نائلہ جعفری آپ کی عظمت کو ہزار سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ فارینہ الماس

0

بھارتی ارب پتی ہندو تاجر سجن جندال کی پاکستان آمد پر سوائے حکومتی پارٹی کے اراکین کے دیگر ہر پاکستانی کی زبان پر اک سوال کسمساتا رہا، اور آنکھوں میں حیرت کے سائے منڈلاتے رہے۔کیونکہ شاید آج سے کچھ عرصہ پہلے جب میڈیا ہر خبر پر عوام کو باخبر نہ کرتا تھا جب میڈیا صرف سرکار کا اور سرکاری موقف کی وضاحت کا پیش کار ہوا کرتا تھا۔عوام نہیں جانتے تھے کہ سرکار کا سرکار بنانا کوئی ایسا سہل کارنامہ بھی نہیں ہزار پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں،کئی ناجائز افعال کو جائز کہنا اور بتانا پڑتا ہے۔ کئی دشمنوں کو زیر کرنے کو طاقت کی دھاک بٹھانا پڑتی ہے۔اور کئی طرح کے دشمنوں سے یارانہ لگانا پڑتا ہے۔پہلے تو شاید کوئی جانتا بھی نہ تھا کہ آخر سجن جندال ہے کون؟ اور کیا اس کا پاکستان آنا جانا رہتا ہے ؟ یہاں تو انڈین اداکاراؤں کو خزانے سے بھاری معاوضہ ادا کر کے محض اپنی عیاشیوں کے واسطے بھی چپ چاپ بلایا جاتا اور کسی کو کانوں کانوں خبر بھی ہونے نہ دی جاتی ہے۔لیکن یہ معاملہ محض عیاشی کا سامان کرنے کا نہیں۔یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے۔
ارب پتی ہندو تاجر نہ صرف ایک امیر ترین آدمی ہے بلکہ یہ انڈین اسٹیبلشمنٹ کا ایک خاص مہرہ بھی ہے۔ جس کی پشت پناہی خود انڈین ایجنسی ” را” کے ذمے ہے۔ جس نے 2012ءمیں افغانستان میں فولاد کا ایک بڑا ٹھیکہ اس تاجر کے نام لکھوایا۔ تاکہ را کو اس شخص کی آڑ میں افغانستان میں قدم جمانے کا موقع میسر آ سکے۔ یہ وہ شخص ہے جو نا صرف ایجنسیوں بلکہ خود بھارتی وزیر اعظم کے بھی قریب ترین ہے اور اسی کے زریعے حکومت ہندوستان پاکستانی وزیر اعظم کو اپنے رابطے میں رکھتی ہے۔ یہ شخص حامد کرزئی کے بھی خاص دوست کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ افغانستان کے صوبے بامیان میں موجود دنیا کی دوسری بڑی فولاد کی کان کا مالک ہے۔ بھارت کی سٹیل مل کا بھی یہ واحد حصے دار ہے۔ معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے اپنی حالیہ کتاب میں اس کے نواز شریف کے تعلقات اور مودی و نواز شریف کے باہمی تعلقا ت میں اس کے کردار پر بھی قلم اٹھایا۔ بھارت کی معروف صحافی جیوتی ملہوترا نے بھی انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی جو فضا قائم ہے سجن جندال کا بیک ڈور سفارتی تعلق میں کوئی کردار ہو سکتا ہے۔مریم نواز کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ سجن جندال سے ان کے والد کی بہت پرانی دوستی ہے اور ان کی ان کے والد سے ملاقات کوئی خفیہ نہ تھی۔ جب کہ حسین نواز نے دو ہزار سولہ میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے والد کی سجن جندال سے کوئی دوستی نہیں۔ اب ان کے بیانات میں تضادات کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آسکی۔ جب کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک وکیل سلیم چوہد ری نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھارتی تاجر جندال کو سرکاری مہمان بنا کر مری لے جانے کے خلاف خط لکھا ہے۔ چہ مگوئیاں تو کچھ یہ بھی ہیں کہ شاید سجن کی ایسے کٹھن وقت میں پاکستان آمد کا مقصد وزیر اعظم پاکستان کو اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کی شرط پر ان کے ممکنہ استعفیٰ کے خلاف ہر ممکن مدد کی فراہمی کا عندیہ دینا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک رائے ایسی بھی ابھری ہے کہ شاید بھارتی جاسوس کلبھوشن کو بچانے کے لئے یہ ایک بھارتی پیغام تھا جو بصورت خط کے وزیر اعظم کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا۔جب کہ دوسری طرف احسان اللٰہ احسان کا یہ اعتراف کہ طالبان کی افغانستان میں موجود قیادت بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کے لئے کام کر رہی ہے کلبھوشن کی سزا میں کسی قسم کی رعایت کو ناممکن بنا رہی ہے۔
یہاں ایک نقطہءنظر یہ بھی پایا جا رہا ہے کہ اگر بھارتی تاجر دوستی یا امن کی خاطر کوئی پیغام لے کر آیا ہے تو اس موقع کو گنوانا نہیں چاہئیے۔ دوستی کی فضا کے قیام کا خواب، مودی کے بھارتی مسلمانوں اور خصوصاً کشمیری مسلمانوں پر روا رکھے گئے ظلم و ستم کے ماحول میں تو دیوانے کا خواب ہی ثابت ہو سکتا ہے۔اور مودی کی طرف سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات اور ہرزہ سرائی کے ماحول میںکسی قسم کے امن کا متمنی ہونا ہی ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اب اس بھارتی وفد کے مقاصد کیا تھے اور وہ کس سازش کے تانے بانے بننے کا ارادہ لئے آیا اس کا تو تاحال پتہ نہ لگایا جا سکا ہے لیکن اس کی بے خوف آمد اور پر تکلف مہمان نوازی نے کم از کم عوام کو یہ پیغام ضرور دے دیا کہ اعلیٰ سطح کے حکومتی فیصلہ سازوں کی نظر میں عوام کے جذبات اور خیالات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ عوام تو حسب سابق، حسب عادت اس نا انصافی پر بھی خاموش ہیں۔ وہ ناانصافی جو ایک ایسے ملک کے سیاسی تاجر کو دے کر قائم کی گئی جو ملک سرکاری سطح پر ہمارے دانشوروں، فنکاروں اور گلوکاروں کو بے عزت کر کے ملک سے باہر دھکیل چکا ہے۔اور ہم نے اس بے عزتی پر احتجاج بھی نہ کیا۔ لیکن ہماری ایک بہت پیاری، اور فن کی دولت سے مالا مال فنکارہ نے وہ کر دکھایا جو نا صرف حکومت بلکہ اس ملک کے سبھی ” خاموش” تما شائیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنی صحت یابی کے دنوں میں بھی کسی طرف سے آتی لکشمی کو دھتکارنا پسند نہیں کرتے۔لیکن ایک ایسی باہمت عورت جو بستر مرگ پر پڑی کینسر جیسے مہلک مرض سے مسلسل لڑ رہی ہے۔لیکن اس کے لئے اس کی جان سے بھی ذیادہ مقدم کچھ اور ہی ہے۔اور وہ ہے اس کی اپنی انا،خودداری اور اس قوم کی عزت اور حمیت۔وہ اس دور میں ملک و قوم کی عزت و ناموس کی بات کر رہی ہے جس دور میں مطلب پرستی اور شخصی مادی ترقی کے اوصاف انسان کے خمیر میں بہت گہرائی تک پنپ چکے ہیں۔ ایسی جی دار اور باہمت خاتون کی خاطر میں اور کم ازکم اس کی اعلیٰ ظرفی اور خودداری کے اعزاز میں ایک مجموعی سلیوٹ اس کا حق بنتا ہے۔ وہ کہتیں ہیں،اور ببانگ دہل کہتی ہیں ” میں ایسے لوگوں اور ایسی حکومت سے کوئی امداد نہیں لوں گی جو دشمن ملک کے وفد سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں جو ہمارے ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں” وہ کہتی ہیں کہ میں ایسی امداد لے کر اپنی قوم کے جذبات کا مزاق نہیں اڑا سکتی۔خیالات کی بلند پروازی شاید اسی کو کہتے ہیں لیکن ان خیالات کی اپنے مشکل ترین وقت میں بھی برقراری و بحالی شاید ایک بہت ہی دقت طلب امر ہے۔ لیکن ہمیں فخر محسوس ہونا چاہئے کہ کرگسوں کے اس جنگل میں ابھی شاہین بھی موجود ہیں۔ جو اپنے تن کی طلب اور ضرورت کے سفر میں کہیں بھی اپنے قدم ڈگمگانے نہیں دیتے کبھی بھی اپنا مطمع نظر چوکنے نہیں دیتے۔ وہ کرگس کی طرح طمع اور لوبھ کی جھپٹ میں اپنی بھوک یا ضرورت کو نظریہء ضرورت میں لپیٹنے کی بجائے اپنی آن، اپنی شان، اپنی بلند خیالی میں لگائے گئے سوچ کے غوطوں میں تلاش کر لیتے ہیں، اور یہی آن، بان ان کا طرہ امتیاز ہے۔ جس کی طلب میں وہ ایک ایسے مقام کو جا لیتے ہیں کہ ان کا جسم سبھی ضرورتوں اور بھوک کی ان مٹ کلفتوں سے عاری ہو کر اپنی روح کی تا بندگی کو جا لیتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے ہم جو اساتذہ، طبی مسیحاؤں، عالموں، ذاکروں، سیاستدانوں، منصفوں، مصنفوں، جرنیلوں اور ہر شعبے، ہر طبقے، ہر گروہ، ہر ہجوم کے اندر چھپے بیٹھے کرگسوں کے جتھے کے جتھے بنائے ہوئے ہیں، ہم جو ابھی صحت اور زندگی کی منڈیروں پر بیٹھے خوشی کے بے ہنگم اور بے سر تال کی کائیں کائیں لگائے ہوئے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ زندگی کو اپنے سامنے قدم بہ قدم موت کی جانب بڑھتے دیکھنے والی، وہ عورت کیسی عظیم ہو گی۔ جس کے بدن میں دم توڑتی سانسیں بھی اس کا سر جھکا نہ پائیں۔ اس کی نیم غنودگی میں جاتی آنکھیں ابھی بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے کاسہء زندگی میں کسی دھتکارے، بھنبھوڑے اور چھوڑے مردار کی بھیک ڈالنے کو راضی نہ ہوئیں۔ وہ ایسی حکومت وقت کے خلاف آواز بغاوت بلند کر رہی ہیں کہ جس نے اپنی لوٹ مار، بد عہدی، اور بد افعالی کو چھپانے کے لئے منصفوں کی آواز بھی دبا دی ہے۔ کیا خوب ٹھوکر ماری ہے ایسے زمینی خداؤں کے تاج کو۔۔۔۔ کہ شاید اک گونگی قوم کو بھی آواز ملنے کی امید ہو جائے۔۔۔۔

 

( ہم نائلہ جعفری کی صحت یا بی کے لئے دعاگو ہیں.اور عمران خان صاحب سے بھی التماس ہے کہ اسے ایک سیاسی چال بنائے بغیر محض انسانیت کے نا طے , اگر ممکن ہے تو نائلہ کو اپنے کینسر ہسپتال میں منتقل کر کے ان کا تمام تر علاج بلا معاوضہ کریں . تاکہ ان کی قیمتی جان کو بچایا جا سکے.)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: