بھارتی انتہا پسندی اور سیکولر خاموشی — ارشد فاروق

0

بھارت میں ادیتیہ ناتھ یوگی کے متنازعہ بیان اکثر ہندو میڈیا کی توجہ حاصل کرتے رہتے ہیں اور اسکی وجہ تفنن طبع نہیں بلکہ اسکے خیالات کا ہلاکت آفریں ہونا ہے۔ انکے ایک بیان جس میں انہوں نے ہر اس ایک لڑکی جو کسی مسلمان لڑکے سے شادی کیلیے مذہب تبدیل کر لیتی ہے کے مقابلہ کیلیے سو مسلم لڑکیوں کو زبردستی ہندو بنانے پر دیا، اس بیان پر بھارت میں بھی کافی لے دے ہوی اگرچہ بھارتی دانشوروں کی زیادہ توجہ اس امر پر تھی کہ اس بیان سے بھارت کے سیکولر ہونے کا تاثر خراب ہوگا۔ کوشش ڈھول کا پول کھلنے سے بچانے پر تھی نہ کہ ایک سماجی فتنہ کا سر کچلنے پر۔

موصوف کو انڈیا کا حافظ سعید قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ تقابل سرے سے ہی غلط ہے۔ حافظ صاحب کی راے مقبو ضہ کشمیر میں قابض ہندو افواج کے بارے جو بھی ہو انہوں نے آج تک پاکستان میں رہنے والے ہندووں کے بارے میں کوئی غیر شایستہ بات نہیں کی۔ نہ انہوں نے کبھی غیر مسلموں کو پاکستان چھوڑنے کے ہمدردانہ مشورے دیے ہیں۔ اور تو اور انہوں نے کبھی پاکستان کے نام نہاد سیکولر طبقے کو بھی اپنی نظر کرم سے نہیں نوازا، حالانکہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں۔ آجکل انکی دلچسپی انسانیت کی فلاح میں زیادہ اور لڑائی بھڑائی میں کم ہوتی جارہی ہے جس پر کافی دنیا انکی ممنون ہے۔ انسانیت کی فلاح ہی اصل فلاح ہے!

ادیتیہ ناتھ، گورکناتھ مت کے مہنت ہیں جس کا رتبہ کسی سکول کے پرنسپل کے برابر ہوتا ہے اور اس طبقہ فکر کے لوگ اس سے اپنے معاملات میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ یوگ ہندو مت کی روحانیت خیال کی جاتی ہے جسکی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ معاشرے، کو فرد کی ذات سے پہلے خیال کرتی ہے یعنی فرد کو ذات کی تعمیر سے قبل معاشرے سے اپنے تعلقات کو بہتر کرنا ہو گا۔ یوگ کے آٹھ مدارج میں سے پہلے دو یعنی یم اور نیم (واضح رہے کہ انکو بولا یام اور نایام جاتا ہے) ان احکامات اور امتناعات کے بارے میں ہیں جو ایک یوگی کو معاشرے میں رہتے ہوے عمل میں لانے ہوتے ہیں۔ یم میں بے ضرر ہونا، سچا ہونا، دیانتدار اور برہم چریہ ہونا شامل ہیں۔ نیم میں تمام جانداروں کو تکلیف د ینے سے باز رہنا ہوتا ہے۔ ان مدارج سے گزرے بنا کوئی یوگی نہیں بن سکتا۔ ہندو یوگ ہزاروں سالوں سے دھرم اور مذہب کی بنیاد پر کسی سے یم اور نیم کی پریکٹس کرنے میں تخصیص نہیں کرتی۔ لیکن اب ایسا لگ رہا کہ ایک نیی قسم کی یوگ بھارت میں نشونما پا رہی ہے جس میں ہر قسم کا تعصب رکھنے کے باوجود، اور یم و نیم کو نفرت کی بھٹی میں پھینکتے ہوے بھی آپ یوگی بن سکتے ہیں شاید اسکا کوئی ٹیکنیکل نام رکھا جا چکا ہو لیکن اگر نہیں رکھا گیا تو ہماری راے میں اسکا نام ارتھ یوگا رکھنا چاہیے تاکہ ارتھ شاستر جیسی نیک کتاب کے مصنف مرحوم چانکیہ کو ایصال ثواب ہوتا رہے۔

44 سالہ آدیتیہ یوگی کو پانچویں بار بھارتی پارلیمنٹ کا رکن بننے میں کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ اور انکے اس دور اقتدار میں مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان فاصلے بھی انکے اقتدار کی طوالت کی مانند بڑھتے گئے ہیں۔ یہ وہ بھارتی نیتا ہیں جو ہندوستانی فلم انڈسٹری کے مہنگے اور مشہور ترین اداکار شاہ رخ خان کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ اور اسی تناظر میں وہ کہتے ہیں کہ بھارتی مسلمان ہندو لڑکیوں کو ورغلا کرمسلمان بنا دیتے ہیں۔ اس کو موصوف نے لو جہاد (LOVE JIHAD) کا نام دیا تھا اور اسی بابت یہ سنگین بیان دیا کہ اگر مسلمان ایک ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کراتے ہیں تو ہم 100لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرائیں گے۔

جس مشہور اداکار کو فلموں میں کام کرنے اور ہندوستان کو کثیر سرمایہ فراہم کرنے کے باوجود بھارت میں ہی یہ الزام سننا پڑا ہے ان کا قصور یہ رہا ہے کہ نام نہاد سیکولر بھارت کے آئین میں دیئے گئے حقوق کے مطابق ان کی شریک سفر ہندو خاتون ہیں اور شادی کے بعد بھی وہ اپنے پرانے مذہب پر ہی کاربند ہیں۔ مسلم باپ اور ہندو ماں کے بچوں کے نام تک مسلم نہیں ہیں۔ اس امر پر کچھ دو رائے نہیں پائی جاتی ہیں کہ سیکولر بھارت میں نا ممکن ہے کہ فلم کا مرکزی ہیرو مسلم ہو۔ عموما تمام فلموں میں مسلم کردار محض ہیرو کے دوست کا ثانوی کردار ادا کرتے ہیں اور یا پھر ان کو ڈان، جہادی یا دہشتگرد دکھایا جاتا ہے جس کو سپورٹ تک پاکستان سے مل رہی ہو۔

یوگی صاحب کے خیال میں جوشخص یوگا نہیں کرتا اور شنکر دیوتا کا احترام نہیں کرتا اسے ہندوستان چھوڑ دینا چاہیے۔ ہمیں انکی اس تقسیم پر حیرت ہے کہ وہ باقی ساری دنیا کو شنکر کے مخالفین کیونکر سمجھ رہے ہیں۔ کیا پاکستان میں رہنے والے ہندو اور سیکولر شنکر کا دلی احترام نہیں کرتے؟ یا باقی دنیا میں شنکر کی مخالفت کرنے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے ؟ہمارے خیال میں ہندو یوگیوں اور مہنتوں کو موصوف کی اس بارے میں خبر لینی چاہیے کہ وہ شنکرجی کو صرف ہندوستان کی حد تک محدود کرنے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں؟ تعصب کے لیے انسان کا احمق ہونا بہت لازم ہوتا ہے، راقم تو حماقت کو بھی ایک عظیم نعمت خیال کرتا ہے اور جو لوگ اس نعمت سے فیضیاب ہیں انکی جسمانی صحت اور ذہنی سکون سے حسد کی حد تک متاثر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یوگی بھائی جان کی صحت اور ہر لمحہ پرسکون نظر آنے کی وجہ یوگا ہی ہو لیکن،ہماری رائے میں وہ ان مسلمانوں کے تعصب سے کہیں گھٹیا درجے کے تعصب کے حامل ہیں جو کہتے ہیں ساری زمین خدا کی ہے اسلیے سارا جہاں انکاہے۔ کم از کم دلیل کے لحاظ سے وہ متعصب مسلمان موصوف سے ایک بہت بہتر پوزیشن پر ہیں۔

حال ہی میں جن مسلمانوں کو گائے کا گوشت خریدنے کے جرم میں مار اگیا ہے اس فعل کی مذمت نہ تو بھارتی سیکولر دانشوروں نے کی اور نہ ہی پاکستان کے جغادری سیکولرز نے کیونکہ یہ انکے ٹی او آرز میں شامل ہی نہیں ہے۔ انکی انتہاپسندی کی تعریف میں صرف مسلم انتہا پسندی ہے اگر بدھ مت کے لوگ بدھ مت کو چھوڑ کر برمی مسلمانوں کا قتل عام کریں تو یہ صدیوں کا دبا ہوا ردعمل ٹھہرایا جاے گا اور اگر ہندو آہنسا کو پس پشت ڈال دیں تو یہ اپنی زبانوں پر چپ کے تالے ڈال دیں گے۔ بھارتی سیکولرز کی ایسی جانبداری تو سمجھ آتی ہے لیکن پاکستانی دانشوروں کی خاموشی انکے سچے سیکولر او ر مکمل غیرجانبدار ہونے پرسوالیہ نشان ہے۔

سیکولر بھارت کا نام نہاد نقاب خود اس کے نیتا ہی نوچ رہے ہیں۔ کانگریس سرکار کی قیادت میں 1992 میںبابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ اس اہم ترین متنازعہ مقام پر مندر کی تعمیرکا اعلان BJP کی سرکار متعدد بار کر چکی ہے۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے کے بعدبرصغیر کی مشہور جامعہ دارالعلوم دیو بند کا نام تک تبدیل کروانا اور عید میلاد النبی کے روز سرکاری چھٹی ختم کرانا ہندو توا کے علم برداریوگی کے مقاصد میں شامل ہے۔ حافظ سعید کو اہل مغرب بین کر دیںگے لیکن یوگی کے سر پر دست شفقت رکھنے والے شدت پسند نریندر مودی جنکو مسلم کش فسادات کی بناء پر بدنام زمانہ شہرت حاصل رہی اور انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزی پر امریکہ اور مغربی طاقتیں اب پابندی سے بری کرچکی ہیں اور وہ کھل کر ہندو توا کے پرچارک بن چکے ہیں۔ یوگی جیسے شدت پسندوں کے متنازعہ بیانات سیکولر بھارتی سماج کے لئے خود لمحہءفکریہ ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: