ڈان لیکس کا معاملہ—- طاہر ملک

0

بالآخر ڈان لیکس کا معاملہ حل ہوگیا۔ آئی ایس پی آر نے اپنے جاری کردہ ٹویٹ کی وضاحت کردی۔ وزارت داخلہ نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ بادی النظر میں دیکھا جائے​ تو وفاقی حکومت اور فوج کی جانب سے میڈیا کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارنہ طرز عمل کا مظاہرہ کرے۔ دوسری جانب پرویز رشید سابق وزیر اطلاعات کو غفلت کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد میرا یقین اس محاورے پر اور پختہ ہو گیا کہ پانی ہمیشہ نشیبی جگہ رخ کرتا ہے۔ ہمارے ہاں قومی سلامتی پراسراراور حساس تصور کی جاتی ہے۔ اگر یہ قوم کی سلامتی ہے تو پھر نہ صرف قوم کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے بلکہ اسکی تشکیل میں قوم کی امنگوں کی ترجمانی اور قوم کے مختلف طبقوں علاقوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ کئ دھائیوں سے ہماری قومی سلامتی ہماری بالادست حکمران اشرافیہ کے مفادات کا ھی روپ ہے۔ عوام کو کبھی روس اور اسکے بڑھتے ہوے اثر و رسوخ کو پاکستان کی سلامتی کے لئے​ خطرہ قرار دیا گیا اور پھر بعد میں روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق پاکستان کے مفاد میں اھم قرار دی گئی۔ اسی طرح کبھی امریکہ کے ساتھ مل کر جہاد قومی سلامتی کے لئے اھم ٹھہرا۔ پاکستان جیسے ملکوں میں قومی مفاد دراصل اداروں اور حکمران اشرافیہ کا ذاتی مفاد ھوتا ہے۔ عوام سوال اٹھانے کے مجاز نہیں، ادارے جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے کے تحت قومی سلامتی سے متعلق پالیساں بناتے ہیں۔
ڈان لیکس کی رپورٹ بھی اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ کیا صرف میڈیا نے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا؟ آئی ایس پی آر اور مریم نواز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے ان معاملات پر غیر ذمے داری اور ناپختگی کا ثبوت نہیں دیا؟ اور اگر دیا تو ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی اور کیا کسی جمہوریت پسند ریاست میں وزیر اطلاعات کا کام خبر کی اشاعت کو حکومتی اثرو رسوخ استعمال کرکے رکوانا ھوتا ہے؟ آخر کب تک پرویز رشید جیسے درمیانے طبقے کے سیاسی راہنما حکمران سیاسی اشرافیہ کا اقتدار بچانے کے لیے قربانی کی بھینٹ چڑھائے جاتے رہیں گے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: