حالتِ استثنا اور قربانی کا بکرا: اسد الرحمان

0
 
۲۰۰۸ سے پاکستان میں جمہوری طرزِ حکومت اور ریاستی استثنا دونوں ایک ساتھ چل رہے ہیں استثنا کی حالت کی تعریف یہ ہے کہ ایسی حالت جس میں مروجہ سیاسی اور آئینی قانونی اور سیاسی ڈھانچے سے الگ یا متوازی کوئی نیا ڈھانچہ ایک متفقہ سیاسی فیصلے کی صورت میں کھڑا کر دیا جائے ۔کارل شمت نے ہٹلر کے ۱۹۳۳ میں آئین کے باضابطہ طور پہ معطل کرنے کے اقدام کو اسی قانون کے تحت جائز قرار دیا تھا۔ اس قانونی تھیوری کی رو سے “مستند سیاست [سیاسی ایکٹویٹی] کا اندازہ صرف اس وقت ہی لگ سکتا ہے جب کرائسز میں تمام سیاسی  رہنما کوئی بھی ایک سیاسی فیصلہ کرتے ہیں۔ مثلا پاکستان کے کیس میں دو بار فوجی عدالتوں کا قیام اور سپریم کورٹ کا اس کو اجازت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان قانوناََ استثنا کی حالت میں ہی چل رہا ہے۔اگر پاکستان کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو ہمیں بارہا مختلف شکلوں میں اس اصول کا استعمال نظر آتا ہے۔ اس طرز حکمرانی کے بار بار ابھرنے کی وجہ جاننے کیلئے کوشش کریں تو بے شمار آرا ملتی ہیں جن مین سے زیادہ تر فوج کی بڑھی ہوئی طاقت کو اسکی وجہ قرار دیتی ہیں۔ تاہم اگر ہم اس حالت کے سیاسی استعمال کو سماجی اور نفسیاتی فریم میں رکھ کے سمجھنے کی کوشش کریں تو فرانسیسی فلسفی رینے گیراڈ کا scapegoat mechanism اس حالتِ استثنا کی درازی کا ایک بہتر تجزیہ فراہم کرتا ہے۔ رینے کے بقول ریاستیں اور معاشرے اپنے اندرموجود اختلاف اور تشدد کو کم یا ختم کرنے کیلئے قربانی کا ایک بکرا ڈھونڈتی ہیں جو کہ کوئی بھی فرد، گروہ یا کمیونٹی بھی ہو سکتی ہے۔
پا کستان میں نظریہ ضرورت کے سیاسی اور عدالتی اطلاق کے بعد قربانی کیلئے سیاست دانوں کو چنا گیا [اس سے بھی پہلے 1951 میں کمیونسٹ تحریک پہ بھی اس اصول کا استعمال کیا جا چکا تھا] 1971 میں بنگالی اس کا شکار بنے،تاہم اس کے بعد موجودہ پاکستان میں اس میکانزم کے استعمال کا دائرہ اپنے اثر اور قاعدے دونوں میں تبدیل ہو کے مذہب کو ایک قومی وحدت کی تشکیل پہ مجتمع ہوا اوراس رو سے تمام قوم پرست، مزہبی اقلیتیں اور پھر خواتین کو بھی بذور طاقت قومی وحدت کی قربان گاہ میں دھیکیلا گیا ۔ اس سٹریجی میں پہلا رخنہ اس وقت پیدا ہوا جب مشرف کے سٹریجک یو ٹرن کے بعد اسلامسٹ بھی اس کے دائرے میں آ گئے ۔ اب کچھ اسلام پسندوں کو بھی را اور موساد اور کافر طاقتوں کا آلہ کار قرار دیا جانے لگا۔ اس ریاستی پریکٹس [فوکو کے نظام کے تحت] نے سماج میں موجود ورکنگ سیرئیلیٹز[ سارتر کے مطابق ایسے گروہ جو کہ منظم ہوتا ہے] نے بھی سماج میں مزہبی قوانین کی مدد سے قربانی کے بکروں کی تلاش کو بڑھاوا دیا۔ کسی پہ بھی گستاخی کا الزام لگا کے اس کو دیگر ثابت کرنے کا ریاستی عمل ان منظم گرہوں نے اپنی سیاست کو سماج میں اتارنے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ریاست نے نازی اور فاشسٹ اطالوی ریاست کے طرز پہ ان گرہوں کو ریاستی قوانین کے تحت سزا دینے سے جان بوجھ کے گریز کرنے کی روش اختیار کی جبکہ دوسری طرف ایسے تمام ایونیوز جہاں سے غیر مذہبی سیاست کی گنجائش موجود تھی کو ایک ایک کر کے ختم کیا گیا۔
مشرف دور میں اسٹیبلشمنٹ کا یو ٹرن سٹریٹجک سطح پہ ریاست اور ان گروہوں کے مابین ایک لاحل مسئلہ بننا شروع ہو گیا۔ ان گرہوں نے سب سے پہلے تو ریاست کی عملی طاقت کو چیلنج کرنا شروع کیا اور ریاست کے اداروں کو یا ریاستی افراد کو نشانہ بنانے کا آغاز ہوا تاہم ریاست کی آرگنائزڈ طاقت کے سامنے جب ایسا کرنا زیادہ مشکل ہوتا چلا گیا تو پھر سوفٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کا آغاز ہوا۔ یہیں سے ریاست کی اصل مشکل کا آغاز ہوتا ہے۔ اب پچھلے 40 سال سے جاری میکانزم کا بنیادی تنظیمی اصول یعنی مذہب جو کہ دشمن کی شناخت طے کرنے اور اس بنیاد پہ ریاست کی اکتائی اور جائز ہونے کی دلیل تھا بذاتِ خود ایک مسئلہ بن گیا۔ اب اگر اس اصول کو چھوڑا جائے تو سارے معاشی و سیاسی ڈھانچہ اور اس سے مستفید ہونے والے طبقوں کے خلاف ایک عوامی بغاوت کا کھڑا ہونا بعد از قیاس نہیں۔ اور اگر اس اصول کو نہ چھوڑا جائے تو منظم گروہ عوامی دائرے [ جیسے مشعال کا قتل جو میرے نذدیک منظم کاروائی تھی] میں نقص امن پیدا کرتے ہی اور ریاستی دائرے [ ریاست رٹ کو چیلینج] میں ریاست کے حق حکمرانی کو ہی چیلنج کرتے ہیں۔ یعنی آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ کے مایہ ناز نظریہ دان پھنس چکے ہیں ۔ کبھی ان کو عالمی سطح پہ مشال کے قتل جیسے واقعات پہ شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اور وہ قانون کسی کو ہاتھ میں نہیں لینے دیں کا اعلان کرتے ہیں لیکن چند ہی دن بعد پھر اعلانیہ ایک دہشت گرد کو ہیرو کر روپ میں پیش بھی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔اس غیر یقینی صورتحال میں بھی فوجی عدالتیں قائم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پہ بلاگرز کو نہ صرف اٹھایا گیا بلکہ بالواسطہ طور پہ ان کو گستاخ بھی قراد دلویا گیا جس کی کوئی منطق سوائے دیدہ دلیری اور ریاستی طاقت کا لوہا منوانے کے سمجھ نہیں آتی۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک گہرے نظریاتی بحران کی طرف اشارہ ہے کیوں تشدد کے بڑھنے کا مطلب ہوتا ہے بقول مارکس ” کہ اب پرانے طریقوں سے نظام میں چلنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے”
سب سے اہم نظریاتی مسئلہ جو پاکستانی ریاست کو سماج کا نظم برقرار رکھنے میں درپیش آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ اصولی طور پہ ریاست اور اس سے جڑے حکمران طبقات مذہبی قومیت کے نظریے سے دستبردار ہونے کے خطرات کو بھانپتے ہوئے مذہب کی ریاست اور قوم کی تعمیر میں مرکزی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن اب جب کہ تمام طرح کے غیر مذہبی سیاسی چیلنجز کو زیر کیا جا چکا ہے تو مقابلے میں رہنے والے گروہ بھی اسی مذہبی ڈسکورس کو استعمال کرتے ہوئے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس نئے چیلنج سے نپٹنے کیلئے جو پالیسی مقتدر اداروں نے تشکیل دی ہے اس میں اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح بہت fuzzy ہے۔ بالکل ایک اچھے اور برے مسلمان کی طرح کیونکہ دونوں کیسز میں فیصلہ جو بھی منصف کرے گا دوسرا فریق مکمل دلائل کے ساتھ اس کو رد کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اسی نظریاتی چھتری تلے ہر طرح کے ذاتی، گروہی اور نظریاتی اختلافات کو سماج میں مذہب کی غیر متعین تعریف کے ذریعے نہ صرف حل کیس جا رہا ہے بلکہ منظم مذہبی گروہ ہٹ دھرمی سے ایسے کسی غلط استعمال کو روکنے کیلئے کی جانے والی قانون سازی کی کوشش کے بھی خلاف ہیں اور یہ گروہ اور جماعتیں بھی اپنی دلیل اسی نظریے سے لاتی ہیں جو کہ پہلے ہی problematize ہو چکی ہے۔
اس پیچیدہ سیاسی و سماجی صورتحال میں ریاست اور حکومت دونوں ایک طرح کے پالیسی شیزوفرینا کا شکار نظر آتے ہیں ۔ کسی بھی نظریے کے اندرونی ربط کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس میں دوست اور دشمن کی تمیز بالکل واضح ہو جیسا کہ پاکستانی تاریخ میں ریاستی نکتہ نظر سے سے لبرل، کیمونسٹ یا قوم پرست نظریات اور گروہوں کو مخالف قراد دے کے ایک قومی اتفاق تعمیر کرنے کی سعی کی گئی لیکن آج معاملہ اتنا سادا نہیں ہے کیونکہ مخالفین نظریاتی طور پہ ایک ہی کیمپ سے ہیں۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ اب قربانی کا بکرا کہاں ڈھونڈا جائے جو اختلاف اور اس سے پیدا ہونے والے تشدد کا کوئی مداوا کرے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: