_سانولے سنوریا … انور شعور کا خاکہ، ممتاز رفیق کے قلم سے

1

یہ آدمی کون ہے؟ جیسے کاغذ کا کوئی ایسا ٹکڑا جو بہت دیر تک کسی تنگ دل کی مٹّھی میں مسلا جاتا رہا ہو یا ایسا ریشمی ملبوس جسے کسی کام چور دھوبی کی بے دھیانی نے بدرنگ کر ڈالایا کپاس کا کوئی ایساپودا جس میں کیڑا سرایت کر گیا ہو۔
کیا یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے؟؂
باریک روکھے بالوں کی سمٹتی ہوئی سیاہی، جس میں سپیدی کا کوئی نمایاں نشان نہیں ملتا اور اسی مناسبت سے تقریباً آدھے سر کو چھوتا ہوا ماتھا، جس پر چور کے چہرے کی سی اڑی ہوئی رنگت سے ملتی جلتی چوڑی بھنویں، جن کے بیچ تین باریک لکیریں حد فاصل قائم کیے ہوئے ہیں، آنکھوں اور بھنوؤں کی درمیانی جلد جیسے کسی میدان کو دیر تک سرکش گھوڑے روندھتے رہے ہوں اور آنکھیں جیسے دو خاک دانوں میں سوکھے گلابوں کی راکھ، جن میں تجسس، محبت اور دھیمی آنچ کے آمیزے کو آمیز کر کے انھیں دید کے مشغلہ پر مامور کردیا گیا ہے، آنکھوں کے کونوں پر اُڑی اُڑی سی کالک کی تہہ یعنی کوئی موذی مرض کہیں اندر چھپا انہیں چپکے چپکے چاٹ رہا ہے اور اس کلونچ کے نیچے دبے دبے سے ابھاروں پر کھنچی ہوئی جلد اور اُس سے پیوست دھنسے ہوئے گال اور قدرے نمایاں ناک، جسے انگشتِ شہادت اور انگوٹھے میں گرفت کر کے ہمارے انور شعور ادرک سے کشید کی ہوئی ام الخبائث کو نوش جان کرنے کا ناگوار تجربہ بھی سہارچکے ہیں، ناک کے قطعی نیچے دو باریک ہونٹ، جن پر ہر لحظے ایک من موہنی، میٹھی مسکراہٹ لوگوں کو اسیر کرنے کا فریضہ چوکسی سے سنبھالے رہتی ہے اور اس مسکراہٹ کے نیچے ایک کم زور سی ٹھوڑی، جو اُن کے ارادے کی بے طاقتی پر دلیل ہے، اور ہاں دو کان جن کی لوویں چوکس کھڑی مخاطب کو تکتی رہتی ہیں، اور گردن، جس پر ٹھٹھری ہوئی نسوں کا جال جیسے کسی اکتائے ہوئے کلرک نے بے دھیانی سے کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ دی ہوں، کاندھے جھکے جھکے، رنگت بجھی بجھی اور جسامت جیسے کسی پیڑ سے، بہار کچھ دن قبل ہی رخصت ہوئی ہو۔ یہ ہیں انور شعور جنہیں میں کوئٹہ عنابی ہوٹل کی ایک میز پردوستوں سے مکالمے میں مصروف دیکھ رہا ہوں۔ یہ اُس آدمی کی پرچھائیں ہے جسے تیس بتیس سال قبل میں نے پہلی بار ایک مشاعرہ میں دیکھا تھا۔
اُس زمانے کی کتنی ہی باتیں اب محض یادیں ہیں۔ پر کیا کیجیے کہ یہ یادیں آپ کا سایہ بنی رہتی ہیں، مگر اُن کی بھی اپنی الگ کیمیا ہے، عام طور سے یہ اُس آدمی سے جڑی ہوتی ہیں جس سے آپ ایک تواتر سے ملتے رہتے ہیں، کیوں کہ یادیں تو اُن باتوں، مسکراہٹوں، لہجوں، نگاہ کے زاویوں، ماتھے کی سلوٹوں اور اُن ساعتوں کا منظر نامہ ہوتی ہیں جو آپ کسی کے ساتھ گزارتے ہیں، لیکن کبھی کبھار عجب ہوتا ہے کہ آپ کسی آدمی کو بس دیکھتے، سنتے ہیں اور پھر برسوں کے لیے وہ آپ سے بچھڑ جاتا ہے، لیکن اپنے پیچھے وہ لمحے جو آپ نے اُسے دیکھتے سنتے گزارے تھے، پوری تفصیل کے ساتھ آپ کے باطن میں نقش چھوڑ جاتا ہے پھر چاہے آپ اُسے بھلا بھی دیں وہ آپ کی بے خبری میں آپ کے اندر رچا بسا رہتا ہے۔
ہمارے سانولے سنوریا، انور شعور کا بھی کچھ یہی قصہ ہے۔ پہلے پہل ہم نے موصوف کو ایک مشاعرے میں دیکھا اور سنا، پھر بھول بھال گئے، مگر فرخ آباد کا یہ خان زادہ جو اپنی مدھ بھری آواز میں نعت خوانی کے ساتھ نعت گوئی پر مائل ہوچکا تھا اور جس نے فنِ شعر پر دسترس کے لیے بے خود دہلوی کے شاگرد، افسر دہلوی کو اپنا استاد مان لیا تھا اور زندگی کاٹنے کو چھوٹی موٹی ملازمتوں پر قانع تھا، جانے ہم پر کیا صور پھونک گیا تھاکہ دنیائے خیال میں اچانک سامنے آکھڑا ہوتا اور ہم اُس سے تعلق قائم کرنے کے تانے بانے بننے لگتے۔ خیر قصہ کوتاہ جس طرح بڑی جست کا خواب دیکھنے والا خود کو تادیر کسی ایک صورت حال کا پابند نہیں رکھ سکتا، اسی طرح ہمارے دوست نے بھی حقیقت سے مجاز کی راہ پکڑی اور گلی کوچوں میں اشعار کی دھول اڑانے لگا۔ چند ابتدائی غزلوں کے بعد ہی لوگوں کی سماعتیں انور شعور کی آواز کی منتظر رہنے لگیں۔ سانولے سنوریا کا دل آویز لحن اور لفظوں کی بازی گری، مل جل کر ایک نئی بساط بچھانے لگے، لیکن وہ لوگ جو ایڑھیاں اٹھا کر چلنے کے عادی ہوں اُن سے کسی کی دراز قامتی کب برداشت ہوتی ہے؟ کہا جانے لگا کہ انور شعور کا تمام جادو اُس کی آواز کے پینترے بازی میں بند ہے۔ انور شعور نے اس لایعنی بات کا ایسا گہرا اثر لیا کہ پہلی بار یہ بول کان میں پڑنے کے بعد سے پھر کبھی کوئی مصرع تک گنگنانے کے روادار نہیں رہے، لیکن اُن کا جادو چل کر رہا۔
باہر اُن کی توقیر کے پھر یرے لہرارہے تھے اور گھر میں ایک ناپسندیدگی نفرت کا روپ دھارتی جارہی تھی۔ ہر روز رات گئے جب انور شعور ڈگمگاتے قدموں گھر کی دہلیز پار کررہا ہوتا تو کہیں کسی ایک کونے میں دو غضب ناک آنکھیں، اپنے بیٹے کی اس بے راہ روی پر تأسف اور غصے سے دہک رہی ہوتیں، یہ انور شعور کے ابا میاں تھے جنہیں اپنے بیٹے کی بڑھتی ہوئی مے نوشی نے اس درجے مشتعل کردیا تھا کہ اب وہ شعور کو نگاہ بھر کر دیکھنے کے بھی روادار نہ تھے۔ انور شعور کے سائبان کی ایک کڑی کھڑاک کی آواز کے ساتھ دولخت ہوچکی تھی، شاید اس چھت کی چھاؤں انور شعور پر مزید سایہ کیے رہتی لیکن قدرت کو بھی شایدیہی منظور تھا کے انور شعور، دانش کا کُل سرمایہ آوارہ گردی کرتے اکٹھا کرے۔ سُو ہمارے دوست کی اماں، جنت مکانی ہوئیں اور وہ گھر کو خیرآباد کہہ کے شہر فتح کرنے کا قصد کیے میدانِ کار زار میں کود پڑے۔ اب انھوں نے اپنے نام سے افسری حذف کر کے فقیری اختیار کی اور پاک کالونی کی ایک تنگ و تاریک کھولی میں تیس روپے کے عوض اقامت اختیار کرلی۔ ہم نے انور شعور سے اپنی پہلی ملاقات کے تذکرے میں ذرا اختصار سے کام لیا لیکن شاید یہاں اسے تفصیل کرنا ضروری ہے۔
ہاں تو اُس دن ہوا یہ کہ ہم شاہ فیصل کالونی کے ایک مشاعرے میں شریک تھے، اچانک ہماری نظر بے ارادہ ایک جوان پر پڑی۔ سانولی سلونی رنگت، چہرے پر ملاحت بھری جاذبیت، جسم میں آفت زدہ جنگلی درختوں ایسی ناتوانی، آنکھوں میں تجسس بھری بے نیازی، ہونٹوں پر میٹھی مسکان، کپڑوں میں اہتمام کے باعث باقی رہ جانے والا اجلا پن، داہنے ہاتھ کی دو انگلیاں دہوئیں کی زرد باقیات سے لتھڑی ہوئی، محنت سے کاڑھے گئے روکھے باریک بال اور درمیانے درجے کی قامت، یہ انور شعور کی بھری جوانی کا زمانہ ہے۔وہ لفظ و خیال کی قوّت پر نیک نامی کمانے کی جستجو میں اپنے ہوش کھوئے دیتا ہے۔ انور شعور دوسرے کئی دیوانوں کے ساتھ شاہ فیصل کالونی کے چھوٹے سے مکان کے کچے صحن میں آلتی پالتی مارے بیٹھا ہے۔ یہ سن ستّر یاشاید بہتّر کا زمانہ ہے۔ ابھی معاشرے میں شاعر اور مشاعرہ پوری طرح ٹھٹول کا موضوع نہیں بنے۔ مشاعرہ زور و شور سے جاری ہے، مائک پر ایک نوجوان غزل پڑھ رہا ہے، سامعین میں جون ایلیا‘ عبیداللہ علیم‘ ساقی امروہوی‘ وقار اجمیری اور ہمارے سانولے سنوریا شامل ہیں۔ میں بھی وہیں ایک کونہ پکڑے، اپنے شہر کے ان معروف تخلیق کاروں کی گفتگو کے بہاؤ میں بہہ رہا ہوں۔ کبھی عبیداللہ علیم کا دبا دبا قہقہہ سنائی دیتا ہے تو کبھی جون ایلیا کی بتیسی چمکتی ہے، انور شعور بڑے تکلف سے محض ہونٹوں کو کھینچنے پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔ اس محفل میں شعر کی قرأت اور تخلیقی عمل پہلو بہ پہلو جاری ہے۔ جون ایلیا اپنی لانبی لانبی انگلیاں، الجھے ہوئے بالوں میں پھنسائے کوئی دور کی کوڑی لانے کی فکر میں ہیں۔ علیم اپنی چکر مکر آنکھوں سے بظاہر لوگوں کے چہرے ٹٹول رہے ہیں لیکن شاید اُن کا ہدف کچھ اور ہے، مجھے کچھ یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی مصرعِ تر کے تعاقب میں ہوں۔ مضافاتی استاد کا مرتبہ رکھنے والے ساقی امروہوی اپنا نحیف بدن سمیٹے، گردن ترچھی کیے اہلِ محفل کو لا تعلقی سے تک رہے ہیں۔ وقار اجمیری کہ اچھے شاعر کا اعتبار رکھتے ہیں، اپنے بھاری بھرکم وجود کے ساتھ آنکھیں موندے، اشعار کے تیکنیکی خواص پر غور و فکر میں گم ہیں، اور انور شعور وہ اس تمام کھیل تماشے کو دلچسپ نظروں سے تول رہے ہیں۔ اچانک جون ایلیا کسی گہرے استغراق سے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہیں پھر علیم پر تقریباً گرتے ہوئے، اپنا دایاں بازو پھیلا کر سگریٹ کا خالی پیکٹ جھپٹتے ہیں اور اُسے چاک کر کے اُس پر کچھ لکھنے لگتے ہیں۔ علیم ہونٹ ذرا باہر نکالے مایوسی سے گردن ہلارہے ہیں، لگتا ہے مصرع اپنی چھب دکھلا کر ہوا ہوگیا۔ انور شعور بے قراری سے جون کی تحریری مصروفیت کے اختتام کے منتظر ہیں۔ ناظم مشاعرہ کسی شاعر کو مائک پر طلب کررہا ہے۔
جانی !شعر سنو، اچانک جون ایلیا کی بتیسی چمکتی ہے۔ علیم ناخوشی کے سے عالم میں انور شعور پر سے نظر دوڑاتے ہوئے جون کے ہنستے ہوئے چہرے پرنظریں گاڑ دیتے ہیں۔ انور شعور اپنے یارِ خاص سے تخلیقِ تازہ سننے کی بے قراری میں ہیں۔ جون ایلیا کی سوچی سمجھی چپ اشتیاق کو بڑھاوا دے رہی ہے۔
لو جانی سنو!جون لب کشا ہوتے ہیں۔ شعر کے خاتمے کے ساتھ ہی مشاعرے کے ایک مخصوص کونے سے داد و تحسین کا شور بلند ہوتا ہے۔ اسٹیج پر شعر پڑھتا ہوا شاعر کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں ’’آداب‘‘ کے ڈونگرے برسا رہا ہے۔ تین کا ٹولہ شاعر کی بدحواسی پر ٹھٹھا مار کے ہنستا ہے، لوگ گردنیں موڑ موڑ کر ان تینوں کو دیکھ رہے ہیں۔
میں انور شعور سے اپنی پہلی ملاقات کی تفصیل یہاں تمام کرتاہوں اور اپنے ممدوح کی طرف رجوع کرتا ہوں جن سے پھر میں بہت مدّت تک رابطے میں نہیں آسکا، لیکن اپنی کسی تگ و دو کے بغیر مجھے معلوم ہوتا رہا کہ وہ کب کس مصروفیت سے جڑے ہوئے ہیں۔ میرے حلقۂ احباب میں ایسے کئی نوجوان تھے جنھیں شعور کی شخصیت اور شاعری سے گہری دلچسپی تھی۔ انور شعور، جن کی نعت خوانی اور نعت گوئی کا بڑا چرچا تھا وہ اُسے ترک کر کے شعرِ محض لکھ رہے تھے اور باقاعدہ پیروں میں گھنگھرو باندھے اپنی باری کے انتظار میں شغلِ بادہ میں مشغول رہنے لگے تھے۔ شاید نعت گوئی کے مقابلے میں شعر لکھنا اُنھیں زیادہ سہل معلوم ہوا ہوگا۔ کون جانے اُن کا یہ فیصلہ درست ہی ثابت ہو اور وہ شعرِ مجاز میں منزلیں مارتے ہوئے کوسوں آگے نکل جائیں۔
اُس زمانے میں انور شعور کے تخلیقی جوہر کے کتنے ہی نوجوان لڑکے، لڑکیاں گھائل تھے۔احمد جاوید اور سراج منیر جیسے خود سر بھی کے کم کسی کا شعر خاطر میں لاتے تھے۔ انور شعور کا کلام سراہتے‘ دھراتے اور موضوعِ کلام بناتے۔ لیکن یہ سفر ایسا آسان نہیں تھا کہ ہمارے طوطئ خوش کلام کے حلیف ہی دراصل اُن کے حریفِ خاص بھی تھے۔ عبیداللہ علیم کے تیور بھی تیکھے تھے اور وہ اپنی ڈفلی بجانے کا فن بھی خوب جانتا تھا اور جب سے سلیم احمد نے اُس میں شاعری کے امکانات کے حوالے سے چار لفظ لکھے تھے، تب سے گویا اُس کے قدم ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ رہے بھائی جون ایلیا تو وہ شاعر کی حیثیت سے اپنااعتبار قائم کرچکے تھے، انھیں شعر لکھنے کا ڈھنگ بھی خوب آتا تھا اور پڑھنے کا ڈھب بھی الگ رکھتے تھے، گویا اچھی خاصی گرما گرمی کا بازار تھا۔ انور شعور کے لیے یہ دو احباب ہی اُن کے گلے کا ہار بھی بنے اور گلے کا پھندا بھی۔پھر اطہر نفیس تھے، جن کے شعر کا شہرہ بھارت تک میں تھا لیکن کم انور شعور بھی نہ تھے، بھارت میں ساٹھ کی دہائی میں شائع ہونے والے ایک انتخاب میں موصوف جگہ پا چکے تھے حالاں کہ یہ اُن کی شاعری کا ابتدائی زمانہ تھا۔اس کے باوجود اس میں بہرحال کوئی شک نہیں کہ انور شعور کو اپنا مقام بحال اور مستحکم رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب رئیس فروغ ریڈیو اسٹیشن کے ایک تنگ کمرے میں بیٹھے ایسے زندہ شعر لکھ رہے تھے۔
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کرسکتے
رئیس فروغ کا زیادہ چرچا نہ ہونے کے باوجود حال یہ تھا کہ جوایک بار اُن کا شعر سن لیتا اُسے ان کے شعر کی چاٹ لگے بنا نہیں رہتی تھی، پھر نصیر ترابی تھے جن کے مصرعے کی تراش خراش کا ایک زمانہ معترف تھا۔ یہ تو وہ لوگ تھے جن سے انور شعور براہ راست موازنے میں تھے، ان کے علاوہ تروتازہ پھولوں کا پرے کا پرا تھا، جن کے لفظ و خیال کی مہک لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگی تھی۔ ثروت حسین تھے کہ منہ آنے کو پر تول رہے تھے، احمد جاوید تھے، افضال احمد سید تھے اور پروین شاکر تھیں، اُدھر پنجاب سے منیر نیازی تھے کہ کراچی آکر دلوں میں ترازو ہورہے تھے، احمد فراز تھے جنھوں نے سرحد اور پنجاب کو اپنا مرکز بنا کے سندھ فتح کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ ایسی چومکھی میں پوری استقامت سے قدم جمائے رکھنا کوئی معمولی بات نہیں تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا سانولا سنوریا بے نیازی سے کام کیے جاتا ہے اور آگے بڑھا جاتا ہے۔ انور شعور تہتّر چوہتّر تک چاروں کھونٹ میخیں گاڑ چکے تھے اور دوستوں دشمنوں کی بھیڑ میں انھیں الگ سے شناخت کرلینا کسی خاص تگ و دو کا متقاضی نہ رہا تھا۔ اُن کی سادگی و پُر کاری، شعرکی تفہیم اورتربیت یافتہ ذوق رکھنے والوں کے ایک بڑے حصے کو اپنا اسیر بنا چکی تھی، ہمارے سانوریا کی شاعری کا مکالماتی ڈھنگ اور نثر کو نظم بنادینے کا جادو دلوں کو فتح کررہا تھا، یہ ایک ایسا طلسم تھا جس سے اردو کا کوئی اور شاعرشاید ہی واقف تھا۔ ہاں انورشعور کے بعد کئی احباب نے اس طرز کو اپنانے کے جتن کیے لیکن وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی، آگے چل کریہی ہمارے سنوریا کا اسلوب قرار پایا۔
انور شعور میں دہکتی ہوئی تخلیقی شعلگی، شعر و ادب میں اُن کی سرفرازیاں‘ مقبولیت، ناموریاورپسندیدگی اپنی جگہ لیکن پیٹ تو روٹی مانگتا ہے اور روٹی تھی کہ آگے ہی آگے دوڑی جاتی تھی اور ہمارا سانوریا اُس کے تعاقب میں بھاگتے بھاگتے ہلکان ہوا جاتا تھا۔ انور شعور کی جھولی تو لفظ و خیال سے بھری ہوئی تھی، سورج کی پہلی کرن ڈھلتے ہی اندیشہ اور تشویش کاندھے سے کاندھا ملائے انور شعور پر حملہ آور ہوجاتے اور ہمارا سنوریا اس کٹھن وقت کو کاٹنے کے لیے یارانِ دل پسند اور مشروبِ بدمست کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا۔ ہاں آپ اسے کم ہمتی کہیے مفروری کا نام دیجیے لیکن یہ نہ بھولیے کہ انور شعور جو فن جانتا تھا، اُس ہنر کے جاننے والے اپنے خوابوں کی من چاہی تعبیر پر اصرار کے عادی ہوتے ہیں اور اگر وہ، ہمارے سانوریا ایسے حساس بھی ہوں تو پھر یہ فرار ہی اُن کی وحشت سہارنے کا متحمل ہوسکتاہے۔ یہ جن دنوں کا احوال ہے اُس زمانے میں شکر خوروں کو واقعتاًشکر نصیب ہوجایا کرتی تھی، سُو ہمارا انور شعور بھی کہیں نہ کہیں سے کڑوا پانی کھوج نکالتا، اگرکسی دن ہونٹ تر کرنے کا سامان نہ ہوتا تو بھی بہکنے کے بہت وسیلے تھے۔ بُوٹی تھی، سیاہ پٹی تھی اور رنگ برنگی گولیاں تھیں، اگر کچھ بھی نہ ملے تو ادرک کاست تھا، غرض آنکھیں گلابی کرنے اور قدم لڑکھڑانے کے سوبہانے۔ کراچی ایک عجیب شہر ہے، یہاں آدمی آسانی سے اپنے ہم شکل ڈھونڈ لیتا ہے۔ انور شعور کو بھی ہر شام کوئی نہ کوئی ہم مذاق بہم ہوجاتا اور ساعتیں مہک اٹھتیں۔
شاعری میں بڑھتی ہوئی قبولیت کے ساتھ انور شعور کی تنہائی کے لمحے تنگ ہوتے جارہے تھے کھارادر کے چھوٹے چھوٹے دو فلیٹوں میں رئیس امروہوی اپنا دفتر جمائے بیٹھے تھے، وہیں اُن کے پرچے کا دفتر بھی تھا، جس میں انور شعور فکاہیہ لکھ رہے تھے۔ یہ جگہ خود ایک میلۂ مویشیاں کا درجہ رکھتی تھی۔ ایک انبوۂ کثیر تھا کے اس مرکز کو کھنچا چلا آتا تھا۔ انور شعور ان محفلوں کے مستقل شریک تھے، اُن کی شکیل عادل زادہ سے ملاقات ہوچکی تھی جو اپنے سپاٹ صبح و شام میں رنگ بھرنے کی جستجو میں جتے ہوئے تھے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ دو آدمی اگر ایک ہی منزل کی طرف سرگرمِ سفر ہوں تو اُن کے سکھ دکھ سانجے ہوجاتے ہیں۔ یہی کچھ انور شعور اور شکیل عادل زادہ کا قصہ ہے۔ یہ تعلق ایسا نبھا کہ اگر یہ دونوں ساتھ نہ بھی ہوں تو یہی گمان ہوتا ہے کے آپس میں گندھے ہوئے ہیں، پھر ہم وقت کو پہلو بدلتے نظارہ کرتے ہیں۔ اہلِ امروہہ کھارادر سے مانک جی اسٹریٹ کے ایک کشادہ بنگلے میں اٹھ آئے ہیں، یہیں انشاء عالمی ڈائجسٹ کا دفتر قائم ہوچکا ہے۔ جہاں رئیس امروہوی، بھائی تقی اور بھائی عباس کے ساتھ اب ہندوستان سے جون ایلیا بھی آشامل ہوئے ہیں۔ اس کہکشاں کی رنگا رنگی نے جیسے پورے شہر کو اپنی طرف راغب کر لیا تھا۔ انور شعور نے جون ایلیا سے ناتا جوڑ لیا تھا اور اب شکیل‘ شعور اور جون کی ایک مثلث وجود میں آچکی تھی۔
اب اسے کیا کیجیے کہ ہر گل دستے کا مقدّر بکھر جانا ہے۔ یہ ٹولی بھی ٹوٹ گئی جب شکیل عادل زادہ کے کمیشن کی رقم کو ہتھیا لیا گیا تو وہ انشاء عالمی ڈائجسٹ کی اشتہار بازی سے باز آئے اور کمر کس کے خود ایک پرچے کے اجرا کا ارادہ باندھنے لگے۔ اب آپ مجھ سے یہ سوال نہ کیجیے گا کہ بھائی شکیل کی رقم ڈوبنے کا کیا قصہ ہے؟ میں اس ناگوار تفصیل کو دہرانے کا حوصلہ نہیں رکھتا کے اس سے بعض معتبر لوگوں کا بھرم داؤ پر لگنے کا اندیشہ ہے۔جب شکیل عادل زادہ نے سب رنگ کے پہلے شمارے کی تیاریوں کا آغاز کیا تو اُن کی جیب خالی لیکن حوصلے جوان تھے، انہیں ایسے کتنے ہی دوستوں کا تعاون حاصل تھا جو دامے، درمے، سخنے جو ممکن تھا کر گزرنے کو آمادہ و مشتاق تھے۔ دوستوں کی اس قطار میں ہمارے سانولے سنوریا بھی اپنی دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ موجود تھے، گو ’’سب رنگ‘‘ کے دفتر تک پہنچنے میں اُن سے ایک آدھ شمارے کی تاخیر ضرور ہوگئی تھی۔ انور شعور کے پلّے میں توکچھ نہ تھا لیکن ہاں، وہ لفظ سیدھے کرنے کا ہنر خوب جانتے تھے۔ سُو وہ سب رنگ میں صحتِ زبان کے نگہہ دار قرار پائے۔ انھیں اس ذمہ داری پر شکیل عادل زادہ نے مامور کیا تھا، جو خود لفظ کے بہت بڑے پارکھ جانے اور مانے جاتے تھے۔ دن میں سب رنگ کا دفتر اور بھائی شکیل کی ہمرہی انور شعور کے لیے بہت بڑا سہارا سہی لیکن لفظ کی صحت میں غلطاں رہتے رہتے خود ہمارے سنوریا کے کاندھے گرنے لگے تھے۔ دن تو جیسے تیسے گزر جاتا لیکن شام اور پھر رات کی ہولناکی اپنی جگہ تھی۔ ایک عمر کی ناکامی نے انھیں بے خبری کی راہ سجھا دی تھی، ہر چیز کو بھولے بہکے رہنے کی مدّت کو زیادہ سے زیادہ طوالت دینے کی کوشش میں ہمارا دوست، رات اور دن کے فرق کو بھی بھلا بیٹھا تھا۔ بے خبری کی برکتیں اپنی جگہ لیکن جب انور شعور ایک سے دو اور پھر یہ تعداد تین چار پانچ ہوگئی تولہو میں تیرتے اس زہر نے انھیں بہت بے آبرو کیا۔
انور شعوررُو میں بہنے والے آدمی ہیں، لیکن یہ بھی یہ ٹھیک ہے کہ ان کا طریقِ زندگی اُن کی کم ہمتی پر دلیل ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کوئی محرومی، کسی کج روی کا جواز نہیں بن سکتی، لیکن اب یہ سب کہنا محض وقت کا زیاں ہوگا، اگرہم اُن کے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہیں، وہ جہاں اور جیسے ہیں کی بنیادپر قبول کرنا ہوگا۔ یوں بھی اگر ایک آدمی خود کو ہلاکت میں ڈالنے کا تہیہ کر ہی چکا ہے تو اس کا الزام میرے یا آپ کے سر تو آنے سے رہا۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہم انور شعور کی زندگی میں اُس کے زندہ رہنے سے ا نکاری رہے ہیں تو اب کم از کم موت کے سفر پر جاتے ہوئے تو ہمیں اُس کی راہ کھوٹی نہیں کرنی چاہیے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارا سنوریا لحظہ بہ لحظہ مر رہا ہے، اور شاید وہ بھی اس امر سے باخبر ہے، لیکن کیا کیجیے کہ یہ عشق کا سدا کا روگ ہے، شاید موت سے معانقہ کرنے میں بھی بعض لوگوں کے لیے بڑی کشش ہوتی ہے اور اردو ادب کی تاریخ تو ایسے جاں نثاروں سے بھری پڑی ہے۔ ثروت حسین، جمال احسانی، سارہ شگفتہ، صغیر ملال، شکیب جلالی اور جانے کتنے ہی اور جو موت کی للک میں فنا کے گھاٹ اتر گئے، ہمارے سنوریا کا ہدف بھی شاید یہی ہے۔ وہ جس قسم کی طرزِ زیست کو اپنائے ہوئے ہیں، وہ فوراً نہ سہی لیکن انجامِ کارانہیں اسی منزل پر پہنچا کے دَم لے گی۔ زندگی بھی کیا چیز ہے، آدمی کو کیسے کیسے دھوکوں میں مبتلا رکھتی ہے۔ کیا یہ ایک حیران کن بات نہیں کہ انسان، جس چیز کے عشق میں گردن گردن غرق ہو، اُسی سے بے خبر رہے یعنی جانتا ہی نہ ہو کہ دراصل اُس کا مقصود کیا ہے؟ مثلاً ہمارے انور شعورہی کو لیجیے۔ وہ جو اپنا ہر لمحہ رنگین رکھنے کی جستجو میں رہتے ہیں تو کیا اس لیے کے وہ اس عالم رنگ و بو سے اکتاچکے ہیں؟ نہیں… ایسا ہر گز نہیں ہے، وہ تو دراصل اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے اپنی سانسیں مہکاتے اور آنکھیں گلابی رکھتے ہیں۔ جب کہ اُن کے باطن میں موت سے عشق کا جذبہ روز بہ روز قوی ہوتا جاتا ہے۔ آپ اعتراض کرسکتے ہیں کہ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے، مجھے ایسی تیز و تند خیال آرائی سے باز رہنا چاہیے۔ ہاں یہ آپ کا پرانا پینترا ہے۔ آپ آدمی کی جاں کنی سے لطف اندوز ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں، میں نے پہلے بھی آپ کو موت کی راہ چلنے والے کتنے ہی لوگوں پر زیرِ لب مسکراتے دیکھا ہے، مگر معاف کیجیے گا میرے لیے یہ تماشہ اس درجہ وحشت انگیز ہے کہ میں ہونٹ سیے بیٹھے رہنے پر رضامند نہیں ہوسکتا۔ اس کے باوجود بھی کہ میں انور شعور سے کسی گہرے قلبی تعلق کا دعوے دار نہیں ہوں، لیکن میری خواہش ہے کے انور شعور کے ہونٹوں پر کھلی معصومانہ مسکراہٹ تادیر قائم رہے، اس میں واقعتاً میری اپنی ایک خود غرضی پنہاں ہے، میں زندہ رہنا چاہتا ہوں اور یہ مسکراہٹیں میری اس امنگ کو قوی رکھتی ہیں۔ یوں بھی ہمارے سنوریا میں ایک عجب ناقابلِ بیان حسن ہے جو آدمی کو اپنا متوالا بنا لیتا ہے اور اس چاہت میں وہ یہ بھی یاد نہیں رکھ پاتا کہ دراصل وہ کیا چیز تھی جس پر وہ عاشق ہوگیا تھا۔ یوں تو انور شعور ایک بے ترتیب آدمی ہے لیکن اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس بے ترتیبی کی ترتیب کا کیا کہنا۔
میں نے ابتدا میں انور شعور اور جون ایلیا کی گہری اور گاڑھی دوستی کا تذکرہ کیا تھا، لوگ کہتے ہیں کے ان دونوں افرادنے ایک دوسرے کو متاثر اور فیض یاب کیا، شاید یہ سچ بھی ہو لیکن میں تو اتنا جانتا ہوں کہ اگر ان دونوں اصحاب سے فرداً فرداً یہ بات پوچھی جاتی تو سوال کرنے والا یہ دیکھ کر دنگ رہ جاتا کہ ہمارے یہاں تعلق کی ڈور کس قدر ناقابلِ اعتبار ہوتی ہے۔ جون ایلیا اب ہم میں نہیں رہے، اس لیے اس معاملے کو طول دینا شاید اخلاقاً بھی غیر مناسب ہے، لیکن انور شعور ابھی زندہ ہیں اور اگر اس تعلق کا تذکرہ چھڑ جائے تو آپ اُس آگ کی تپش کو انور شعور کے الفاظ میں با آسانی محسوس کرسکتے ہیں جو اس تعلق کے حوالے سے وہ اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہیں، اس آگ میں دھڑ دھڑاتا ہوا سب سے قوی شعلہ اسی نفرت سے کشید کیاگیا ہے۔ کسی سے نفرت کی ایسی سچی شدّت اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اُس آدمی سے تعلق گہری جڑیں رکھتا ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ محبت اور نفرت میں گندھا ہوا یہ تعلق اپنے اندر بڑی نزاکتیں رکھتا ہے اور انور شعور جیسا کوئی رومان پسند آدمی ہی اسے نبھانے کا اہل ہوسکتا ہے۔ شاید انور شعور اُس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جس میں ایک توانا دشمن سے محرومی کم زوری کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔
انور شعور زندگی کی رنگا رنگی سے آنکھیں چرائے ایک بے نیازی اور بے خبری کے عالم میں ایکن ہیں ہے کہ اُنھوں نے روکھی پھیکی زندگی گزاری ہو۔ آدمی اگر شاعرانہ مزاج رکھتا ہو اور اُس کی شخصیت میں کشش، چہرے پر بھولپن اور ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ رہتی ہو اور وہ نامور بھی ہو تو آپ جانیں، کتنی ہی زلفیں ہوں گی جو اُن کے کاندھوں پر بکھرنے کو بے قرار رہتی ہوں گی، کتنے ہی کان ہوں گے جو اُن کے الفاظ کا شہد سمیٹنے کے منتظر رہتے ہوں گے، آنکھوں کی کتنی ہی جوڑیاں ہوں گی جنہیں اُن کی دید کی طلب رہتی ہوگی۔ ایسی کتنی ہی کہانیاں انور شعور کی زندگی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اُن کی شاعری کو پڑھتے ہوئے ایسے کتنے ہی رنگین اور خوشنما مناظر ہمارے تصور میں ڈوبتے ابھرتے ہیں، لیکن ہمارے دوست نے اس آزادانہ روش کی بڑی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب جب کے اُن کا ماتھا زیادہ چوڑا اور بال زیادہ باریک اور تعداد میں بہت کم ہوتے جاتے ہیں اور جسم کا طرارہ سرد پڑنے کو ہے اور رنگت زیادہ گہری گندمی ہوتی جاتی ہے اور اُن کا نواسہ اُن کی گود میں اچھلنے کودنے کو ہمکتا ہے اور گھر کی دہلیز بہو کی آمد کا انتظار کرتی ہے اور گھر کی مالکہ اُن کی آوارہ مزاجی کی عادی ہوچلی ہے تو اب، انور شعور کو چیزوں کی ہمواری اور رفتار کی یہ سبک روی کھلنے لگی ہے، لیکن بہت وقت گزر چکا، اب اگر وہ چاہیں بھی تو آنکھوں کی رنگت بدلنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ گلابی اُن کی آنکھوں میں آکر ایسی مہمان ہوئی ہے کہ لگتا ہے کہ اب اس کا پڑاؤ بھی ہمارے سنوریا کے ساتھ ہی اٹھے گا۔
جب سے انور شعور نے اپنے دوست دشمن کے برادرِ بزرگ کی روایت کو زندہ کرتے ہوئے قطعہ نگاری آغاز کی ہے، لوگ یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ کوئی فن کسی کے ساتھ فنا نہیں ہوجاتا۔ اب انور شعور اصناف کی جوڑی کے ساتھ سرگرمِ سفر ہیں اور نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے سنوریا کا اصل اثاثہ غزل ٹہرے گی یا اُن کا قطعہ اسے زندہ رکھے گا۔
انور شعور نے اپنی تمام زندگی آوارہ گردی کرتے گزاردی۔ ایک تو وہ طبعاً سیماب صفت ہیں دوسرے بڑی مدّت تک انھیں کوئی ایسا ٹھکانا بھی نصیب نہیں ہوا جہاں وہ ٹک کر بیٹھ سکتے۔ وہ اس شہر میں ایک چھت کی خاطر کسی لٹو کی طرح گھومتے رہے ہیں۔ کبھی پاک کالونی میں ٹھہرتے ہیں تو کبھی پیرالٰہی بخش کالونی جا پہنچتے ہیں اور جب وہاں کی زمین تنگ ہونے لگتی ہے تو اپنا تھیلہ کاندھے پر ڈالے ناظم آباد جا نکلتے ہیں اور وہاں سے طبیعت سیِرہوجاتی ہے تو گلشن کا رخ کر لیتے ہیں، لیکن کسی جگہ دَم بھر ٹہر جانے سے اُن کی مسافر روح کو مستقل قرار کہاں؟ وہ یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں ہونے دیتے کہ یہ پڑاؤ محض واماندگی کا ایک وقفہ ہے اور اُنھیں جلد ہی آگے بڑھ جانا ہے، اُن کے اس شوقِ سفر نے اُنھیں ہلکان تو یقیناً کیاہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر نئے سفر نے اُنھیں ایک نئی توانائی بھی بخشی ہے۔
ہر زمین کا اپنا ایک الگ بھید ہوتا ہے، ہر جگہ کا باسی علم کے منفرد سرمائے کا مالک ہوتا ہے۔ کیا انور شعور نے جو اپنے اتنے دن اور اتنی راتیں سفر میں کاٹ دیں تو کیا اُنھیں کچھ نہ ملا ہوگا، یہ کیسے ممکن ہے؟ جیسے ہوا، دھوپ، چاندنی اور ٹھنڈک سے فیض یاب ہونے کے لیے انسان الگ سے کوئی محنت نہیں کرتا، اسی طرح کبھی کبھی آدمی راہ چلے بغیر جانے مانے انسان کو پتھر کر نے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، اس کے لیے شرط محض یہ ہوتی ہے کہ وہ سرگرمِ سفر رہے اور سفر ٹانگوں کو حرکت میں رکھنے سے مشروط نہیں ہوتا۔ کسی محفل میں گزارے چند لمحے آپ کو کوسوں آگے بڑھا لے جاتے ہیں، کسی کی کہی ایک بات آپ پر دانش کا ایک نیا جہان روشن کر دیتی ہے۔ وہ اُن کے استاد سراج الدین ظفر ہوں یا حسن عسکری‘ کرار حسین ہوں یا سلیم احمد‘ تابش دہلوی ہوں یا رئیس امروہوی چاہے قمر جمیل ہوں، انور شعور نے کس کی آنکھیں نہیں دیکھیں، کس کی گفتگو کے پھول نہیں چنے، کس محفل سے فیض یاب نہیں ہوئے۔ اب اگر اُن کا شعری تجربہ اتنا بھرا پرا نظر آتا ہے تو اس میں تعجب کیوں؟ اب اس عمر میں بھی کہ جب بیماری گھات لگائے اُن کے کسی ناتواں لمحے کی تاک میں رہتی ہے، انور شعور نے اپنا سفری تھیلا اٹھا کر نہیں پھینکا۔ اُن کی سانس زرا ہموار ہوئی نہیں اور وہ چلے نہیں۔ وہ چل رہے ہیں اور اُن کے آگے آگے ایک سیاہ رات دوڑی جاتی ہے۔ دیکھیے پہلے کون اُس روشن لکیر کو چھوتا ہے جسے جکڑنے کی طلب میں کتنے ہی جان گنواں لوگ اپنی سانسیں بیٹھے۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت خوب! ممتاز صاحب ایسی خاکہ نگاری و خاکہ نوازی کون کر سکتا ہے۔ انور شعور کی ذات کے تعارف اور جون ؔ سے ان کے تعلق کو بیان کرنے کے لیے ایسا ہی بیان چاہیے تھا۔ ممتاز صاحب کی کتاب کا شدت سے انتظار ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: