عالمی قانون کی ملکی سیاست پر چھاپ – قسط: 2

0

سوڈان کے خطے دارفور کی مثال دیکھیں تو یہ اقوامِ متحدہ کی بڑی ناکامی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ہی بعد ازاں افغانستان اور عراق بھی۔ جنرل عمر البشیر کے ساتھ معاملات حل نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اقوامِ متحدہ کے پاس اسلامی حکومتوں کیساتھ یا مذہبی گروہوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کا کوئی فریم ورک موجود نہیں تھا۔ چارٹر سے باہر کی تمام دنیا کو اقوامِ متحدہ اور عالمی قانون باز چارٹر کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے دھاوا بول دیتے ہیں۔ بھلے اس کے پیچھے اسلام جیسے گہرے ، وسیع اور قابلِ عمل قانون کا ذکر ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے ذمہ دار عالمی قانون باز ہی ہیں جنہوں نے اسلامی قانون کی عالمی بنیادوں میں سے کوئی بھی مثبت پہلو حاصل نہیں کیا جس کے تحت مسلمان گروہوں کیساتھ معاملات طے کئے جائیں۔ اس وجہ سے مسلم گروہ بھی ردِ عمل کے طور پر اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام قوانین کو خلافِ اسلام قرار دیتے ہیں یا اس سے جان چھڑاتے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والی خرابی کے نتیجے میں اسلامی معاشرے طویل خانہ جنگیوں سے عبارت ہیں۔ لیکن اس کی کسے فکر ہے۔ بھلے ڈیڑھ کے ڈیڑھ ارب مسلمان کھیت رہے۔ اگر وہ یو این چارٹر میں نہیں آتے تو انہیں جینے کا حق ہی نہیں دیا جاسکتا ۔ حالانکہ یو این چارٹر انسانی تاریخ میں 1945 سے قبل تھا ہی نہیں۔ اس کے آنے کے بعد بھی اسلامی ممالک کے عالمی مسائل کم نہیں ہوئے اور مسلمان من حیث القوم ترقی بھی نہیں کرپائے۔ آج بھی مسلم ممالک غریب ترین ہیں۔ سب سے زیادہ غیر مستحکم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ چارٹر کی کم نظری ہے۔

اس قضئیے کو اداراتی علوم کے تحت پرکھا جائے تو مسلم گروہ جائز روایات کے مالک ہیں۔ انکے جواز کو کوئی ایسا ادارہ چیلنج ہی نہیں کرسکتا جو خود پون صدی قبل وجود میں آیا ہو اور جسکا اپنا اخلاقی جواز دوسرے معاشروں کی اجتماعیت یا معدودے چند بڑے ممالک کی طاقت پر منحصر ہو۔ طاقت بذاتِ خود کوئی خاص جواز ہی نہیں۔ اسلامی گروہوں کے پاس شرعی جواز کی موجودگی کے بعد انہیں اسلامی معاشرے میں غیر قانونی ثابت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کیلئے بم برسا کر انہیں خاموش کرنے کی جاہلانہ حکمتِ عملی سے دراصل جمہوریت اور انسانی حقوق ہی اخلاقی شکست سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے سوا اسکا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہے۔ ایسا اگر کئی اسلامی ممالک میں کیا جائے اور بار بار یہی طرز عمل دہرانا پڑے تو یقین کیجئیے کہ ہم جدید دور کے گھٹیا نوآبادیاتی ماڈل کے تجربے سے گزر رہے ہیں۔

پاکستان کے آغاز کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدات میں اسلام کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ لیکن بعد ازاں ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ مثلا سندھ طاس معاہدہ ایسے کسی حوالے سے خالی ہے۔ میاں نواز شریف کے پہلے دور میں بچوں کے عالمی کنونشن پر ایک اعتراض اٹھایا گیا تھا جس میں اسلام کو بنیاد بنایا گیا لیکن بعد ازاں یہ اعتراض واپس لے لیا گیا۔ موجودہ دور میں تو پھوٹے منہ ایسا کوئی ذکر موجود نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کو باقاعدہ حوالہ بنانے کیلئے کوئی اداراتی تیاری نہیں کی گئی۔ یہ ایک بنیادی ضرورت ہے کہ معاہدات اور قوانین کے ابتدائی ڈھانچے میں اسلام اور اسلامی قوانین کو باقاعدہ طور پر حوالہ دیکر ذکر کرنے کیلئے تیاری کی جائے تاکہ ہماری مذہبی شناخت اور ہمارے معاشرے کی بنیادی اٹھان ان معاہدات میں ذکر کی جائے۔ اس سے ہماری عالمی مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ دنیا کے دوسرے ممالک اور ادارے پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے مخصوص اسلامی پسِ منظر اور اصطلاحات کا دھیان رکھیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان جیسے تمام اسلامی ممالک کا غیر متحرک کردار بھی ہے۔ تمام ممالک اپنی مخصوص پہچان کیساتھ زندہ رہتے ہیں۔ ممالک سے پہچان چھین لی جائے تو وہ کہیں کے نہیں رہتے۔ اسلام ہماری بنیادی پہچان ہے۔ اس بناء پر ہم اس سے وابستہ تمام حقائق کو اولیت دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ عالمی ادارے اور قوانین ہماری اس بنیادی پہچان کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں اس بناء پر ہمارے ادارے اور بااثر گروہ یا افراد اسلام کا باقاعدہ حوالہ دیتے ہوئے کتراتے ہیں۔ یہ عمل ہماری مشکلات کی زنجیر کو مزید طویل کردیتا ہے۔

مثال کے طور پر 1979 میں جب خواتین کا عالمی قانون سیڈا تشکیل دیا گیا تو پاکستان ایک توانا صورت میں موجود تھا۔ اس وقت تک اسلامی آئین تشکیل پاچکا تھا۔ 1973 کو گزرے ہوئے ایک چار سال ہوچکے تھے۔ مولانا مودودی کی کتاب پردہ موجود تھی۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر ہمارے علماء اور محدثین کی رائے تحریری طور پر موجود تھی۔ ایسے میں پاکستان کو عالمی قانون کی بنیاد میں اسلامی خمیر کا اضافہ کرنے کی مہم چلانی چاہئیے تھی، مگر ایسا نہ ہوا۔ اس کے برعکس پاکستان کے علاوہ سعودیہ کے کارپرداز بھی اس کوشش میں کوئی اضافہ نہ کرپائے۔ جس کی بناء پر دنیا میں خواتین کی آزادی کا ایسا قانون متعارف ہؤؑا جسکا اسلام سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان نے اس قانون کو 1996 میں تسلیم کیا۔ اس قانون کی پہلی شق ہی مرد وخواتین کی ہمہ قسم برابری پر زور دیتی ہے۔ جبکہ اسلام میں عورت اور مرد کے حقوق و فرائض مختلف ہیں۔ سیڈا کا آرٹیکل 13 خواتین کے معاشی حقوق میں سے فیملی بینے فٹ (وراثت وغیرہ) کا ذکر بھی کرتا ہے جبکہ خواتین کا اسلام کے تحت مردوں سے آدھا حصہ ہوتا ہے۔ یہ بنیادی تحفظات ہیں جن کی بناء پر عالمی قوانین اور ادارے مسلم تنظیمات اور اداروں سے کتراتے ہیں۔ کیا پاکستانی ادارے اور مقننہ یا عدالتیں اس عالمی قانون کو نظر انداز کرکے اپنا کام چلائیں گی یا اس کے خلاف کوئی تحریک پربا کریں گی؟ یا اس قانون کو اپنا کر اسلام سے روگردانی کی مرتکب ہونگی؟ یا ہمارے ادارے کسی جانب بھی نہیں ہونگے اور بے سمت فیصلے صادر کرتے رہیں گے؟ ہوسکتا ہے کہ ڈنگ ٹپاؤ اور وقتی فیصلے صادر ہوں۔ جس سے پاکستانی معاشرہ اقوامِ عالم کے سامنے مزید بے وقعت ہوجائے۔ یہ سنجیدہ معاملات ہیں جن پر بطور قوم سوچ سمجھ کر سیاسی شعور کے ساتھ طویل مدتی فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور ان پر جم جانا ہوتا ہے۔ مسلم ممالک اپنے معاشرے کی بنیادی اقدار کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ غلط فہمی ہے کہ یہ اسلامی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ دراصل یہ تمام معاشرے کی اجتماعی ناکامی ہے۔ جس قدر دیر سے اسلامی اقدار کو عالمی اداروں اور کسی عالمی فورم پر اٹھایا جائیگا، ہمارے معاشرے کی مشکلات اسی قدر بڑھتی چلی جائیں گی۔

ہم جس بھی مشکل کا شکار ہیں اس سے نکلنے کیلئیے مذہب کو نظر انداز کردیتے ہیں یا مذہب کو غلط قرار دیتے ہیں۔ یہ عالمی رجحان اب ہماری مقامی سیاست میں بھی وارد ہوگیا ہے۔ موجودہ دور میں بہت سی بہانے بازیوں کی وجہ سے یہ رجحان کافی پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔ اس کی بناء پر ہم کوئی بھی مقامی روایت اپنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ نتیجتا ہمیں عالمی قوانین کی دلفریب لفظی اصطلاحات کو اپنانا پڑتا ہے۔ لیکن اس سے ہمارا معاشرہ کھلونا بن جاتا ہے۔ ہماری روایات کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ آواز اٹھانے والے معدودے چند گروہ اپنے انجام کو ہنچ جاتے ہیں یا مصالحت اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلم ممالک ایک قدم مزید پیچھے دھکیل دئیے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اس سے دنیا مثبت جانب چل پڑتی ہے۔ اس سے دنیا مزید غیر مستحکم ہوجاتی ہے۔ مشکلات کا حل ڈھونڈنے میں مزید مسائل درپیش ہوجاتے ہیں ۔ بظاہر تو دنیا میں بینکاری کا نظام 2007اور 2008 میں غیر مستحکم ہؤا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی ہاؤسنگ کی مارکیٹ مکمل طور پر بیٹھ گئی۔ دنیا بھر کا بینکاری اور معیشت کا نظام متوتر کئی سال تک انحطاط کا شکار رہا۔ لیکن کسی نے اسے اسلامی تحریکوں اور اسلامی قوانین کی مخالفت کے اثرات کے طور پر نہیں دیکھا۔ اس ناکامی کو عالمی اخلاقیاتی پیمانوں سے منسلک کرکے تجزیہ کرنے پر کوئی محنت صرف نہیں کی گئی حالانکہ ادارتی اکنامکس میں اس کی گنجائش موجود تھی۔ لہٰذا دنیا میں ہونے والی تحقیق بھی اپنے وسیع تر تناظر کے باوجود جانبدار ہی رہی۔ اس لئے جس قدر تحقیقاتی کوششیں کی جارہی ہیں، وہ جز وقتی بہتری لانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں ۔

مذاہب نے انسانیت کو درپیش مسائل کا صاف، سیدھا اور فطری رخ دکھانے کی سعی کی۔ اخلاقیات کے اعلیٰ ترین اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسانوں کو اپنے دور کے چیلنج سے نکالا۔ تاآنکہ نبی اکرم محمد الرسول اللہ تشریف لائے جنہوں نے انسانیت کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے ہمہ گیر عالمی اصول و قوانین عطاء کیے جس کے ساتھ ہی دنیا سے نا انصافی اور تباہی کا دور گزر گیا۔ بعد ازاں برپا ہونے والی اصلاحی تحریکوں نے اسلام سے اصول اخذ کئیے لیکن اسکا اظہار نہیں کیا۔ اسلامی معاشرے اپنے اصولوں کے مطابق ہی قائم رہے۔ اسلامی معاشروں کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں سے ہٹایا نہیں جاسکا جس کی بناء پر یہ معاشرے اپنی بنیاد سے دور نہ ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود یہ کامیاب معاشرے کہلائے اور آج تلک قائم ہیں۔ ان معاشروں کو عالمی اداروں نے سبق پڑھانے کی سی و جہد کی ہے۔ لیکن عالمی معاشرہ خود ہی ناکامی کی راہ دیکھ لیتا ہے۔ کبھی معاشی تنزلی تو کبھی سیاسی اودھم اور کبھی جنگ و جدل۔ جس کی بناء پر عالمی قوانین پر مبنی معاشرہ مکمل طور پر قائم نہیں ہوپاتا۔ اگر کبھی ایسا عالمی معاشرہ قائم ہؤا تو وہ اسلامی معاشرے کی قبر پر قائم ہوگا۔ اسلامی قوانین کو اسلامی معاشروں کی جڑوں سے اکھیڑ کر ہی عالمی قوانین کی عملداری قائم ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں ایکدوسرے کی ضد ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلامی معاشرے کو اسلام کی بنیاد سے اکھیڑ کر غیر اسلام یا لامذہبیت کی بنیاد پر قائم کرنا کسی طور ممکن ہے یا فائدہ بخش ہوسکتاہے؟

1998 میں انٹرنیشنل کریمینل کورٹ نے شرعی اصولوں کو اپنانے پر روم کانفرنس میں عرب ریاستوں اور مغربی ممالک میں اختلاف ابھر کر سامنے آیا تھا۔ سٹون سی روچ نے اس پر مضمون لکھا اور تجویز دی شرعی اصولوں کو قوانین کا درجہ دیا جائے۔ اگر بفرض محال ایسا کربھی لیا جائے تو کیسے ممکن ہے کہ یو این چارٹر تو مذہب کی مخالفت کرتا ہو جبکہ اسکی ایک عدالت سے شرعی اصولوں پر فیصلے دئیے جائیں۔

اس کیلئے پاکستان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی قانون کی بنیادوں کو سمجھنے اور پھر اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلام پر ہے۔ اسلام کی ایک بنیادی قدر تقدس رسالت مآب (ختمِ نبوت) ہے۔ جب کوئی فرد لا الٰہ الااللہ محمد الرسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اقرار کرتا ہے تو تمام ادیان سے کٹ کر صرف محمد (صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو آخری نبی مانتا ہے۔ آپ (صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ اس عقیدے کے بعد ہی کوئی شخص مسلمان قرار پاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں شک کرتا ہے تو وہ مسلمان ہی نہیں۔ اگر کوئی شخص مسلمان نہیں اور ساتھ میں تقدس رسالت مآب سے بھی انکاری ہے تو وہ پاکستانی معاشرے کی اجتماعی گروہی عادات اور روایات سے اختلاف کرتا ہے۔ بنیادی اصول سے انکار کرتا ہے اور یوں قانون سے اختلاف کرتا ہے۔ ایسا شخص ہمارے اجتماعی ضمیر اور یوں اسکے قانون کے احکامات تسلیم نہیں کرتا۔ اس بناء پر اسے ہم اسے پاکستان کے اجتماعی معاشرے میں ضم نہیں کرسکتے یا اہم مقام نہیں دے سکتے۔ قانون کی یہی ایک تصریح ہے۔ اس کے سوا قوانین کی بنیاد کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔ سمجھنا یہ ہے کہ اگر ایک گروہی عادت کو اصول بنایا جائے تو وہ کونسی بنیادی روایت ہے جس پر پاکستانی معاشرہ قائم ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ جبکہ اسلام صرف اور صرف ختم نبوت کی بنیاد پر قائم ہے۔ ورنہ ہر دوسرے دن ایک نیا فرد کھڑا ہوکر نعوذ باللہ نئی گروہی روایات لاتا پھرے۔ اس پر میکس ویبر نے 1921 میں تحریر کردہ کتاب اکانومی اینڈ سوسائیٹی صفحہ 894 میں تحریر کیا ہے کہ پیغمبر ہی نئی روایات پر گروہوں کو قائم کرتے ہیں۔ قانون دان (فقہاء) پہلے سے موجود روایات کو باقاعدہ اصولوں کی صورت میں صرف اور صرف تشکیل دیتے ہیں۔ جن سے بعد ازاں قوانین ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے الفاظ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں:

Prophets are the only ones who have taken a really consciously “creative” attitude toward existing law; only through them has new law been consciously created. For the rest, as must be stressed again and again, even those jurists who, from the objective point of view, have been the most creative ones, have always and not only in modern times, regarded themselves to be but the mouthpiece of norms already existing, though, perhaps, only latently, and to be their interpreters or appliers rather than their creators. This subjective belief is held by even the most eminent jurists (Weber, Max. 1921 reprinted 1978).

قانون دان نئے سماجی نظام کی تشکیل نہیں کرسکتے۔ نئی جائز سماجی روایات اور باجواز گروہی عادات تخلیق نہیں کرسکتے۔ سماجی معاملات میں دخل اندازی انتہائی مہلک ہے۔ تقدس رسالت مآب پاکستان کی سماجی قدر کا درجہ رکھتی ہے۔ سوال کو دوسری سمت سے دیکھیں۔ کیا اسلام ہماری بنیادی قدر نہیں؟ کیا ختمِ نبوت اور تقدس رسالت مآب اسلام کی بنیادی قدر نہیں؟ کیا ہمارے فیصلہ ساز اس بنیادی قدر سے انکار کرسکتے ہیں ۔ ہمارے قانون دانوں اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ سازوں کو ماننا پوگا کہ سماجی قدر میں تبدیلی کرنے یا کسی بھی بناء پر اسے ترجیحات میں کم درجہ دینے سے معاشرہ بکھر جائیگا۔ پاکستان ایسے ہی وجود میں آیا تھا۔ بنیادی قدر کو اقلیت کی عینک سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اقلیتوں کو اس فریم ورک میں کس تناظر سے دیکھا جائے، اس پر پھر کبھی بات کی جاسکتی ہے۔ معاشرہ اپنی بنیادی قدر کی حفاظت ضرور کرتا ہے۔ وگرنہ معاشرہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقدس رسالت جیسی بنیادی اقدار کو عالمی قانون کا درجہ دلوانے کی جدوجہد کیوں نہ کی گئی؟ اسلامی روایات کے مطابق خواتین کیلئے ترتیب پانے والے عالمی قانون میں تبدیلی کیلئے جدوجہد کیوں نہ کی جاسکی؟ معاشرے کو اسکی بنیادی روایت سے ہٹانے پر زور صرف کرنے والے اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد پاکستانیوں پر رحم کریں۔ معاشرے کو کسی نہ کسی ایک روایت پر قائم ہونا ہے۔ جمہوریت کے مطابق ریفرنڈم کرلیا جائے تو بھی اسلام اور ختمِ نبوت کے خلاف شاید پانچ فیصد سے کم ووٹ آئیں۔ اس صورتحال میں پاکستانیوں کو ان کی روایات سے ہٹانے کی بجائے اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں تبدیلی کیلئے کوشش کرنا تھی۔ لیکن ہم آج تک الٹی جانب سفر کرتے رہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی اس کو بالکل بدل کر نئے رخ پر نئے سرے سے شروع کرسکتے ہیں؟ اور کیا اس کیلئے وقت بھی ہے یا نہیں؟

بنیادی اصول اور روایات اس قدر اہم ہیں کہ انکے نفاذ کیلئے عوامی تحریکات چلتی ہیں جیسے تحریکِ پاکستان۔ حکومتیں اور ملک اہم ترین اصول کی بناء پر الٹ جاتے ہیں۔ اسے ہم تخت الٹنا اور تاج اچھلنا کہتے ہیں۔ ملکوں کے ملک کسی ایک بنیادی قدر کی بناء پر تباہ ہوجاتے ہیں۔ قوانین بھی معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور بنیادی اصولی اقدار پر مبنی ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں بھی بنیادی قدر آزاد روی ہے جسے لبرٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق اور آزادی کی تمام بحث اسی حقیقت سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن مغربی معاشرہ بھی ایک خاص حد تک آزادروی کی اجازت دیتا ہے۔ ورنہ وہاں قوانین اور انکے تحفظ کیلئے ادارے موجود ہی نہ ہوتے۔ اداروں کی موجودگی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ کوئی نہ کوئی بنیادی اصول موجود ہیں جن پر معاشرہ ترتیب پارہا ہے۔ ہمیں بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ لبرٹی کو ہی اصول بنانے اور اسکے گرد معاشرے تشکیل دینے سے ایک نئی قدر کا اضافہ تو نہیں ہوگیا؟ ہم یہ غلط عقیدہ نہیں مان سکتے کہ کوئی نیا پیغمبر آیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔ فکری آزادروی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے صرف لبرٹی ہی بنیادی قدر ہے۔ امریکی اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں کہ “جہاں میری ناک کی حد شروع ہوتی ہے، وہاں تمہاری چھڑی کی حد ختم ہوجاتی ہے”۔ ایسے ہی جہاں کسی معاشرے کی بنیادی قدر پر سوال اٹھے گا، وہاں آزاد روی کی حد ختم ہوجائیگی۔ کسی کے ناک سے مراد صرف ایک فرد کی عزت کا سوال نہیں ہے۔ یہ اجتماعی معاملات میں بھی ایسے ہی لاگو ہوگا کہ کسی ایک گروہ کی اجتماعی قدر پر سوال اٹھایا جائے۔ بنیادی قدر کو پامال کیا جائے۔ ایسا نہ مانا جائے تو اجتماعی ضمیر کہاں سے باقی رہے گا۔ جب اجتماعی ضمیر باقی نہ رہیں تو معاشرے کسی کے پابند نہیں رہتے۔ بڑے بڑے معاشرے انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس اجتماعی انتشار سے بچنے کیلئے معاشرے میں حکومتی نظم و نسق کا بنیادی اصول تشکیل پاتا ہے جسے پبلک آرڈر کہتے ہیں جوکہ حکومتی نظم و نسق کے دو اصولوں میں سے ایک ہے۔ پہلا اصول “اجتماعی اقدام” ہے۔ پبلک آرڈر کے ذریعے سے معاشرے میں پھیلنے والی بے چینی کو دور کیا جاتا ہے۔ لیکن انتشار سے بچنے کیلئے پہلے معاشرے کی بنیادی اقدار کی حفاظت کرنا ہوگی۔ بنیادی قدر پبلک آرڈر نہیں جس کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اقدامات کرتے ہیں ۔ اصل مقصد تو بنیادی قدر کا تحفظ اور نفاذ ہے۔ اس قدر کے تحفظ کیلئے کام کرنے والا ہی ہمارا حقیقی محافظ ہے۔ اس کے بغیر ہم اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔

اس لحاظ سے اقوامِ متحدہ کا چارٹر ایک فرسودہ دستاویز ہے۔ جسے انسانی عادات اور گروہی روایات اور پھر قانون سازی کی بنیادوں سے کچھ زیادہ نسبت نہیں۔ اس کی بجائے آزادی کی واحد قدر کو اپنا کر تمام گروہوں کو ایک ہی لاٹھی کیساتھ ہانکنا چاہتا ہے۔ اس بناء پر یہ تمام اقوام کے مسائل کو سمجھ نہیں پاتا اور نہ ہی انکا کوئی حل دے پاتا ہے۔ اقوامِ عالم کے مسائل کی بنیادی وجہ عالمی اداروں میں بصیرت کی کمی ہے۔ اس کا رونا کب تک روئیں؟ اس ایک وجہ کی بنیاد پر تمام اسلامی گروہ مسائل کا شکار ہیں۔ انکے مثبت طرزِ عمل کو اپنانا اور انکی درست اور اعلیٰ روایات کو سمجھنا کسی عالمی ادارے کے بس کی بات نہیں۔ قوانینِ عالم اس بناء پر معاشروں کے اندر موجود پیچیدہ دھاگوں کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جس سے معاشرے غیر مستحکم ہوجاتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب بھی مسلم اقدار کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان سے صرفِ نظر کی جاتی ہے تو تمام عالمی نظام ہی غیر مستحکم ہوجاتا ہے۔ اس المیے کا اندازہ کرنے کیلئے کسی کا افلاطون ہونا ضروری نہیں۔ بہرحال عالمی کتھا سے ہمیں کچھ زیادہ لینا دینا نہیں۔ ہمارا لینا دینا تو اپنے سیاسی اکھاڑے سے ہے جہاں اسلامی سیاسی ادارے اور تنظیمات اپنا کھیل ہار کر میدان میں دھرنا دیتی ہیں اور پاکستان کے اعلی ادارے انہیں دخل در معقولات کا مجرم گردانتے ہوئے پرے دھکیل دیتے ہیں۔ مقننہ ہماری روایات سے صرفِ نظر کرتی ہے۔ عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے عالمی قوانین کو اپناتے ہوئے فیصلے صادر کردیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کیلئے اپنی روایات اور اسلای قوانین کی بالادستی کیلئے کوئی طریقہ کار باقی نہیں رہتا۔ جس کے بعد ہماری دنیا اندھیر ہوجاتی ہے۔

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: