بیمارِ گندم یا بیمار گندم: ہم کیا کھارہے ہیں

0

عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے “خبر” کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


انسانی تاریخ بہت قدیم ہے۔ اس قدیم تاریخ میں ہم اپنے ساتھ جو کچھ لائے, ان میں گندم کا ساتھ بہت قیمتی ہے۔ قدیم ترین دور کی اس فصل کا دریا کنارے آباد آبادیوں سے ہر تہذیب میں تعلق ملتا ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں بطور اناج گندم کی تجارت بہت زیادہ ہے۔ صرف 2016 میں دنیا بھر میں اسکا تجارتی تخمینہ 794 ملین ٹن کا تھا۔
گندم ایک ایسی فصل ہے، جو بارانی زمین پر بھی ہوجاتی ہے اور پانی کی اچھی ترسیل کی زمین پر بھی یہ لازمی فصل مانی جاتی ہے۔ پچھلی دو صدیوں میں بڑھتی آبادی اور انڈسٹریل دور نے ہمارے کچن کے بہت سارے اناجوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ اتفاق سے گندم کی فصل اپنی سحت مزاجی اور آسان پولینیشن کی وجہ سے کافی دیر بعد اس زد میں آئی۔ 1970 تک ہماری نسلیں قدیمی اناج کا ذائقہ لیتی رہیں۔ 1970 کے بعد گندم پر ہائی بریڈ ایف ون بیچ کا دور شروع ہوا۔ آج تقریباً دنیا بھر میں ہائی بریڈ گندم ہی زیراستعمال ہے۔
ہائی بریڈ اور قدیم فصل میں کیا فرق ہے۔ اسکو آسان الفاظ میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ قدیم گندم کا پودا بڑا اور گھنا ہوتا تھا۔ اسکا وہ بیچ جس کو پیس کر ہم آٹا بناتے ہیں اسکا چھلکا موٹا ہوتا تھا۔ آج کی ہائی بریڈ میں اسکا قد چھوٹا کردیا گیا۔ اب یہ گھنا نہیں ہوتا اور بیچ کا چھلکا پتلا ہوگیا ہے۔ پودا اپنی جو خوراک بناتا ہے اسکا زیادہ حصہ اب بیچ کو ملتا ہے تو فی ایکڑ آوٹ پٹ بڑھ جاتی ہے۔ یعنی ایک ایکڑ سے زیادہ فصل ہم حاصل کرلیتے ہیں۔
اس ہائی بریڈ فصل کیلئے اب ہائی بریڈ کھادیں استعمال ہوتی ہیں۔ زمیندار حضرات جانتے ہیں۔ کہ اب فی ایکڑ گندم کی فصل اس مقدار میں حاصل کرنے کیلئے ایک مخصوص خرچ ان کھادوں پر کیا جاتا ہے۔ پھر اس ہائی بریڈ نسل کو بیماریوں سے بچانے کیلئے بھی پیٹسی سائڈز کی ایک مکمل انڈسٹری کھڑی ہے۔
کیمیائی کھادوں نے زمین کی ساخت بدل دی ہے۔ اب اسی زمین پر دیسی گندم کے نتائج نہیں ملتے۔ ہائی بریڈ نسلیں اپنے ساتھ بھانت بھانت کی نئی فصلی بیماریاں لے آئیں۔ ان بیماریوں کیلئے مختلف پیسٹی سائیڈز کا سپرے لازم ہوگیا ہے۔ ان پیسٹی سائیڈز کے اثرات فصل میں بھی آتے ہیں۔ اور انکے استعمال کرنے والے زمیندار بھی اسکا شکار ہوتے ہیں۔ کہ ترقی یافتہ ممالک نے ان سب کو مشینوں پر منتقل کر دیا ، ہمارے پاس اب بھی یہ انسانی مزدور ہی کرتے ہیں۔
پہلے پتھر کی چکی میں پسائی ہوتی تھی۔ پسی ہوئی گندم اپنے مکمل غذائی فائبرز کے ساتھ ہم استعمال کرتے تھے۔ اب فلور ملز کا دور ہے۔ میٹل کے بڑے سلنڈرز ڈسکس پر پسائی ہوتی ہے۔ فائن آٹا الگ، اور فائبر والا الگ کردیا جاتا ہے۔ ڈبل روٹی کیلئے الگ تو نشاستہ و سوجی الگ نکال لیا جاتا ہے۔ یہ تقسیم قدرت کے اُس توازن کو بگاڑ دیتی ہے، جس کی طلب ہمارے جسم کو ہوتی ہے۔ اوپر سے سالوں پڑی گندم جو دوائیاں چھڑک کر بچائی گئی ہو، یا گوداموں کے غیر تسلی بخش موسمی حالات کے بچاو میں پانی اور نمی لگی گندم ہو، سب کچھ مکس کر کے پیس دیا جاتا ہے۔
آج 2017 میں قدیم گندم قدرتی کھاد کے ساتھ حصول دیوانے کا خواب ہی ہے۔ آج کا سچ یہی ہے کہ اب ہمیں اسی گندم کو اپنے استعمال میں رکھنا ہوگا۔ ہاں ہم اگر اناج پر اپنا شعور بلند کرلیں۔ کنزیومر شعور رائج و منظم کرلیں تو ہائی بریڈ کے بعد انسانیت پر جو دوسرا عذاب جینٹیک موڈیفائی فوڈز کا آرہا ہے اسکے آگے بند باندھا جا سکتا ہے۔ اور یہ زیادہ دور بھی نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس پر زور شور سے کام ہورہا ہے۔
دوسرا اگر ہم فصل کی کٹائی کے بعد پسائی تک اپنے اصول واضح کرلیں۔ پسا ہوا بغیر چھنا آٹا استعمال کریں تو فلور مل والوں کی تجارت کی قیمت اپنی صحت سے ادا کرنا بند کرسکتے ہیں۔ اور تیسرا اگر کسی خوش قسمت کے پاس آج بھی اپنی زمین ہے۔ تو وہ اپنی نئی نسل کو قدرتی کھاد سے اناج و سبزی اگا کر اسے اُس ذائقے سے روشناس کرادے جو اسکے اجداد کھاتے تھے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے چکی پر سامنے پسا ہوا آٹا استعمال کیا جائے۔


اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی دوسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 اس سلسلہ کی تیسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی چوتھی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 
 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: