تاریخ کاچشم دید گواہ: مختارمسعود ۔۔۔۔۔۔۔ خرم سہیل

0

اردو شعر و ادب میں، ایسے اہل قلم کی کثیر تعداد ہے، جن کا پیشہ بینکاری، فوج اوربیوروکریسی تھا، مگران کا چرچا قلم کارکے طورپرہوا۔ اس رخ سے دیکھناشروع کریں تو قدرت اللہ شہاب، ن م راشد، مصطفی زیدی، کرنل محمدخان، شفیق الرحمن، صدیق سالک، سید ضمیر جعفری، مشتاق احمد یوسفی، مختارمسعود اورکئی نادر شخصیات دکھائی دیتی ہیں، جنہوں نے دلکش نثراورشاعری سے قارئین کا دل موہ لیا اور شعر و ادب میں اپنا نام کمانے میں بھی سرخروہوئے۔
رواں برس 15اپریل کو ’’مختارمسعود‘‘ بھی رخصت ہوئے۔وہ ایک کامیاب بیوروکریٹ اورمقبول نثر نگارتھے۔ اس نابغۂ روزگارہستی نے، تقریباً 9 دہائیوں میں اپنی زندگی کے سفر کویوں قلم بند کیاکہ یادوں کاقطاردرقطارتحریری سلسلہ تخلیق کردیا۔ایک منظر کے ساتھ دوسرے منظر کا بیان، اس طرح پیوست کرکے لکھا، تاریخی شخصیات اورمقامات کو اس طرح بیان کیاکہ صرف اپنی ثقافت کا مظہر ہی نہیں بنے، بلکہ عالمی تاریخ اورحوالہ جات بھی لکھتے چلے گئے۔یہی وجہ ہے، مختارمسعود کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہم ان کو پڑھ نہیں رہے، بلکہ وہ سب کچھ ہم پر بیت رہاہے، جس کو وہ بیان کررہے ہیں۔ان کی سادہ مگر کلاسیکی روایت میں گندھی ہوئی نثر، متن کی روشنی کومزید لودیتی ہے، جس سے مناظر منورہوجاتے ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ادھوری یادوں کے ساتھ پاکستان کوہجرت کی۔یادوں کی پرچھائیوں کو، ان کی تحریروں میں واضح طورپر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ 1949میں سول سروس کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد، درجہ بہ درجہ اپنے پیشے میں ترقی کی۔ مختلف عہدوں پرکام کیا۔ آخری سرکاری تقرری ’’ ریجنل کارپوریشن فور ڈوویلپمنٹ‘‘ کے ادارے میں، بطور ’’جنرل سیکرٹری‘‘ ہوئی۔ اس ادارے کو ایران، پاکستان اورترکی کی حکومتوں کے باہمی اشتراک سے ان ممالک کی علاقائی ترقی کی غرض سے بنایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں، مختارمسعود 4برس تک ایران کے شہر تہران میں قیام پذیر ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا، جب ایران میں انقلاب کروٹ لے رہاتھا، یہ ان تاریخی لمحات کے چشم دید گواہ بنے۔
مختار مسعود نے اپنی نثری زندگی میں کل 3 کتابیں لکھیں، البتہ 1 کتاب کی تدوین بھی کی تھی، جس کانام ’’آئی وٹنیسزآف ہسٹری‘‘ تھا، جو انگریزی زبان میں تھی۔ یہ کتاب ان خطوط کامجموعہ تھی، جوقائد اعظم محمد علی جناح کو لکھے گئے تھے۔اس کے بعد لکھی گئی تین کتابیں، ان کی اپنی تصانیف ہیں، جوعنوانات کے اعتبار سے بالترتیب ’’آوازدوست، سفر نصیب اورلوح ایام‘‘ ہیں۔ ان تینوں کتابوں کے موضوعات کا متن یادداشتیں اورسفرنامے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے، انہوں نے اپنی کتاب کسی اشاعتی ادارے کو دینے کی بجائے، خود شایع کیں۔ یہ غیر روایتی اقدام بھی ان کے حق میں ثابت ہوا۔ پاکستان میں بہت کم ایسی کتابیں ہیں، جن کے اتنی کثیر تعداد میں ایڈیشنز شایع ہوئے ہوں۔
مختار مسعود ادیب یا شاعر نہیں تھے، مگر کہنہ مشق نثر نگارتھے۔ اس پر طرہ امتیاز، ان کی مقبولیت کسی طورپر بھی کسی شاعر یا ادیب سے کم نہ تھی۔ ان کی تحریریں نان فکشن، لیکن خالص داستانی اورکہانی کہنے کے انداز پر قلم بند ہوئی تھیں، اس پر کمال ہنر یہ کہ وہ مقامی اورعالمی ادب اور تاریخ کے حوالوں سے اپنی بات کے وزن اوربیانیے کے پس منظر کو مزید پختہ کردیتے تھے، اس ترکیب نے ان کی نثر کا ذائقہ منفرد کردیا، فارسی زبان کارچاو بھی اس میں شامل ہوا کرتا تھا۔ قارئین اس نثرکے سحر میں گرفتار رہے، بلکہ آج بھی ہیں۔ وہ ذاتی حیثیت پیشہ ورانہ زندگی میں توبہت متحرک رہے، ان کی مشاہدہ بینی زوروں پر رہی، مگر بعد از ریٹائرمنٹ انہوں نے خود کو مجلسی زندگی سے دورکرلیا اورملنے جلنے میں محدود ہوگئے، پھر یہ اوربات ہے کہ حسب دستور، ہمارے ہاں ہونے والے ادبی میلوں میں بھی کبھی ان کو یادکرنے کی زحمت نہیں کی گئی۔
گزشتہ دنوں، ان کی شخصیت اورکتابوں کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے، روزنامہ نوائے وقت میں شایع ہونے والے، تنویر ظہورکے ایک کالم بعنوان ’’مختار مسعود اور پنجابی زبان وادب‘‘ پڑھ کرحیرت ہوئی اورافسوس بھی، کیونکہ اس کالم میں، کالم نویس نے، جوخود بھی شاعر اور ادیب ہیں، انہوںنے تفصیل سے، مختارمسعود سے اپنی ایک ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دوران گفتگو، مختارمسعودنے پنجابی زبان وادب کے لیے ہتک آمیز الفاظ استعمال کیے، عینی گواہان کے طورپر وہ معروف ادیبہ کشور ناہید اور معروف کالم نویس عبد القادر حسن کی بیگم ’’رفعت ‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ بات کتنی مصدقہ ہے، اس حوالے سے ضرور تحقیق ہونی چاہیے۔ ایک شخص، جس نے ساری زندگی اس زبان کے بولنے والوں میں گزاری، خود بھی ان کو پنجابی زبان بولنے پرقدرت تھی، وہ بھلااس زبان کے بارے میں کیوں اس طرح کی گفتگو کرے گا۔
مختار مسعود کی پہلی کتاب ’’آواز دوست‘‘ دومضامین پر مشتمل ہے، جن کے عنوانات ’’مینارِ پاکستان‘‘اورقحط الرجال‘‘ہیں۔پہلامضمون مختصر ہے، اس میں انہوں نے اپنے مشاہدات قلم بند کیے ہیں، کیونکہ وہ مینارپاکستان بنانے والی کمیٹی کی مجلس کاحصہ تھے۔ اس سلسلے میں دنیابھر میں بنے ہوئے میناروں کے تحقیق سے قاری کو آگاہ کرتے ہیں، یہ تذکرہ فرانس سے جاپان اورامریکا تک کئی ممالک کے پر محیط، ایک دلچسپ رودادہے۔دوسرے مضمون میں ان کی آپ بیتی اورماضی کے بیان کی جھلکیاں ہیں، بچپن کے شوق، بالخصوص آٹو گراف بک اور معروف شخصیات سے ملاقاتوں کا تذکرہ ہے، جن میں قائداعظم محمد علی جناح کے علاوہ حسرت موہانی، ظفرعلی خان، سروجنی نائیڈو، مارشل ٹیٹو، یوتھانٹ، خالدہ ادیب خانم، ملاواحدی، راجا صاحب محمودآباد، نواب بھوپال اور عطااللہ شاہ بخاری جیسی نامور شخصیات تھیں۔
ان کی دوسری کتاب ’’سفر نصیب‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے کے عنوانات ’’برف کدہ ‘‘اور ’’پس انداز‘‘ ہیں۔ دوسرے حصے کے عنوانات ’’طرفہ تماشا‘‘ اور ’’زادِ سفر‘‘ ہیں۔ اس کتاب میں وہ منظر نگاری کی اعلیٰ حدوں کو چھوتے ہیں، ایسی تحریر، جس میں خود سفر میں ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ انہوں نے اپنے لیے بھی مسافرکاصیغہ استعمال کیا، داستان گوکی طرح کہانی سناتے ہیں، جس میں پاکستان کے شمالی علاقوں کے ساتھ ساتھ، سری لنکا، بیروت اورامریکا کی خوبصورتی کواپنی نثر میں متصور کر دیا۔
تیسری اورآخری کتاب ’’لوح ایام‘‘ ایک کتاب نہیں، تاریخ کی گواہی ہے، جس میں یہ چشم دید گواہ ہیں۔ یہ ملک ایران ہے، جہاں ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوتا ہے اور اسلامی انقلاب برپاہوتاہے، جس کی خونچکاں ’’ایران بیتی‘‘ کوانہوں نے ایک پڑوسی ملک کے باشندے کے طورپر، ایک حساس انسان ہونے کے ناطے اورایک تاریخ کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے بھرپورطریقے سے لکھاہے، بلکہ اس کو گہرائی سے لکھنے کے لیے اپنی جان بھی خطرے میں ڈالی۔یہ کتاب ایران کے انقلاب پر ہمیشہ ایک بنیادی حوالہ رہے گی، کیونکہ اس کے ماخذات کہیں اورسے نہیں، بلکہ چشم دیدگواہ کے مشاہدے اورتجربات سے نکلے ہیں۔
مختار مسعود نے لکھاتھا ’’فاصلہ قدموں میں نہیں ذہن میں ہوتاہے۔ یہ محض ایک حجاب کانام ہے، اٹھ گیاتوساری مسافت فوراً کٹ جاتی ہے۔‘‘ اور ’’تقاضے ہارجاتے ہیں، مطالبے جیت جاتے ہیں، حرص اوربے ذوقی جگہ جگہ اپنی یادگاریں بنالیتی ہے۔‘‘ ایسے متعدد جملے ان کی کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں، جن سے دل کے چراغ روشن اورروح کی سرشاری برقرا ررہے گی۔۔۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: