کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 8

0
  • 1
    Share

بہت عرصے سے راستوں میں کھڑے ہو کر طہارت حاصل کرنے کا شرعی طریقہ متروک ہو کر مساجد کے واش رومز تک  محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ کئی مساجد میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پتھروں کی سپلائی کا انتظام ہوتا۔ لیکن شرفا بسا اوقات پتھر کموڈ میں پھینک دیتے اور پانی کی نکاسی کی راہ بند کردیتے۔ اس لیے مساجد کے وضوخانوں کے باہر نوٹس چسپاں نظر آتے کہ پتھرکموڈ میں نہ پھینک کر ثواب دارین حاصل کریں مگر ہجومِ مومنین اس کے خلاف عمل کر کے ثواب حاصل کرنے کو ترجیح دیتے۔ بعد میں یہ سہولت ختم کر دی گئی تو آہستہ آہستہ مساجد میں بھی یہ طریقہِ طہارت ختم ہو گیا۔ آج کل نوجوان نسل کو شرعی طہارت کے لفظ سے آگاہی نہیں۔ اللہ اس نسل کو اس کوتاہی سے درگزر کرے اور اس کا کوئی نعم البدل عطا فرمائے، آپ بھی ہمارے ساتھ امین کہیں۔

خواجہ خضر کے حضور!

حضرت خضر کوئی فرشتہ تھے یا نبی، کسی حکومت کے مرکزی ذمہ دار تھے یا عام شخص ؟ ان مباحث سے صرفِ نظر ہی بہتر ہے، مفسرین کے ہاں تو حضرت خضر کی شخصیت سات پردوں میں چھپی ہو سکتی ہے، ہمارے ہاں نہیں، ہمارے گائوں میں ہر چوراہے اور چشمے پر یہ بزرگ موجود ہوتے تھے، ہم نے روایت سنی تو نہیں لیکن اپنی حرکتوں کے مشاہدے کی بنا پر یقین ہے کئی بزرگوں سے ان کی ملاقات بھی ہوئی ہوگی، خواتین جب پانی بھرنے چشموں پر جاتیں تو پہلے دایاں ہاتھ اپنے ماتھے اور ٹھوڑی کے درمیان تین دفعہ اوپر نیچے ہلا ہلا کر خواجہ خضر کو سلام کرتیں۔ ظاہر ہے خواجہ صاحب وہاں موجود ہوتے تھے تب ہی تو یہ رسم ادا کی جاتی تھی، یہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ ہر گھر میں گائے بھینس موجود ہوتی تھی، کوئی خاتون اپنی تکنیکی مہارت میںخامی کے باعث اگردہی سے مکھن برآمد کرنے میں ناکام ہوتی یا دودھ سے دہی بنانے میں کسی طرح کامیاب نہ ہوتی تو اعلان کر دیا جاتا کہ ’دودھ گنوی یا‘ یعنی دودھ خراب ہو گیا ہے، اس کے علاج میں دوا سے زیادہ عقیدہ کام کرتا، اور عقیدے پر شک کرنے وال گمراہ ہی ہوگا، طریقہِ کار یہ تھاکہ خاتونِ خانہ علی الصبح ’مانیاں‘ پکا کر اس پر تازہ مکھن ڈال کر چشمے پر چلی جاتی، مانی سے ایک لقمہ کاٹ کر چشمے کے دہانے پر بہتے ہوئے پانی کے اوپر رکھ دیا جاتا، یہ لقمہ خواجہ خضر کے پیٹ بھرنے کے لیے کافی تھا، اس کے بعد مکھن سے چپڑی ہوئی ساری مانی خود ہڑپ کر جاتی، اس کے بعد دودھ تندرست ہو جاتا یا نہیں، لیکن مذکورہ خاتون یہ مرغن غذا جزوِ بدن بنانے کے بعد یقیناً صحت مند ہو جاتی،
عقیدے کی خرابی ہوئی یا بھینسوں کی کمی، سنا ہے خواجہ صاحب ہمارے ہاں سے نقلِ مکانی کر گئے ہیں!

شادی بیاہ

ہر معاشرے میں ہر طرح کے رسم و رواج کا وجود شاید شروع سے ہی رہا ہے، جغرافیائی، موسمی اور مذہبی اثرات کے اختلاف سے رسم و رواج میں بھی اختلاف ایک فطری عمل ہے، بسا اوقات کلچرکے مظاہر کو بھی مذہب کا درجہ دے دیا جاتا ہے، لیکن یہ سر دست ہمارے موضوع سے باہر ہے۔ تاہم اتنا عرض کیے دیتے ہیں کہ مذہب کلچر کو برباد کرنے نہیں، اسے اپنے تصوّرِ حیات سے ہم آہنگ کرنے آتا ہے۔ فنکار معاشرے کے لطیف جذبات کو زندہ رکھتے ہیں اور یہ کوئی مذہب خلاف حرکت نہیں، علّامہ اقبال ہم سے زیادہ مذہب کو سمجھتے ہیں، انہوں نے برملا کہا:
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت       معجزہِ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

شادی بیاہ کی خوشی یا موت کے غم کے مظاہر ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں، معاشرہ افراد اور خاندان کے مجموعے کا نام ہے، اور خاندان شادی کے مقدس عمل کے نتیجے میں وجود پاتا اور پروان چڑتا ہے، ایم ابراہیم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں: ’ہمارے ہاں بھی شادی کے موقع پر رسوم کا دھندا ایسا پھیلتا ہے کہ میلے کا سماں پیدا ہو جاتا ہے! کسی سے بھی پوچھ دیکھیے کہ یہ ہلّاگلّا کیوں ہوتا ہے تووہ یہی کہے گا شادی چونکہ خوشی کا موقع ہوتا ہے اس لیے سب مل کر خوشی مناتے ہیں، دل کی گہرائیوں سے مسرّت کا اظہار کرتے ہیں۔ بالکل ٹھیک، لگتا کچھ ایسا ہی ہے مگر ہم اپنے ذہنِ نارسا کی مدد سے کچھ سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سوال خوشی منانے سے زیادہ ان کی توجہ ہٹانے کا ہے جن کے نام پر یہ خوشی منائی جا رہی ہوتی ہے! وہ بھی اس میلے کی رنگینیوں میں گم ہو کر ’’زمانہ ما بعدِ شادی‘‘ کی ہولناکیوں اور سختیوں کو کچھ دیر کے لیے بھول جاتے ہیں! شادی والے گھر میں طرح طرح کی رسوم اور رواج دولہا اور دلہن کے حواس کے لیے وہی کردار ہوتا ہے جو انجیکشن لگانے سے قبل کلوروفارم میں بھیگے ہوئے روئی کے ٹکڑے کا ہوتا ہے، بازو کو سوئی کی چبھن سے بچانے کے لیے کلوروفورم میں بھگویا ہوا روئی کا ٹکڑا مسلا جاتا ہے، بس کچھ ایسا ہی شادی سے متعلق رواج بھی کرتے ہیں‘، گزرے ہوئے زمانے میں ہمارے گائوں میں بھی نقشہ کچھ اسی طرح کا ملتا تھا، گمان کیا جا سکتا ہے کہ یہی گائوں نہیں سارے علاقے میں یہی نقشہ رہا ہو گا۔
جس طرح کے رسم و رواج ہوں گے ان کے اثرات مجموعی طور پر معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں، اگر رواج کچھ اس طرح کا ہو کہ معاشرے کے دوسرے افراد لا تعلق سے ہوں اور صرف بارات اور ولیمے کی حد تک شریک ہوتے ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کا تعلق رسمی سا ہو گا، لیکن یہ صورت حال اس معاشرے میں یقینا نہیں ہو سکتی جہاں شادی والے گھرانے سے دوسرے افراد کا تعلق بالکل جڑا ہوا ہو، افراتفری کے اس دور میں شادی کا عمل ایک میکانیکی سا عمل معلوم ہوتا ہے۔ ’ چٹ منگنی پٹ بیاہ ‘کا محاورہ شاید اسی دور کے لیے تخلیق ہوا تھا، بس ایک فرض ہے جسے نبھانا ہوتا ہے، ایک زمانہ تھا جب ایک فرد کی شادی پر اس کا گھرانا ہی نہیں پورے کا پورا گائوں شریک ہوتا تھا، شادی کی تیاریاں کوئی ایک دو ماہ قبل ہی شروع ہو جایا کرتی تھیں، مکان کی لپائی بڑے اہتمام سے کی جاتی، بازار سے صرف ضروری اشیائے خوردو نوش کا حصول ہی ممکن تھا، دیگیں پکانے کے لیے لکڑیا بازار سے نہیں خریدی جاتی تھیں۔

اس طرح کا کوئی بازار موجود ہی نہیں تھا، تازہ لکڑیوں سے کھانا پکانا چونکہ مشکل ہوتا ہے اس لیے قریبی جنگل سے بہت پہلے بیاڑ یا چیڑھ کے درخت کاٹ کر لکڑیوں کو سکھانے کے لیے پھیلایا جاتا تھا تاکہ دیگیں پکانے میں سہولت رہے۔ صرف غلہ اوراشیائے خوردونوش وغیرہ کے حصول کے لیے تھوڑی سی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی، گھی، جسے ہم آج کل دیسی گھی کے نام سے یاد کرتے ہیں گھر میں ہی وافر مقدار میں موجود ہوتا، بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی، مشہور تھا کہ اپنے پلے سے شادی بیاہ اور مکان کا سامان کون کرتا ہے، دوست و احباب آخر کب کام آتے ہیں، سو ان سے رقم پکڑ کر کپڑے اور غلے کا انتظام کیا جاتا۔

عجیب اتفاق ہے کہ عین شادی کے موقع پر معلوم ہوتا کہ فلاں عزیز یا رشتہ دار تو ناراض ہے، ایک دن پہلے تک ایک دوسرے کے گھر آنا جانا، کھانا پینا ہوتا لیکن دوسرے دن پتہ چلتا کہ وہ تو شادی میں شریک نہیں ہو رہا کیوںکہ اتنے سال پہلے یہ اور یہ ہوا تھا، چنانچہ اس کی منتیں ترلے کیے جاتے، دوسروں سے کمک حاصل کی جاتی، معافی مانگی جاتی تب جا کر وہ شادی میں شامل ہو تے، (یہ ’رسم‘ ابھی تک قائم ہے)، شادی کی ابتدا ’ختم شریف‘ سے ہوتی جس کی تفصیل آگے آئے گی، شادی والے گھر میں ہفتوں پہلے ڈیرے ڈالے جاتے، کوئی لکڑی کاٹ رہا ہے تو کوئی پیاز چھیل رہا ہے، بڑے بوڑھے صرف حال احوال پوچھنے اور نگرانی کرنے کے لیے ہی آ موجود ہوتے اور رات کو قیام بھی وہیں کرتے، ایسے مواقع پر اپنے گھروں کو کون جاتا ہے! بارات میلوں دور جارہی ہو یا پچاس قدم پڑوس میں، رات کا قیام شادی والے گھرہی کرتی، اس کے ٹھہرنے کے لیے پورے گائوں سے چارپایئوں اور بستروں کا انتظام کرنا پڑتا، کھانے پینے کے لیے برتن اکٹھے کیے جاتے، کھانے میں چاول، گھی اور شکر کا استعمال عام تھا، ایک بڑا سا مٹی کا تھال، جسے توک کہتے ہیں، میں چار آدمیوں کے لیے چاول ڈال کر اچھی خاصی مقدار میں گھی ڈالا جاتا، پھر اس کے اوپرمٹھی بھر بھر کر شکر کا چھڑکائو کیا جاتا، جب شکر کا استعمال ذرا متروک ہوا تو اس کی جگہ شوربے نے لے لی، چاول میں گھی ڈال کر ایک صاحب بڑے بڑے پیالوں سے شوربا اور تین چار بوٹیاں ڈال دیتے، شوربا اور گھی لے کر کئی آدمی مسلسل نگرانی کرتے، اشارے کے منتظر رہتے اور سپلائی جاری رکھتے۔

جاری ہے۔۔۔۔


اس تحریر کا ساتواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: