برائیلر مرغی — ہم کیا کھائے جارہے ہیں

0
  • 1
    Share

عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے “خبر” کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


پہلے دیسی مرغی اور مرغے ہوتے تھے۔ گھر کے صحن میں چہل قدمیاں کرتے انکے غول ہوتے تھے۔ خواتین انکے انڈے جمع کرتیں۔ جو کھانے سے بچ جاتے یا بچا لئے جاتے، وہ کسی مرغی کے نرم پروں کے نیچے نئی نسل کی آبیاری کیلئے رکھ دئے جاتے۔ گھر میں کوئی مہمان آتا تو مرغے کی شامت آتی۔ تب مرغے پکائے جاتے تھے۔

پھر بیسویں صدی آئی، انسانی خوراک پر ریسرچ و تجارت شروع ہوئی۔ مرغی بھی اس کا نشانہ بنی۔ برائیلر مرغی کی شروعات 1916 سے تصدیق ہوتی ہے۔ ابتدا میں ایک ہائی برڈ نسل پروان چڑھائی گئی۔ 1930 تک یہ مغربی مارکیٹ میں آگئی تھی لیکن جدید برائیلر کی تاریخ 1960 سے شروع ہوئی۔ جدید برائیلر کی مرغی وہ ہماری قدیم مرغی نہیں رہی۔ یہ مصنوعی پیدائش سے کنٹرولڈ موسمی حالات محصوص فیڈز اور ایک متعین وقت میں گوشت کی ترسیل کی انڈسٹری بن گئی۔

ہمارے جیسے ملک میں تو اس انڈسٹری کے اعداد و شمار ملنا مشکل ہیں لیکن امریکہ کے اعداودشمار بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ 1980 تک برائیلر کا ایوریج وزن وہاں 3۔8 پونڈ تھا۔ آج ایک برائیلر کا ایوریج وزن 5۔65 پونڈ ہوتا ہے۔ یہ تینتیس فیصد وزن تیس سالوں میں حاصل کر لیا گیا۔ لیکن کمال یہ ہے کہ ایک برائیلر کی پیدائش سے دکان پر کاٹے جانے کی زندگی روز بروز محتصر ہو رہی ہے۔ یعنی آج 42 دن میں مرغی آپکے دسترخوان پر ہوتی ہے۔ 1950 میں یہ سو دن سے بہرصورت اوپر ہوتا تھا۔

یہ کرشمہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ فیڈز کا کمال ہے۔ وہ فیڈز جو لگاتار روشنی کے کھیل سے ان مرغیوں کو متواتر کھلائی جاتیں ہیں۔ انہی فیڈز سے وہ گوشت تشکیل پاتا ہے جو بعد میں ہماری فیڈ بن جاتا ہے۔ آج کی جدید سائنسی تحقیقات کو اگر ہم مان لیں، یہ بھی مان لیں کہ گروتھ ہارمونز چونکہ یورپ نے اپنے قوانین میں ممنوع قرار دے دئے۔ ہم یہ بھی مان لیتے ہیں۔ کہ فیڈز کو بتدریج آرگینک کیا جارہا ہے۔ تب بھی سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں 42 دن کا یہ تیز رفتار پراسس چیک کرنے والے ادارے کون سے ہیں؟

ہمارے ملک میں فیڈز میں باقی مسائل ایک طرف، جب بھی کسی نے غلطی سے چیک کر بھی لیا، تو آرسینک پازیٹو نکل ہی آتا ہے۔ آرسینک انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ یہ کینسر بنانے کا ایک سبب ہے، اور ذہنی ہارمونز پر بھی اسکے اثرات بتائے جاتے ہیں۔ آرسینک کو گروتھ  ہارمونز میں تیزی سے وزن بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ہارمونز بیس فیڈز انڈسٹری ہے۔ یہاں وقت کے مقابل دوڑ ہوتی ہے۔ چالیس دن میں اس انویسٹمنٹ کا ٹرن آوٹ مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اس میں رسک پر صرف ہم ہیں۔ ہمیں کنزیومر بیس پریشر گروپس بنا کر اس انڈسٹری کا آڈٹ کرانا چاہئے کہ فیڈز پر یہ عام باتیں آئس برگ کا سطح اب کا کچھ حصہ ہے۔ لیکن اصل داستان زیر آب آئس برگ کے جسامت کی ہے۔ وہ بلاشبہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔


اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی دوسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 اس سلسلہ کی تیسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: