چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 5

0

ٹرانسپورٹر چامکے کا انتقام:
صبح ہونے والی تھی مگر نیند آنکھوں سے دور جاچکی تھی۔ فیصلہ یہی کیا کہ فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوجائیں گے اس لیے راہی صاحب نے وقت گزاری کیلئے ایک ٹرانسپورٹر چامکے کا قصہ چھیڑ دیا۔ وہاں موجود اداکارہ جو چامکے کی کال نہیں ریسیو کررہی تھی، اس کے چہرے کا رنگ بھی اُڑنے لگا۔ راہی صاحب نے کہا، وہ جنوبی پنجاب کی ایک خوبصورت ڈانسر تھی، غالباً رانی نام تھا۔۔ جس کے بہت سے چامکے تھے مگر رکشوں کا ایک ٹرانسپورٹر اس پر جی جان سے فدا ہوگیا۔ درجن بھر رکشوں کی کمائی پر عیاشی کی لت لگی تو تھیٹر آنے جانے لگا اور اداکارہ سے راہ و رَسم بڑھانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ اداکارہ تو تھی ہی کسی نئے بے وقوف کی تلاش میں اور اسے محبت کے جھوٹے لارے دے دیئے۔ پہلے شاپنگ کی فرمائشیں، پھر دوستوںکو تھیٹر پر لانے کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے پہلے ایک رکشہ فروخت ہوا، پھر دوسرا اور کرتے کرتے جب تمام رکشے محبت کی بھینٹ چڑھ گئے تو کسی اور کا رکشہ چلانے کی نوبت آگئی مگردھیان عشق میں ہو تو روزی پر بیٹھا بندہ بھی فاقوں پر آجاتا ہے۔ کمائی نہ رہی تو بیوی بھی بچوں کو لے کر اِسے چھوڑ گئی۔ یہ اپنی محبوبہ کے پاس گیا تو اُس نے بھی دھتکار دیا۔ آخر اس نے کسی اُدھار لے کر گلاب کے پھولوں کا ٹوکر ا لیا، تھیٹر کی اگلی نشست بھی بُک کرالی اور جب اس کی محبوب اداکارہ کی انٹری ہوئی تو اس کے ڈانس کے دوران خوب پھولوں کو نچھاور کیا۔ راہی صاحب نے یہاں تھوڑا سا وقفہ لیا اور کہا۔ اتفاق ہی تھا کہ اس روز وہ رانی ڈانسر میرے ساتھ سرگودھا کے نغمہ تھیٹر پرفارم کررہی تھی اور میں پریشان تھا کہ ایسا کون سا عاشق آگیا جو پھولوں کی برسات کررہا ہے؟ بہر حال جو بھی تھا اچھا لگا رہا تھا کہ اس انداز میں کم ہی پذیرائی ہوتی ہے۔ مگر گانا ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک اُس شخص پھولوں کے ٹوکرے سے ایک بوتل میں بھرا تیزا ب اداکارہ کی جانب اُچھال دیا اور اُس کا چہرہ جھلس گیا۔راہی صاحب نے اپنا بازو سامنے کرکے دکھایاکہ تیزاب کے چند چھینٹوں سے میرا ہاتھ جھلس گیا تھا تو پھر وہ ڈانسر جو براہِ راست تیزاب کا نشانہ بنی تھی اُس کا کیا حال ہوا ہوگا۔ فوری طور پر ڈرامہ رُک گیا، اداکارہ کو اسپتال لے جایا گیا اورپھر وہ کسی کومنہ دکھانے لائق نہیں رہی۔ پھر اسٹیج ڈانسر کے پاس چہرے اور ادائوں کے سوا ہوتا ہی کیاہے۔ جب چہرہ ہی ختم تو کام بھی ختم۔
’’اور وہ چامکا؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’کچھ لوگوں نے فوری سزا کے طور پر ٹھکائی کرکے اَدھ موا کردیا، پہلے کچھ عرصہ جیل رہ کر سزا کاٹی، اب نشے کی لت میں مبتلا ہوکر کسی کچرا کنڈی میں پڑ ا ہوگا۔ ‘‘
راہی صاحب نے یہ قصہ سنایا تو اپنے چامکے کا فون نہ سننے اداکارہ نے جھٹ کہا’’اِیک بات تو مجھے سمجھ آگئی ہے، چامکوں سے کھائو پیو ضرور مگر انہیں خوش بھی رکھو۔‘‘
کاش کہ اِس حد سے زیادہ کھانے پینے کا انجام بھی اداکارہ کو سمجھ آجاتا۔
٭٭
چامکے کا خلوص:
ملتان میں، فلم کی کاسٹ فائنل کرکے کراچی واپس آگیا اور پھر ریکارڈنگ اسپیل کی مقررہ تاریخ پر سنجر پور(صادق آباد) کے ایک مضافاتی گائوں کی حویلی میں ٹیم کے ساتھ تھا۔ اِرادہ تھا کہ شروع کے چار دن مرد اَداکاروں کا کام تیزی سے مکمل کیا جائے اور آخری دو دن میں لڑکیوں کو بلو اکر ریکارڈنگ پوری کی جائے۔ ایک مقامی سیانے نے مشورہ دیا، کافی دور آئے ہو ایک آدھ لڑکی ساتھ رکھ لیتے تو پریشانی نہ ہوتی۔ میں نے حیرت سے اُسے دیکھا ’’کیسی پریشانی؟‘‘
’’شہر سے بہت دور ہیں آپ؟ کوئی چیز ضرورت پڑ گئی تو کیسے منگوائیں گے؟‘‘
’’اس سے لڑکی کا کیا تعلق ہے؟‘‘ میں نے پوچھا تو اس نے کہا۔
’’سر جی لگتا ہے فلمی دنیا میں آپ نئے ہو، اس لیے کچھ پتہ نہیں۔ لڑکی ساتھ ہو تو رونق لگی رہتی ہے اور شوقین لوگ کام بھاگ بھاگ کر کرتے ہیں۔‘‘
تمام سامان مکمل تھا اس لیے کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑی البتہ جب آئٹم سانگ کیلئے لڑکی پہنچی تو بڑی سی حویلی میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ آرہے تھے، جنہیں سنبھالنا مشکل تھا۔ کسی اسسٹنٹ کو پیاس بھی لگتی تو وہ صرف اشارہ کرتا اور شوقین لوگ بھاگ بھاگ کر کام مکمل کرتے۔ یہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ڈانسر لڑکیوں کا دماغ تھیٹر کی دنیا میں آتے ہی کیوں گھوم جاتا ہے۔ بھولی بھالی لڑکی کیوںایک دم سے نخریلی ہوجاتی ہے اور وہ خود کو کسی شہزادی سے کم نہیں سمجھتی۔ اس کے ایک اشارے پر قربان جانے والوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ وہ ثنا خان(نام تبدیل) بھی اُن میں سے ایک تھی۔ اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کرلی مگر وہ نکما نکلا۔ بہر حال ایک چودھری صاحب کی نظر ثنا پر پڑ گئی۔ ایک تھیٹر میں ڈانس دیکھا اور پھر اسی کے ہو کر رہ گئے۔ ثنا آدھی رات کو بلاتی، یہ پہنچ جاتے۔بازار سے سودا منگوانا ہوتا، چودھری صاحب گاڑی لے کر حاضر۔ دور دراز شو کیلئے جانا ہوتا، چودھری صاحب موجود۔
چودھری صاحب سے میری بھی علیک سلیک رہی۔ ریکارڈنگ کے دوران ایک عدد کار مجھے بھی فراہم کرنے کی پیش کش کی لیکن بعد میں کھلا کہ کاندھا میرا تھا، نشانہ اُن کا میری فلم کی ہیرئون تھیں۔ قصہ مختصر ثنا خان اُمید سے ہوگئی، شوہر زمہ داریوں سے فرار ہوگیا۔ آخری لمحات میں چودھری صاحب نے اسپتال پہنچایا اور ثنا کی بیٹی پیدا ہوئی جسے چودھری صاحب نے بڑے پیار سے اٹھا رکھا تھا اور فیس بُک پر تصویریں بھی اَپ لوڈ کی تھیں۔ پھر خبر آئی کہ ثنا خان، ثنا چودھری ہوگئیں ہیں۔ جی نہیں، شادی وغیرہ نہیں ہوئی، بس ثنا نے چودھری صاحب کی محبت اور خلوص سے متاثر ہوکر خان سے چودھری کا ٹائٹل اپنا لیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فلمی دنیا اور تھیٹر کے بازار میں لڑکیوں کی کاسٹ کیسے بدلتی رہتی ہے۔


تیسری قسط یہاں ملاحظہ کریں  

چوتھی قسط یہاں ملاحظہ کریں  

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: