کارپوریٹ میڈیا اور آزادی صحافت – سلمان عابد

0

پاکستان میں آزادی صحافت ایک بنیادی اور حساس نوعیت کا سوال ہے۔ پاکستان میں جو صحافت موجود ہے اس کے پیچھے ماضی میں موجود صحافتی تنظیموں اور صحافتی اداروں کی جدوجہد کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ صحافیوں نے نہ صحافتی مسائل بلکہ ملک میں جمہوری سیاست کو تقویت دینے کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔اس جدوجہد میں صحافیوں نے نہ صرف جیلیں، کوڑے برداشت کیے بلکہ اور کئی طرح کی مشکلات کا بھی ان کو سامنا کرنا پڑا۔لیکن اب جو صحافت دنیا میں اور پاکستان میں موجود ہے اس کو ماضی کی صحافت کے دائرہ کار سے باہر نکل کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایک زمانہ تھا جب صحافت اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا ریاستی کنٹرول میں تھا، لیکن اب دنیا بھر سمیت پاکستان میں جس طرح سے میڈیا کے شعبہ میں نج کاری ہوئی ہے وہ ریاستی کنٹرول کو کم کرتی ہے۔ اس وقت پانچ طرح کا میڈیا موجود ہے۔ اول پرنٹ، دوئم سوشل میڈیا، سوئم الیکٹرانک میڈیا،چہارم متبادل میڈیا اور پنجم کمیونٹی میڈیا کی اصطلاحات موجود ہیں۔اس میڈیا کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ اس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ دار طبقوں کی جانب سے سرمایہ کاری کا رجحان ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آپ کو چاروں اطراف میڈیا کا بڑ ا پھیلاو نظر آتا ہے۔اس کاروباری طبقہ کا بنیادی مفاد میڈیا کے سامنے سچ پیش کرنے سے زیادہ اپنا مالی مفاد ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی اس میڈیا منڈی میں آنے کی وجہ اپنے کاروباری معاملات کو طاقت فراہم کرنا اور میڈیا کو بطور ہتھیار استمعال کرنا ہے۔


زیادہ تر لوگوں کی اس میڈیا منڈی میں آنے کی وجہ اپنے کاروباری معاملات کو طاقت فراہم کرنا اور میڈیا کو بطور ہتھیار استمعال کرنا ہے۔


اس نجی شعبہ میں میڈیا کے پھیلاو نے عملی طور پر چار بڑے نقصانات کیے ہیں۔ اول میڈیا میں سے ایڈیٹر انسٹی ٹیوشن کوعملی طور پر ختم کردیا ہے اور فرضی ایڈیٹرکو رکھ کر اصل اختیارات مالک نے خود اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔ دوئم ایڈیٹر کا کنٹرول ختم ہونے سے اخبار کا معیار، صحت اور صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ سوئم میڈیا سے وابستہ اہم تنظیموں کا کردار محدود یا کمزور ہوا ہے۔ چہارم ریاستی و حکومتی کنٹرول کے ساتھ ساتھ اب ملٹی نیشنل اور کاروباری تنظیموں یا اداروں کا کردار بڑھ گیا ہے جو اپنے مفادات کے لیے میڈیا کی آزادی پر اثر انداٖز ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ریٹنگ کی سیاست نے بھی ہمارے میڈیا کا بیڑہ غرق کیا ہے اور میڈیا میں سنجیدہ موضوعات اور فکری مباحث کے مقابلے میں محاذآرائی کی سیاست نے طاقت پکڑ لی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار بھارت کی معروف دانشور اور انسانی حقوق کی رکن ارون دتی رائے کے بقول جو بھی میڈیا کرائس میں چلتا ہے اس کو اپنی بقا کے لیے بھی بحران درکار ہوتا ہے۔ یعنی بحران کو پیدا کرنا یا بحران کو زیادہ سے زیادہ اجاگرکرنا میڈیا کی مجبوری بن گیا ہے۔ اسی طرح سے کارپوریٹ میڈیا میں سرمایہ دار او راس سے جڑے ہوئے کاروباری مفادات کو بھی تقویت دینا میڈیا کی مجبوری کے زمرے میں آتا ہے۔ دراصل آج کی دنیا میں کارپوریٹ میڈیا ایک حقیقت ہے، اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، یہ ہی وجہ کہ اب میڈیا سے وابستہ دانشور ہر سطح پرایک ذمہ دار میڈیا کی بحث کو آگے بڑھارہے ہیں۔ اس بحث میں میڈیا سے وابستہ تنظیموں، ریاستی وحکومتی میڈیا کے اداروں، میڈیا کی نگرانی سے جڑے ہوئے ادارے، سول سوسائٹی اور عام آدمی کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ وہ میڈیا کی نئی بحث کو سمجھیں۔اس میں جب تک قومی سطح پرمیڈیا لٹریسی کی بحث کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ میڈیا پر ایک دباو کی کیفیت کو مضبوط بنانا ہوگا اور یہ دباو کی لڑائی جھگڑے کی بنیاد پر نہیں بلکہ علمی اور فکری محاذ پر کام کرنے سے ہوگا۔


میڈیا میں سے ایڈیٹر انسٹی ٹیوشن کوعملی طور پر ختم کردیا ہے اور فرضی ایڈیٹرکو رکھ کر اصل اختیارات مالک نے خود اپنے پاس رکھ لیے ہیں


اسی طرح میڈیا کی آزادی او رمالکان کی آزادی میں فرق بھی واضح ہونا چاہیے۔ جب تک اخباری کارکن کے مفادات کو تحفظ نہیں ملے گا اور وہ مضبوط نہیں ہوگا، میڈیاکی آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے کام میں ایک گیٹ کیپر ہوتا ہے جو کسی بھی خبر کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی چیز مادرپدر آزاد نہیں ہوتی، یہ عمل کسی چیک اینڈ بیلنس اور جوابدہی سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح آزادی صحافت محض میڈیا سے جڑے ہوئے افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس میں سیاسی فریقین سمیت ہر شعبہ کے لوگوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ میڈیا کی آزادی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگی۔ یہ عمل ملک میں مضبوط جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔
ریاست اور حکومت کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ میڈیا کی نگرانی او رجوابدہی سے جڑے ہوئے اداروں کو خودمختار، شفاف اور مضبوط بنائیں، کیونکہ اگر کوئی سمجھتاہے کہ اداروں کو کمزور کرکے آزادی صحافت کی جنگ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے وہ غلطی پر ہے۔ جو بھی ریاست اور حکومت سمیت غیر ریاستی سطح پر افراد یا ادارے ہیں جو مافیا کی شکل میں موجود ہیں،ان کی سرکوبی بھی کرنی ہوگی اور مزاحمت بھی۔ اس کے لیے لازم ہے کہ خود میڈیا اپنے اندر سے ایسے کالی بھیڑوں کو باہر نکالے، خود احتسابی کرکے جو آزادی صحافت میں داخلی محاذ پر مسائل پیدا کرتے ہیں اور اس کا اثر پوری صحافتی برادری پر پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: