہد مغل صاحب نے اس کے جواب میں فرمایا کہ خلافت کی ناگزریت کے رد میں جو مثالیں پیش کی گئیں وہ فرض عین کی ہیں جب کہ خلافت ناگزیر تو ہے لیکن فرض کفایہ کے درجے کی چیز ہے۔

اس پر عرض ہے ہے کہ آپ راقم کے مضمون میں فرض عین کی مثالوں کی جگہ فرض کفایہ کی مثالیں ڈال لیجیے، بنیادی مدعا پھر بھی وہی رہے گا۔

فرض کفایہ کیا ہے؟ ایسا دینی فریضہ جو سب لوگوں پر عائد ہوتا ہے لیکن اس کو ادا کرنے کے لیے چند لوگ کافی ہوتے ہیں۔ اگر چند لوگ ادا کر دیں تو سب بری الذمہ ہو جاتے ہیں، اور اگر کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گناہگار قرار پاتے ہیں۔

اسی بات کو خلافت کی ناگزیریت پر منطبق کر کے دیکھیے۔ چند ناگزیر سماجی اور قانونی اقدار کے تحفظ اور نفاذ کے لیے خلافت کا قیام ناگزیر ہے جو پوری امت پر فرض ہے۔ اگر امت کے چند افراد جو اس کے لیے کافی ہوں، اس کے قیام کی کوشش میں جت جاتے ہیں تو باقی امت بری الذمہ ہو جائے گی اور اگر کوئی بھی خلافت کے قیام کے لیے کھڑا نہیں ہوتا تو ساری امت گناہگار قرار پائے گی۔ نیز یہ نتیجہ بھی ناگزیر طور پر نکلتا ہے کہ جب تک اتنے افراد میسر نہ ہوں کہ ان کے ذریعے سے خلافت کا قیام ممکن ہو سکے، تب تک امت گناہ گار رہے گی۔

زاہد صاحب کو اپنے اس مقدمے کے قیام پر امت کے روایتی طبقات سے بلا امتیاز مسلک و مذہب تائید حاصل ہوئی ہے، کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔ یعنی وہ ان کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں۔

ہم اسی بنا پر عرض کرتے ہیں کہ خلافت کے قیام کے لیے طالبان، داعش وغیرہ اور روایتی دینی فکر اصولی طور پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ اختلاف ہے تو بس حکمت عملی میں۔ یعنی ہمارے علما کو اختلاف ہے کہ طالبان پاکستانی آرمی کے خلاف لڑتے ہیں، عوام اور سکول، یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی قتل کر ڈالتے ہیں۔ ایسا ہی اختلاف داعش سے بھی ہے۔ خلافت کی داعی یہ عسکری تنظمیں ایسے چند اختلافی امور میں احتیاط برت لیں، تو ہمارے علما کے لیے ان کی اصولی حمایت سے کوئی چیز مانع نہیں رہے گی۔ طالبان اور داعش وغیرہ ‘ناگزیر’ خلافت کے قیام کے لیے نکلیں ہیں، علما کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ ان کی وجہ سے گناہ گار ہونے سے بچ گئے ہیں یا شاید وہ ابھی بھی گناہ گار ہی چل رہے ہیں کیوں کہ خلافت کے قیام کے لیے مطلوبہ تعداد میں افرادی قوت مہیا نہیں ہو رہی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ناگزیر خلافت کے قیام کو فرض کفایہ قرار دینے کے بعد اس کے قیام کے لیے جد و جہد کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ یقینًا ضروری ہی قرار دیا جائے گا۔ تو جو لوگ اب اس کے قیام کے نکلے ہوئے ہیں اور جو اس فتوی سے جواز پر پا کر نکلیں گے وہ خلافت کے قیام کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کریں؟ جمہوریت کو تو نظامِ کفر قرار دے دیا گیا ہے۔ مجھے جمہوریت کے بارے میں ڈاکٹر زاہد صاحب کا موقف معلوم نہیں لیکن اقامت خلافت کے داعی اپنے مسالک کے معتبر ترین جمہور علما کے فتاوی کے مطابق جمہوریت کو نظامِ کفر گردانتے ہیں، جس میں حاکمیت اعلی خدا کی بجائے عوام کو حاصل ہوتی ہے، جہاں خدا کا قانون بھی اپنے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کی اکثریتی رائے کا محتاج بنا دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے باوجود بھی جو علما جمہوریت کے ذریعے خلافت یا حاکمیت اسلام کے قیام کے لیے نکلے وہ بھی آج تک کامیاب نہ ہو سکے۔

اب اس فرض کفایہ کی نوعیت کی ناگزیر خلافت کے قیام کے کیے کیا راستہ بچتا ہے؟

جیسے ہی آپ خلافت کے قیام کیے لیے کھڑے ہوں گے، جمہوریت کے محافظ آپ کی مخالفت میں کھڑے ہو جائیں گے۔ ان کو شکست دینے کا زیادہ سے زیادہ پر امن طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ یہ کہ آپ اپنے حمایتی پیدا کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ وہ اتنی تعداد میں میسر آ جائیں کہ اس نظامِ کفر اور اس کے علمبرداروں کو حکومت سے بے دخل کر دیں، اب اگر وہ پھر بھی بے دخل ہونے سے انکار کریں اور زور دیں کہ جمہوریت کی راہ سے ہی تبدیلی لائے جائے تو کیا یہ خلافت کے قیام کے داعیین کی یہ کافی تعداد دین کے اس فرض کفایہ کی ادائیگی کے لیے طاقت طاقت کا استعمال نہیں کرے گی؟ جب وہ اس برائی کو بدلنے کی طاقت بھی رکھتی ہے تو کیا نہی عن المنکر کے تحت طاقت سے انہیں بے دخل نہیں کرے گی؟

طالبان کے ساتھ ان ‘معتدل’ علما کا اختلاف صرف یہ ہے کہ انہوں نے ذرا جلدی کر ڈالی اور کم تعداد کے باوجود خلافت کے قیام کا حوصلہ کر بیٹھے۔ ورنہ ہونا تو یہی تھا مگر زرا زیادہ محفوظ طریقے سے ہوتا تو بہتر تھا۔ یعنی خلافت کے حامیوں کی تعداد اور طاقت زیادہ ہوتی تو بہتر تھا کہ تصادم کے نتیجے میں ان کی کامیابی کا امکان زیادہ ہوتا۔

یہ بات اپنی بنیاد میں غلط ہے یا درست۔ اسے طے کرنے سے پہلے کم سے کم اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ طالبان، داعش، بوکو حرام وغیرہ اور ہمارے روایتی دینی فکر کے حاملین کا اصولی موقف ایک ہی ہے۔ اور یہ بھی کہ جلد یا بدیر وہ اس تصادم کی طرف لے ہی جاتا ہے جو ناگزیر ہے۔

محترم زاہد صاحب اور ہمنوا یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ کسی شدت پسند کے ذمہ دار نہیں جو ان کے بیانیے پر کھڑے ہیں۔ لیکن ہم عرض کر رہے ہیں کہ یہ بیانیہ تصادم کو ہی ناگزیر بنا دیتا ہے۔ فرض کفایہ کے نفاذ میں رکاوٹیں اگر سیدھے طریقے سے دور نہیں ہوتیں تو ان کو بزور دور کیوں نہ کیا جائے؟ ان کو دور کرنے کی طاقت نہیں ہے تو طاقت کے حصول کے لیے کوشش کیوں نہ کی جائے؟ چنانچہ یہ تصادم کو ناگزیر بنا دیتا ہے، بلکہ یہ تصادم حقیقت میں برپا ہے۔ علما اس کو own  کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ اپنے ذہنی بچے (brain child) کی ولدیت سے انکار ہے۔

منطقی استدلال سے جناب ڈاکڑ زاہد نے ہر چیز کو دین کا تقضا قرار دے دیا ہے، انسانی فطرت کو وہ غیر ثابت شدہ قرار دیتے ہیں چنانچہ اسے دین و شریعت میں کوئی معیار ماننے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پھر ہر چیز کو شریعت سےنکلا ہوا ثابت کیا جائے۔ اسی استدلال سے انہوں نے چند ناگزیر اخلاقی قانونی اور دینی تقاضوں کے لیے خلافت کا ناگزیر ہونا ثابت کیا ہے۔ اس استدلال کو یہاں تک بڑھا دیا گیا ہے کہ انہوں نے کھانے پینے جیسی بنیادی فطری نوعیت کی شے کو بھی شریعت کا حکم قرار دے دیا ہے۔ استدلال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھوکا رہ خود کشی کی حد کو پہنچ جائے تو دین کا تقاضا ہوگا کہ وہ کھانا کھائے۔ اس لیے کھانا پینا بھی شرعی حکم ہوا، چنانچہ اس کا فیصلہ بھی فطرت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

اس پر عرض ہے کہ یہ منطقی مغالطہ ہے۔ فطری اور جبلی احکامات دین و شریعت سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلا اسی مثال میں دیکھیے کہ کھانا پینا ایک فطری و جبلی چیز ہے۔ دین کو اس کا حکم دینے کی ضرورت نہیں۔ خدا کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ کھانا پینا بھی تمہاری ذمہ داری ہے، نہ کھایا تو گناہ گار ہوگئے۔ لیکن جب کوئی یہ فطری توازن بگاڑنے لگے، افراط و تفریط کا شکار ہونے لگے، کھانے میں اسراف کرنے لگے یا بھوکا رہ کر خود کشی پر اتر آئے تو یہاں دین اسے مخاطب کرتا ہے کہ:

کھاؤ پیو لیکن اسراف نہ کرو،

اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو

منطقی استدلال سے اگر ہر ہر چیز کو دین و شریعت بناتے چلے جائیں تو صورت حال خاصی مضحکہ خیز بن جائے گی۔ مثلا فجر کی نماز کے لیے صبح جلدی اٹھنا فرض ہے۔ اس کے جلدی سونا بھی فرض قرار پائے گا۔ سونے کے لیے گھر اور بستر ہونا بھی فرض ہوگا، بستر کا انتظام کرنا فرض ہوگا، کوئی اور راستہ نہ تو بستر کے لیے پیسہ کمانا بھی فرض ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ فرائض کا یہ لامتناہی سلسلہ کہیں رکنے والا نہیں۔ میرے ناقص علم کی حدتک دین کو اس ندرت سے پہلے کبھی بیان نہیں گیا۔ اس طرز استدالال میں کوئی چیز فرض کے دائرے سے نیچے نہیں آتی چاہے وہ فرض عین ہو یا فرض کفایہ۔ یعنی وہی اعتراض جو فاضل دوست ہم پر کرتے ہیں، وہ ان پر عائد ہوجاتا ہے۔

بات درحقیقت وہی ہے کہ انسان عدل و انصاف کی ناگزیر اقدار کے لیے کوئی نظام بنائے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ایسا کرنا اس کی سماجی ناگزیریت ہے۔ یہ نظام اگر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگا تو ان پر سماج ہی کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے بھی عدل و انصاف کے قیام کا مطالبہ آ موجود ہوگا۔ اور اسی طرح ان اسلامی قوانین کے نفاذ کا تقاضا بھی کیا جائے گا جس میں جان بوجھ کر کوتاہی برتنے پر وہ گناہگار قرار پائیں گے۔ لیکن اگر نظم حکومت ان کے ہاتھ میں نہیں تو جو نظام بھی ان ناگزیر اقدار کے تحفظ کے لیے بنا ہو اس میں صالحیت پیدا کرنا اور اس کی اتباع کرنا ان کے لیے ضروری ہوگا اور خلافت کے قیام کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کے مکلف ہی نہیں ہوں گے۔

مسلمانوں کے لیے عدل و قسط کے قیام کے لیے نظم حکومت اگر خلافت کے نام سے قائم بھی ہو جاتا ہے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ محض خلافت کا لفظ لگا دینے سے عدل و انصاف یقینی ہو جائے گا۔ وہی انسان ہوں گے جن کی تہذیب اور ان پر تنقید کی ضرورت رہے گی۔

زاہد صاحب اس کے بھی قائل نہیں کہ اگر کسی جگہ اسلامی نظام کے علاوہ عدل و قسط پر مبنی کوئی نظام حکومت قائم ہو تو اس گوارا کر لیا جائے۔ ان کے نزدیک اسلام کا تصور خیر منفرد ہے، جس کے تحت اسلامی حکومت ہی کا قیام عمل میں لانا ناگزیر ہے۔ مولانا مودودی اور اور ڈاکٹر زاہد یہاں نتیجے کے اعتبار سے ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا تصور خیر فرد کی تہذیب نفس پر مبنی ہے۔ فرد، دین کی طرف سے یہ تہذیب نفس قبول نہ کرنا چاہے تو خالص اسلامی خلافت میں بھی قبول نہیں کرتا، اور اگر کرنا چاہے تو کفر کے معاشرے میں بھی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ یہ درست کے مسلمانوں کے لیے ایک اسلامی حکومت میں تہذیبِ نفس کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں، اور ان امکانات کو پیدا کرنے کا امکان بھی زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن ایسا ہونا لازمی نہیں، اور اس کے برعکس بھی اسی طرح امکان موجود ہے کہ کسی غیر اسلامی لیکن عادل نظام حکومت مین انہیں اپنے دین پر عمل کرنے کی آزادی ہو اور فرد اپنی تہذیب نفس کرنے میں بھی آزاد ہو، بلکہ درحقیقت دنیا میں ایسا ہے بھی، ایسے نظام حکومت کو ہٹا کر خلافت کے نام سے کسی مسلم حکومت کے قیام کو ناگزیر سمجھنا دین کا تقاضا نہیں۔

امتحان تہذیب نفس کا ہے، اقتدار قائم کرنے کا نہیں۔ تہذیب نفس نہ ہو کسی خلافت کو چنگیزیت بننے سے روکا نہیں جا سکتا۔ بنو عباس کی خلافت نے بنو امیہ کے ساتھ جو کیا وہ کیا تھا، بنو امیہ نے بنو ہاشم کے ساتھ جو کیا انہیں کون روک سکا۔

خلافت کی ناگزیریت دراصل اقتدار کی ناگزیریت کی بحث ہے، اور اقتدار تہذیب نفس کے لے ناگزیر نہیں ہے۔ ناگزیر کچھ ہے تو تہذیب نفس۔ بلکہ اگر اقتدار ہاتھ آ جائے تو اس کی تہذیب بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک دین کا مقصود یہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: