شادی: ہدایت نامہ برائے خاوند — کلیم شہزاد

0

شادی یوں تو کرنے کا عمل ہے جس میں بہت کچھ کرنے کی گنجائش موقعہ اور وقت ہوتا ہے ، لیکن اکثر نا سمجھ حضرات شادی کو ایک فرض سمجھ بیٹھتے ہیں جسکا نتیجہ وہی نکلتا جو دین کے دوسرے فرائض کے ساتھ ہوا ہے ۔
شادی کرنے کا ہر مرد کا دل چاہتا ہے ، بعض خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہوتی دیکھی گئی ہیں ، مگر کیوں کہ مرد کو زیادہ ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اس معاملے میں لہٰذا شادی کے بعد ازدواجی معاملات میں ہماری خواتین کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتیں ۔۔ بعد میں اگر مرد کسی ذمہ دار خاتون سے متاثر ہوجائے تو کوستی رہتی ہیں ۔
شادی در اصل ایک ایسے سمجھوتے کا نام ہے جس پر دستخط تو میاں بیوی کے ہوتے ہیں مگر سمجھوتہ صرف مرد کرتا ہے بیوی اس سمجھوتے پر عمل درآمد کرواتی ہے ۔
شادی کے بعد اکثر مرد حضرات بہت خوش نظر آتے ہیں بعد میں خوش نظر آنے کی اداکاری کرتے ہیں ۔ بیویاں شروع میں خوش نہیں نظر آتیں مگر جوں جوں سسرالی کم ہونے لگتے ہیں انکی مسّرت و شادمانی کا ٹھکانہ نہیں رہتا ۔
کامیاب شادی کے لئے ضروری ہے کہ آپ جھوٹ بولنا عادت بنا لیں ، مثلاً بیوی کی تعریف وغیرہ پابندی سے کرتے رہیں ۔ اس عمل سے بیوی خوش رہتی ہے اور آپ بھی سکون سے رہتے ہیں ۔
مگر ایک بات کا خیال رہے کہ آپ بیوی کی سہیلیوں یا سالیوں کی تعریف بھولے سے بھی نہ کریں ۔ دنیا میں صرف ایک یہی تعریف ہے جو عذاب کے نزول کا سبب بن جاتی ہے ۔۔ ہاں بیوی کی سہیلیوں کی تعریف براہ راست دل کھول کر کرنی چاہئے ۔
رات کو سوتے وقت اگر اچانک آپ سردی لگنے سے اٹھ جائیں تو خیال نہ کریں اور ڈرنے کی ضرورت نہیں، یہ آپکی منکوحہ ہوگی جس نے لحاف کھینچ لیا ہوگا۔ اس صورت میں آپ دوسری چادر اوڑھ لیں ورنہ صلوات نیم شبی سنی پڑ سکتی ہے۔
سالگرہ اور دیگر اہم تاریخیں آپکو ازبر ہونی چاہییں ۔ ہمیں اب بچپن میں رٹا لگانے کی اہمیت سمجھ آتی ہے ۔رٹا آپکو یہ سب تواریخ اور اس پر بولے جانے والے کذب کی بہترین تربیت فراہم کرتا ہے ۔
ضروری ہے کہ آپ ابھی سے اپنی مذکر اولاد کو رٹے کے فوائد سے نہ صرف آگاہ کر دیں بلکہ اپنی نگرانی میں اسکی مشق بھی کروائیں تاکہ وہ مستقبل کے کامیاب شوھر ثابت ہوں ۔
بیوی کی برائی شادی سے پہلے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر خیال رہے کہ شادی کے بعد یہ عمل جان لیوا بھی ہو سکتا ہے ۔
شادی ہمیشہ پسند کی کرنی چاہئے ، جی ہاں بیوی کی پسند کی ۔
گزارشات تو طولانی اور ختم نہ ہونے والی ہیں مگر ہم صرف یہی کہیں گے کہ شادی ضرور کریں بلکہ اعضاء رئیسہ اور جیب اجازت دیتی ہو تو دو چار یا بار بار کریں لیکن خیال رہے کہ شادی ایک ایسا پل ہے جس پر جتنا زور صرف کیا جائے وہ اتنا ہی ہلتا ہے اور ٹوٹنے کہ دھڑکا رہتا ہے ۔ زور کا مطلب تو سمجھ ہی گئے ہوں گے آپ۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: