ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تاریخ سے ناواقف ہیں!

0

جب میں نے چند ہفتے پہلے لکھا تھا کہ مشرق وسطیٰ کسی نہ کسی مرحلے پر امریکا کے کم عقل صدر کو الجھانے میں کامیاب ہو جائے گا تو مجھے اندازہ نہ تھا کہ ایسا اتنی جلدی ہوجائے گا۔ نہ ہی یہ کسی کے وہم و گمان میں تھا کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس تیز رفتار شو میں ہٹلر بھی رقص و کناں دکھائی دے گا اور نہ ہی امریکی میڈیا جس نے پہلے ہی ٹرمپ کو عقل و شعور سے عاری قرار دیا تھا، سے یہ توقع تھی کہ وہ شام پر فائر کیے گئے ۵۹ کروز میزائلوں کو ’’امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی‘‘ سمجھ کر اس کے گُن گانے لگے گا۔

وہ کیا بات کر رہے تھے؟ کوئی پالیسی نہیں ہے۔ امریکی صدر منتشر خیالی کا شکار ہیں، اُن کے زیادہ تر معاونین بے سروپا بیانات دے رہے ہیں اور واشنگٹن کو عرب دنیا کی کوئی پروا نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب مصری صدر اپنے شہریوں کو ’’غائب‘‘ کررہے ہیں، یا ایک عرب ریاست یمن پر بہیمانہ بمباری کرتی ہے، یا جب امریکی حمایت یافتہ عراقی فوج شہریوں کو ہلاک کرتی ہیں تو وائٹ ہاؤس میں کوئی جنبش نہیں ہوتی، لیکن جب شامی حکومت شہریوں کو زہریلی گیس سے ہلاک کرتی ہے تو اس پر میزائل فائر کیے جاتے ہیں۔ کیوں؟ کیا مشرق وسطیٰ میں یہ کوئی نئی پیش رفت ہے؟

پہلے ’’ہٹلر‘‘ کی بات کرلیتے ہیں (وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے شامی صدر کو ہٹلر قرار دیا تھا)۔ ایک صدر (ٹرمپ) جو کتب بینی سے الرجک رہے ہیں، اور ان کے تمام ’’علوم کا سرچشمہ‘‘ رات گئے نشر ہونے والے ٹیلی وژن پروگرام ہیں، اُن پر اپنی تاریخ سے واقف ہونے کی تہمت نہیں دھری جاسکتی۔ یہی استثنیٰ اُن کے دست راست شین اسپائسر (Sean Spicer) کو بھی حاصل ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ہٹلر کی روح کو اب معاف کردیا جائے یا گڑے مردے اکھاڑنے سے گریز بہتر، بات یہ ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہٹلر نے دنیا پر جس قدر خوف اور دہشت اور بربادی کا قہر مسلط کیا، اُن کا دنیا کے کسی انسان کے ساتھ موازنہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ چنانچہ وہ باب بند کر دینا ہی بہتر ہے۔ اگر وائٹ ہاؤس شامی صدر کا کسی ظالم رہنما سے موازنہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، پڑوس میں سابق عراقی رہنما صدام حسین کی ’’خدمات‘‘ حاصل کی جاسکتی تھیں۔ دراصل یہ صدام حسین تھے جنہوں نے خطے میں اپنے ہی شہریوں کو گیس سے ہلاک کرنے کی رسم متعارف کرائی۔

لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ ہے۔ جس لمحے آپ صدام حسین کا نام لیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی دنیا کو جارج ڈبلیو بش دور کے وائٹ ہاؤس کے بولے گئے جھوٹ بھی یاد آجاتے ہیں کہ ۲۰۰۳ء کی عراق جنگ کے لیے وائٹ ہاؤس اور اس کے حلیفوں نے انتہائی جھوٹ بولا کہ صدام حسین نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار چھپائے ہوئے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اُس وقت ’’جھوٹی خبر‘‘ معتبر معلوم ہوتی تھی، جیسا کہ ہمیں نیویارک ٹائمز کی کہانی یاد ہے اور اس نے دنیا کے مستقبل پر گہرا اثر چھوڑا۔ اور اس کے بعد کیا آپ اپنے سامعین کو یاد دلائیں گے کہ عراقی جنگ امریکا کی انتہائی خونی حماقت ثابت ہوئی؟ صدام حسین کو منظر عام سے ہٹا دیا گیا اور چونکہ وائٹ ہاؤس پر مذکورہ یادوں کی وجہ سے اُس کا ذکر گراں گزرتا ہے، اس لیے عزیزی ہٹلر کو زحمت دی گئی۔

لیکن ٹھہریں، ہم نے صدام حسین کو بھی ہٹلر سے تشبیہ دی تھی۔ ایک اور مشہور شخص، جو ہماری موجودہ ملکہ کے صاحبزادے ہیں، نے ایک عورت جس کے رشتے دار ہولوکاسٹ میں ہلاک ہوگئے تھے، کو بتایا کہ پیوٹن یوکرائن کے ساتھ ہٹلر کا سا برتاؤ کررہے ہیں۔ ماسکو نے اس بیان کو اشتعال انگیز قرار دیا تھا اور یہ دو سال پہلے کی بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسپائسر کو معلوم نہیں تھا کہ ہٹلر نے بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ نازی فورسز نے Zyklon B نامی گیس سے لاکھوں یہودیوں کو عقوبت خانوں میں ہلاک کیا تھا۔ ہاں، اُن پر یہ گیس جنگی طیاروں کے ذریعے نہیں برسائی گئی تھی بلکہ انہیں گیس چیمبروں میں مارا گیا تھا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ ہٹلر نے بھی ’’اپنے ہی لوگوں‘‘ کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ ہلاک کیے جانے والے زیادہ تر یہودی جرمن شہری تھے اور وہ پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کے لیے لڑ چکے تھے۔

یہاں میرے پاس اسپائسر کو بتانے کے لیے کچھ اور بھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ تاہم قیصر (Kaiser) کو ہٹلر کے نام سے کبھی نہیں پکارا گیا۔ برطانیہ میں بھی گیس استعمال کی گئی تھی۔ چنانچہ ہمیں عرب آمروں کی تشبیہات کی کیا ضرورت؟ ہماری تاریخ سفاکی میں خودکفیل ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اسپائسر کو پہلی جنگِ عظیم کے واقعات تو کجا، اس کے شروع اور ختم ہونے کی تاریخ بھی یاد نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کے علم کا بھی یہی عالم ہے۔ بعد میں اس موازنے پر معذرت کی، لیکن یہ معذرت شامی صدر سے نہیں، ہولوکاسٹ میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں سے تھی کہ ہٹلر کا نام سُن کر اُن کے زخم ہرے ہوگئے تھے۔ اسی طرح تاریخ اور واقعات کا علم رکھنے والوں سے بھی معذرت بنتی ہے۔ ان کے الفاظ نامناسب ہی نہیں، بے حسی کی عکاسی بھی کرتے تھے۔ دنیا کے اس حصے میں عوام پر جبر روا رکھنے والے عرب آمر ہمارے قریبی اتحادی رہے ہیں۔

کیا اسد نے حالیہ حملے کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے؟ یا پھر یہ القاعدہ کے ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا جو شامی بمباری سے تباہ ہو کر شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنا؟ اگر ایسا تھا تو بھی شامی حکومت بری الذمہ نہیں ہوتی کیونکہ ایسے مقامات، جہاں زہریلے مواد کا ذخیرہ ہونے کا اندیشہ ہو کو اس طرح بمباری کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ ہم جانتے ہیں کہ اسد کے مخالفوں کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں۔ ان میں سے کچھ انہوں نے اسد کے اسلحہ خانوں سے بھی لوٹے ہوں گے۔ لیکن کچھ کیمیائی ہتھیار ترکی کے راستے سے بھی یہاں پہنچے تھے اور ترکی نیٹو کی اہم قوت ہے۔ اور اگر شامی فوج نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے تھے تو اب کیوں کیے، جبکہ وہ جنگ جیت رہے ہیں؟ وہ پیوٹن کی مدد سے داعش کو شکست دے رہے ہیں اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال نے پیوٹن کو شرمندہ کرکے دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا۔ کیا صدام دور کی کہانی تو نہیں دہرائی جارہی؟ کیا امریکی میڈیا ایک بار پھر ’’عراق میں پائے جانے والے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں‘‘ کا شکار تو نہیں ہو گیا؟ وہ نہ صرف ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی بات کر رہے ہیں بلکہ نیویارک ٹائمز نے گزشتہ ہفتے ’’اسد کے اخلاقی دیوالیہ پن‘‘ کی بات بھی کی ہے۔ یہ بات نیویارک ٹائمز نے صدام حسین کے بارے میں بھی کہی تھی۔ کیا ہمارے کان نہیں کھڑے ہوجانے چاہئیں؟

عجیب بات یہ ہے کہ امریکیوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اگر آئندہ اسد کی فورسز نے کیمیائی ہتھیار، بلکہ اگر بیرل بم بھی استعمال کیے تو وہ میزائل حملے کریں گے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ دمشق گزشتہ تین برسوں سے بیرل بم استعمال کررہا ہے اور ٹرمپ اپنے پیش رو کو شام میں مداخلت سے باز رہنے کا کہتے رہے ہیں۔ تو کیا ٹرمپ کوئی نئی پالیسی وضع کرچکے ہیں؟ میرا نہیں خیال اور مجھے یقین ہے کہ انہیں نہیں پتا کہ شامی جنگ میں سب سے پہلے بیرل بم کب استعمال کیے گئے؟ تاریخ سے عدم واقفیت سے پیدا ہونے والے خلا میں ہٹلر، کروز میزائل، بیرل بم، امریکی میڈیا، سب کچھ سماتا جارہا ہے۔ ان سب کو مکس کرلیں تو لیجیے تیار ہے، ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی۔

(بشکریہ: ’دی انڈی پنڈنٹ‘۔ روزنامہ ’’دنیا‘‘ کراچی ۱۴؍اپریل ۲۰۱۷ء)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: