امانت علی، فتح علی؛ دیارِ موسیقی میں فروزاں دو چراغ

0
  • 1
    Share

 قیام پاکستان کے بعد خیال گائیکوں کی دو جوڑیاں بہت مشہور ہوئیں یعنی نزاکت علی، سلامت علی شام چوراسی والے اور امانت علی و فتح علی پٹیالہ والے۔ امانت و فتح کی جوڑی گویا چاند سورج کی جوڑی تھی۔ ان کے ابا اختر علی خاں کے بارے ڈاکٹر داؤد رہبر نے لکھا ہے کہ ان کی آواز میں ایک کرختگی سی تھی اور راگ کا تاثر جمتا نہیں تھا۔ تاہم وہ موسیقی کے بڑے صاحبِ علم تھے۔ راگ راگنیاں، بندشیں وغیرہ تو سب یاد تھیں اس لیے اپنے تینوں بیٹوں کو خوب تیار کیا۔ ان کے سینے میں چار گھرانوں کی چیزیں جمع تھیں۔ ایک دفعہ امانت و فتح ہندوستان گئے تو استاد بڑے غلام علی خاں نے ان دونوں بھائیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تمہارے والد اختر حسین خاں کے پاس بہت علم ہے، اس علم کو ایسے ہی جانے نہ دینا، زور و شور سے سیکھنا۔ واپسی پہ دونوں نے یہ بات اپنے والد سے کہی تو اختر حسین رو پڑے اور بڑے غلام علی خاں کو بہت داد دی۔ یاد رہے کہ بڑے غلام علی خاں، استاد عاشق علی خاں کے شاگرد بھی تھے جو کہ پٹیالہ کے مشہور بزرگ تھے۔ عاشق علی خاں بھی اپنے نام کے ایک ہی آدمی تھے۔ وہ فریدہ خانم اور ان کی بڑی بہن مختار بیگم، زاہدہ پروین، حسین بخش ڈاڈھی کے استاد تھے اور بہت زور دار گاتے تھے۔ دستیاب ریکارڈ میں کم ازکم میں نے تو اس قدر زور دار تان کسی کی نہیں سنی۔ فتح علی خاں کبھی کبھی تبرک کے طور پہ عاشق علی خاں کا انداز سنایا کرتے مگر اب ایسی تان کہنے والا کوئی نہیں۔قاضی ظہور الحق لکھتے ہیں کہ” ایک روز استاد عاشق علی خاں جینو فون ریکارڈنگ کمپنی میں ریکارڈنگ کے لیے تشریف لائے۔ ماسٹر غلام حیدر کمپنی کے میوزک ڈائریکٹر تھے اور ہارمونیم بجانے میں کمال دسترس رکھتے تھے۔ عاشق علی خاں نے سندھی بھیرویں میں یہ کافی ریکارڈ کائی۔

سانول مل سی کیہڑے وار
ڈھولن مل سی کیہڑے وار
جتھاں ہوسی اتھا ں ویساں
ہر دم تیں کوں یاد کریساں
لگی تن اندروچ تانگ یار
عیداں والے عید کریسن
دیداں والے دید کریسن 
میں تکسم تد ول یار
سانول مل سی کیہڑے وار
 عجیب سماں تھا۔ حاضرین کو اپنی ہوش نہ تھی۔ ہر ایک کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ خاں صاحب منشیات کے زیادہ عادی تھے۔ آواز کچھ سخت ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود خاں صاحب مرحوم کے گانے میں اس قدر تاثیر تھی کہ اس کافی کی یاد آج تک میرے دل پر نقش ہے۔” امانت و فتح ویسے تو خیال گایا کرتے مگر پاکستان میں آ کر انہوں نے ہلکی پھلکی چیزیں بھی بہت گائیں اور امانت علی تو غزل کے اولیں معماروں میں سے ہیں۔ وہ بھی کیا محفلیں تھیں کہ فنکار اور سامعین آمنے سامنے ایک ہی فرش پہ بیٹھتے۔ فنکار تو فنکار، سامعین بھی اپنے اپنے میدان کے سرکردہ لوگ۔ اشفاق احمد، قتیل شفائی، غلام علی، شوکت علی، ملکہ پکھراج، فریدہ خانم۔۔۔ کس کس کا نام لوں؟ امانت و فتح کی جوڑی کی ایک خوبی یہ تھی دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔ (شام چوراسی والوں میں یہ چیزنہ تھی۔ سلامت خاں، نزاکت کو بہت کم گانے دیتے۔ اگر دونوں کا تناسب نکالیں تو شاید اسی اور بیس کا بنے)۔ امانت علی راگ کی شکل بنائے رکھتے، خوبصورت بہلاوے لیتے۔ آواز لگانے کا ایک الگ ہی انداز رکھتے تھے جس میں ایک سرمستی کا سا احساس ہوتا۔ بعد میں کبھی کبھی اسد امانت علی بھی اپنے باپ کی طرح آواز لگا کر ان کی یاد تازہ کیا کرتے۔ تیز طرار تانیں، گمک، لے کاری کا کام فتح علی خاں کرتے۔ دونوں بھائی ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو داد بھی دیتے جاتے۔ امانت علی نے ایک بہلاوا لیا تو فتح علی داد دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔ طبلے پہ میاں شوکت علی ہوتے اور فتح علی تہایاں لینے پہ آتے تو ہر ہر سم پہ سامعین داد دیتے۔ زیادہ مشکل یا انوکھی تہائی لینے پر بڑے بھائی سے بھی نقد داد پاتے۔ اہلِ نظر جانتے ہیں راگ داری، روح داری کے ساتھ ساتھ یہ گھرانہ رُو داری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ایک تو قدرت کی طرف سے امانت علی کو مردانہ وجاہت عطا ہوئی تھی پھر اس پہ لباس کا انتخاب۔ ایک دفعہ دونوں بھائی نیپال جا رہے تھے کہ جہاز نے بمپنگ کرنا شروع کر دی، سبھی مسافر گھبرا گئے۔ اتنے میں امانت علی آگے سے اٹھ کر فتح علی کے پاس آئے اور لکھنے کو پین مانگا کہ ایک سطر کی آمد ہوئی تھی۔ اس پریشانی کے عالم میں بھی انہیں شعر کی پڑی ہوئی تھی کہ کہیں بھول نہ جائے۔ “کاگا سب تن کھائیو، مورا چن چن کھائیو ماس؛ دو نیناں مت کھائیو، انہیں پیا ملن کی آس” یہ تو مشہور چیز ہے۔ امانت علی نے اس پہ ایک طرح کی تضمین کہی یعنی ” کب آؤ گے، تم آؤ گے مورا تم بن جیا اداس” جہاز ہی میں یہ چیز بھیرویں میں کمپوز کی گئی اور پھر اس کا بہت شہرہ ہوا۔ آج بھی لوگ سنیں تو ان کی آنکھ میں نمی اتر آتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس کی ویڈیو بھی موجود ہے جس میں ایک جگہ انہوں نے محبوب کی آمد کی کیفیت کو سُر کے ساتھ ساتھ اپنے بڑی بڑی آنکھوں سے یوں واضح کیا ہے کہ سبحان اللہ۔ ٹھمری میں بھاؤ بتانے کے معنی انہی دو بھائیوں نے سمجھائے۔ فتح علی کے اپنے انداز کچھ ایسے دلنشیں تھے کہ سماعتوں کے ساتھ ساتھ بصارتوں کی بھی جمالیاتی تسکین ہو جاتی۔ میاں شوکت علی کبھی کبھی اشارہ پاکر طبلے پہ ایسا ہاتھ دکھاتے کہ سامعین عش عش کر اٹھتے۔ امانت علی پھر اپنی بے اعتدالیوں میں ڈوبتے چلے گئے۔ دروغ بر گردنِ روای، کشور ناہید نے لکھا ہے کہ وہ سٹاپ سے پیدل گھر کو آتیں تو ایک مخصوص جگہ امانت علی کھڑا ہوتا۔ کشور ایک بوتل کے پیسے نکال کر دیتی اور امانت علی اسی خاموشی کے ساتھ وہ پیسے لے کر رخصت ہو جاتا۔ فتح علی اپنے بڑے بھائی کے پیچھے مارے مارے پھرتے کہ ان کی بے اعتدالیوں سے پریشان رہتے تھے۔ انتظار حسین راوی ہیں کہ ایک دن وہ امانت علی خاں کے گھر گئے تو وہ اوندھے لیٹے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ ریڈیو والے ان سے فرمائش کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں سولو میں گاؤ اور امانت علی پریشان ہیں کہ فتح علی پھر کدھ جائے گا۔ پھر امانت علی کی وفات کے بعد ایک دن انتظا ر صاحب فتح علی کے پاس گئے تو وہ بہت رنج میں تھے اور کہتے تھے میں اس ڈاکٹر کو نہیں چھوڑوں گا جسی کی غفلت کی وجہ سے ان کا بھائی مارا گیا ہے۔

امانت علی کی وفات کے بعد فتح علی بجھ کے رہ گئے اور دو سال تک گا نہیں سکے۔ پھر والدہ کے حوصلہ دینے پہ دوبارہ ریاض شروع کیا اور خوب داد پائی۔ انہیں اپنے فن پہ فخر بھی بہت تھا۔ لے سے بہت کھیلتے تھے۔ وہ کہا کرتے کہ وہ فنکار ہی کیا جو لے سے گھبرا جائے۔ کئی دفعہ وہ سم پہ آکے دم نہیں لیتے تھے بلکہ وہیں سے بول پکڑ کے پھر چکر لگانے نکل کھڑے ہوتے اور سچ پوچھیں تو ایسا لگتا تھا کہ لے کو انہوں نے آگے لگا رکھا ہے۔ ایک دفعہ انڈیا جا کے اپنا فن پیش کیا تو وہاں کے اخبار نے لکھا کہ فتح علی کے گلے میں تو کوئی کمپیوٹر فٹ ہے، لے کی ایسی سمجھ رکھتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ تال کے دو پلے وہ خود پڑھتے مگر تیسرا پلہ سامعین پورا کر کے سم پہ آتے، اس طرح گویا سامعین بھی شریک راگ ہو جاتے تھے۔ اسد امانت علی نے ان سے سیکھا اور غزل و نیم کلاسیکی چیزوں میں خوب نام پیدا کیا۔ فتح علی کے دونوں بیٹے بھی گاتے ہیں مگر  بس گزارہ کرتے ہیں۔ ایام جوانی کی ایک ویڈیو دستیاب ہے جس میں فتح علی نے بہت زور دار تانیں ماریں اور پھر اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ،” چاہیے تو یہ کہ میں چیلنج کر دوں مگر بابا! میری شرافت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ خدا سے ڈرنا چاہیے۔ وگرنہ اگر کوئی ہے تو یہاں آ کے ایسی تان کہے، گانا چھوڑ دوں گا”۔ اخیر عمر میں آواز کا صحیح ساتھ نہ رہا تھا مگر اس پہ بھی یہ حال تھا کہ درت میں آ کے تان لگاتے تو یوں محسوس ہوتا کہ کوئی بوڑھا شیر دھاڑ رہا ہے۔ اپنے بھتیجے امجد امانت علی کی برسی میں گمک دار تانوں کے بعد کہنے لگے کہ، “میری عمر کا اندازہ کر لو، ایسی تانیں ہو سکتی ہیں؟ یہ اللہ کی خاص کرم نوازی ہے”۔  پی۔ٹی۔وی کے پروگرام فردوسِ گوش میں راگ میاں کی ملہار گا نے کے لیے آئے۔ ساتھ میں ان کے بیٹے سلطان فتح علی اور بھائی حامد علی خاں بھی تھے۔ فتح علی خاں نے ایک زور دار تان کہی اور پھر اپنے مخصوص انداز میں نہایت فخر سے کہا کہ، ” فتح علی خاں ابھی ہے! اللہ کی مہربانی سے”۔ اپنے فن پہ بہت نازاں رہا کرتے۔ اکثر کہتے کہ پروگرام والے وقت کا شور بہت مچاتے ہیں وگرنہ ہم تو آپ کو یہی راگ دو گھنٹے مزید سنا سکتے ہیں۔ ایک بار وہ راگ میگھ سنانے لگے تو سامعین میں سے کسی نے کہا کہ خاں صاحب! ہم نے گھر بھی جانا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ، ” ہاں! اس راگ میں ایسے اثرات ہیں کہ بارش ہونے کا امکان ہو سکتا ہے اور ایک دو دفعہ ایسا اتفاق ہوا بھی ہے تاہم اس کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، دعویٰ کرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا”۔

ایک دفعہ کسی صوفی بزرگ کے دربار پہ محفل تھی۔ راگ گاتے گاتے وہ کوئی نکتہ سامعین کو سمجھانے لگ گئے اور طبلے والا بجاتا رہا۔ طبلہ جب سم کے قریب پہنچا تو فتح علی خاں نے بے اختیارانہ وہیں سے بول پکڑا اور سم پہ طبلے والے کے ساتھ پہنچے۔ ان کی اس بے ساختگی پہ سامعین کے ساتھ ساتھ سٹیج پہ موجود امجد و شفقت امانت علی وغیرہ نے بھی خوب داد دی۔ انہیں پرائیڈ آف پرفامنس بھی ملا مگر وہ اسے ریوڑیوں کی طرح بانٹنے پہ نالاں تھے، انہیں حکومت سے کئی طرح کی شکا یات تھیں مگر ہندوستان کی طرف سے شہریت کے پیشکش کے باوجود وہ اپنا سب کچھ پاکستان کو قرار دیتے اور اسی کی مٹی میں دفن ہوئے۔ زندگی میں سلامت علی خان کے ساتھ پیشہ ورانہ مسابقت بھی رہی مگر اخیر دنوں میں اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ سلامت علی کو بھی یاد کیا کرتے کہ کہاں گئے وہ لوگ۔ مجھے ان کی گائی ہوئی لائٹ چیزوں کے علاوہ ان کے گائے ہوئے راگ درگا، بلاس خانی ٹوڈی، میگھ، اڈانہ، میاں کی ملہار، باگیشری خاص طورپہ پسند ہیں۔ اب دونوں بھائی اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں مگر ان کی مدھر آوازیں ہزاروں کمپیوٹرز میں محفوظ ہیں اور لوگوں کی سماعتوں کو سُرور بخشتی ہیں۔ کبھی کبھی ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کیا کرتا ہوں۔

رہے نام اللہ کا۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: