ایک انوکھا اکاؤنٹنگ سسٹم اور متبادل تواریخ : نسیم طالب

0

زیرِ نظر اقتباس نسیم طالب کی کتاب Fooled by Randomness سے لیا گیا ہے۔


یہ بات پیش پا افتادہ ہے کہ جنگ، سیاست، طب، سرمایہ کاری—کسی بھی شعبے میں کارکردگی کو نتائج سے نہیں بلکہ متبادل انتخابات کی قیمت سے ہی جانچا جاسکتا ہے یعنی اس سے کہ جو ہوا اگر اس کی بجائے کچھ اور ہوجاتا تو اسکے کیا نتائج ہوتے۔ ان متبادل ممکنہ واقعات کو ‘متبادل تواریخ’ کہتے ہیں۔
یہ تو درست ہے کسی فیصلے کی اچھائی یا برائی کا فیصلہ صرف اس کے نتائج کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یہ بات آپ کو صرف ناکام رہ جانے والوں سے ہی سننے کو ملے گی (کیونکہ کامیاب ہونے والے اپنی کامیابی کی بنیاد اپنے عمدہ فیصلوں کو ہی قرار دیتے ہیں۔) اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے یا کیے جانے والے سیاستدان بھی میڈیا کے نمائندوں سے (اگر وہ انکی بات سننے کو تیار ہوں) یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ انہوں نے بہترین اقدامات اٹھائے تھے (جس کا جواب عموماً ‘جی آپ درست کہہ رہے ہیں’ کی صورت میں دیا جاتا ہے جو زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتا ہے)۔
 تاہم کئی زبان زد عام مقولوں کی طرح یہ بات بھی (یعنی یہ کہ فیصلے کی اچھائی یا برائی کا فیصلہ صرف اس کے نتائج کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا)  چاہے کتنی ہی پیش پا افتادہ کیوں نہ ہو اس کے عملی پہلووں کا لحاظ رکھنا نہایت مشکل ہے۔  

روسی رولیٹ:
آئیے متبادل تواریخ کے تصور کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک سنکی دولت مند آپ کو روسی رولیٹ (یعنی وہ کھیل جس میں آپ ایک ایسا ریوالور اپنے سر کے پر رکھ کر لبلبی دبا دیتے ہیں جس کے چھ میں سے کسی ایک خانے میں گولی موجود ہوتی ہے) کھیلنے کیلئے ایک کروڑ ڈالر کی پیشکش کرتا ہے۔ ایک دفعہ لبلبی دبانے پر جو نتیجہ نکلے گا وہ چھ ایک جیسی ممکن تواریخ میں سے ایک تاریخ ہوگا۔ ان چھ متبادل تواریخ میں سے پانچ کے ظہور پذیر ہونے کی صورت میں آپ کروڑ پتی بن جائیں گے جبکہ چھٹی کے ظہور پذیر ہونے کی صورت میں ایک احصائیہ (Statistic) یعنی ایک خجالت آمیز موت کا اعلان وجود میں آئے گا!
 مگر  مسئلہ یہ ہے کہ عالم حقیقت میں چھ کی بجائے صرف ایک ہی تاریخ ہمارے مشاہدے میں آتی ہے۔ اسی لیے ایک کروڑ ڈالر جیتنے پر کوئی نہ کوئی احمق صحافی (وہی جو فوربس کے 500 امیروں کی فہرست میں موجود ہر امیر کی بھی غیر مشروط تعریف میں رطب اللسان رہتا ہے) جیتنے والی کی مدح و توصیف شروع کردے گا۔ کیونکہ ان کاروباری منتظموں کی طرح جن سے میرا واسطہ وال اسٹریٹ میں اپنے پندرہ سالہ کیریئر کے دوران پڑا (اور جن کا کام میرے نظریے کے مطابق صرف اتفاقی نتائج کا منصف بن بیٹھنا ہے) عوام بھی دولت کو تو دیکھتے ہیں مگر اس کے منبع و مآخذ (ہم اسے مولد/ جنریٹر کہتے ہیں) کو نہیں۔ (اس رویے کی خطرناکی کا اندازہ کرنے کیلئے) اس امکان پر غور کیجئے کہ روسی رولیٹ کھیل کر (خوش قسمتی سے) امیر ہوجانے والے کسی کھلاڑی کو اگر اس کے اعزہ و اقرباء اور پڑوسی اگر رول ماڈل بنالیں تو کیا ہوگا!
باقی پانچ تواریخ مشاہدے میں تو نہیں آتیں مگر کوئی بھی دانا و عمیق الفکر آدمی ان کے بارے میں آسانی سے اندازہ لگا سکتا ہے۔ تاہم اس کیلئے خاصے تفکر اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ازیں علاوہ اگر رولیٹ کا یہ احمق کھلاڑی کھیل جاری رکھے تو ناخوشگوار تواریخ کے اسے آلینے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی پچیس سالہ کھلاڑی سال میں ایک دفعہ بھی رولیٹ کھیلتا رہے تو اس کے پچاس سال کی عمر تک زندہ رہنے کے امکانات نہایت کم ہوجائیں گے۔ تاہم اگر ہزاروں پچیس سالہ کھلاڑی ہر سال یہ کھیل کھیلنا شروع کردیں تو پچیس سال بعد ہمارے سامنے چند ایک زندہ اور نہایت امیر کھلاڑی اور ایک بہت بڑا قبرستان ہوگا۔    
اب مجھے اس کا بھی اعتراف کر لینا چاہیے کہ میرے لیے روسی رولیٹ کی مثال محض عقلی نہیں ہے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران جب ابھی میں لڑکپن میں تھا تو میں نے ایک دوست اسی کھیل میں کھودیا تھا۔ اسی زمانے میں مجھے یہ بھی پتا چلا کہ ادب میں میری دلچسپی محض سطحی نہیں ہے۔ اس کا انکشاف بھی گراہم گرین کے قلم سے اس کے ایک مرتبہ اسی طرح کے کھیل میں شریک ہونے کا واقعہ پڑھ کر ہوا۔ مجھ پر اس کا اثر میرے سامنے پیش آنے واقعے سے بھی بڑھ کر ہوا۔ گراہم گرین لکھتا ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ اکتاہت دور کرنے کیلئے اس نے بھی ایسے ہی ایک ریوالور اپنی کنپٹی پر رکھ لبلبی دبا دی تھی۔ میں تو اس خیال سے لرز اٹھا کہ اس کی اس حرکت کے نتیجے میں چھ سے ایک امکان تھا کہ میں کبھی اس کے ناول نہ پڑھ پاتا۔
اب آپ میرے حسابداری (اکاوئنٹگ) کے ایک انوکھے نظام کے تصور کو سمجھ سکتے ہیں۔ روسی رولیٹ کھیل کر اچانک کمایا ہوا ایک کروڑ دندان سازی کے شعبے میں رہ کر جانفشانی سے آہستہ آہستہ کمائے ہوئے ایک کروڑ کے برابر نہیں ہے۔ یہ دونوں کروڑ بظاہر ایک جیسے ہیں اور ان کی قوت خرید بھی ایک جتنی ہے لیکن ایک کا اتفاقات پر انحصار دوسرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اکاونٹنٹ کے لیے دونوں کروڑ برابر ہیں اور آپ کے پڑوسی کیلئے بھی لیکن میں یہ سوچے بنا نہیں رہ سکتا کہ دونوں میں خاصیتی طور پر فرق ہے۔ حساب داری کے اس متبادل نظام کے تصورکے کئی دلچسپ حاصلات ہیں جنکو ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ ریاضیاتی طور پر بیان بھی کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یاد رہے کہ ریاضی کا استعمال محض اس تصور کی وضاحت کیلئے ہے۔ اسے انجنیئرنگ کا کوئی مسئلہ نہ سمجھا جائے۔

 روسی رولیٹ سے بھی بڑھ کر تباہ کن کھیل:
 حقیقت روسی رولیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن ہے۔
اول، حقیقت کی مہلک گولی بہت نادر ہے۔ یعنی یہ ایک ایسے ریوالور کی طرح جس میں چھ کی بجائے ہزاروں خانے ہوں۔ اوردرجنوں مرتبہ لبلبی دبانے کے بعد آپ خود کو محفوظ خیال کرنا شروع کردیتے ہیں اور بھول ہی جاتے ہیں کہ کسی خانے میں ایک گولی بھی موجود ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے میں ‘بلیک سوان پرابلم’ کہتا ہوں جس کا تعلق استقراء کے مسئلے کے ساتھ بھی ہے۔ استقراء کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جس نے کئی سائنسی فلسفیوں کی راتوں کی نیند حرام کیے رکھی ہے۔ اور پھر اسی چیز کا تعلق ایک اور مسئلے سے بھی ہے جسے ‘انکارِ تاریخ’ کہتے ہیں۔ قمار باز، سرمایہ کار اور فیصلہ ساز عموماً اس دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جو تباہ کن واقعات دوسروں کے ساتھ پیش آئے وہ ان کے ساتھ نہیں پیش آسکتے۔
دوم، رولیٹ جیسے باضابطہ کھیل ،جس میں چھ سے ضرب اور تقسیم کرسکنے والا کوئی بھی شخص خطرات کا اندازہ کرسکتا ہے، کے برعکس حقیقت کی نالی عموما ناقابل مشاہدہ ہوتی ہے۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ جنریٹر/مولد کسی کو نظر آجائے۔ اور یوں ہم اس کھیل کو کوئی ‘کم پرخطر’ نام دے کر کھیلتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں حاصل ہونے والی دولت تو نظر آتی ہے مگر اسکی پیدائش کا عمل ہماری نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ ہمیں نہ تو خطرات نظر آتے ہیں اور نہ اس کھیل میں بار جانے والے۔ ہم خوشی خوشی یہ کھیل کھیلے چلے جاتے ہیں (اور ایک دن مہلک گولی کا شکار ہوجاتے ہیں)!

ترجمہ: عاطف حسین

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: