سول ملٹری تعلقات کے مسائل : سلمان عابد

0

ڈان لیکس کی رپورٹ پر ایک بار پھر ملک کے سیاسی محاذ پر سول ملٹری تعلقات کی نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ سول ملٹری تعلقات پر اہل دانش کی سطح پر رائے عامہ تقسیم ہے ۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ فوج پاکستان کی سیاست پر پہلے ہی بالادست ہے اور جب فوج کو آئین میں سیاسی کردار دینے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے فوج مضبوط اور جمہوریت کا عمل کمزور ہوگا۔جبکہ دوسرا طبقہ دنیا میں بدلتی ہوئی نئی صورتحال اور سیکورٹی کے مسائل کے باعث سمجھتا ہے کہ فوج کا آئین میں کردار وضع کرکے سول ملٹری تعلقات کو مضبوط بنایاجاسکتا ہے ۔ اس کی ایک شکل یہ طبقہ نیشنل سیکورٹی کونسل کو سمجھتا ہے ۔
بنیادی طور پر یہ سمجھنا ہوگا کہ اب دنیا تیزی سے جمہوریت اور فلاحی ریاست کے مقابلے میں سیکورٹی ریاستوں کے ماڈل میں تقسیم ہورہی ہے۔ دنیا کے بیشترممالک میں داخلی اور خارجی محاذ پر تضادات جنم لے رہے ہیں ۔ یہ تضادات فطری بھی ہیں اور ان کو جان بوجھ کر دنیا میں پھیلایا بھی جارہا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا میں ایک طرف تضادات کی سیاست ابھر رہی ہے تو دوسری طرف انسانی وسائل پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے اسلحہ ، جنگوں اور سیکورٹی کے مسائل پر خرچ کیے جارہے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج کو پرانے روائتی طور طریقوں کے تحت بس سرحدوں کی حفاظت تک محدود رکھا جاسکتا ہے ، وہ غلطی پر ہے ۔
فوج کو اب اس نئی دنیا میں بدلتی ہوئی صورتحال میں ہمیں سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی بجائے ان کو ایک بڑے پیرائے یا دائرہ کار میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ آج بھی جن ملکوں میں کامیاب جمہوری ماڈل چل رہے ہیں وہاں سیکورٹی اسٹیبلیشمنٹ کو شامل کیے بغیر بڑے حساس نوعیت کے فیصلہ کرنا سیاسی و جمہوری حکومتوں کے لیے ممکن نہیں۔ پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی محاذ پر کئی سنگین نوعیت کے مسائل کا شکار ہے ۔ ایک طرف دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا تو دوسری طرف بھارت، افغانستان، ایران اور امریکہ سمیت کئی ملکوں کے ساتھ سیکورٹی کے اہم مسائل پر صورتحال پیچیدہ ہے ۔ ایسے میںاگر کوئی سمجھتا ہے کہ پاکستان میں بھی فوج کو نظرانداز کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے تو اس سے بلاوجہ فوج اور سیاسی حکومتوں کے درمیان بداعتمادی سامنے آتی ہے ۔
جن ملکوں میں فوج آئین کا حصہ ہے ، وہاں جمہوری حکومتیں بھی چل رہی ہیں ،امریکہ ، بھارت اور ترکی اس کی اہم مثالیں ہیں ، لیکن یہاں پر اس بحث کو بلاوجہ فوجی بالادستی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے ۔ اب جب کہ فوج آئین کا حصہ بھی نہیں تب بھی تو یہ ہی کہا جارہا ہے کہ سیاست میں فوج کی بالادستی ہے ۔ اس لیے ہمیں نئی صورتحال میں پرانی روایتی بحثوں میں پڑے کی بجائے دنیا کے نئے حقایق کو قبول کرنے سول ملٹری تعلقات کی بحث کو سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے ۔ مسئلہ سیاسی اورفوجی قیادت میں مقابلہ بازی ، الزام تراشی یا ایک دوسرے پر سبقت لے جانے یا اپنے آپ کو زیادہ محب وطن بنا کر پیش کرنا ہے ۔
سیاسی اور عسکری دونوں طرف جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور سیکورٹی سے نمٹنے کے مسائل پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھ کر آگے بڑھنا ہے۔ یہ سمجھنا کہ جو لوگ نیشنل سیکورٹی کونسل کے حامی ہیں یا آئین میں فوج کے کردار کی بات کرتے ہیں ان کو جمہوریت دشمن سمجھنا اور فوج یا آمریت کا حامی سمجھنا بھی مناسب نہیں ۔ اس مسئلہ پر کوئی تضاد نہیں کہ ہمارا مستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے ۔ اصل مسئلہ جمہوری نظام کو کامیابی سے چلانے کی حکمت عملی کا ہے ۔ اس حکمت عملی کے تحت ہمیں آج کی ضرورتوں کے تحت اپنے معاملات میںکچھ نیا پن کرنے کر کے آگے بڑھنے کا ہے ۔
آج کی دنیا کی سیاست تصوراتی بنیادوں پر آگے نہیں بڑھ سکتی ، جو تلخ حقایق اس وقت دنیا میں اور ہمارے یہاں موجود ہیں اس کا ادراک ہمارے سب فریقین کو کرنا چاہیے ۔جمہوریت کا بنیادی نقطہ ہی سب کی مشاورت سے آگے بڑھنا ہوتا ہے اور اس میں سب فریقین کو نظر انداز کرنا بھی جمہوری عمل نہیں ۔ یقینی طور پر فیصلہ کا اختیار ملک کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم کو ہی ہوتا ہے ۔لیکن اس کے لیے وہ بھی بڑا فیصلہ اور بالخصوص سیکورٹی کے معاملات سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی اداروں سے مشاورت کو یقینی بناتاہے ۔
یاد رکھیں سول ملٹری تعلقات کی بہتری ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد سازی کے رشتے، تعاون اور ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھنے سے جڑی ہوئی ہے ۔جس انداز سے اس وقت ہم سول ملٹری تعلقات کو چلارہے ہیں وہ نہ پہلے مسائل کو حل کرسکا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس مسئلہ کے حل میںمعاون ثابت ہوگا ۔لیکن لگتا یہ ہے کہ اس اہم اور سنجیدہ مسئلہ پر یہاں متبادل بحثوں کی گنجائش کم اور الزام تراشیوں اور ایک دوسرے کی وفاداریوں پر شک کرکے لعن طعن کرنا اہم ہوگیا ہے ۔ ہمیں اس طرز کے بحران سے بچنا ہے اور دوسروں کو بھی بچانا ہے ، کیونکہ جب تک ہم سیاسی معاملات میں متبادل نقطہ نظر کو اہمیت نہیں دیں گے یا ان کو پیش کرنے یا بحث کرنے کا حق ہی نہیں دیں گے ، اہم اور حساس نوعیت کے مسائل یوں ہی ریاست میں تماشہ بنتے رہیں گے ۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: