میاں نواز شریف کے نام ایک کھلا خط

0
  • 1
    Share

جناب وزیر اعظم صاحب
موجودہ سیاسی اتھل پتھل کے ہنگام آپ سے اس کھلے خط کے ذریعہ مخاطب ہونے کی گستاخی کررہا ہوں۔
جناب عالی!
بات یہ ہے کہ اگر آپ سول اداروں میں میرٹ کو فروغ دیتے ہیں، ان کے سربراہان کو خالصتاً اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں، اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں، اور ایسے تمام اقدامات لیتے ہیں جو ان اداروں کو خودمختاراورمضبوط بناتے ہوں تو آپ ہمارے حقیقی رہنما ہیں۔
جس پارلیمنٹ کی بدولت آپ کو اقتدار ملا ہے اگر اس کے اجلاسوں میں آپ باقاعدگی سے حاضر ہو کر اپوزیشن کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں، کابینہ کا اجلاس ہر ماہ بلاتے ہیں اور اس کی سفارشات پر عمل کرتے ہیں، تمام بیوروکریسی کو پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے سامنے جوابدہ بناتے ہیں، تو یقین کریں پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی اور کسی ماتحت ادارے کو جرات نہیں ہو گی کہ وہ آپ کے احکامات کے خلاف چون وچراں کر سکے۔
لیکن،
اگرآپ پاکستان کے سول اداروں کو ایک ایک کر کے روندتے چلے جاتے ہیں، اپنے وفاداروں کو ان کا سربراہ بناتے ہیں، آپ کی اولاد بغیر کوئی ووٹ حاصل کئے وفاقی حکومت سنبھالتی ہے، آپ کا بھتیجا قومی اسمبلی کا ممبر ہو کرایک صوبے پر حکمرانی کرتا ہے، آپ کا بھائی ایک صوبے کا وزیر اعلی ہے لیکن وہ بجلی کے وفاقی ادارے کا کارمختار بنا ہوا ہے، تو پھرآپ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی آپ کو جمہوریت کا کچھ علم ہے۔
اس صورت میں ہم یہی سمجھیں گے کہ،
بے مہار طاقت کی شدید خواہش میں آپ منظم ادارے پربھی کسی مشتاق سکھیرا کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کا ماڈل لبرل ڈیموکریسی نہیں ہے بلکہ حسنی مبارک جیسے ڈکٹیٹر ہیں جن کے لئے ہر قومی ادارے کا مقصد وجود صرف اگلا انتخاب جتوانا ہے۔
اگر آپ،
سویلین بالادستی کے مثالی تصور پر یقین رکھتے تو پہلے سول اداروں کو طاقتور بناتے۔ یقین کریں اس کے بعد کوئی ادارہ خوان کتنا ہی طاقتور ہو، خود بخود آپ کے تابع ہو جاتا۔
افسوس،
کہ آپ نے اپنی پچھلی کئی حکومتیں ایسی بیکار لڑائیوں میں صرف کر دیں جن سے نہ ملک کو کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی جمہوریت کو۔ آپ کی اس روش نے جمہوری اداروں کو ہمیشہ کمزور کیا ہے۔
کمزور سویلین ادارے جب کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو ایک خلا پیدا ہو گا جسے کوئی دوسرا ادارہ پورا کرے گا۔ یہ سیدھا سادھا فارمولا ہے جسے سمجھنے کے لئے نابغہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
امید تو نہیں کہ یہ معروضات جناب کی بارگاہ تک رسائی پاسکیں گی مگر
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
خیر اندیش
مجاہد حسین خٹک

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: