دودھ : ہماری رگوں میں جاتا زھر

0

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے “خبر” کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

انسانوں اور مویشیوں کا ساتھ بہت قدیم ہے۔ زمانہ قدیم میں انسان کی بقا انہی مویشیوں کے ساتھ ممکن تھی، یہی خوراک تھے، چاہے دودھ گھی کی صورت یا گوشت کی صورت، انکا چمڑہ ہی لباس تھا۔ یہی تجارت تھے، اور یہی اس کی سواری اور باربرداری ،زمینداری کی مشینیں۔
بیسیوں صدی کے اوائل میں کنڈینسڈ ملک اور سوکھا دودھ متعارف ہوا۔ ویسے تو پہلا سوکھے دودھ کا پیٹنٹ 1810 میں ہوا تھا۔ لیکن ایک ایسی پراڈکٹ جو مارکیٹ میں چل بھی سکے، اسکا سہرا ہنری نیسلے کو جاتا ہے، جس نے 1869 میں اپنی پراڈکٹ پیٹنٹ کرائی۔ پاکستان میں 1951 میں ٹیٹرا پیک پیٹنٹ ہوا۔
اس وقت زیادہ استعمال ٹیٹرا پیک کا ہے۔ یہ استعمال بھی ہمھاری روزمرہ زندگی کا حصہ 1980 کے بعد بتدریج بننے لگا۔ شہری زندگی انڈسٹری لیبر اور تجارت کے ساتھ جب بڑھنے لگی تو اسی کی دہائی تک گجر برادری گھر گھر دودھ دے کرجاتے تھے یا دودھ کی دکانوں سے لیا جاتا تھا۔ اسی کی دہائی کے بعد معاشرے میں جب ٹی وی عام ہونے لگا تو ٹیٹرا پیک نے بہت ایگریسیو مارکیٹ کمپین کی۔ جس کے ثمرات جلد ملنے لگے۔ اور اگلے کچھ سالوں میں اسکے برانڈ کو ہی دودھ کی پہچان ملی۔ آج البتہ بہت سی کمپنیاں مارکیٹ میں ہیں۔
دودھ کا یہ سارا کاروبار دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک دودھ کے سپلائرز یا وہ فارم جو دودھ کارخانے تک پہنچاتے ہیں۔ دوسرا وہ انڈسٹریل یونٹ جو اس دودھ کو پراسس کر کے ڈبہ بند کرتے ہیں اور ہم تک آتا ہے۔ یاد رکھیں دودھ کے سپلائرز میں گلی گلی اصل حالت میں دودھ بیچنے والے اور کسی کارخانے میں دینے والے ایک ہی سمجھے جاتے ہیں۔
ابتدا میں دودھ کے سپلائرز اُن نسلوں کو پالتے تھے، جو دودھ زیادہ دیتی ہوں۔ ساہیوال کی بھینسیں تب ہی مشہور ہوئی تھیں۔ ایک وقت آیا کہ ڈیمانڈ پوری کرنے کیلئے امپورٹڈ نسلیں شروع ہوئیں۔ آسٹریلیا اور یورپ کی نسلیں آئیں، کراس بریڈ کے تجربے ہوئے۔ اور اب وہ دور ہے، جب زیادہ دودھ کیلئے ان مویشیوں کی فیڈز بدلنی شروع ہوگئی۔ قسم قسم کے اسٹیرویڈز کے انجکشن لگانے شروع ہوگئے۔
قدرت نے دودھ بچھڑے کیلئے اسی تناسب سے رکھا ہے۔ اُس سے اضافی ہم استعمال کرتے ہیں۔ آج اول تو فارم کی گائے بھینس زبردستی کے حمل کی شکار ہیں کہ سارا کھیل دودھ کا ہے۔ دوسرا بچھڑے کو پیدا ہوتے ہی الگ کردیا جاتا ہے۔ تیسرا مویشی کی قدرتی خوراک ہائی فائبر لو غذائی اجناس جیسے گھاس وغیرہ کو نئی خوراکوں سے بدل لیاگیا ہےجو بلند غذائی اجزا اور لو فائبر ہوتی ہیں۔ پھر جینٹیک ٹولز استعمال ہوتے ہیں۔ RBGH یعنی recombinant bovine growth hormone کا استعمال عام ہے۔ اس سے دودھ دینے کی مقدار غیر قدرتی طریقے سے بڑھا لی جاتی ہے۔ ان ہارمونز کے استعمال سے دس گنا زیادہ دودھ ملتا ہے۔
اسکے بعد انڈسٹریل ٹیٹرا پیک کا قصہ ہے۔ اسکی طویل تفصیلات میں جائے بغیر یہ کافی ہے کہ پاکستان میں ابھی تک UHT طریقے سے دودھ کو محفوظ کیا جاتا ہے جو کہ باقی دنیا میں متروک ہوچکا ہے۔ اس طریقے میں 135 ڈگری ٹمپریچر پر دودھ کو پکایا جاتا ہے جو دودھ کی قدرتی ساخت بلکل بدل لیتا ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے میں تو مسائل ہی الگ ہیں۔ یہاں فارمولین، یوریا میلا مائن سوڈیم ڈائی آکسائیڈ سے لے کر ویجیٹبل آئل تک کے بھانت بھانت کے تجربے ہم پر ہوتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں رائج طریقہ HTST ہے۔ اس پیسٹرورئزیشن میں بہت کم وقت کیلئے ہائی ٹمپریچر دیا جاتا ہے۔ ہماری انڈسٹری اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی کہ UHT میں انکو نو مہینے کی شیلف لائف ملتی ہے۔ جبکہ HTST میں بمشکل دو ہفتے کی شیلف لائف ہے۔ اسکے بعد دودھ قابل استعمال نہیں ہوتا۔ آج کی شہری زندگی میں معلومات دینا آسان ہے۔ اس میں کم سے کم نقصان کی چیز لینا ہی ابھی ہمارے بس میں ہے۔ کینسر سے لے کر طوفان کی طرح پھیل جانے والے ہیپاٹائٹس سی میں ہمارے اس دودھ کا بہت کردار ہے جو ہم بچوں کو اپنی مشقت کی کمائی سے صحت کی گارنٹی سمجھ کر پلاتے ہیں۔

اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کی دوسری تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

 
 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: