گندم، سرکار، پٹوار او ر میڈیا: اکمل شہزاد گھمن

0

کہنے کو پاکستان زرعی ملک ہے مگر جتنا مفلوک الحال طبقہ کسانوں کا ہے شاید ہی کوئی اور ہو۔ویسے تو صحت اور تعلیم کے حوالے سے بھی وطن عزیز میں صورتِ حال ناگفتہ بہ ہے۔ پالیسی ساز عملاً ناکام ہو چکے ہیں اور محض ڈنگ پٹائو پالیسی چل رہی ہے۔ زراعت وہ شُعبہ ہے جس کی ملکی معیشت میں حیثیت ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے مگر پچھے ستر سالوں میں شاید ہی کسان کو کوئی سُکھ کا سانس نصیب ہو اہو۔پاکستان کے کھیت کھلیان اور کچہریاں اسی کے دم قدم سے آباد ہیں۔ کھیت کھلیانوں میں تو وہ اپنی محنت سے ہریالی کے رنگ بھرتا ہے جب کہ کچہری میں اسے نا انصافی کی بنیاد پر کھڑا ہمارا سماجی ڈھانچہ کھینچ کے لاتا ہے جہاں اس کا خون نچوڑا جاتا ہے۔
آج کل پنجاب میں بالخصوص اور پورے پاکستان میں بالعموم گندم کی کٹائی کا موسم چل رہا ہے۔ ایک زمانے میں یکم بیساکھ کو پنجاب میں گندم کی کٹائی شروع ہو جاتی تھی بیساکھی منانے کی ایک وجہ گندم کی فصل کا تیار ہونا بھی ہوتا تھا۔
موسمی تغیر و تبدل کے باعث اب پنجاب میں گندم کی کٹائی بیساکھی کے چند دن بعد شروع ہوتی ہے۔ موجودہ سیزن میں بھی موسم کے تیور ٹھیک نہیں لیکن اس کے باوجود گندم کی کٹائی پنجاب میں تقریباً گزشتہ دس روز سے جاری ہے۔21اپریل 2017کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے روایتی پگڑی پہن کر قصور کے گائوں فتح پور میں گندم کٹائی کا افتتاح کر دیا۔ گو کہ آج رسماً ’’وزیر اعظم پاکستان نے بھی شیر گڑھ میں یہ رسم ادا کر دی ہے۔ہر دورِ حکومت میں گندم کٹائی کا یہ ڈرامہ دہرایا جاتا ہے مگر عملاً کسان کو بار دانے کے لیے’’رلنا‘‘ پڑتا ہے۔ باردانہ وہ بوریاں ہوتی ہیں جن میں گندم بھر کر کسان سرکاری گودام میں لاتے ہیں پہلے انھیں محکمہ مال زیر کاشت رقبے کے حساب سے باردانہ جاری کرتا ہے جتنا باردانہ ملتا ہے اُتنی ہی گندم وہ محکمہ خوراک کو دے دیتے ہیں اور بعد ازاں اسی حساب سے کسانوں کو ادائیگی ہو جاتی ہے۔
بظاہر یہ بہت آسان مراحل لگتے ہیں لیکن کسان کے لیے یہ بہت جاں گُسل طریقہ کار ہے۔
محکمہ مال کیا ہے ؟ سمجھ لیجئے یہ یہی غریب عوام کی جکڑ بندی، الیکشن میں دھاندلی اور قبضہ گیری کا وسیلہ ہے۔ یہ محکمہ کس طرح کام کرتا ہے؟ سمجھنے کے لیے ایک مثال سُن لیجئے۔
قومی انتخابات کے دوران پنجاب کے ایک ضلع میں بسلسلہ کوریج جانا ہوا۔ وہاں کی ایک تحصیل میں ایک شناسا بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ انھیں جب مطلع کیا کہ آپ کی تحصیل میں بھی آمد ہو گی تو انھوں نے کہا کہ دوپہر کا کھانا آپ نے میرے ساتھ کھانا ہے۔
اُن کے ساتھ چند ایک پولنگ سٹیشنوں کا جائزہ لیا اور بعد از دوپہر وہ ہم دو افراد کو ایک شاندار میرج ہال سے ملحقہ ریستوران میں لے گئے وہاں ایک پر تکلف کھانا ہمارا منتظر تھا۔ کھانے کا انتظام کرنے والے متعلقین کا اے سی صاحب نے تعارف کروایا کہ یہ ہمارے گرداور صاحب ہیں۔گرداور صاحب نے متعلقہ پٹواری اور گائوں کے نمبردار کا بھی ہلکا سا تعارف کروایا۔ اصل کہانی یہ تھی کہ اے سی صاحب نے تحصیل دار،اس نے گرداور اور گرداور نے پٹواری، پٹواری نے متعلقہ نمبردار کو کھانے کا بندوبست کرنے کا کہہ دیا۔ اور یہ سارا بندوبست ہو گیا۔ یہ محض ایک پہلو ہے۔سرکاری پارٹی کے جلسوں میں حاضری پوری کرنا،مخالفین کو دبانا، سرکاری افسران کو دودھ، گھی اور دیگر لوازمات فراہم کرنا، سرکاری تقریبات اور جلسوں کا بندوبست کرنا یہ سارے کام محکمہ مال ہی کرتا ہے اور محکمہ مال کا مدار المہمام دراصل پٹواری ہی ہوتا ہے۔اس سارے گھن چکر میں بالعموم عام شہری اور بالخصوص کاشت کار پستا ہے۔ضلع سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ہمارا بھی تھوڑا بہت کاشت کاری کا سلسلہ ہے۔ چاول کی فصل تو کُھلی منڈی میں جیسے تیسے فروخت ہو جاتی ہے مگر گندم کی فصل تیار ہوتی ہے تو اُسے مناسب ریٹ پر فروخت کرنا باقاعدہ ایک عذاب ہے۔ ہر سال کسی نہ کسی طرح یہ بندوبست کرنا پڑتا ہے کہ گندم کی فصل مناسب قیمت پر ٹھکانے لگ سکے۔کیونکہ اگر محکمہ خوراک یہ گندم نہ خریدے تو اونے پونے داموں آڑھتی کو فصل بیچنی پڑتی ہے۔
تقریباً ہفتہ دس دن پہلے گاہے گاہے کٹائی شروع ہو چکی تھی مگر گزشتہ ہفتے دو تین دن کی بارشوں کی وجہ سے عمومی طور پر کٹائی لیٹ ہو گئی۔ضلعی سیالکوٹ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ڈاکٹر عمر شیر چھٹہ کے مطابق 23،24اور 25اپریل کو ہونے والی بارشوں کی وجہ سے اُگی فصل گیلی ہو گئی۔علاقہ معززین،منتخب نمائندوں،خوراک اور محکمہ مال کے ذمہ داران پر مشتمل کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ باردانہ کی تقسیم 28اپریل کو شروع ہو گی۔28اپریل کو بار دانہ کی تقسیم ہوئی اور 8 اپریل تک، اب کسی کاشت کار کو مزید باردانہ نہیں دیا جائے گا۔ سمبڑیال کے اسٹنٹ کمشنر توقیر الیاس چیمہ کے مطابق 28اپریل کو یہ معاملہ مقامی صحافیوں، کسانوں اور معززین علاقہ کے سامنے شفاف طرقے سے طے پایا۔ظاہر ہے باردانے کی تقسیم کے حوالے سے پالیسی پورے پنجاب میں ایک جیسی ہے۔ متعلقہ افسران کو جو احکام ملتے ہیں وہ بعینہ ان پر عمل در آمد کرتے ہیں۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ گندم کی فصل دو ہفتوں میں تو تیار نہیں ہوتی اور نہ ہی خریداری کے اہداف دو چار دن میں طے پاتے ہیں۔ 5،6مہینے میں تیار ہونے والی فصل کی برداشت کے وقت کسانوں کو کیوں ذلیل کیا جاتا ہے۔ جب زیر کاشت رقبے کی گرداوری، پہلے ہی ہو چکی ہوتی ہے تو کٹائی سے ایک دور وز پہلے باردانہ دینے کا عمل کیوں شروع ہوتا ہے۔پنجاب میں خاندان کے سربراہ کی زندگی میں زمین بچوں کو منتقل کرنے کا رواج نہیں اور ویسے بھی ایسے عمل کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔زمین کا فرد حاصل کرنے اور بعد گرداور، تحصیل دار اور اے سی سے تصدیق کے بعد باردانہ کے لیے فائل تیار ہوتی ہے اور پھر ستر،ستر اور اسی اسی سال کے بزرگوں کو کہا جاتا ہے جو آکے پہلے لائن میں کھڑا ہو گا اسے پہلے باردانہ ملے گا۔لوگ بے چارے صبح سویرے لائن میں حاضر ہو جاتے ہیںاورسارا دن گرمی میں ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔ فرض محال اگر کل یعنی 28اپریل کو، کوئی کسان بوجوہ’’لائن حاضر‘‘ نہیں ہو سکا اب ہفتہ بھر پہلے تیار ہونے والی اس کی فصل اگر موسم نے اجات دی تو مزید 9دن کھیتوں میں کھڑی رہے گی۔ اور اگر قسمت نے یاوری کی،8اپریل کو باردانہ مل ہی گیا تو اگلے دنوں میں جانے کب فصل جمع کروانے کی باری آئے گی۔
کل سے کئی دوستوں کو باردانے کے لیے فون کیے۔ جن میں ایک حکومتی پارٹی کے ایم پی اے دوست اور ایک صوبائی وزیر کے پی آر او سمیت مقامی صحافی اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔صوبائی وزیر کے پی آر او نے تو کہا کہ بے شمارسفارشی فون آرہے ہیں اور میں فون کر کے تھک گیا ہوں کوئی بات نہیں سنتا۔اصل بات کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہی کسانوں کا استحصال جاری ہے۔ محض خالی خولی نعرے کسانوں کی بھلائی کے لیے بلند کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر صورتِ حال مختلف ہے۔کئی سال قبل بھی بار دانے کا بحرا ن تھا اور صورت ِ حال یہ تھی کہ اگر کسی کسان کی گندم دس ایکٹر ہے تو اُسے بادانہ 5،4ایکٹر کا دیا جا رہا تھا۔اُس وقت کے کنٹرولر فوڈ انور رشید سے رابطہ ہوا تو اُن کے سامنے یہ سوال رکھا کہ اگر کسی کسان کی فصل دس ایکٹر ہے اور آپ باردانہ اُسے 4،5ایکٹر کا دے رہے ہیں تو باقی فصل کا وہ کیا کرے تو کہنے لگے وہ ’کھائیں پئیں‘۔نہ جانے موجودہ حکمرانوں کو کسانوں سے کیا پرخاش ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اُن کی فصلیں رول رہی ہیں۔رواں برس بنڈی کی صورت حال بہت ہونے سے چاول کی فصل کچھ بہت داموں فروخت ہوئی ورنہ گزشتہ کئی سالو ںسے برے حال ہیں۔سستی کھاد کی فراہمی کے حوالے سے بھی ایک پیچیدہ سی سکیم جاری ہے جس کا مقصد کسانوں کو فائدہ پہنچانے سے زیادہ شہرت کمانا ہے۔ اگر کسانوں کی بھلائی مقصود ہو تو سیدھا سیدھا انھیں فی بوری رعایت دے دی جائے نہ کہ پہلے وہ رجسٹریشن کروائیں اور پھر چند سستی بوریاں کھاد حاصل کرلیں۔دراصل ایسی تمام سکیموں کا مقصد منظور نظر افراد کو نوازنا ہوتا ہے نہ کہ عام آدمی کو سہولت دینا۔شوگر،کاٹن اور آڑھتی مافیا ہر روز کسانوں کا استحصال کرتا ہے۔ یہی مافیا سرکار دربار کا حصہ ہیں۔جعلی اور مہنگی ادویات، کھاد، پانی، بجلی کی عدم فراہمی، فصلوں کی خریداری کا غیر منصفانہ نظام ہمارے کسان کا ’گذشتہ‘ کئی دہائیوں سے مقدر ہے اور آئندہ کسی بہتری کی کوئی امید بھی نہیں۔ مگر ہمارے ہاں بڑے بڑے کالم نگار اور دانش وروں کوکسان کی مفلوک الحالی پر دو لفظ لکھنے کی توفیق نہیں۔ ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں، ان کا کسان سے کیا تعلق؟ اور انھیں کسان سے کیا لینا دینا ہے۔ ان بے چاروں کو تو یہ بھی پتا نہیں ہو گا کہ ایک مانی کتنے من پر مشتمل ہوتی ہے۔ان صاحبانِ علم و دانش کو کون سمجھائے کہ ملک نظریات سے زیادہ عوام کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اور عوام کو حقوق دیے بغیر کوئی نظریہ تادیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح ہمارے ٹی وی اور اخبارات، زراعت اور کسان کی بھلائی پر مبنی اشتہارات تو بہر صورت چلاتے اور چھاپتے ہیں مگر کسان کی حالت زار پر دو لفظ کہنے سے وہ بھی گریز کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اشتہارات سے تو پیسے ملتے ہیں کسان نے انھیں کیا دینا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: