دردِ بے زباں —— حیا ایشم — قسط 3

0

“حبہ۔۔۔” ماں کی زبان سے اپنا نام سنتے ہی ایکدم سگریٹ اس کے ہاتھ سے فرش پر جا گِرا۔ اسے لگا وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہو، پل بھر کو تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا کرے، پھر حواس کچھ درست کرتے اس نے سگریٹ کو فلش آؤٹ کیا، اب ماچس کے حوالے سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اسکا کیا کرے۔ کیا اسے بھی فلش آؤٹ؟ پھر جلد بازی میں اس نے وہ اوپر بنی کیبن میں پیچھے کر کے ڈآل دی، تا کہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ گہرا سانس لیتے اس نے چہرے پر پانی کے چھپکے مارے اور سانس درست کرتی تولیے سے ہاتھ خشک کرتی واش روم سے باپر آئی، اسکی ماں جیسے اسکی منتظر بیٹھی تھیں، مگر انکے چہرے پر کچھ اور تھا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ خوشی۔۔۔۔؟ چمک۔۔۔۔؟ مگر آج سے پہلے یہ احساسات تو اس نے اپنی زندگی یا ماں کی زندگی میں بھی کبھی نہیں دیکھے۔۔ وہ نامانوس سی کیفیت میں سوالیہ نشان بنی انہیں دیکھتی رہی۔
“حبہ میری بچی اللہ نے تیرے نصیب کھول دئیے، ابھی باجی آئی تھیں وہ حنظلہ کے لئے تمہارا رشتہ مانگ رہی ہیں۔۔”
عابدہ بیگم کو لگ رہا تھا حبہ یہ سنتے ہی شاید خوشی سے انکے گلے لگ جائے گی۔۔ مگر وہ فق سا چہرہ لیئے انہیں دیکھتی رہی، پتہ نہیں امی کونسی زبان میں کیا کہہ رہیں تھیں، اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کوئی اسکا سانس بھینچ رہا ہے، اس نے بمشکل کھینچ کر سانس نکالا، پلکیں جھپک کر ماں کو دوبارہ دیکھا جو اب خوشی سے اسکا ماتھا چوم کر اسے گلے لگانا چاہ رہیں تھیں، کچھ لمحوں بعد اسکی ماں کو اسکا انداز کچھ عجب محسوس ہوا، تو خود کو تسلی دی کہ خوشی کی خبر شاید اچانک سنی ہے تو اس لئے اسکا ذہن فورا قبول نہیں کر پا رہا۔
“حنظلہ چاہتا ہے تم اپنی مرضی بتاؤِ، مجھے پتہ ہے میری بیٹی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ باجی کہہ رہی تھیں وہ تمہارے ابو سے خود بات کریں گی، میرے اللہ نے میری سن لی وہ بہت مسبب الاسباب ہے بس اللہ آسانی کر دے۔۔اس نے میری جھول بھر دی ” وہ اپنی ہی خوشی کی کیفیت میں خود سے باتیں یا اپنے اللہ سے باتیں کرتیں باہر نکل گئیں،

انکے جانے کے بعد حبہ کو محسوس ہوا اسکے پاؤں اسکا وجود اسکا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہیں، اسکی ٹانگیں بے حد بھاری ہو رہی تھیں، وہ تقریبا بیڈ پر گر گئی تھی۔ شادی۔۔۔ وہ کیسے کر سکتی تھی۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اسے جیسے کوئی اسکو نقصان پہنچانے آرہا ہو، یہ خوشی نہیں اسے خود سے دشمنی لگ رہی تھی۔ وہ تقریبا کانپنا شروع ہو گئی، دھیرے دھیرے اسکی آںکھوں سے گرم سیال مادہ نکل کر چادر میں جذب ہونے لگا، وہ منہ بھینچ بھینچ کر رو رہی تھی، اسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اسکا سب تباہ کرنے آ رہا ہو، روتے اسکی سسکیاں نکلنے لگیں۔۔ ذہن بے انتہا ماؤف ہو گیا تھا۔ روتے روتے کب اسکی آںکھ لگی اسے خود بھی پتہ نہیں چلا۔۔۔۔

وہ ہاتھ اندھیرے میں سے نکلتے اسے تاریک سے ماحول میں گہری دلدل میں دھکیل رہے تھے، وہ بے حد بے بس تھی، وہ ان ہاتھوں کے شکنجے سے خود کو چھڑا نہیں ہا رہی تھی۔ وہ جتنا اس دلدل سے باہر نکلنا چاہتی وہ ہاتھ اتنی شدت سے اسے واپس دھکیل رہے تھے۔اذیت ناک اندھیرے میں کوئی اسکی چیخیں سن کر بھی اسکی مدد کو نہیں آرہا تھا۔ بجلی چمک رہی تھی، مگر بارش کی بجائے حبس اسے اپنی گرفت میں نگل رہا تھا۔ جان نکل جائے تو اتنی اذیت نہیں ہوتی جتنی جان کنی کی کیفیت میں اذیت سے گزرنا ہوتا ہے، اسکی بے بسی آخری حدوں کو چھو رہی تھی جب اس نے مکمل طاقت سے چیخنا چاہا، اپنی ہی چیخ سے اسکی آںکھ کھل گئی، وہ پسینے میں شرابور تھی، دھونکنی کی مانند تیز چلتی سانس۔۔ کمرے میں ہونے کے احساس نے اسکو زندہ ہونے کا احساس بخشا، بیک وقت وہ زندہ ہونے کے احساس اور مر جانے کے خوف سے گزر رہی تھی، ذہن کچھ کام کرنے کے قابل ہوا تو اسے یاد آیا، وہ ایسے روتے روتے کب سو گئی تھی، پھر اسے ماں کی حنظلہ کے رشتے سے منسلک بات یاد آئی، اسکا دل چاہا وہ اتنی زور سے چیخے کہ اس کے اندر کی ساری تکلیف ہمیشہ کے لئے نکل جائے، مگر وہ چیخ بھی نہیں سکتی تھی، درد کی شدت اس نگل رہی تھی، کرب تھا کہ اسکی جان نہیں چھوڑ رہا تھا،

درد مسیحائی کے لئے یا محبت تلاشتا ہے یا مزید اذیت۔۔ یہ درد کے ظرف پر منحصر ہے کہ اسکا رحجان صبر ہے یا مزید جبر۔۔!
اسکے قدم بے اختیاری میں اپنی الماری کی جانب بڑھے، نیچے چھوٹی سی دراز میں اخبار میں لپٹی کوئی چیز اس نے دراز کے آخری کونے سے نکالی، وہ ایک تیز دھار بلیڈ تھی۔ اندر کا کرب اتنا تھا کہ باہر کا درد ہی اسکو اس سے نجات دے سکتا تھا۔ اس نے کچھ بھی سوچے بنا اپنی کلائی پر وہ بلیڈ پھیری، اذیت ابھی بھی رفع نہیں ہوئی تھی، پھر وہی بلیڈ اس نے دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر دوسری کلائی پر لگائی، کٹ لگاتے ہی خون کی تیز ابلتی دھار نے اسکا استقبال کیا تھا، اس خون سے نگاہ چرانے کی بجائے وہ مکمل ارتکاز سے اس خون کو ابلتا نکلتا اور پھر بہتا دیکھتی رہی۔ اسے لگا تھا جیسے کسی نے آگ پر ٹھنڈا پانی ڈالا ہو، بلیڈ اس نے کٹ لگاتے ہی زمین پر ڈال دیا تھا اور خود اپنے بے جان ہوتے وجود کو لئے زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی، کتنی دیر وہ اپنی کلائیوں کو دیکھتی رہی، اسے سکون تو نہیں مگر ایک سن ہو جانے کے احساس نے بے حسی کی اس کیفیت میں پہنچا دیا تھا جہاں اسے اب کوئی درد اپنی جانب نہیں کھینچ رہا تھا۔ وہ اس کیفیت میں بے کیف ہونے کو ہی محسوس کرنا چاہتی تھی۔ اذیت میں سکون نہ ملے تو احساس سے عاری ہونے کا بھی اپنا احساس ہوتا ہے، اور درد و کرب کی شدت میں اس سے بڑھ کوئی تلاش نہیں ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حبہ کی خاموشی کو انھوں نے ہاں سے منسوب کیا تھا۔ عابدہ بیگم کو کوئی اعتراض نہیں تھا، انھوں نے اللہ کا نام لیتے استخارہ کیا۔ اور سارا فیصلہ اپنے شوہر کی مرضی کو سونپ دیا تھا۔ نسیمہ بیگم نے خود ہی طریقے سے دونوں بھائیوں سے بات کی، اور مزید وقت لے کر ماہم اور اسکی ماں کو کسی اور بدمزگی کی نوبت آنے سے قبل فورا فیصلہ لے لیا۔ دونوں بھائیوں کو کیا اعتراض ہوتا۔۔ ماہم کے والد کو تو اپنی بیگم اور بیٹی کے ارادوں کی کچھ خبر ہی نہیں تھی۔

اگلی صبح انھوں نے باقاعدہ بتا دیا کہ انھوں نے حنظلہ اور حبہ کی بات طے کر دی ہے ماہم کو یہ بات ہرگز ہضم نہیں ہو رہی تھی، مگر واحد اسکے والد تھے جن سے وہ کسی حد تک دبتی تھی، مگر اس نے اپنی ماں کے سامنے بہت ہنگامہ کیا، خود اسکی امی نے اپنے شوہر کے غصے کو سائیڈ پر رکھتے ان سے دوٹوک بات کی، کہ وہ اس رشتے کو ختم کروائیں، مگر انھوں نے صاف بتا دیا کہ خود حنظلہ نے حبہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور وہ ہر گز ایسا کچھ نہیں کریں گے، وہ اپنی بیٹی اور بیوی کی ضدی اور ہٹ دھرم طبیعت سے واقف تھے مگر خدا ترس آدمی تھے سو اپنی بھتیجی اور بھانجے کے لئے بہترین فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔ ماہم کو اپنی انسلٹ کسی طور برداشت نہیں ہو رہی تھی مگر وہ مجبور تھئ۔

” حبہ۔۔ بیٹی تم خوش ہو ناں؟” حبہ خالی خآلی نظروں سے دیکھتی رہی، پتہ نہیں کیوں اسکی ماں کو اس کی آنکھوں میں خوف کی پرچھیائیاں نظر آئیں۔۔۔۔۔
جوں جوں شادی کے دن نزدیک آ رہے تھے۔ حبہ دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی، اسکی ماں اس کو ایک نیچرل کیفیت سمجھ بھی لیتی، لیکن ایک ہی گھر میں ایک پورشن سے دوسرے پورشن میں جانا تھا، اس پر اس کی عجب سی خاموشی اور گرتی ہوئی صحت۔۔۔ انکی سمجھ سے باہر تھا۔ بالآخر نسیمہ بیگم کی بھی پریشانی نے انہیں اس سے بات کرنے پر اکسایا۔۔ حبہ نے کچھ نہیں کہا۔۔
مگر انکے نرم سے انداز نے اسے جیسے کچھ سہولت دی
“امی۔۔۔ کیا شادی کرنا بہت ضروری ہے؟ میں ایسے نہیں آپ کے پاس رہ سکتی؟”
حبہ کی ماں کو بیٹی کے سوال نے کچھ حیران کیا، کیا وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔انھوں نے اپنے تئیں سوچا،، شاید اپنی ماں کی سُونی زندگی دیکھ کر۔۔۔۔۔
“بیٹی اللہ سے اچھے کی امید رکھو۔۔ ضروری نہیں ہر شادی کا نتیجہ برا نکلے۔۔ وہ میرا نصیب تھا جس پر میں راضی ہوں، تم اللہ سے اپنے لئے اچھے کی دعا کرو، دیکھنا اللہ سب اچھا کرے گا” انھوں نے اسے محبت سے پیشانی چومتے کہا۔۔۔۔
اللہ سے امید رکھنے کی بات پر حبہ پہلے سے بھی ساکت ہو گئی،، امید۔۔۔۔۔۔ اس نے بچانا ہوتا۔۔ اچھا کرنا ہوتا تو پہلے اچھا نہ کر لیتا۔۔۔۔۔ یہ زندگی ایک کم مصیبت تھی جو اب یہ شادی نام کی نئی مصیبت سامنے آ رہی تھی۔۔ وہ اپنی ہی تلخ سوچوں میں ماں کی نرم گرم آغوش میں بھی منجمد برگ و برف بنی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” امی،، کیا آپ نے حبہ کی مرضی پوچھی تھی؟”

ایک ہی گھر میں رہتے حنظلہ کو کبھی کبھی حبہ کے خشک سے روئیے پر حیرانی ہوتی۔ مگر وہ اسکے گریز کو اسکی سادہ طبیعت یا حیا سے محمول کرتا اور اپنا دھیان بٹا لیتا۔ سو بالآخر اس نے اپنی ماں سے صاف بات کی،،
“بیٹآ بھلا حبہ کو کیا اعتراض ہوتا۔۔ اور ہاں ویسے میں نے اسکی ماں سے کہا تھا کہ اسکی مرضی پوچھ لینا۔ اسے کوئی اعتراض ہوتا تو وہ اپنی ماں سے ضرور منع کر دیتی۔ اور ہم نے کوئی زبردستی نہیں کی۔ کیوں تم کیوں کہہ رہے ہو، کچھ ہوا ہے کیا؟”
 “نہیں،، ویسے ہی میرے ذہن میں آیا کہ میں آپ سے پوچھ لوں” اس نے دھیان بٹاتے کہا۔۔

شام کو اپنے کمرے کی کھڑکی میں ٹہلتے لان کی تاریکی میں اسے کوئی ہیولہ سا محسوس ہوا۔ اس نے پچھلی سائیڈ سے آگے جا کر دیکھا تو حبہ گھٹنوں میں منہ چھپائے تنہا بیٹھی تھی، ایک لمحے کو تو حنظلہ کو سمجھ ہی نہیں آیا وہ کیا کہے، اسے محسوس ہوا، وہ ہل رہی ہے،، جیسے رو رہی ہو،، اسے کافی حیرت ہوئی، پھر اسکے پاس بیٹھ کر اس نے ہلکے سے اسے پکارا
“حبہ،،، ” حبہ اچانک اتنے قریب اسکی آواز سے ڈر کر سیدھی ہوئی،، اسکا چہرہ آںسوؤں سے تربتر تھا۔۔ آنکھوں میں صرف درد و بے بسی نہیں خوف بھی تھا۔۔۔ حنظلہ خود ایک دم اسکا ری ایکشن دیکھ کر آکورڈ محسوس کرنے لگا،
“کیا ہوا ہے؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ ” اس نے نرمی سے پوچھا۔۔۔
حبہ بس آنسو پونچھتے اسے دیکھتی رہی۔۔ حنظلہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی،، اسے کیا کہے
“حبہ تم خوش ہو ناں اس شادی سے؟” حبہ کا دل چاہا فورا نہ میں سر جھٹک دے، مگر اس کے سامنے اسکی ماں کی زندگی میں اسکی آںکھوں میں آنے والی واحد چمک تھی جو اس رشتے سے آئی تھی، دوسری طرف یہ وہ بھی جانتی تھی اس رشتے کی بدولت وہ ساری زندگی اپنی ماں کے پاس رہ سکتی ہے، شادی تو اسے کرنی ہی ہے اگر کہیں اور ہوئی تو اس گھر سے اپنی ماں سے دور جانا پڑے گا۔۔۔ سو وہ اس سوال کے جواب کے لئے ذۃنی طور پر ہاں کے لئے تیار تھی،،اس نے ہاں تو نہیں کہا مگر مثبت سے انداز میں سر جھکا دیا
حنظلہ کو تقویت سی ہوئی۔۔ کہ اسکا واہمہ بے بنیاد تھا
“تو پھر ایسے کیوں رو رہی ہو؟ ” اب کے انداز میں اپنائیت تھی۔۔
وہ ابھی بھی خآموش تھی۔۔۔اب کے حنظلہ نے خود ہی اندازہ لگایا
“کیا ماموں یاد آ رہے ہیں؟”
حبہ کو لگا جیسے کسی نے اسے رونے کا بہانہ دیا ہو،، وہ جو بڑی کٹھنائی سے خود کو سنبھال رہی تھی مسیحائی کے سے انداز لئے حنظلہ کے پاس بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی
حنظلہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔ اسے بھی اپنے ابو یاد آتے تھے۔۔ مگر اسے صبر آ گیا تھا کہ رب کی قضا اسکی رضا تھی، مگر حبہ کے والد زندہ ہو کر بھی انکے لئے نہ ہونے کے برابر رہے، زخم تازہ ہی رہا تھا انکا، تو صبر کرنا اسکے لئے کٹھن تھا۔۔۔ حنظلہ نے اسے کھل کر رونے دیا، اسکے پاس بیٹھا رہا۔۔
” میرے پاس کچھ کہنے کے لئے تو نہیں لیکن بس یہی کہوں گا ان شاء اللہ تمہارا مستقبل تمہارے ماضی سے بہتر ہو گا، اللہ سے اچھی امید رکھو۔۔”
حبہ جو پگھل سی رہی تھی۔۔ حنظلہ کا اللہ کا نام لیتے ہی ایک دم پھر ساکت مثل برف ہو گئی تھی۔۔۔۔

ہوتے ہوتے شادی کا دن آن پہنچا،، نسیمہ بیگم عابدہ بیگم بہت خوش تھیں کہ سب کچھ کتنی آسانی سے ہو گیا اور وہ کتنا پریشان ہو رہی تھیں، حنظلہ اور حبہ دونوں ہی بہت اچھے لگ رہے تھے، ماہم اور اسکی اماں نے شادی میں شرکت نہیں کی تھی اور انگلینڈ چلی گئی تھیں ایک ماہ کے لئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حنظلہ کو حبہ کی طبیعت کچھ ریزروڈ سی محسوس ہوئی، حالانکہ اس نے اسے مکمل اعتماد اور محبت کا احساس دیا تھا اسکے باوجود وہ اسے خود سے بہت دور محسوس ہوتی، وہ اکثر سوچتا، شاید اسے اعتبار کرنے میں وقت لگے گا، وہ زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی اور جیسے اپنے خول میں بند سی رہتی، ہاں مگر گھر کی ذمہ داریاں اٹھانے کی اپنی سی کوشش کرتی، حنظلہ کو اپنی امیدوں کے مطابق تو زندگی نہیں ملی مگر بہرحال وہ ماہم کے مقابلے میں حبہ کے ساتھ پھر بھی شکرگزار تھا۔ زندگی اپنے ڈھب پر چلنے لگی، مگر کہیں کچھ کمی سی تھی جو حنظلہ کو کھٹکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نسیمہ بیگم گھر نہیں تھیں انہیں کسی کام سے اچانک کہیں جانا پڑا تھا تو انھوں نے حبہ کو کہہ دیا کہ ہمسایوں کے جو کچھ بچے ان سے قرآن پڑھنے آتے ہیں انہیں آج کچھ دیر حبہ دیکھ لے،۔ حبہ کا دل اسکے لئے راضی نہیں تھا مگر وہ چپ رہی، بچے آنے لگے۔
“حبہ بھابھی۔۔۔ کل میرا دوسرہ سیپارہ ختم ہو گیا اب میں نیا شروع کروں گی۔۔” پڑوس کی چھوٹی سی نبیحہ اپنے چھوٹے سے اسکارف اور پھولے پھولے گالوں میں بڑے جوش و خروش سے اسے بتا رہی تھی
حبہ کی نگاہ میں اپنا بچپن گھوما تھا۔ اسے اسکی آںکھوں کی معصومیت اچانک وحشت میں ڈھلتی محسوس ہوئی، اس کے اندر عجب سنسناہٹ سی ہو رہی تھی۔۔ مگر وہ خود کو کنٹرول کئے دھیان بٹا رہی تھی۔
“حبہ بھابھی آپ مجھے سبق دو گی ناں۔ میں نے آپ سے قرآن پڑھنا ہے۔” معصومیت سے باتیں جاری تھیں، حبہ اگنور کر کے دوسرے بچے کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ نئی نئی دلہن تھی سو بچے ویسے ہی نئی دلہن کو آسمان سے اتری کوئی سب سے خاص انسان سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں۔، اسکو پیار سے دیکھتے دیکھتے اب کے بچی نے اپنا ہاتھ حبہ کے ہاتھ پر رکھا، حبہ جو مسلسل شعوری طور پر اسے اگنور کر رہی تھی۔ اسکو ماضی سے کوئی اژدھا نکلتا اس کے ہاتھ پر رینگتا سرسراتا محسوس ہوا۔۔ اس نے یک لخت اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے کھینچا،،،اسکے سانس کی رفتار تیز ہو رہی تھی،
نبیحہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی حبہ بھابھی اس کی بات کو جواب کیوں نہیں دے رہیں،وہ بچی تھی سو مسلسل اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کرنا چاہتی تھی، اچانک پتہ نہیں حبہ کو کیا ہوا، وہ زور سے نبیحہ پر چیخی،
” نہیں۔۔ میں تمہیں نہیں پڑھاؤں گی، اپنے گھر چلی جاؤ یہاں سے، بچا لو اپنے آپکو، یہ تم سے تمہاری معصؤمیت چھین لیں گے بھاگ جاؤ یہاں سے۔۔” نبیحہ اسکے اچانک چلانے پر ہراساں سی ہو گئی، نبیل دوسرا بچہ پاس ہی صوفے پر بیٹھا تھا حبہ کے ایسے چیخںے پر اسکی ماں کو بلانے بھاگا، عابدہ بیگم ہانپتی کانپتی آئیں، مگر تب تک حبہ ہذیانی انداز میں چیخنا شروع ہو گئی تھی، بچے ڈر کر اپنے گھر چلے گئے۔ عابدہ بیگم خود ہکا بکا تھیں حبہ کو ہوا کیا ہے، انھوں نے اسے پانی پلانے کی کوشش کی، مگر وہ قابو نہیں آ رہی تھی، پھر خود ہی چیخ چیخ کر تھک ہار کر صوفے پر گر سی گئی، عابدہ بیگم جو سراسیمہ سی اسے دیکھ رہی تھیں، اب کے اس کے پاس گئیں، اسکو ساتھ لگانے کی دیر تھی، کہ حبہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ اسکی ماں کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، حبہ ایسے رو رہی تھی جیسے کوئی سانحہ ہوا ہو،، عابدہ بیگم اسے چپ کراتے کراتے خود رونے لگیں، کہیں جا کر حبہ چپ ہوئی، اور حالت سنبھلتے ہی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

۔ حنظلہ اور نسیمہ بیگم کو جب اس واقعے کا پتہ چلا تو وہ خود بھی پریشان ہوئے، حبہ کو ایک چپ سی لگ گئی تھی۔ حنظلہ محسوس کرتا کچھ ہے جو وہ اسے نہیں بتاتی، اس نے پہلے تو کوشش کی کہ اسے خود سے قریب کرے، مگر پتہ نہیں کیا وجہ تھی اس کو قریب آتا دیکھ کر ہی اسے حبہ کی آںکھوں میں وحشت ناچتی نظر آتی، کبھی کبھی حنظلہ سوچتا کہ شاید وہ اسے پسند نہیں کرتی۔۔ مگر پھر اس سوچ کا بھی کوئی سرا نہیں ملتا، وہ خود سے ہی سوچتے سوچتے تھک رہا تھا، دونوں میں برائے نام رشتہ رہ گیا تھا، وہ دیکھتا حبہ کی نیند بھوک سب آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے، وہ بس خوف کی کیفیت میں صوفے پر سمٹ کر بیٹھی رہتی، اکثر وہیں سو بھی جاتی۔

ان شاء اللہ جاری ہے

اس کہانی کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: