ڈولی کا بوجھ ۔۔۔۔۔۔ عبدالعلیم

0

بہن بیٹیوں کی عظمت ، قربانی، ایثار۔۔ وفاشعاری، والدین کا خیال رکھنے میں سبقت کرنا۔ ان سے جڑ کر رہنے، بڑھاپے میں بیٹوں سے بڑھ کر ماں باپ کی خدمت کرنے والی باتیں بھی تسلیم۔۔ ان کا پرائی ہوجانا۔۔ سب کچھ چھوڑ کر ماں باپ کی دہلیز تک چھوڑ دینا بھی کا بھی اعتراف کرنے میں کوئی قباحت نہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ گھر میں بیٹی کی آمد باعث رحمت ہے اس بات سے بھی کوئی صاحب شعور انکاری نہیں ہوسکتا کہ بیٹیوں کی پرورش کے فضائل اور گھر میں ان کاوجود برکتیں اترنے کا سبب۔۔ گھر میں چہل پہل بھی انہی کے دم سے ہوتی ہے۔ پیا دیس سدھارجائیں تو بابل کا آنگن سونا ہوجاتا ہے۔ بیٹیوں سے فطری انسیت شفقت پدری کے لیے بھی خاصے کی چیز ہے۔

مصنف

اب سب باتوں سے انکار کی سوچ بھی احمقوں کی جنت میں بسیرے کے مترادف ہے پر ایک بات جس کےپہلو ہشت پا ہیں اور ہر پہلو اپنی جگہ مقدم بھی۔۔۔ پھر ہمارے خاندانی نظام جن سے سوسائٹی نمو پاتی ہے اس کا حصہ بھی۔۔کہ بیٹی ہمارے خاندان کی ایک اہم اکائی ہے۔ بنیادی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ جس بیٹِی کو ہم نے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا اسے زمانے کے سرد گرم سے بچائے رکھا۔ اکلوتی ہے تو بھائیوں کے منہ کا نوالہ بھی اسے فراہم کیا گیا—مرد عورت میں افضل کون کی بحث سے قطع نظر وہی بیٹی جس کو یہ تمام آسائشیں حاصل ہیں۔ اسے بچپن سے ایک بات کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ “تجھے ڈولی میں بیٹھنا ہے۔ تیرا نصیب سسرال سے جڑا ہے۔ تو اس گھر میں ایک امانت ہے۔ بلکہ امانت نہیں بوجھ ہے۔ پرانےوقتوں کی وہ ڈولیاں جن کو چار مضبوط کہار اٹھایا کرتے تھے۔ ان چھ سات من کی ڈولیوں میں رکھے جانے والے من ڈیڑھ من کے بوجھ کو باور کروایا جاتا ہے یہ حقیقت اتنی پلائی جاتی ہے کہ پھر وہ بوجھ قوت فیصلہ سے عاری ہو بیٹھتا ہے۔ اس کے ذہن میں بچپن سے ایک سافٹ وئیر انسٹال کی جاتا ہے کہ جس ڈولی میں بیٹھ کر جا رہی ہو۔ اب اگلے گھر سے تمھارا جنازہ چار کندھوں پر آنا چاہئے۔۔ وفاشعاری کو انسانی سطح سے اوپر کی چیز بنا کر عبادت کا درجہ دے دیا جاتا ہے — اور یہ وہ مرحلہ ہوتاہ ے جب ماں باپ کے سینے کا یہ بوجھ ڈولی میں بیٹھے۔۔۔ سرکو جھکائے ، خواہشات کو دفن کیے سسرا ل میں اترتا ہے۔۔
پھر اس کے ساتھ کوئی کسی بھی طرح پیش آتا رہے۔ یہ بوجھ اپنے آپ کو جنازے میں تبدیل ہونے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ جس کو اکثر یوں کہا جاتا ہے۔
بڑی سہاگن ہے۔ گھر بسا کر رکھنے والی۔ اللہ میاں کی گائے ہے بہشتی ہے۔ کوئی یہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس بوجھ کو بچپن سے جو ہدایات مقدس صحفیوں کی طرح گھول گھول کر پلائی گئی تھیں اور یہ بھِی کہا گیا تھا کہ تم پرایا دھن ہو۔ بوجھ ہو اس وائرس نے ان کے حق با ت کہنے اور اس پر جم جانے کی صلاحیت کو آلودہ کر دیا یا ختم ہی کردیا سرے سے۔۔ پھر ساس ظلم ڈھائے۔ دیور بدتمیزی کرے۔ شوہر باندی بنا کر رکھے۔ لیکن یہ اف تک نہیں کرے گی۔ کیوں کہ اب اس بوجھ کہ کندھوں پر دو بوجھ ہوتے ہیں۔ ایک سہاگن کے مان کا۔ گھر بسانے والی کے ٹائٹل کا ووسرا سسکیاں ماں باپ تک نہ پہنچا سکنے کا۔ پہنچانا نہ چاہنے کا۔ فرض۔ جو دیمک بن کر اس کو اس سے جڑے رشتوں کو چاٹتا رہتا ہے۔ اور پھر اس کے بہن بھائیوں اور ماں باپ کو بےبس کر کے رکھ دیتا ہے۔۔اور پھر بھائیوں کو بھِی تو بہن کے سہاگن ہونے کا ٹائٹل اپنی کھال سے سی کر چپکا کر رکھنا پڑتا ہے۔ بے بسی سی بےبسی ہے۔کہ معلوم ہے بہن خوش نہیں وہ پل پل مرتی ہے، جیے جاتی ہے۔ لیکن مجال ہے کہ وہ کچھ کرسکیں۔ بہن کی بےبسی بہن کا حق و باطل میں تمیز نہ کرنا—صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط نہ کہنا۔ سسرال کے شعور کی بیداری میں ہاتھ نہ بٹا سکنا۔ بلکہ کچھ نہ کرسکنا۔ یہ سب اس کے اپنے گھر والوں کے آگے آتا ہے۔ پھر بیٹی کا یہ سدا سہاگن والا بوجھ باپ کے لیے بلڈ پریشر یا ہارٹ اٹیک بن کر اترتا ہے باپ تو آزاد ہوجاتا ہے۔ بیٹی کا بوجھ وہیں کا وہیں دھرا رہتا ہے ، خونی رشتے۔ ماں جائے رفیق ایک ایک کر کے دنیا سے منہ موڑتے چلے جاتے ہیں۔ اور آخر کار ڈولی میں لدا یہ بوجھ رشتے نبھانے کے لیے اس نہج تک پہنچ جاتا ہے کہ جہاں رشتے کو شادی کا نام تو نہیں دیا جاسکتا — سالہاسال گذرنے کے باوجود شادی پھر شادی نہیں رہتی۔ سہاگ سہاگ نہیں رہتا—ساتھ رہنا۔ ساتھ ہونا نہیں ہوتا۔ پھر اس رشتے جو بھی نا م ہو کم از کم شادی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ بھی ہے کہ اس رشتے کو پھر کوئی نام نہیں دیا جا سکتا،نہ ہی دیا جاسکے گا۔
چلتے چلتے اور ایک بات جو کہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہمارا معاشرہ اس سے صرف نظر کیے بیٹھا کہ جو ڈولی کا جنازہ بنانے والی سوچ ہے۔ یہ ہندوانہ کلچر اور رسم و رواج کی عکاس ہے۔ جس کا مسلم معاشرے اور خاندانی اکائیوں سے کسی قسم کا کوئی لینا دینا نہیں – فیصلوں میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ بات کسی طور شک سے بالاتر نہیں۔ اس میں کوئ دو رائے نہیں کہ انسانی فطرت خطاسے عبارت ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غلط فیصلوں اور اقدامات کو درستگی کی طر ف رکھ کر نہیں سوچا جاسکتا۔ دنیا میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل موجود نہ ہو۔ بس ذرا سا انسانی ذہن کو گلے شکووں اور ناشکری سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ خود وضاحتی کا عمل۔ فیصلہ کرنے کی قوت کو زنگ لگا دیتی ہے۔ زندگی سے حیات کی ساری دلکشی ختم ہو جاتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: