کرکٹ اور ذوقِ جمال: عاطف حسین

0

کئی برس قبل اپنے ایک بزرگ استاد کو اخبار اسٹینڈ پر کھیلوں کے صفحات پر کرکٹ کی خبریں دیکھتے اور زیرِ لب کوئی تبصرہ کرتے دیکھ کر خوشی سے پوچھا کہ ‘سر، آپ بھی کرکٹ کا شوق رکھتے ہیں’ تو وہ یوں شرمندہ ہونے لگے جیسے کوئی چوری کرتے پکڑے گئے ہوں اور یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ ‘بس تضیعِ اوقات کیلئے کبھی کبھی۔۔۔۔’۔

ہمارے یہ استاد شعر و ادب سے شغف رکھنے والے اور نہایت سنجیدہ و متین آدمی تھے لہذا ان کے اس طرح شرمندہ ہونے کے پیچھے غالباً یہی عقیدہ کارفرما رہا ہوگا کہ کرکٹ ایک کارِ بے کاراں و جاہلاں اور محض ‘کھیل تماشہ’ ہے جس میں کسی طرح کی بھی مشغولیت تضیع اوقات اور ‘سنجیدہ’ اور ‘ذوق سلیم’ رکھنے والے لوگوں کیلئے باعث عار ہے۔

شعر و ادب اور موسیقی سے شغف رکھنے والے ہمارے ایک اور معزز دوست نے بھی حال ہی میں ایک فیس بک پوسٹ پر کرکٹ خصوصا کرکٹ بینی کو کھل کر فضول کہا اور ہمارے کرکٹ کی جمالیات وغیرہ کا ذکر کرنے پر اسے مسخ شدہ ذوق بھی قرار دیا۔ وہ بھی یقیناً کرکٹ اور کرکٹ بینی کو فضول مشغلہ ہی گردانتے ہیں۔

دوسری طرف سوشل میڈیا اور خیر سے مین اسٹریم میڈیا میں بھی کرکٹ کے متعلق جو بحث ہوتی ہے وہ عموماً میچوں کے نتائج کے گرد ہی گھومتی ہے۔ یہاں کرکٹ قومی عزت و وقار کا مسئلہ بن گیا ہے لہذا نتائج کے علاوہ باقی تقریبا ہر چیز غیر اہم ہے۔ اگر میچ جیت گئے تو تعریف ہوگی، ہار گئے تو تنقید۔ جیت کر ‘قوم کا سر فخر سے بلند’ کردینے پر انعامات کی بارش ہوگی تو ہارنے پر گالیاں اور انڈے پڑیں گے، غداری اور جوے کے الزامات لگیں گے۔

ہر چند کہ کرکٹ جیسے مسابقتی کھیل میں نتائج سے مکمل لاتعلق نہیں ہوا جاسکتا اور قومی ٹیم کی کارکرگی سے قومی عزت کے تصور کا جڑ جانا بھی ایک فطری سی چیز ہے خصوصا جب مقابلہ دو ایسے ملکوں کی ٹیموں کے درمیان ہو جن کے درمیان سیاسی دشمنی بھی ہو-  تاہم کرکٹ کیا واقعی صرف ہار جیت کا کھیل ہے؟

ہمیں کرکٹ کو خالص آرٹ کی کوئی شکل ثابت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں (اگرچہ سی ایل آر جیمس بہت عرصہ پہلے کسی حد تک کامیابی کے ساتھ یہ کوشش کرچکے ہیں) تاہم ہمیں یہ ماننے میں بھی سخت تامل ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں نتائج کے علاوہ کوئی جائز دلچسپی یا جمالیاتی پہلو نہیں دریافت کیا جاسکتا۔ کرکٹ میچوں میں اتار چڑھاؤ، کسی ٹیم کا ہارے ہوئے میچ کا پانسہ پلٹ دینا، کوئی غیر معمولی اننگز، کوئی شاندار گیند بازی، آخری گیند تک میچ کے نیتجے کے بارے میں غیر یقینی، کسی کمزور بلے باز کی اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کوشش، ہارے ہوئے میچ میں بھی کسی بلے باز یا گیندباز کا ہار نہ ماننا اور آخری گیند تک کوشش کرتے رہنا، اترے ہوئے کندھوں کے ساتھ بیٹسمینوں کا میچ بچانے کیلئے دوبارہ میدان میں اترنا، سخت تکلیف کی کیفیت میں اپنی ٹیم کیلئے بلے بازی جاری رکھنا، جیت کے جذبے سے سرشار کھلاڑیوں کا ایک دوسرے سے الجھنا، تیز گیند بازوں کا جارحانہ انداز، بلے بازوں اور گیندبازوں کا ایک دوسرے کو ذہنی طور پر زیر کرنے کیلئے مختلف حربے آزمانا، میچ ہار کر کھلاڑیوں کا رو پڑنا، جیت کر خوشی کا مظاہرہ یہ سب مناظر انسانی جذبات ہی کی عکاسی ہیں اور کرکٹ شائقین کو ایک سرشاری کی کیفیت سے دوچار کرتے ہیں۔ پھر ایک اور سادہ ٹیسٹ یہ ہے کہ کیا آپ کرکٹ کی کسی ایسی ویڈیو جس میں صرف چند ایک خوبصورت شاٹس یا عمدہ گیندیں ہوں اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے اکثر لوگ یقیناً دو منٹ کی ایسی ویڈیو سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکتے ہیں جس میں چند ہی گیندیں یا شاٹس ہوں۔ ایک تازہ ترین مثال وہ چھکا ہے جو حالیہ چمپیئنز ٹرافی کے میچ میں سری لنکن بیٹسمین گنارتنے نے ہندوستانی باولر جسپریت بُمرہ کی گیند پر لگایا۔ جس حیران کن مہارت اور چابکدستی سے یہ چھکا لگایا گیا اسے دیکھنا آج سے پانچ سال بعد بھی کرکٹ شائقین کیلئے ایک نہایت پرلطف تجربہ ہوگا چاہے وہ انہیں بالکل پتا نہ ہو کہ یہ چکھا کن حالات میں لگایا گیا تھا اور میچ کا نتیجہ کیا نکلا تھا۔ ستانوے اٹھانوے کی سیریز میں ایلن ڈونلڈ اور آسٹریلوی وا برادران کے درمیان کشمکش، شین وارن کی ‘صدی کی گیند’، وسیم اکرم کی ورلڈ کپ 1992 کے فائنل میں کرائی گئی دو تاریخی گیندوں سمیت سینکڑوں مناظر کا نظارہ کرکٹ شائقین باربار کرتے ہیں۔ اگلے قدموں پر کھیلی ہوئی ڈرائیو، سانپ کی طرح بل کھا کر سوئنگ ہوتی ہوئی گیند، پھرتی سے کیا گیا کیچ اور اس طرح کے دوسرے مناظر کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والوں کو عموماً اسی طرح دلکش معلوم ہوتے اور پرلطف تجربہ مہیا کرتے ہیں جس طرح شاعری کا ذوق رکھنے والے کو کوئی خوبصورت شعر۔

ذوقِ جمال کو شاعری، مصوری یا اسی طرح کی چند چیزوں تک محدود سمجھنا ایک نہایت عجیب رویہ ہے۔ ہمارے شعر و ادب کے اپنے ذوق پر فخر کرنے والے دوست اگر کبھی تھوڑی دیر کیلئے کسی چائے والے یا پیشہ ور ڈرائیور سے اس کے کام کے بارے میں بات کریں اور پوری توجہ سے سنیں تو انہیں یقیناً سخت صدمے سے دوچار ہونا پڑے گا کیونکہ ان پر انکشاف ہوگا کہ چائے والے کیلئے چائے بنانا اور ڈرائیور کیلئے ڈرائیونگ کرنا محض ‘کام’ نہیں بلکہ ایک فن ہے جس کی باریکیوں سے واقفیت پر وہ فخر کرتے اور اپنے کام سے ایک غیر مادی نوعیت کی خوشی کشید کرتے ہیں۔ کالج کے زمانے میں ہمارا واسطہ جس حجام سے پڑتا رہا وہ حجامت کے دوران اور بعد میں کئی کئی دفعہ کرسی گھما کر مختلف زاویوں سے ہمیں اپنے ہی بالوں کا معائنہ کرواتا اور سر کے مختلف اطراف کے بالوں کی لمبائی میں تناسب، کٹائی میں نفاست اور جس سرعت سے اس نے یہ کام سرانجام دیا ہوتا تھا ہر چیز پر داد طلب کرتا۔ اس موقع پر اس کی آنکھوں میں ویسی ہی چمک ہوتی جیسی اپنا شعر سناتے وقت کسی شاعر کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالوں کی خوبصورتی سے بالکل لاتعلق ہمارے جیسے آدمی کو بھی حجامت کے ایک آرٹ ہونے اور اپنے اس معاملے میں بدذوق ہونے پر یقین آنے لگا۔ اپنی بدذقی کے باوجود اس کا دل رکھنے کیلئے جب کبھی ہم کوئی سوال پوچھتے تو اس کے چہرے پر ویسی ہی سرپرستانہ/  Patronizing مسکراہٹ ابھر آتی جس سے ہمارے شاعر دوست شاعری کے متعلق ہمارے کسی بچکانہ سوال پر نوازتے ہیں۔

ذوقِ جمال کو شاعری، مصوری یا اسی طرح کی چند چیزوں تک محدود سمجھنا ایک نہایت عجیب رویہ ہے۔

لہذا ہماری رائے میں چائے بنانے، ڈرائیونگ، حجامت یا کسی بھی چیز میں اگر ہمیں کوئی جمالیاتی پہلو نظر نہ آئے تو اس کی موجودگی سے انکار کرنے کی بجائے اس معاملے میں اپنی بدذوقی تسلیم کرلینا زیادہ بہتر رویہ ہے۔ یہی معاملہ کرکٹ کا بھی ہے۔ جس طرح ہر کوئی شعر سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا اسی طرح ہر کوئی کرکٹ سے بھی لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ اور جس طرح کسی شخص کا شعر سے لطف اندوز نہ ہوسکنا شاعری میں جمال کی عدم موجودگی کی بجائے اس شخص کی بدذوقی کی دلیل ہے اسی طرح کسی اچھی گیند یا اچھے شاٹ سے متاثر نہ ہوپانا بھی بدذوقی کی دلیل ہے نہ کہ کرکٹ میں جمالیاتی پہلووں کی عدم موجودگی کی۔ اور یہ کوئی ایسی بری بات نہیں کیونکہ ہم سب کسی نہ کسی معاملے میں بدذوق ہی ہوتے ہیں۔

رہا کرکٹ کے ‘بے کار و بے فائدہ’ ہونے کا سوال تو اس معنی میں تو کتابوں، مشاعروں اور تصویری نمائشوں پر پیسہ اور وقت لگانا بھی کرکٹ دیکھنے پر پیسہ و وقت لگانے جیسا ہی ‘بے فائدہ’ اور ‘تضیعِ اوقات’ ہے۔ اس پیسے اور وقت کو کسی معاشی طور پر سود مند کام میں لگایا جاسکتا ہے۔ اور ہاں بعض بزرگ شاعری کو بھی لہو و لعب تو قرار دیتے ہی ہیں!

 

 

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: