لبرل طالبان -اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے: ابو بکر

3
  • 2
    Shares

اٹھارہ سو بیالیس سے پنتالیس  تک کا تین سالہ عرصہ جرمن فلسفے میں ہیگل کے نظریات کی جارحانہ تنقید کا  دور تھا جس کے بارے میں مارکس طنزاً کہتا ہے کہ بنیادوں کے اس عظیم رد وبدل کے سامنے انقلابِ فرانس کی حیثیت بچوں کے کھیل سی رہ جاتی ہے اور سکندر اعظم کے جانشینوں کے کارنامے ہیچ معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد مارکس وہ سطر لکھتا ہے جس کا لطف برقرار رکھنے کے لیے یہاں انگریزی عبارت دی جا رہی ہے۔

”All this is supposed to have taken place in the realm of pure thought.”

اردو سوشل میڈیا جو بجائے خود ایک خاص اعتبار سے عالمِ وہم سے تعلق رکھتا ہے گذشتہ تین چار روز عظیم نظریاتی گھن گرج سے گونجتا رہا۔ اس واقعے کا سبب یہ ہوا کہ ایک خاص سمت سے ‘لبرل طالبان’ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی۔ چونکہ اس کے موجد خود معتبر لبرل ہونے کے دعویدار ہیں سو بعید نہ تھا  کہ جہاں لبرل حضرات کی اکثریت نے ان کا قبلہ درست کرنے کی سعی کی اور لبرلزم کا ‘ خالص’ رخ دکھانے کے لیے کالم اور مضامین تحریر میں لائے گئے وہیں مبہوت قارئین کی اکثریت  نےکھلے خطوط لکھ اپنی غش آوری کے ثبوت بہم کیے۔  نطشے کا قول ہے کہ دیوانگی اقوام اور گروہوں کے لیے اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور ہماری قوم اس سے مستشنیٰ نہیں۔ چنانچہ قوم کا کثیر حصہ ایک ہی وقت میں جہاں وہم کا اسیر رہتا ہے وہیں ظاہر پسندی کا شکار بھی ہو جاتا ہے اور معاملات کو سطحی و ظاہری طور پر نمٹایا جاتا ہے۔ لبرل طالبان کی اصطلاح آنے کے بعد لبرل حضرات نے یہ گلہ شروع کیا کہ طالبان ان کی ضد ہیں۔ لبرل معقولیت ، برداشت اور مکالمے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ طالبان بنیاد پرست، متشدد اور جابرانہ ہیں ۔

ہمارے قومی حافظے میں طالبان کے تصور کے ساتھ بازاروں اور سکولوں میں تڑپتے لاشے ، سڑکوں پر پھیلا خون ، شور و گریہ اور بارود کا احساس جڑا ہے اور اس کی وجہ وہ تشدد ہے جو  طالبان عسکریت پسندی کی وجہ سے پاکستان کے گلی کوچوں میں روا رکھا گیا۔ تشدد کو نکال دیا جائے تو  ملک کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ  اپنے مذہبی عقائد و رسوم اور وضع قطع میں طالبان  سے اشتراک رکھتا ہے لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان سے جڑی ہماری نفرت کی اصل وجہ وہ تشدد اور خون خرابہ ہے جو طالبان کی پیداوار ہے۔ گویا ہمارا مسئلہ تشدد ہے اور اس اعتبار سے جو جماعت یا گروہ بھی بے گناہ انسانوں پر تشدد کا مرتکب ہو گا ہم اس سے نفرت کریں گے۔

لبرل ازم کالفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں آزادی ، مساوات اور قانون کی عملداری جیسے خوشنما تصورات آتے ہیں عموماً ہم لبرلزم اور تشدد کے باہمی تعلق کے امکانات پر اس قدر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ ہمارے یہاں امن اور  لبرلزم کو پہلے مرحلے میں ہی کسی پڑتال کے بغیر ایک سمجھ لیا جاتا ہے اور اس رویے کی نفسیات اور بھی گہری ہیں۔ دراصل ہمارا معاشرہ کوئی جامع اور متوازن اصول تنقید پیش کرنے سے قاصر رہا ہے جس کی وجہ سے روایت اور جدت دونوں جامد اور ادعائی روپ میں بدل چکی ہیں۔ ایک طبقہ لازمی طور پر نجات کو روایت اور دوسرا جدت سے مشروط کرتا ہے تاہم روایت و جدت کی تعریفات اور حدود پر سنجیدہ کام کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا۔ موجودہ مضمون میں نسبتاً ایک جامع یا یوں کہیے نامیاتی و تحلیلی انداز سے یہی فرض انجام دینے کی کوشش کی جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ لبرلزم اور تشدد کا باہمی تعلق کیا ہے تاکہ ہم ناصرف اپنے ناپسندیدہ مظہر یعنی تشدد کو بہتر طورپر پہچان سکیں بلکہ اس بات کا اندازہ بھی کیا جا سکے کہ لبرل طالبان کی اصطلاح سے لبرلز کو جتنی ہتک محسوس ہوئی ہے کیا وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟

لبرل ریاست میں تشدد پر اجارہ داری کو قانونی و اخلاقی چھتری حاصل ہے جہاں بعض اوقات تشدد نا صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔ چونکہ تشدد پر ریاست یا نظریے کا اجارہ ہوتا ہے لہذا جب عملی طور پر تشدد اختیار کیا جاتا ہے تو اس کو تشدد تسلیم نہیں کیا جاتا اور جس پر تشدد کیا جا رہا ہو اسے بھی یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ دراصل اس پر تشدد نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے اپنے معیارِ زندگی میں ایک خاص رفعت حاصل کرنے کی کچھ قیمت دینا پڑ رہی ہے حالانکہ  بعض اوقات وہ بدقسمت اس انعام کا خواہاں تک نہیں ہوتا۔ چنانچہ تشدد کا الزام  تو کجا  اخلاقی فتح اور انسانی شادابی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کی ویت نام جنگ اور موجودہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ امر ایک واضح پہلو کے طور پر موجود ہے جس نے  مختلف گروہوں کا مقام طے کرنے یعنی دہشت گرد اور امن پسند کی تعریف کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔

یہ تشدد اور لبرلزم کے باہمی تعلق کو دیکھنے کا ایک زاویہ ہے تاہم اس سے گفتگو مزید نکات کی جانب بڑھ جاتی ہے اور یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خود ریاست اور تشدد کے درمیان کیا تعلق ہے۔ یہ بات درست ہے کہ تشدد کا مادہ انسانی فطرت میں پایا جاتا ہے تاہم سماجی اور منظم شکل میں اس کا سامنے آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تشدد پر مائل کرنے کی بعض ٹھوس وجوہات معاشرے میں موجود ہیں اور اگر مزید قریب سے دیکھا جائے تو یہ سامنے آتا ہے کہ معاشی استحصال ، حقوق کی پامالی ، آزادیوں پر قدغن اور جابرانہ نظام ایسے محرکات ہیں جو تشدد کو جنم دیتے ہیں۔ ریاست ایک ادارے کی حیثیت سے اس تشدد کو ایک خاص حد کے اندر رکھتی ہے تاکہ سارا بندوبست ہی چکنا چور نہ ہو جائے تاہم تشدد کی ان بنیادی وجوہات کو ختم کرنا ریاست کا اولین مقصد نہیں ہے۔ لبرلزم کی عملی سیاست میں تشدد کی تعریف پر دو آرا موجود ہیں جہاں قانون کی بالادستی کے نام پر ریاست کے تشدد کو جائز اور ریاست سے باہر کسی گروہ کے تشدد کو محض تشدد اور منفی سمجھا جاتا ہے۔  یہ عملی صورتحال لبرلزم کی اس فکری اساس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ معاشرے میں ہرچند تشدد کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں تاہم ان کی آنچ  کو قابو میں رکھا جائے۔ تشدد کو اپنے اندر برقرار رکھنے کی جو ظاہری حکمت لبرلزم کے وکیل پیش کرتے ہیں وہ  یہ ہے کہ محض سیاسی عمل)  یعنی کثیر قطبی معاشروں میں کئی دھڑوں کے درمیان الیکشن جس میں کسی بھی جماعت کے  حکومت میں آنے کا امکان موجود ہوتا ہے( کے تسلسل کے ذریعے آہستہ آہستہ وہ برائیاں ختم ہو جائیں گی جو آج تشدد کو پیدا کر رہی ہیں۔ یہاں دو نکات سامنے آتے ہیں کہ نتائجیت پسند لبرل عملی سیاسیات ہم سے یہ لازمی توقع رکھتی ہے کہ ہم کچھ عرصہ تشدد کو محض اس لیے گوارا کریں کہ شاید اسے  مستقبل میں ختم کیا جا سکے۔ نیز یہ پہلو کہ ایک عملی لبرل بندوبست اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ نظام سے بیزاری کی صورت میں بھی نظام کو ختم کرنے کے لیے اس کی حدود سے انحراف کیا جائے۔ یہاں آکر محسوس ہوتا ہے کہ لبرل تصور آزادی ایک محدود تصور ہے جہاں ناصرف آزادی وضع شدہ حالت میں ایک دستاویز کے طرح ہمیں پیش کی جاتی ہے بلکہ یہ بھی کہ ایک طبقہ امکانی طور پر ہمیشہ آزادی سے محروم رہتا ہے۔  لبرل تصور آزادی میں اس کوتاہی کی بنیادی وجہ وہ تضاد ہے جو لبرل ازم کے تصور فرد کے بطن میں پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ فرد کے لیے individual  کا تعین یا تعریف جدیدیت کے دور میں عام ہوئی اور اس نے پہلے سے موجود person  کے تصور کی جگہ لی۔  individual سے مراد ایک انفرادی فعلی یونٹ ہے جبکہ person  کے تصور میں اس انفرادیت کے ساتھ اخلاقی و اقداری مقصدیت بھی شامل ہے۔ جدید افراد منطقی طور پر مساوی ہیں اور اسی حوالے سے قانون کے سامنے برابر اور سیاسی طور پر یکساں حقوق کے مالک ہیں۔ تاہم افراد معاشی طور پر طبقات میں تقسیم ہیں اور یہ تقسیم جائز ہے۔ دولت اور ذرائع دولت پر چند افراد کی ملکیت کو قانونی تحفظ حاصل ہے بشرطیکہ وہ اس کا ٹیکس ادا کرتے رہیں۔ اس ٹیکس کے پیسے سے حکومت عام شہریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی کی کوشش کرتی ہے اور ہسپتال ، سکول وغیرہ کا انتظام کرتی ہے اور چونکہ ایک فرد واحد محض ایک یونٹ ہے جو کوئی سرگرمی ادا کر سکتا ہے لہذا  بالادست طبقے کے افراد سرمایے اور ملکیت کی مدد سے سرگرم رہتے ہیں اور عوام اس بڑی مشین کا ایک پرزہ ہونے کے ناطے ساری زندگی کام میں جتے رہتے ہیں تاکہ زندہ رہ سکیں۔ لیکن چونکہ یہ دونوں فعلی یونٹ ہونے کے اعتبار سے مساوی ہیں لہذا عملی طور انہیں مساوی ہی لکھا اور سمجھا جاتا ہے تاہم اس سے تلخ معاشی حقائق اور استحصال نہیں چھپ سکتا جو تشدد کے بنیادی محرکات ہیں۔ لبرلزم اس حوالے سے فکری بدقسمتی کا شکار رہا ہے کہ اس نے ناصرف فرد کے ساتھ موجود اخلاقی و قدری مقصدیت کو ختم کیا بلکہ معاشی آزدی و مساوات کی طرف سے آنکھیں چرا کر استحصال کو جواز بخشا۔

استحصال اور تشدد آپس میں جڑواں ہیں۔ غلامی انسانوں کا بدترین استحصال تھا جس میں بھیانک تشدد واضح طور پر موجود تھا۔ جدید دور میں جس طرح غلامی قائم رہی مگر زنجیریں لطیف اور ان دیکھی ہو گئیں اسی طرح تشدد باقی تو ہے مگر اس کی شکلیں لطیف ہو چکی ہیں تاہم اس کو دریافت کرنا ناممکن کام بھی نہیں۔  ہم جانتے ہیں کہ اولین سرمایہ داری  نے نوآبادیات کا سلسلہ متعارف کرایا ۔ غلام ملک نہ صرف خام مال پیدا کرتے بلکہ منڈی کے طور پر بھی استعمال ہوتے تھے۔ اس دوران ان ممالک پر بے انتہا مظالم روا رکھے گئے تاہم سرمایہ داری اور لبرل حکومتوں نے اپنی سرزمین پر انہی نوآبادیات کی لوٹ سے تقویت پائی۔ جدید دور میں بھی یہ ظلم برقرار ہے تاہم اب چونکہ انسانوں کے حقوق عالمی طور پر یکساں ہیں اور گورے کالے میں کم از کم نام کو کوئی فرق نہیں لہذا لبرل جارحیت کے مواقع پر ایسے ممالک اپنی عوام کو اول تو جنگ سے بے خبر رکھتے ہیں یا خود اس جنگ کو حقوق کی جنگ کا نام دیتے ہیں۔ ویت نام جنگ کے دوران امریکہ کی شہری مزاحمت میں یہ سوال اہم تھا کہ جب تک ہم اپنے ملک میں اس ظلم کو نہیں روکتے تب تک تیسری دنیا میں جنگ نہیں رک سکتی۔ اسی سے ملحقہ یہ سوال بھی عالمی افق پر ایک جارح طاقت اپنی سرزمین پر اپنے شہریوں سے غیرمشروط طور پر عادل کیسے رہ سکتی ہے؟

لبرلزم جس معاشی ڈھانچے کو فرض کرکے کام شروع کرتا ہے وہ معاشی ڈھانچہ تقریباً اپنی ابتدا ہی سے بین الاقوامی نوعیت کا رہا ہے۔ سرمایے کو عالمی سرمایہ بننا ہوتا ہے کیونکہ اس کا وطن منافع ہوتا ہے سو اس کو اپنے افعال کے لیے عالمی منڈی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس وجہ سے معاشی مفادات عالمی سطح تک پھیل جاتے ہیں۔ ان مفادات کے تحفظ کے لیے دو طرح سے کام کیا جاتا ہے۔ تیسری دنیا میں ملاشاہی ، فوجی حکومتوں ، ڈکٹیٹر شپ سے لے کر کرپٹ سیاسی جمہوریت تک تقریباً ہر قسم کی ریاست ہی اپنے ساتھ ملا کر گماشتہ بنایا جاتا ہے جو عوامی مزاحمت کے خلاف پہلی دیوار بنتی ہیں۔ آفاقی لبرل اقدار کی ترویج کی جاتی ہے جو مغربی لبرل سامراج کی اقداربھی ہیں ہرچند اس کا استبداد بھی واضح ہے۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنی بعض صورتوں میں ان اقدار کی پیش کردہ شکلیں تیسری دنیا میں جس سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کرتی ہیں وہ مغرب کے لیے بھی سب سے زیادہ قابلِ قبول ہے۔ چونکہ اس نظام کی ایک اور خرابی یہ بھی ہے کہ یہ اختلاف کا حق بھی اپنے ڈھانچے کی حدود کے اندر دیتا ہے پس اس معاشی و سیاسی استحصال سے مزاحمت اور للکارنے  کا نتیجہ سامراج کی براہ راست یلغار سے لے کر کسی عوام دشمن پٹھو حکومت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

اس تشدد کی ایک اور صفت یہ ہے کہ اس کے حقیقی مقصد کو کبھی مقصد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور عموماً اس قتال کی وجوہات مسخ کردی جاتی ہیں یا غلط طرف منسوب کردی جاتی ہیں۔ ان حالات میں بجائے معاشی مفادات کے تحفظ اور سیاسی استبداد کے استحکام کی بجائے  اخلاقی وجوہات و انسانی شادابی ، جمہوریت کی تخم کاری اور امن و امان کی فراہمی  کا نام لیا جاتا ہے۔ اس تشدد کی وجوہات کو تہذیبوں کی تاریخ میں متصادم اقدار کی جنگ بھی بنایا جاتا ہے۔ تاہم ان تمام صورتوں میں لبرل مغرب کی اجارہ داری اور ظفرمندی اس بات کا اشارہ ہے  کہ بہرحال فائدہ اسی گروہ کو ہے جس کی معاشی طاقت اور اس سے جڑے وسیع مفادات کی حفاظت کا انتظام سب سے بڑا ہے۔ یہا ں آکر تشدد کو جائز کرنے والے مندرجہ بالا مفروضے کس قدر کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔

طالبان کا ظہور اس بڑی تصویر کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر صرف طالبان ہی انسان دشمن ہیں تو ان کے آقا کیوں نہیں؟ اگر مذہبی جنگجو دو عشرے پہلے مغربی لبرل ازم اور جمہوریت کے پسندیدہ تھے تو پھر معتوب کیوں ہوئے؟ عراق ، لیبیا کی مثالوں میں بھی سبق موجود ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ عالمی لبرل سامراج کی مداخلت کے بغیر یہ قدر پھل پھول سکیں۔ طالبان یا اس طرح کے دیگر گروہ تشدد کا ” ڈیڈ اینڈ” نہیں ہیں۔ اسی تشدد کے تانے بانے آگے جاکر عالمی لبرل سامراج اور مزید آگے جاکر کارپوریشنز کے مفادات کے ساتھ مل جاتے ہیں جو معاشی استحصال اور عدم مساوات کا مظہر ہے۔ اس تشدد کا ایک روپ دوسرے سے بظاہر بھیانک ہو سکتا ہے لیکن اس کے تمام روپ ایک ہی چہرے کی داستان ہیں۔  مفادات سلامت رکھنے اور اپنا نام بچانے کے لیے منظم طور یہ کام کیا جاتا ہے کہ اس سلسلہ وار تشدد کے کسی ایک مظہر کے حد سے زیادہ نمایاں کر دیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ دنیا بھر کا اصل مسئلہ فلاں علاقے کے چند ہزار جنگجو ہیں۔ دنیا کے مستقبل اور امن کو اور کوئی خطرہ نہیں۔ میڈیا اور سرکاری بیانیوں کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا جاتا ہے اور عوام کو ناصرف گمراہ رکھا جاتا ہے بلکہ تشدد  بھی نئے نام سے جاری رہتا ہے۔ جیسے ہمیں کشمیر کا ظلم تو بتایا جاتا ہے مگر ملک کے اندر کے ظلم پہ بات نہیں کی جاتی۔  اسی طرح مقامی ظلم پر آواز اٹھانے پر بتایا جاتا ہے کہ اس آفت کا کوئی درجہ نہیں ۔ اصل مسئلہ شام میں جاری ہے۔ تشدد کرنے والی طاقتوں کی ڈوریاں ان تمام جگہوں پر آپس میں جڑی ہوئی ہیں مگر عوام ہر جگہ الجھے ہوئے اور منتشر ہیں۔ اس انتشار کو دانستہ استحکام بخشا جاتا ہے۔

تشدد کے معروضی اسباب کے ساتھ ساتھ نفسیاتی محرکات بھی ہیں۔ ایک شخص تلخ حالات میں مرضی کے بغیر ہی سہی لیکن وقت گزار لے گا جب کہ ممکن ہے کوئی اور ہتھیار اٹھا لے یا تشدد کا کوئی راستہ اپنا لے۔  جدید معاشرہ جس کی تعمیر میں لبرلزم نے اہم ترین حصہ ڈالا ہے اس سماجی ریخت کا باقاعدہ ذمہ دار ہے جس کا کوئی متبادل اس نے ابھی پیش نہیں کیا۔ اقدار کا یہ انہدام جس کی طرف اشارے مغرب میں کوئی ڈیڑھ سو سال قبل سے کیے جارہے ہیں ہمارے معاشرے میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں ابھی فرد کے وجودی بحران اور اس کی سچ پا سکنے کی اہلیت کے اضافے کی کوئی خاطر خواہ فکری کوششیں بھی نہیں کی گئیں۔ ہمارے ہاں سیاسی مذہبیت اور تصوف سے باہر نکل فرد کے بحران پر بات نہیں کی گئی۔ ہمارے معاشرے کا فرد اپنے وجود کے اظہار سے ناواقف یا نااہل رہا ہے جس کی وجہ سے انفرادی سطح پر تخلیقی فعالیت کا ظہور بھی نہیں ہوا۔ اس کا ایک اور نقصان یہ نکلا کہ ہمارے معاشرے میں انبوہ عظیم کمزور شخصیت ، فکری نابینائی اور وجودی کہولت کا شکار ہے اور استحصال کے اس سارے چکر میں شکار بننے کے لیے موزوں ترین شے ہے۔ انکار اور انقلاب کا جذبہ جس وجودی و نفسی صعود کا تقاضہ کرتا ہے تاکہ آئیڈیالوجی کے اب بتکدہء تصورات کو توڑ کر حقیقت تک پہنچنے کا خطرہ مول کیا جا سکے۔ ہمارے یہاں ابھی یہ شعور بھی نہیں ہے اور ہے بھی تو خام تر۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. نعمان علی خان on

    اعلٰی تجزیہ۔ ابوبکر سے اس سے کم کی توقع ہے ہی نہیں۔ عام پاکستانیوں کی ذہنی طالبانیت اور “طالبان” کی عملی طالبانیت میں جو فرق “تشدد” کی موجودگی یا غیر موجودگی سے پیدا ہوتا ہے اس کی نشاندہی خوب ہے۔
    چند نکات:
    1: “لبرل ریاست میں تشدد پر اجارہ داری کو قانونی و اخلاقی چھتری حاصل ہے” اس تعریف پر امریکہ پورا نہیں اترتا جہاں تک ریاست کےاندرونی تشدد کا تعلق ہے۔ ویت نام اور گوانتانامہ بے مڈل ایسٹ وغیرہ امریکہ کا حصہ نہیں۔ کسی اور لبرل ریاست کی مثال دینا چاہئیے تھی۔ مثلاً بھارت کا مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پردن بدن بڑھتا ہوا ریاستی اور غیر ریاستی تشدد۔
    2: “قریب سے دیکھا جائے تو یہ سامنے آتا ہے کہ معاشی استحصال ، حقوق کی پامالی ، آزادیوں پر قدغن اور جابرانہ نظام ایسے محرکات ہیں جو تشدد کو جنم دیتے ہیں”۔ جابرانہ نظام بذات خود بھیانک ریاستی تشدد ہے۔ اس کے خلاف اگر عوام میں تشدد کے جزبات پیدا ہوتے ہیں تو پھر انقلاب آتا ہے اور چوراھوں پر گلوٹینیں سجتی ہیں۔ امید ہے کبھی نہ کبھی پاکستان کے عوام بھی اس طرح کی گلوٹینیں ایوانوں اور شاہراہوں پر سجائیں گے۔
    3: ” جدید افراد منطقی طور پر مساوی ہیں اور اسی حوالے سے قانون کے سامنے برابر اور سیاسی طور پر یکساں حقوق کے مالک ہیں۔ تاہم افراد معاشی طور پر طبقات میں تقسیم ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دولت اور ذرائع دولت پر چند افراد کی ملکیت کو قانونی تحفظ حاصل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ٹیکس کے پیسے سے حکومت عام شہریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی کی کوشش کرتی ہے اور ہسپتال ، سکول وغیرہ کا انتظام کرتی ہے ۔ ۔ ۔، ،۔ بالادست طبقے کے افراد سرمایے اور ملکیت کی مدد سے سرگرم رہتے ہیں اور عوام اس بڑی مشین کا ایک پرزہ ہونے کے ناطے ساری زندگی کام میں جتے رہتے ہیں تاکہ زندہ رہ سکیں۔ لیکن چونکہ یہ دونوں فعلی یونٹ ہونے کے اعتبار سے مساوی ہیں لہذا عملی طور انہیں مساوی ہی لکھا اور سمجھا جاتا ہے تاہم اس سے تلخ معاشی حقائق اور استحصال نہیں چھپ سکتا جو تشدد کے بنیادی محرکات ہیں”۔ کافی چیزیں مکس اپ ہورہی ہیں۔ ویلفئیر سٹیٹس میں ریاست شہریوں کی بنیادی ضروریات جن کا انسان کی سروائیول سے تعلق ہے، ان کو فراہم کرنے ضمانت دیتی ہے۔ آپ ویلفئیر سٹیٹ میں محض اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئیے کام نہیں کرتے۔ بلکہ اپنی سوشل لائف کو آرام دہ بنانے کیلئیے کام کرتے ہیں۔ ویلفئیر سٹیٹس میں ایسا کوئی تشدد عام نہیں جن کا آپ نے لبرل ریاستوں میں استحصال اور نتیجتاً تشدد کے حوالے سے کلیم کیا ہے۔ اپنے تیسری دنیا کے نام نہاد لبرل ممالک کی بدبختیاں مغرب کے ویلفئیر سٹیٹس کے سر منڈھنا اچھی بات نہیں۔

    آخری تینوں پیراگرافس خوب ہیں اور نتیجہ بھی عمدہ ہے ” انکار اور انقلاب کا جذبہ جس وجودی و نفسی صعود کا تقاضہ کرتا ہے تاکہ آئیڈیالوجی کے اب بتکدہء تصورات کو توڑ کر حقیقت تک پہنچنے کا خطرہ مول کیا جا سکے۔ ہمارے یہاں ابھی یہ شعور بھی نہیں ہے اور ہے بھی تو خام تر۔”

    • نعمان صاحب اس تفصیلی تبصرے کے لیے ازحد شکریہ۔ آپ نے جو نکات پیش کیے وہ بہت اہم ہیں اور اس مکالمے کا حصہ ہیں۔
      1۔ اول نکتے کے بارے میں معافی چاہتا ہوں کہ وہاں جملے میں ابلاغ درست طرح نہیں ہو سکا۔ میرا مقصود یہ کہنا کہ تشدد پر ریاست کی اجارہ داری کو قانونی و اخلاقی چھتری حاصل ہوتی ہے۔ گویا ریاست کا تشدد جائز سمجھا جاتا ہے اور یہ تشدد ضروری نہیں کہ وہ اپنے ملک میں کریں وہ عالمی طور پر بھی کر سکتے ہیں۔

      2۔ جابرانہ نظام کے بارے میں آپ نے کیا خوب اور گہری بات کی۔ حرف بحرف درست ہے،
      3۔ تیسسرے نکتے پر جو چیزیں مکس ہو رہی ہیں وہ طوالت سے بچنے کے لیے معاملات کو ذرا زیادہ کمپریس کرنے کا نتیجہ ہے۔ ویلفئیر اسٹییٹ کے حوالے سے آپ کی بات ایک الگ اور اہم موضوع ہے جس کا میں یہاں مکمل جواب تو نہیں دے سکتا مختصرا اتنا کہوں گا کہ میں خود کو متفق نہیں پاتا۔ اس پر تفصیلی کلام کبھی پھر سہی تاہم ویلفئیر اسٹیٹ کے اندر شہریوں کی آرام دہ زندگی میں ‘آرام’ اور’لطف’ کے تصورات میرے نزدئک زیادہ پرجواز نہیں ہیں۔ مزید میرا مقدمہ ان ممالک کا اپنے ملک کے باہر کے تشدد سے رشتہ دکھانا ہے۔ بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ کسی اور کے نقصان پر کسی اور شاد رکھنا لبرل سرمایہ دار معیشت کا جز ہے۔ یہی اصول آگے دیکھیں تو ایسی ریاستیں اپنے ملک کے شہریوں کو تو ویلفئیر مہیا کرتی ہیں لیکن عالمی طور پر غاصبانہ ہوتی ہیں۔ یہی نامیاتی رشتہ اس مضمون کا حصہ ہے۔

      باقی آپ کا بہت شکریہ۔ سلامت رہیں

  2. وقاص احمد on

    بہت خوب ،ریاستی اختیار کی نفی اور مارکسی سوشل ازم کے حوالے سے اختلافی تصورات کے حوالے سے بھی اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا …باقی مضمون میں آپ نے کوئی بات ایسی چھوڑی نہیں جس سے کوئی بنیادی اختلاف کیا جا سکے ..

Leave A Reply

%d bloggers like this: