سیاستدان کون ہوتا ہے؟ عاطف طفیل

0

ہر وہ شخص سیاستدان ہوتا ہے جو طاقتور اورکمزور کے ساتھ یکساں ہمدردی رکھتا ہو۔ جو شکاری کے پہلو میں بیٹھ کر شکار کی قابلِ رحم حالت پر افسوس کرے۔ جو شہادت کی انگلی ہلا ہلا کر انقلابی اشعار سنائے لیکن خود استعماری قوتوں کا نمائندہ ہو۔وہ اپنے دل میں غریبوں کیلئے ہمدردی رکھتا ہو، البتہ اُس کے اعمال اُن کی غربت میں اضافہ کا سبب بنتے ہوں۔ آپ اُسے فی الفورسیاستدان سمجھ لیں جو آپ کی اکلوتی اونٹنی سے آپ کو محروم کرنا چاہتا ہے تاکہ اُسکے سٹاک میں سو اونٹنیوں کی گنتی پوری ہو سکے۔ ہر وہ شخص میدانِ سیاست کا کھلاڑی ہوتا ہےجو اپنے ظاہر و باطن میں حُسن و خوبی کے ساتھ بُعد المشرقین پیدا کرسکتا ہے۔ وہ اپنے مکروہ عزائم کو اپنے شیریں الفاظ میں چھپا لیتا ہے۔
ہمارے اداروں میں طاقت کے حصول کیلئے چاندی کے اوراق میں لپیٹ کر سیاست کی جاتی ہے تاکہ لٹنے والا، لوٹنے والے کو اپنا مخلص دوست سمجھے اور لٹنے کے بعد اُس کا احسان مند بھی ہو۔ مُنہ میں رام رام بغل میں چھری سیاست کا کلمہ ہے۔ اِس بیانیہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کے ہر وہ شخص سیاستدان ہے جو چاہتا ہے کے لوگ اُس کے سامنے حالتِ رکوع میں رہیں اوروہ دوسرے کا رب بن جائیں اور سب بلاچون و چرا اُس کی بندگی اختیار کر لیں۔ ہاں میں ہاں ملانے والے حلقہء دوستاں میں شامل ہو جاتے ہیں جبکہ اپنی سوچی سمجھی رائے دینے والے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔
ہمارے گھروں میں بھی سیاست کا وائرس داخل ہو گیا ہے۔ تمام افرادِ خانہ گھر میں اپنی مرضی چلانا چاہتے ہیں، سب اپنی اپنی تجویز کے کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں۔ جبکہ باہمی یگانگت اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب اپنی مرضی کو کولہے کی جیب میں رکھ لیا جائے اور اپنے دیگر اہلِ خانہ کے آگے سرِتسلیم خم کر لیا جائے۔ یہاں پر یہ ذکر ضروری ہے کے عائلی زندگی میں بر ضا و رغبت اپنی آزادی سے دستبردار ہونا تو محبت کی ایک اعلیٰ شکل ہے جبکہ اپنے ساتھی کی آزادی سلب کرنا محبت کی استحصالی اور بیمار صورت ہے۔ ہمارے گھر سیاست کی نظر اس لیے ہو جاتے ہیں کے ہم اپنے حقوق تو ہر صورت حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اپنے فرائض سے راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
منافقت اور سیاست دوپٹہ بدل بہنیں ہیں۔ منافقت کا مادہ نفق سے ہے جس کے معنی ہیں ایسی سرنگ جس کے دونوں منہ کھلے ہوئے ہوں۔
تمام سیاستدانوں کے متعدد منہ ہر جانب سے کھلے ہوتے ہیں تاکہ مفادات کی ڈبل روٹیاں اُن تک پہنچ سکیں۔ سیاستدان اپنی ذات کی شمع کے ارد گرد پروانہ بن کر طواف کرتے ہیں۔ فیس بُک پروہ اپنے روز مرہ کے معاملات پوسٹ کرتے رہتے ہیں اور نجانے کیوں سمجھتے ہیں کہ لوگ اُن کی کلاکاریوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نرگس کے یہ پھول بینرز پراپنی مورت سجانے کو سیاسی فریضہ سمجھتے ہیں جبکہ اُنھیں یہ نہیں معلوم کے حد سے زیادہ پروجیکشن سیاسی گراف گرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ ہمیں وہی اچھے لگتے ہیں جوصاف چُھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔
سیاستدان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اُن سے جینے کی خیرات مانگیں، اپنے جینے کا حق نہ مانگ سکیں۔ ایسا کیوں ہے کہ سیاستدانوں کو ایک جانب تو مظلوموں سے ہمدردی ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب ظالم سے عاربھی نہیں ہوتا۔ کیمرے کی آنکھ کی سامنے خرگوش کے ساتھ بھاگنا اور ڈرائنگ روم میں اُسی خرگوش کو ہڑپ کر جانے کے منصوبے بنانا، سیاستدانوں کا منشورِزندگی ہے۔
ہم اپنے خاندانوں، اداروںاورملکی سطح پرسیاستدانوں کی دوغلی ذہنیت کا شکار ہوتے رہیں گے کیونکہ ہم نے اپنے پر کاٹ کر اُن کے ہاتھ میں دے دیئے ہیں اور یہ یقین کر چکے ہیں کہ اب ہماری اُڑان ممکن نہیں۔چھوٹی مچھلی کو بڑی مچھلی اُس وقت تک نگلتی رہے گی جب تک چھوٹی مچھلی اپنے آپ کو اتنا بڑا نہ کر لے کہ بڑی مچھلی کے منہ میں نہ آسکے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: