جو رہی تو بے خبری رہی: شکور پٹھان

0

گر تو برا نہ مانے

مجھے بڑا گمان تھا کہ میں دنیا کو سمجھ گیا ہوں۔ اور یہ اس بناء پر تھا کہ میں نے دوسری جماعت سے اخبار پڑھنا شروع کردیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں بہت کچھ نہیں بلکہ سب کچھ جانتا ہوں۔ لیکن جب دنیا کو برتا، دنیا دیکھی اور دنیا کو سمجھا تو جانا کہ اصل دنیا کوئی اور ہے اور میں نے دنیا کو صرف اخبار کی نظر سے دیکھا اور پرکھا تھا۔ یعنی میں جو اخبارات پڑھ کر خود کو ” باخبر” جانتا تھا، دراصل ایک بے خبر شخص تھا اور بہت سی ایسی باتوں پر یقین کرتا تھا جو دراصل ویسی نہیں تھی جیسی مجھے باور کرائی گئی تھیں۔

میں چار چار اور چھ چھ اخبارات پڑھ کر لوگوں سے تبادلہ خیال اور بحث مباحثہ کرتا اور یہ سارے اخبار ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں اور اپنی پالیسی کے مطابق خبریں بنا کر میرے دماغ میں اتارتے یعنی چاروں جانب سے misinformation میرے اندر اتاری جاتی۔
میں جو کبھی اپنے دن کا آغاز اخبار پڑھے بغیر نہیں کرتا تھا، اورآپ جانتے ہیں کہ دن میں سب سے پہلے آپ کیا کرتے ہیں۔ اور پھر بری بری خبریں پڑھ کر ایک برے دن کاآغاز کرتا تھا۔ اخبار پڑھ کر نہ صرف موجودہ حالات بلکہ آنے والے دنوں کے لئے فکرمند ہوجاتا کہ اخبار میں شاذ ہی کوئی اچھی خبر ملتی ہے۔ اب یہ بات پرانی ہوئی کہ کتّا آدمی کو کاٹ لے تو خبر نہیں بنتی بلکہ آدمی کتّے کو کاٹ لے تو خبر بنتی ہے، اب کتے کے کاٹنے کی بات ہی خبر بنتی ہے کہ آدمی سے زیادہ کتوں اور گدھوں کو کوئی نہیں کاٹتا، بلکہ ان کی کھال تک درآمد کردیتا ہے۔
اخبارات نہ جانے کیوں بری خبریں ہی پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ کوئی اچھی بات ان کے نزدیک خبر ہی نہیں ہوتی۔یہ جو آپ ہر وقت جھنجھلائے ہوئے سے رہتے ہیں۔ آپ ہر شدید ڈیپریشن کا حملہ ہے اور طبیعت میں کسلمندی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج آپ نے پورا اخبار معہ ادارتی صفحات کے پڑھ لیا ہے۔
مویشیوں کو دیکھیں، کیسی بے فکری سے جگالی کرتے نظر آتے ہیں، پرندے فضاؤں میں آزادی سے اُڑتے ہیں اور چہچہاتے ہیں ، غرض تمام چرند وپرند ایک مطمئن زندگی گذارتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اخبار بالکل نہیں پڑھتے۔
اخبارات نجانے کیوں بری خبروں پر ہی یقین اور انہی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یا شاید ہم ہی ایسی خبریں زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔
مثلاً میں ایک مدیر کو جانتا ہوں جو ہفتے بھر کے لئے اخبار کچھ اس ترتیب سے مرتب کرتے ہیں۔
پیر۔۔بچوں اور نوجوانوں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان
منگل۔۔خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ
بدھ۔۔غیر معیاری اور جعلی دواؤں کی تیاری اور خریدو فروخت
جمعرات۔۔۔معیشت کی تنزلی اور برآمدات میں کمی کے اسباب
جمعہ۔۔۔دین سے دوری اور بے راہروی میں اضافہ
ہفتہ ۔۔۔فلموں اور ڈراموں کا گرتا ہوا معیار اور کھیلوں کی تباہی
اتوار۔۔۔
چونکہ انہیں علم ہے کہ لوگ اتوار کو خوشگوار موڈ میں ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو کھلا ڈھلا سا محسوس کرتے ہیں اور بری خبر پر نظر ڈالنا پسند نہیں کرتے چنانچہ اس دن موضوعات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں
” پاکستان کا روشن مستقبل”
یا
” ہمارے شاندار ماضی کا ایک سنہرا باب”

یاد پڑتا ہے میرے ایک دوست ہوتے تھے جنہیں سیاست ، حالات حاضرہ، ادب، کھیل اور مذہب سے چنداں دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ باقاعدگی سے ” ایوننگ اسٹار” نامی اخبار خریدتے تھے۔ اس میں صرف اور صرف “Crossword ” یا معمے دیکھا کرتے تھے جن پر پانچ ہزار انعام ملنے کی امید ہوتی تھی، اور یہ وہ دن تھے جب مجھے ایک سرکاری محکمے میں بطور اکاؤنٹنٹ چار سو پینتیس روپے دس آنے تنخواہ ملتی تھی جو میرے بہت سے دوستوں کی تنخواہوں سے کئی زیادہ تھی۔ پانچ ہزار ان کی کل سال کی کمائی ہوتی تھی۔
ایسے ہی ایک دوست ہر اتوار کو باقاعدگی سے اخبار خریدتے ہیں اور اس میں سے کلاسیفائیڈ والے صفحات نکال کر بقیہ اخبار کو ردی میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ دوست پرانے فرنیچر کا دھندہ کرتے ہیں اور صبح سویرے ان گھروں میں فون کرتے ہیں جو بے گھر ہونے والے ہیں یعنی کہیں اور منتقل ہونے سے پہلے اپنے گھر کا سازوسامان فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ میرے یہ دوست صبح سویرے وہاں پہنچ کر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی اور جاکر ان سے پہلے ” مال” نہ اٹھا لے ۔
لیکن اخبار کا سب سے منفرد استعمال میرے گھر میں ہوتا ہے۔ خاتون خانہ ہفتے میں صرف چھٹی والے دن کا اخبار خریدتی ہیں کہ اس میں اضافی صفحات ہوتے ہیں اور وہ انہیں ہمارے طوطے کے پنجرے کے نیچے جو پلاسٹک کی ٹرے ہےجس میں اس کا بول وبراز گرتا رہتا ہے۔ یہ اخبارات صرف اس لئے خریدے جاتے ہیں کہ اس ٹرے میں بچھائے جائیں۔ لیکن دیکھنے میں یہ بھی آیا کہ بعض اوقات خبریں ایسی ہوتی ہیں کہ ہمارا مٹھو انقباض کا شکار ہوجاتا ہے، یا پھر کبھی اتنی گرم خبریں ہوتی ہیں کہ مٹھو کو بدہضمی ہوجاتی ہے۔
میرے ساتھ ایک انگریز نوجوان کام کرتا ہے جس کی طبیعت میں خِسّت کچھ زیادہ ہی ہے جسے وہ کفایت شعاری قرار دیتا ہے۔ اس کا محبوب مشغلہ چیزوں کو ” ری سائیکل” کرنا ہے۔ وہ اپنے گھر کے لئے ٹوائلیٹ رولز کا کام اخبارات سے لیتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے وہ تمام تصاویر دیکھ لیتا ہے، پھر اسی ترتیب سے انہیں استعمال میں لاتا ہے۔ بعض اوقات ان تصویر وہ کی وجہ سے اسے کئی بار رفع حاجت کے لئے جانا پڑتا ہے۔

اخبارات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ روز صرف یہی کچھ دنیا میں ہوا تھا، ورنہ اگر کچھ اور ہوا ہوتا تو ضرور اخبار کی زینت بنتا۔ یہ بھی ایک حیران کن بات ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اخبارات کے دس پندرہ یا بیس صفحات میں سما جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں زیادہ تر ہر طرف خیریت ہی ہے ۔
اگر آپ کے بارے میں کوئی بری یا منفی خبر اخبار میں آجائے تو ہرگز ملال نہ کریں۔ یہ آپ کو شہرت دوام بخشنے کا باعث ہوسکتی ہے، آپ ہی بتائیں کتنے لوگ ہیں جو “ارفع کریم ” کے نام اور کام سے واقف ہیں۔ البتہ ایان علی کے شب وروز سے بچہ بچہ واقف رہتا ہے۔

میرا نصف صدی سے زیادہ کا تجربہ بتاتا ہے ، اور یہ تجربہ ملکی اخباروں سے حاصل ہوا کہ حکومتیں دو طرح کہ ہوتی ہیں۔ ایک وہ جن کے عہد میں ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ ملک تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہوتا ہے۔ روزانہ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح ہوتا ہے۔اور ملک کا مستقبل بہت شاندار ہوتا ہے اور عوام النِاس بڑے مطمئن اور پر امید ہوتے ہیں۔
دوسری حکومتیں وہ ہوتی ہیں جن میں ملک تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہوتا ہے، حکمران انتہائی نا اہل اور بدعنوان ہوتے ہیں، عوام النِاس ان حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں ہر طرف مایوسی کے اندھیرے چھائے ہوتے ہیں۔
اور یہ سب صرف اس پر منحصر ہوتا ہے کہ ملک میں فوجی حکومت ہے یا جمہوریت۔

لوگ یونیورسٹی، کالج، مدرسوں اور دارالعلوم میں پڑھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے متعلقہ شعبے کی واقفیت ہوگئی ہے۔ لیکن وہ یہ سب کچھ اخبارات سے سیکھ سکتے ہیں جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ حکومت کیسے کی جاتی ہے، عدالت عظمی کے جج کو کیسے فیصلہ کرنا چاہئیے تھے، اور وہ جو مفتی اعظم نےفتویٰ دیا تھا اس میں کیا اجتہادی غلطی تھی۔ اخبارات یہ بھی بتاتے ہیں کہ ماہرین معیشت نے جو پانچ سالہ منصوبہ ترتیب دیا ہے اس میں کیا سقم ہے، فرسٹ کلاس کرکٹ میں سو سے زیادہ سنچریاں بنانے والے ظہیر عباس کو بلّا کیسے پکڑنا چاہئیے، آٹھ سو انٹرنیشنل وکٹیں لینےوالے وسیم اکرم کو گیند کس جگہ کرانی چاہئیے تھی اور ڈی میں پہنچ کر اصلاح الدین کو کس طرح گول کرنا چاہئیے تھا جو وہ کل کے میچ میں نہیں کر سکے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک حکومت کے لئے چار مخالف اخبارات ہزار سنگینوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ لیکن حکومتیں جانتی ہیں کہ ان سنگینوں کو پھولوں کے گلدستے میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔ گوکہ اس میں لگتے ہیں پیسے زیادہ۔ اخبارات اپنی قیمت وصول کرنا جانتے ہیں۔
ایک غلط فہمی یہ ہے کہ خبریں ، اخبار بناتی ہیں۔ جی نہیں ، یہ اخبار ہیں جو خبریں بناتے ہیں۔ اور یہ کہ خبر وہ نہیں ہوتی جو کہ خبر ہوتی ہے، بلکہ خبر وہ ہوتی ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں ، یا جو اخبار سنا نا چاہتے ہیں۔
اور اخبار ایک ایسا زریعہ ہے جو بے خبر کو جاہل اور کم عقل کو فاترالعقل بنا سکتے ہیں۔
پہلے کبھی اخبار نویس اور صحافی اس موقع پر موجود ہوتے تھے جہاں کوئی واقعہ ہوتا تھا۔ اب وہ یہ کام گھر بیٹھے کرلیتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی خبر سب سے پہلے دینے کے بعد ان کا مخالف اخبار اگلی خبر میں جانی نقصان کی تعداد زیادہ بتا دے تو انہیں افسوس ہوتا ہے کہ خبر ویسی زوردار نہیں رہی جیسی ہونی چاہئیے تھی۔
ایک کروڑپتی کی موت کی خبر زیادہ اہم ہوتی ہے بہ نسبت بس کے حادثے کی خبر جس میں دس عام انسان ہلاک ہو گئے ہوں۔
اور اخبار خبریں کہاں سناتے ہیں، وہ تو فیصلے سناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ریاستی ادارے، حکومت، حزب مخالف بلکہ ہر شریف آدمی ان سے خائف رہتا ہے۔ اخبارات میں وہی کچھ شائع ہوتا ہے جو کہ اکثر یہاں ہوتا ہے، لیکن یہ سچ بھی ہو ، یہ ضروری نہیں۔ دیکھا جائے تو ہم یا تو حکومت کے زیر انتظام ہوتے ہیں، یا اخبارات کے زیر اثر۔
اب احساس ہوتا ہے کہ جو وقت اخبارات کے مطالعے میں صرف ہوا وہ کچھ بہتر اور معیاری کتابوں کے مطالعے میں صرف ہوتا تو شاید زندگی کچھ بہتر ہوسکتی تھی ، یا کم از کم بہتر نظر آتی۔ اخبارات تو آنےوالی دنیا کا کچھ ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ بندہ کہتا ہے یا اللہ اس وقت کے آنے سے پہلے مجھے اٹھالے۔
ہوا کا رخ اخبارات سے زیادہ کوئی نہیں پہچان سکتا۔ جب کبھی ملک میں مارشل لا لگتا ہے، دوسرے دن کے اخبارات فوجی حکومتوں کی ضرورت اور فضائل کے بیانات سے پر نظر آئیں گے۔ لیکن جیسے ہی ڈکٹیٹر کا ڈبّہ گول ہوگا ، عوامی جدوجہد اور جمہوریت کے گن گانا شروع کردیں گے۔ یہی اخبارات بتاتے ہیں کہ آنے والی حکومت پچھلی حکومت سے کیونکر بہتر ہے اور کچھ دن گذرنے کے بعد آپ کو بتارہےہوں گے کہ پچھلی حکومت میں کیا خوبیاں تھیں، موجودہ حکومت جن سے محروم ہے۔ اخبارات اپنے آپ کا دنیا کا آئینہ کہتے ہیں ، بات درست ہے، بس زرا سا مسخ اور ٹوٹا ہوا آئینہ ۔۔۔
جو اخبارات نہیں پڑھتے ان کی کوئی رائے نہیں ہوتی، اور یہ ان سے بہتر ہوتے ہیں جو اخبارات پڑھ کر رائے دیتے ہیں ، اور غلط رائے دیتے ہیں۔
اب اخبارات کی جگہ کئی اور چیزوں نے لے لی ہے مثلاً الیکٹرونک میڈیا، لیکن یہاں بھی وہی صحافی نظر آتے ہیں جو اخبارات میں ہوتے ہیں اور ان کے اور اخبارات کے فضائل واخلاق میں ذرہ برابر فرق نہیں۔ اخبار گزیدہ کو یہاں بھی وہی کچھ ملتا ہے جو کاغذ پر ملتا تھا۔
بالآخر میں نےیہی سوچا ہے کہ بقیہ زندگی سکون اور اطمینان سے گذارنی ہے تو بے خبری ہی بہتر ہے۔
جو دل کو جلائے، رلائے، ستائے
ایسی خبر سے ہم باز آئے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: