قصہ مرزا کی شادی کا: اسد رضا

1

 “ابے چل مرزا کی شادی میں چلتے ہیں” باوا بغلول  کسی شیطانی وسوسے کے زیر اثر مسکراتے ہوئے بولا۔ مرزا کی شادی کا سنتے ہی میری انکھیں بھر آئیں گویا ایک زندہ جیتی جاگتی سانس لیستی لڑکی نے مرزا سے شادی کا فیصلہ کر ہی لیا۔ سب سے پہلے ہم نے چندہ کر کے بس کا کرایہ مکمل کیا۔ پھر باہمی رضامندی سے یہ طے کیا کہ مرزا کو سلامی کے طور پر وہی مسکراہٹ پیش کی جائے گی جو وہ عموماً ہوٹل میں کھانے کے بل کو دیکھ کر پیش کرتا ہے۔ ہم نے اپنے اپنے بیگ اٹھائے اور مرزا کے گھر کی طرف چل پڑے

چکوال پہنچ کر مرزا کو فون کیا تو وہ فون نہیں اٹھا رہا۔ باوے کے تجزیے کے مطابق چونکہ کل مرزا کی شادی ہے لہذا مرزا کے ہاتھ پاوں جواب دے چکے ہیں۔ کافی مرتبہ کوشش کے بعد فون اٹھایا

“ابے او —— کی اولاد” باوے نے مرزا صاحب کے والد کو ایک نہایت ناپاک جانور سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا۔ مر بتا  آگے کیسے آئیں۔ بولا بھائی گھر کے تمام موٹر سائکل اس وقت مصروف ہیں لہذا فالودے کی دوکان کے سامنے چک بالکل الف کا رکشہ ملے گا وہ پکڑو اور آ جاو۔

خیر مرزا کےرشتہ داروں کو یاد کرتے ہوئے ہم رکشہ پر بیٹھے چک بالکل الف پہنچ گئے۔ پورے گاوں میں ایک عجیب سی ماورائی خوشی تھی گویا گاوں مرزا کی شادی کو نیک شگون سمجھتا ہے۔ کچھ آوارہ اور بگڑے ہوئے نامعقول کتوں نے ہمارا پیچھا کیا لیکن ہمیں ہم پلا نہ پا کر بغیر بھونکے واپسی کی راہ نہیں۔اگر میری آنکھ نے دھوکا نہیں کھایا تو میں نے خود دیکھا کہ جو دم کٹا کتا اس گروہ کی سربراہی پر معمول تھا اس نے اپنے کان کو ہلاتے ہوئے زبان باہر نکال کر ایک رکیک سا اشارہ کیا اور اطمنیان سے چل دیا۔ باوا بغلول فورا بولا  دیکھو میاں اسے اطمنیان کلب کہتے ہیں۔ ہم نے فوراً ایک بزرگ کتے کے بارے میں غیر ثقہ لطیفہ سنا کر اپنا احساس کمتری دور کیا۔ جیسے ہی گاوں پہنچے بچوں کا ایک گروہ ہماری ٹانگوں اور دوسرے اعضاء سے لپٹ گیا اور کہا کہ بھئی آپ مرزا کے دوست ہیں تو اس رشتہ سے ہمارے چاچے ہوئے لہذا گدھا گاڑی والے سے  بتاشے اور سائیکل والے کون آئسکریم لے کر دینا ہمارا اخلاقی اور شرعی حق ہے۔

مرزا کے گھر کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا جس میں سے آدھے جل نہیں رہے تھے توقع کے عین مطابق الیکٹریشن فون نہیں اٹھا رہا تھا مرزا کے ابا غیض و غضب سے جھٹکے کھا رہے تھے۔ مرزا کے شہری دوست ہونے کے ناطے مرزا کے پڑوسی کے گھر ہمارے رہنے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اور پیٹی سے نئی نکور شنیل کی رضائی نکال کر ہمارے حوالے کی گئیں جن میں سے فنیائل کی گولیوں کی بو آ رہی تھی جو جلد ہی ہماری جرابوں کی بو سے رچ بس کر ایک عرفانی خوشبو دینے لگی۔ آج مرزا کی مہندی تھی۔ مہندی دراصل ایک رسم ہوتی ہے جو دولہے اور قربانی کے بکرے کے ساتھ شب معرکہ سے ایک رات قبل ادا کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے شیدے نائی نے مرزا کو غسل دیا۔ باوا بغلول کے مطابق یہ غسل، غسل میت سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس میں سبجیکٹ کو ہاتھ پاوں ہلانے کی اجازت ہوتی ہے۔ گاوں میں موجود واحد عید گاہ، قربان گاہ اور بچوں کے گراونڈ کو اس رسم کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ مرزا کو نہلا دھلا کر تیار کرنے کا مرحلہ آیا تو مہندی کے جوڑے کی شلوار کا ناڑہ گم ہوگیا۔ کئی دل جلوں نے اپنے ناڑے بطور ادھار دینے کی پیشکش کی جسے مرزا نے ایک شان بے نیازی سے ٹھکرا دیا۔ خدا خدا کر کے ناڑا ملا تو اسے ڈالنے کی سلائی گم تھی۔ مرزا کے ابا کی طرف سے مجھے اور باوا بغلول کو پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بال پین ہمراہ نہ رکھنے پر طعنہ دیا گیا جس پر باوا بغلول اپنے لہجے میں دکھ اور بلغم کی آمزش کرتے ہوئے بولا قسم ہے شیطان بزرگ کی کہ اگر ہمیں زرا بھر بھی اندازہ ہوتا کہ مرزا کی شادی میں ایک انتہائی پیچیدہ اور حل طلب مسئلہ محض ہماری غفلت کے سبب ادھورا رہ جائے گا تو وہ کم ازکم ایک درجن ناڑے اور دو درجن بال پین ہمراہ رکھتے۔ ہم نے کہنی مارتے ہوئے مرزا کی توجہ ناڑے اور بال پین کی مذکورہ تعداد میں تفاوت پر کروانی چاہی جسے باوانے یک جنبش درمیانی انگشت مسترد کر دیا۔ بہرحال مرزا کے پرانے ٹوتھ برش کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا گیا اس عمل کے دوران باوا مسلسل مجھے آنکھ کے اشارے سے کوئی بیہودہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا رہا۔  تیاری کے مرحلے مکمل ہونے کے بعد مرزا کو ایک پیلا دوپٹہ کروا کر میدان جنگ کی طرف دھکیلا گیا۔ ایک تو مووی والا لیٹ تھا اور دوسرا  ہر دفعہ کوئی نہ بچہ مرزا کی میں آ جاتا تھا سو مرزا کی رخصت کئی دفعہ عمل میں لائی گئی۔ گاوں بھر میں تلاش کے بعد کہیں سے ایک صوفہ دریافت کر لیا گیا جو کہ گاوں کے واحد فوجی کے گھر سے اس شرط پر ملا کہ اگر اس پر مہندی یا دیگر مصنوعات شادیہ کا ایک بھی چھینٹہ نظر آیا تو مرزا کا ولیمہ ان کے ابا کے سوئم کے ساتھ ملا کر ادا کیا جائے گا۔  اس صوفہ پر مرزا کو غیر ضروری ہدایات دے کر بٹھایا گیا اور مرزا ایک ہاتھ کو میری بغل سے نکال کر سامنے پھیلایا گیا جس پر پہلے تبرکاً نائی نے تھوڑی سی مہندی لگائی پھر گاوں کہ مرد و زن باری باری مہندی لگانے لگے مووی میں اپنے چہرے کی درست اور واضح انداز میں نمائندگی کے لئے کئی افراد کو یہ فریضہ متعدد بار سر انجام دینا پڑا۔ اس عمل کے درمیان کچھ دور کے قریبی رشتے دار فرط جذبات میں آ کر مرزا کامنہ وغیرہ بھی چوم لیتے تھے مرزا اس لعاب اقربا کو خارش کے بہانے میرے کندھے پر رگڑ دیتے مہندی لگانے کے بعد ہر فرد مہندی زدہ ہاتھ سے تھوڑی سی مٹھائی مرزا کے منہ میں ڈالتا باقی ماندا اپنے معدے کی نذر کرتا۔ رات مرزے کا ایک کزن کہیں سے تین قسم کی شراب لے آیا۔ کچی شراب، کافی کچی شراب اور بالکل کچی شراب۔ میں نے باوا کو بہت روکا اس کے اجداد کی پارسائی کے واسطے دئے مگر باوا کا کہنا تھا کہ اول تو کچی شراب وہ نعمت ہے جو جنت میں بھی میسر نہیں ہو گی لہذا وہ جیتے جی ایسا کفران نعمت نہیں کر سکتا ساتھ میں اس نے یہ بھی جتا دیا کہ بھئی ہمارے ابا کو تم ہم سے بہتر جانتے ہو کیا ؟مجھے اس کے اس نقطہ نظر سے متفق ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ شراب کے نشے میں غلطاں ہونے کے بعد مرزا کے کچھ شادی شدہ اور اکثر کنوارے کزنوں نے شب زفاف کی وحشت اور ہولناکی کا نقشہ کھینچنا شروع کیا۔ جب دعوت خطاب باوا بغلول کو دی گئی پھر تو الامین و الحفیظ ( میں نے باوا کو پھر سے روکنا چاہا۔باوا اس بار کچھ بولا تو نہیں بس درخواست مسترد کرنے کا ایک آفاقی اشارہ کر دیا)۔ اس محفل میں سب سے دلچسپ کردار مرزا کے ایک چچا تھے۔ جو ہر تھوڑی دیر بعد اپنے کولہے کو ایک مخصوص زوایے پر گھماتے اور مرزا کی عملی تائید کرتے۔ اگرچہ اس عمل کے دوران عموماً ان کی دھوتی کچھ اس رُخ پر پھڑپھڑاتی کے بقول مختار مسعود “اردو شاعری میں چلمن کا مقام واضح ہو جاتا”

باوا کا منٹویانہ بیان جاری تھا اور مرزا وجدان کے عالم میں جھومے جا رہے تھے۔ مرزا کے بال تک کھڑے ہو چکے تھے۔ دیواروں پر چسپاں مرزا کے اجداد کی تصویریں باوا کی تقریر کا لطف لینے بہشت سے ہڑبڑاتی ہوئی آ پہنچی تھیں۔ نیچے سالن کے ڈونگہ میں موجود مرغی کی اکلوتی ران فرط شرم سے شوربے کی دبیز تہہ میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی اور میں اس ڈونگہ کو مرزا کی باچھوں سے رالوں اور نالوں کی صورت بہتے طوفان منہ سے بچانے کی سعی میں تھا۔ باوا کی عشرت بیانی دوبدو مبارزے سے برھتی ہوئی گتھم جتھہ ہو چکی تھی۔کونے میں دبکے مرزا کے چاچا کافی دیر سے پنجوں کے بل اٹھنے کی سعی کر رہے تھے بلااخر چچا سے رہا نہ گیا اور وہ کئی جھٹکوں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چچا کی لرزیدہ دلیری قابل آزمائش تھی۔ حریصانہ سے لہجے میں کہنے لگے“میں ذرا زنان خانے سے ہو کر آتا ہوں”چچا کا جانا کچھ ایسا تھا جیسے بل فائٹنگ میں بل جاتا ہے (بلکہ آنا بھی اس کے آنے جیسا تھا) ابھی ایک ثانیہ ہی گزرا تھا کہ چچا یوں واپس لوٹے جیسے رقیبوں کہ دل پر سانپ لوٹتا ہے۔ ابھی باوا نے پینترا اور میں نے پہلو بھی نہ بدلا تھا کہ چچا ہانپتے، کانپتے، ڈھانپتے ہوئے کمرے میں آموجود ہوئے۔ میں نے تحقیق بھرے لہجے میں ان سے دریافت کیا۔

’’آپ بہت ضعیف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا”چچا اپناکف جوش باوا کے پلو سے پونچھتے ہوئے فرمانے لگے

شک تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘۔یہاں راویوں میں بالکل اختلاف نہیں کہ حاضرین پر رقت طاری ہو گی۔ حاضرین اپنی اپنی لاٹھیوں اور دیگر سامان مضروبہ کو سنبھالتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی طرف جانے لگے۔

ہنگامہ چھٹنے لگا اور یوں مرزا کی شادی کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: