مرد کا پیار بے مثال؟ — طیبہ زیدی

0
  • 1
    Share

اللہ کتنا مہربان اور عظیم ہے، ہم اس کی نعمتوں کا چاہ کر بھی شکر ادا نہیں کرسکتے لیکن مرد کا تو کرسکتے ہیں نا! مرد نعمت ہے یا یہ کہ لیجئے لڑکا نعمت ہوتا ہے اور لڑکی رحمت۔  ہمیں مرد کی عزت کرنی چاہئے۔ مرد بہت عظیم ہوتا ہے۔ اسے پیاری پیاری لڑکیاں پسند ہوتی ہیں، وہ خود بھی پیارا ہوتا ہے، اسے مختلف لڑکیاں پسند ہوتی ہیں، کچھ لمبی، کچھ چھوٹی، کچھ کالی کچھ موٹی، لڑکیاں گوری بھی ہوتی ہیں، گوری لڑکیاں بہت ذیادہ ہوتی ہیں، کالی لڑکیاں اس سے بھی ذیادہ ہوتی ہیں۔ مرد بہت محنت کرتا ہے، صرف محنت کرتا ہے، صرف کماتا ہے یہ اسکا ہم پر احسان ہوتا ہے اگر وہ نہ کمائے تو ہم بھوکے مر جائیں۔ لڑکیوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ مرد سے شادی کیوں کرتی ہیں؟ آخر کیوں؟ کیا کوئی  لڑکی بےروزگار مرد سے شادی کرنے کو تیار ہوتی ہے؟ کبھی نہیں؟ بنیادی طور پر مرد سہارا ہوتا ہے کسی بھی خاندان کا۔ اسے سر پرست اعلیٰ کا عہدہ حاصل ہوتا ہے،چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ مرد ہوتا ہی بڑا ہے اسے کوئی چھوٹا نہیں سمجھتا۔ اور اگر بیٹا ایک ہوتا ہے تو وہ سب سے چہیتا ہوتا ہے۔ مرد صرف روزی کما کر پہلے درجے پر فائز کردیا جاتا ہے، اور لڑکی کماکر، کھلا کر، بچوں کی پرورش میں سر گرم عمل ہو کر بھی خود غرض، مادہ پرست اور مغرور تصور کرلی جاتی ہے۔ عورت ہوتی ہی بری ہے اسی لئے عورت ہوتی ہے، ورنہ مرد ہوتی؟ آپ خود سوچیں؟ کیا عورت کوئی بہت عظیم کام کرتی ہے؟ آخر کرتی کیا ہے؟ صرف بچوں کی ماں ہی تو ہوتی ہے؟ وہ تو ساری عورتیں ہی ہوتی ہیں، ساری ہی بچوں کو پالتی ہیں، ساری ہی نوکری کر رہی ہوتی ہیں، ساری ہی گھر سنبھالتی ہیں، ساری ہی کھانے بناتی ہیں، اور اگر خواتین نوکری کرتی بھی ہیں تو صرف اپنے لئے کیوں کہ انہیں پیسا بہت اچھا لگتا ہے، کم پیسوں میں ان کا گزارا ہی نہیں۔ مرد بل کل سہی کرتا ہے اگر طعنہ دے بھی دے دیتا ہے کہ نوکری اپنے لئے کر رہی ہو میرے لئے نہیں۔ نوکری کا رعب کسی اور پر جمانا اور اگر کھانا پکالیتی ہو، تو بھی کوئی احسان نہیں کرتیں، وہ بھی ساری عورتیں بناتی ہیں، بچوں کو بھی پالتی ہیں اور تم کرتی ہی کیا ہو، تمھارا کام ہی سونا اور رونا ہے۔ میری دوست کی بیوی اتنی اچھی ہے، برابر میں وہ جو لمبی سے خاتون ہیں وہ بھی بہت اچھی ہیں کبھی بھی شوہر سے ذبان نہیں چلاتیں۔ مرد مجاذی خدا ہوتا ہے، یہ تو میں ہوں جو رہ رہا ہوں تمھارے ساتھ۔ شکر ادا کیا کرو، ہزار لڑکیاں آفس میں آگے پیچھے گھومتی ہیں، جی جی کرتی ہیں۔
عورت گھر میں رہے تو بھی بری ہوتی ہے اور اگر کمانے چلی جائے تو اس سے ذیادہ  بری بن جاتی ہے،کیوں کہ وہ  یہ سب اپنے لئے کرتی ہے، اس کا بھی دل ہوتا ہے ارمان ہوتے ہیں، اگر وہ باہر نکل کر نوکری کر بھی لیتی ہے تو مردوں پر کوئی احسان نہیں کرتی۔ عورت  خود لالچی ہوتی ہے، وہ گھر کا کام نہ کرنے کی وجہ سے  گھر سے فرار اختیار کرتی ہے تا کہ ساس سسر کی خدمت نہ کرنی پڑے، نندوں کی دعوتیں نہ بھگتانی پڑیں۔ گھر میں رہے گی تو کام کرے گی نا! جب ہوگی ہی نہیں تو کام کرے گا کون؟ اس چالاکی سے عورت خود کو کام کاج سے بھی بچا لیتی ہے اور پیسا بھی کمالیتی ہے۔ مرد پر اسے رعب بھی تو جمانا ہوتا ہے اس کو اور کوئی بات نہیں۔
مرد عورت کا ہر طرح سے خیال کرتا ہے، اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے بیوی کو خوش رکھنے کی، مگر عورت کی فطرت میں ہی نہیں خوش رہنا، ہر وقت الکساتی ہے،پیسے کی ہوس، اسٹیٹس، گاڑی، اپنا گھر، مہنگے اسکول میں بچوں کی تعلیم، سب چاہتی ہے۔
عورت کو یہ سب شوہر سے بل کل نہیں مانگنا چاہئے اسے چاہئے وہ صرف انتظار کرے، چپ رہے، شوہر سے کوئی شکایت نہیں کرے، بل کے ایسا کرے کے اپنی ساس سے شکایت کرے اپنے شوہر کی، وہ سمجھائیں گی بیٹے کو کہ تم بہو کا خیال رکھو۔ اس کی فرمائشیں پوری کرو، لڑکی کو بل کل نہیں چاہئے کہ وہ اپنی ماں کو ہر بات پر فون گھما کر قصے کہانیاں سنائے اور مشورے مانگے۔
ساس بھی ماں ہوتی ہے، لڑکی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر، اپنی نند، اور خود اپنے سسرال میں اپنی شکایات کی ایک فہرست بنائے، پھر سب کو ایک ایک فوٹو کاپی کرواکر ٹی سی ایس سے ارسال کرے۔
لڑکی شادی کے بعد پرائی ہوجاتی ہے اس کو اپنے ماں باپ سے ذیادہ روابط رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اور اس کے ماں باپ صرف اس کی شادی سے پہلے پہلے تک ہی اس کے ماں باپ ہوتے ہیں، شادی کے بعد اس کی ساس اس کی ماں اور اس کا سسر اس کا پاپ بن جاتا ہے۔ لڑکیاں یہ سب بھول جاتی ہیں اس لئے شوہر ان سے خوش نہیں رہتا کیوں کہ وہ اس کے ماں باپ کو اپنا ماں باپ نہیں سمجھتی۔
لڑکی کو ہی ہوتی ہیں دشواریاں، پریشانیاں! آخر لڑکا بھی تو اس ہی گھر میں رہتا ہے، کھانا کھاتا ہے، ماں باپ کو وقت دیتا ہے، ان کی فکر کرتا، بیوی کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے اور بار بار امی یاد آرہی ہیں کا ورد نہیں کرنا چاہئے، آخر مرد بھی تو نہیں کرتا، وہ بھی تو خیریت دریافت نہیں کرتا آفس سے فون کرکے ماں باپ کی۔
لڑکی کے ماں باپ کو بھی کم کم فون کرنا چاہئے بیٹی کے سسرال، سمجھ لینا چاہئے بیٹی پرائی ہوگئی،بس وہ شادی سے پہلے پہلے ہی ان کی بیٹی تھی اب اس کا اپنا گھر ہے، شاہر ہے، ساس سسر ہیں، نندیں ہیں، گھر کا کام کاج ہے، اگر اپنے ماں باپ سے ہر مہینے ملنے جائے گی تو اس سے اس کا اپنا گھر نظر انداز ہوگا۔ اسے اب اپنے ماں باپ سے مشورے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بڑی ہوگئی ہے،اسی لئے اس کے ماں باپ اس کی شادی خود کرتے ہیں کوئی زور زبردستی تھوڑی کرتا ہے لڑکا۔
لڑکی کے ماں باپ کو چائیے کہ ذیادہ بیٹی کو یاد نہ کیا کریں، اس سے اس کا سسرال اثر انداز ہوگا، اور تحفے تحائف بیٹی کے سسرال میں ضرور بھجوایا کریں، اس سے وہ سسرال میں بھاری رہے گی۔

لڑکیوں کو سمجھداری سے کام لینا چاہئے، مرد کی بات ہر حال میں ماننی چاہئے، بس ایک یہی طریقہ ہوتا ہے خوشگوار ذندگی گزارنے کا اور شوہر کے دل میں اپنی جگہ بنانے کا، برداشت کرے اور کام کرے، آخر شوہر بھی تو کتنا برداشت کرتا ہے ایک اپنا آفس اور دوسرا آپ کا فرمائشی پروگرام۔ اگر ان تمام باتوں پر لڑکی اور اس کے ماں باپ عمل کریں پھر دیکھئے گا آپ کی بیٹی کبھی پریشان نہیں رہے گی، اس کے سسرال والے بہت خوش رہیں گے اس سے، اور آخر شادی کے بعد لڑکی کا مقصد بھی کیا ہوتا ہے، شوہر اور سسرال کو خوش رکھنا۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: