کنوینشنل اور اسلامی بینکنگ ۔ اول : معیشت اور عوام کا نصیب: (16) لالہ صحرائی

0

 کنوینشنل اور اسلامی بینکنگ ۔ حصہ اول 

بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے، پیسے جمع کرانے اور نکلوانے کے علاوہ بھی بہت سے معاملات ہوتے ہیں، انہیں ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

‌1. سروسز یا خدمات

  1. فائنانس یا مالیات

سروسز میں بینک عوام کو خدمات فراہم کرتا ہے اور بدلے میں اس کی فیس لیتا ہے، یہ متفق علیہ جائز ہے، مثال کے طور پر وہ عوام سے چیک بک، اے۔ٹی۔ایم کارڈ، انٹرنیٹ بینکنگ، ٹرانزیکشنز پر ایس۔ایم۔ایس الرٹس اور بینک اسٹیٹمنٹ جاری کرنے کے پیسے لیتا ہے، اگر کسی کا چیک ریٹرن ہو جائے تو اس پر 500 روپے جرمانہ یا اس چیک کو پروسس کرنے پر اپنی محنت و کاغذی کاروائی کی فیس کے طور پر لے لیتا ہے۔

بینک آپ کا اکاؤنٹ اسلئے کھولتا ہے تاکہ آپ اس میں اپنی رقوم جمع کرائیں، عوام کے ان پیسوں سے بینک کاروبار کرتا ہے، عوام اپنے پیسوں پر اس کاروبار کے پرافٹ سے حصہ لینا چاہیں تو پھر معاملات دوسرے حصے میں داخل ہوجاتے ہیں، بینک سے اپنی رقوم پر پرافٹ کا حصہ لینے کےلئے پرافٹ۔اینڈ۔لاس شئیرنگ اکاؤنٹ کھولنا پڑتا ہے یا کسی معینہ مدت کےلئے فکس ڈیپازٹ کرانا پڑتا ہے، قرضہ لینے کا بیان آگے آئے گا۔

[بینک کیا کاروبار کرتا ھے]

بینک آپ کے پیسوں سے کچھ خریدتا اور بیچتا نہیں بلکہ جس طرح آپ فکس ڈیپازٹ کرا کے پرافٹ مانگتے ہیں اسی طرح بینک بھی کاروباری اداروں کو پیسے دے کر ان پر پرافٹ یا کرایہ وصول کرتا ہے اور اسی میں سے آپ کو معینہ شرح سے آپ کا حصہ ادا کرتا ہے، اسی کرائے کو سود، مارک اپ یا پرافٹ کہا جاتا ہے۔

فائنانس کے اس کاروبار میں چھ قسمیں ہیں

  1. رننگ فائنانس
  2. شارٹ ٹرم فائنانس
  3. لانگ ٹرم فائنانس
  4. کار فائنانس
  5. ہوم فائنانس
  6. پراجیکٹ فائنانس

ان کی تفصیل بتانے سے پہلے آپ کو فائنانس حاصل کرنے کا طریقہ بتا دوں جو سب میں مشترک ہے، پہلے آپ یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو پیسہ آپ بینک سے مانگ رہے ہیں وہ لوٹانے کے اہل ہیں یعنی آپ کو اپنے بزنس سے ماہانہ اتنا پرافٹ حاصل ہوتا ہے کہ جتنی رقم آپ مانگ رہے ہیں اس پر بننے والا مارک اپ اور اصل رقم کا کچھ حصہ آپ با آسانی ادا کر سکتے ہیں۔

اب میں عام فہم انداز میں ان معاملات کی تفصیل اور اسلامی و غیر اسلامی کا فرق بتاتا ہوں۔

[رننگ فائنانس]

اگر کسی بزنس پرسن نے بینک کی معاونت سے بحیثیت ٹریڈر کوئی لاٹ خریدنی ہو یا بحیثیت مینوفیکچرر خام مال خریدنا ہو تو وہ بینک سے رننگ فائنانس مانگتے ہیں، سب پہلے بینک کسی تجزیہ کار ادارے سے اس کے بزنس کی انکم ایسٹیمیشن کراتا ہے، اصول یہ ہے کہ قرض مانگنے والے کی انکم، مارک۔اپ کی رقم سے دوگنا یا تین گنا ہونی چاہئے، یعنی قرض پر مارک۔اپ اگر ایک لاکھ بنتا ہے تو آمدنی تین لاکھ ہونی چاہئے، لیکن بااثر افراد دوگنا آمدنی پر بھی قرضہ جاری کروا لیتے ہیں جبکہ نیا آدمی یا ادارہ جب چند سال بینک کے ساتھ کامیابی سے گزار لیتا ہے تو اسے بھی یہ سہولت مل جاتی ہے۔

ایک کروڑ روپیہ قرض لینے کے لئے دوسرے مرحلے میں آپ کو سوا کروڑ مالیت کی جائداد بینک کے پاس گروی رکھنی پڑتی ہے، اس میں بنا ہوا گھر، فیکٹری، پرائز بانڈز، زیورات اور بعض جگہ شئیر سرٹیفکیٹس بھی قابل قبول ہوتے ہیں، ان معاملات سے گزرنے کے بعد مطلوبہ رقم بزنس۔مین کے اکاؤنٹ میں ڈال دی جاتی ہے جہاں سے چیک کاٹ کر وہ مال خریدتے رہیں اور بیچتے رہتے ہیں، سال میں صرف ایک بار یہ رقم کلی طور پر واپس کرنی ہوتی ہے پھر چاہے اگلے ہی دن دوبارہ واپس لے لیں، اس سہولت پر ہر تین ماہ یا چھ ماہ بعد مارک۔اپ کی رقم اس بندے سے وصول کرلی جاتی ہے، اگر مارک اپ کی ادائیگی میں دیر ہو جائے تو روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ لگتا ہے۔

[ٹرم فائنانس]

نمبر دو اور تین پر جو ٹرم فائنانسز ہیں وہ رننگ فائنانس سے تھوڑی سی مختلف ہیں، رننگ فائنانس اپنی لمٹ کے اندر ہر ماہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے یعنی کسی ماہ آپ نے پورا ایک کروڑ روپیہ استعمال کر لیا ہوتا ہے تو کسی مہینے میں کام کم ہو تو صرف آدھا استعمال کیا ہوتا ہے، اسی حساب سے اس رقم پر بننے والا مارک۔اپ بھی کم زیادہ ہوتا رہتا ہے لیکن رننگ فائنانس کی یہ سہولت جب ایکبار آپ کو مل جائے تو پھر یہ مستقل طور پر موجود رہتی ہے جب تک کہ آپ خود نہ رک جائیں۔

ٹرم فائنانس کی سہولت حاصل کرنے کا طریقہ کار وہی ہے جو رننگ فائنانس کا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ٹرم فائنانس ایک مخصوص مدت کیلئے ملتا ہے جو شاٹ ٹرم بھی ہو سکتی ہے اور لانگ ٹرم بھی، شارٹ ٹرم فائنانس اگر تین سال کیلئے ہے تو اس میں ایک کروڑ کی 36 ماہانہ قسطیں بنا لی جاتی ہیں جس میں مارک۔اپ بھی شامل کیا جاتا ہے، اس طرح یہ رقم 36 ماہانہ قسطوں میں مارک۔اپ سمیت ادا ہوتی جاتی ہے، ایک مدت جب ختم ہوجائے تو دوسری مدت کیلئے بھی یہ سہولت جاری ہو سکتی ہے لیکن درمیان میں اسے کم زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔

[دیگر فائنانسز]

اگر آپ کار، گھر یا فیکٹری خریدنا چاہتے ہیں تو اپنی اہلیت اسی طرح ثابت کرکے کار فائنانس، ہوم یا پراجیکٹ فائنانس لے سکتے ہیں، کار اور پراجیکٹ پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوتا البتہ گھر دس سال یا بیس سال تک فائنانس ہو جاتا ہے، اس سہولت کی بھی ٹرم فائنانس کی طرح ایک مدت کیلئے ماہانہ قسطیں بنا لی جاتی ہیں، اس میں ضمانت کے طور پر وہی خریدی جانے والی کار گھر یا فیکٹری ہی گروی رکھی جاتی ہے جو مکمل ادائیگی کے بعد بینک کی طرف سے آزاد ہو جاتی ہے۔

[اسلامی بینکنگ]

اسلامی بینکنگ میں قرض لینے کی ساری ٹرم اینڈ کنڈیشنز وہی ہیں جو کنوینشنل بینک میں ہیں، آپ کو انکم ایسٹیمیشن کروانی ہے، ضمانت کے طور پہ جائداد گروی رکھنی ہے، مارک۔اپ کی جگہ پرافٹ ادا کرنا ہے، پرافٹ کی ادائیگی میں اگر آپ لیٹ ہو جائیں تو جرمانے کی جگہ چیریٹی ادا کرنی ہے، ایک کروڑ روپیہ قرض لینے پر اسلامی بینک کے پرافٹ اور چیریٹی کا ریٹ بھی لگ بھگ وہی ہے جو کنوینشنل بینک کے پرافٹ اور جرمانے کا ہے۔

اس سارے فینومینا میں فرق صرف اتنا ہے کہ کنوینشنل بینک آپ کو رننگ فائنانس یعنی قرض کی رقم دے کر کہتا ہے کہ جاؤ اپنی مرضی سے خریداری کرتے رہو لیکن ہمارا مارک اپ وقت پر ادا کر دینا، بینک کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ کب اور کتنے کی خریداری کرتے ہیں، اس کی دلچسپی صرف اسقدر ہے کہ آپ اس کی رقم استعمال کرتے رہیں اور اسے مارک۔اپ وقت پر ادا کرتے رہیں۔

اسلامی بینک چونکہ سود سے بچنا چاہتا ہے لہذا وہ آپ کیساتھ ایک جوائینٹ وینچر کرتا ہے جسے رننگ فائنانس کی بجائے مرابحہ کہتے ہیں، مرابحہ کیسے کام کرتا ھے اس کیلئے ایک تمثیل دیکھنی ہوگی:۔

مطلب یہ کہ آپ اپنے بھائی سے دس ہزار روپے لے کر موٹر سائیکل خریدیں، بھائی کو کہیں کہ یہ رہی آپ کے پیسوں سے خریدی ہوئی موٹرسائیکل لیکن آپ کو تو چلانی نہیں آتی لہذا آپ مجھے بیچ دیں لیکن پیسے میں چھ ماہ بعد دوں گا، بھائی نے آپ کو وہی بائیک چھ ماہ کے ادھار پہ بارہ ہزار کی بیچ دی، اب آپ نے چھ ماہ کے اندر اندر اسے بیچ کر دس کی بجائے بارہ ہزار بھائی کو واپس کرنے ہیں باقی آپ کا منافع ہے جتنے بھی اوپر کما لیں۔

اسی طرح اسلامی بینک یہ کہتا ہے کہ آپ اس رقم سے جو خریدنا چاہتے ہیں وہ اپنے لئے نہیں بلکہ میرے ایجنٹ کے طور پر (فار اینڈ آن بیہاف آف دی بینک) وہ سودا خرید لیں، آپ نے سب سے پہلے ایک کروڑ سے جو خریدنا تھا وہ اپنی مرضی سے خریدا اور بینک کو ڈیکلئیریشن جمع کرا دی کہ یہ مال میں نے آپ کیلئے ایک کروڑ کا خریدا ہے اب اس کا کیا کرنا ہے؟

اس مرحلے پر بینک کہتا ہے کہ بڑی مہربانی آپ نے میری ایماء پر ( فار اینڈ آن بیہاف آف دی بینک) یہ مال خرید لیا، اب مجھے یہ مال کسی کو تو بیچنا ہے لہذا آپ ہی خرید لو، آپ پوچھتے ہیں کہ ایک کروڑ کا مال مجھے کتنے میں دو گے تو بینک کہتا ہے آپ چھ ماہ بعد مجھے ایک کروڑ چھ لاکھ روپے دے دینا اور اگر آپ نے ادائیگی میں تاخیر کی تو ایک مخصوص ریٹ پر آپ کو روزانہ کی بنیاد پر چیریٹی بھی ادا کرنی ہوگی جو ہم کسی مدرسے یا فلاحی ادارے کو دے دیں گے کیونکہ وہ ہمارے لئے جائز نہیں۔

(اگر جائز نہیں تو نہ لیں مگر لیں گے ضرور پھر خیرات کر دیں گے)

آپ نے کنویشنل بینک سے ایک کروڑ کا فائدہ لیا تو چھ ماہ بعد اسے ایک کروڑ اور چھ لاکھ سودی مارک اپ ادا کیا، آپ نے اسلامی بینک سے ایک کروڑ کا فائدہ لیا تو چھ ماہ بعد اسے بھی ایک کروڑ اور چھ لاکھ منافع ادا کیا، اگر آپ نے یہ رقم ایک ماہ کی تاخیر سے ادا کی تو دونوں بینک ایک لاکھ اضافی لیں گے جو کنوینشنل بینک تو خود رکھ لیتا ہے لیکن اسلامی بینک کسی مدرسے یا فلاحی ادارے کو دے دیتا ہے۔

[اسلامی ٹرم فائنانس]

ٹرم فائنانس، کار، گھر یا پراجیکٹ کی ادائیگی چونکہ ایک ہی طریقے سے ہوتی ہے، کار، گھر یا فیکٹری اسلامی بینکنگ میں اسی طرح بینک کے بیھاف پہ خریدی جاتی ہے پھر اس میں ڈیمینشگ مشارکہ قائیم کیا جاتا ہے، مطلب یہ کہ آپ کی ڈاؤن پیمنٹ اور بینک کی فائنانس کی مقدار کے مطابق اسی ریشو سے آپ دونوں اس چیز کے مالک بنتے ہیں لیکن جیسے جیسے آپ قسطیں ادا کرتے جاتے ہیں ویسے ویسے اس چیز میں بینک کا ملکیتی حصہ کم اور آپ کا زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور مکمل ادائیگی پر آپ اس چیز کے پورے مالک بن جاتے ہیں۔

جب ہم بینک کے سرمائے سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو کنوینشنل بینک میں یہ ہوتا ہے کہ جیسے جیسے آپ قسط دیتے جاتے ہیں اور بینک کی رقم کم ہوتی جاتی ہے اس ریشو سے اس کا مارک اپ بھی کم ہوتا جاتا ہے، یہی حال اسلامی بینک میں ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ اسلامی بینک کہتا ہے کہ ہم دونوں نے مل کر کار، گھر یا پراجیکٹ خریدا جس میں دس فیصد آپ نے اور نوے فیصد اسلامی بینک نے دیا تو ہم اسی ریشو سے مالک ٹھہرے، لیکن یہ چونکہ بینک کے کام کی چیز نہیں لہذا آپ ہم سے کرائے پر لے لیں، جیسے جیسے آپ کا حصہ بڑھتا جائے گا آپ کے مالکانہ حقوق بڑھتے جائیں گے اور بلآخر بینک فارغ ہو جائے گا، اس طرح اسلامی بینک کار، گھر یا فیکٹری کی خریداری پر نفع، مارک اپ یا سود کو کرایہ کہہ کر وصول کرتا ہے کیونکہ آپ اسے استعمال کرتے ہیں اور اس کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔

[دونوں بینکوں میں مارک۔اپ ریٹ]

بینک کا تعلق پیسے کے لین دین سے ہے اور پیسہ چونکہ ریاست کی پراپرٹی ہے جو زمین کی طرح ثانوی حیثیت میں عوام کی ملکیت ہے لہذا عوام کا جو پیسہ بینکنگ سرکلز میں جمع ہوتا ہے اس کا کسٹوڈئین اسٹیٹ بینک ہوتا ہے، اگر کسی اکاؤنٹ کا مالک فوت ہو جائے اور اس کا کوئی والی وارث نہ ہو تو وہ اکاؤنٹ اسٹیٹ بینک کے حوالے ہو جاتا ہے، بینک تمام تر فائنانسز کےلئے جو پیسہ استعمال کرتا ہے اس پر اسٹیٹ بینک کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

اوپر بیان کی گئی ہر قسم کی فائنانسز میں کنوینشنل بینک اپنا مارک۔اپ کائبور پلس تین فیصد کے حساب سے طے کرتا ہے، اور اسلامی بینک بھی اپنا پرافٹ کائبور پلس تین فیصد پر ہی طے کرتا ہے، کائبور مخفف ہے کراچی انٹربینک آفر ریٹ کا، ماضی میں یہ ریٹ عموماً نو فیصد ہوتا تھا لیکن اب ایک عرصے سے چھ فیصد پر رکھا ہوا ہے تاکہ مارکیٹ میں پیسہ نکلتا رہے اور کاروبار میں پھیلاؤ آتا رہے۔

[عوام سے نفع لینے کا طریقہ]

اگر کائبور نو فیصد ہو اور بینک تین فیصد اپنا حصہ ایڈ کرے تو آپ کو ایک کروڑ پر سالانہ بارہ لاکھ ادا کرنے ہوں گے جس میں سے تین فیصد بینک کا منافع ہوگا اور نو فیصد کسٹوڈئین ہونے کی حیثیت سے اسٹیٹ بینک کو جائے گا۔

[عوام کو نفع دینے کا طریقہ]

جس وقت کائبور نو فیصد ہو اور بینک اپنا تین فیصد ڈال کر بارہ فیصد پر فائنانس دے رہا ہو، اس وقت عوام اپنے پیسے پر بینک سے منافع مانگے تو اسے آٹھ فیصد تک منافع دیا جا سکتا ہے جس میں سے سات فیصد اسٹیٹ بینک اور ایک فیصد متعلقہ بینک ملا کر دے گا (یا جو بھی ریشو بینک اور اسٹیٹ بینک کے درمیان طے ہوتی ہے) بہرحال عوام کو آٹھ سے دس فیصد تک مل سکتا ہے، موجودہ کائیبور چھ فیصد ہے اسلئے عوام کو چار فیصد تک منافع مل جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں اسلامی بینک اور تکافل پر ایک جائزہ پیش کریں گے تاکہ ان سے بلاوجہ کی کراہت کم ہو سکے۔

۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

مضمون کا پندھرواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: