خبردار! سوال نہ کرنا

0

میں قلم اٹھاتاہوں توقلم ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔میں سوچتاہوں تو خلاؤں میں گھورتا رہتاہوں۔ بیان کرنے کی کوشش کروں تولفظ ختم ہوجاتے ہیں۔شاید معاشرے کی طرح میری قوت برداشت بھی جواب دی چلی۔میرے لفظ بے حسی کا لبادہ اوڑھنے کہیں دورجابسے۔

ایک سے بڑھ کر ایک سانحہ رونما ہوچکا افسوس کہ یہ سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔
کہیں مثال کا بے جان جسم نوحہ کرتے موجود کہیں اس کی لاش پے گریہ کرتی اینٹیں اور گملے کہ ہمیں اس گناہ میں شامل کرنے سے باز رہو۔

کہیں فضا میں آہ وپکار کرتے اس کے سوال جو آج بھی سینکڑوں ذہنوں میں سوالوں  کی صورت موجود ہیں۔مگر خبردار ہمت نہ کرنا۔ سوال نہ کرنا۔یہ معاشرہ برداشت کی طاقت نہیں رکھتا۔یہ فقط اپنی عدالت لگاکے سزادینا چاہتاہے۔

اب مائیں جوگھر سے دور بچوں سے فون پہ طبیعت اورکھانے کا پوچھتی تھیں اب وہ التجا کرتیں ہیں۔دیکھو بیٹا سوال نہ کرنا۔ لوگوں سے باتوں میں نہ الجھنا۔ جو کہہ دے مان لینا۔۔ اپنی سوچ کو بیان نہ کرنا۔ ہم میں ہمت نہیں کہ جواں بیٹوں کی برہنہ لاشیں دیکھ سکیں۔ انتہا یہ شدت پسندی جو کل تک چند لوگوں پہ مشتمل تھی۔ یہ جس کو ہمیشہ سے غربت ، افلاس، کم علمی پہ مدرسوں سے جوڑا جاتاتھا۔ لگتاہے آج وہ ہمارے کالجوں، یونیورسٹیوں اورمعاشرے کا نصاب بن چکی ہے۔ جس کی ہم جڑیں کاٹنے کا  سوچ رہے تھے وہ شدت پسندی کا درخت اپنی پیداوار شروع کرچکا۔

کہیں نورین لغاری کی صورت جوکہ حیدرآباد میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کی طالبہ ہے۔ یہ سعید عزیر جو IBA کاگریجویٹ ہے جوکہ 43انسانوں کواپنی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ چکا یا مردان یونیورسٹی کے پڑھے لکھے طالبعلموں کے ہاتھوں اپنے جیسے کا دردناک قتل۔

ہمارے معاشرے میں برداشت کا مادہ اس قدرپستی کا شکار ہے کہ ہرفرد جودوسرے سے فکری، علمی، یہ فقہی اختلاف کرتا ہے۔ وہ اسے سرِبازار لٹکادینا چاہتاہے۔ وہ یہ سوچتاکہ اس کایہ فعل اسکی خود ساختہ سوچ کے حق میں ہے۔ مگر قانون اورمعاشرے کے خلاف ہے۔پ ھرچاہے تواس کے ہاتھ چترال کا ذہنی مریض آجائے۔ جو اپنی خراب ذہنی حالت کی بناپرقطر سے بے دخل کردیا جائے اور مسجد میں ایک باطل دعویٰ کرے اور وہاں لوگ انصاف کی عدالت لگانا چاہیں۔ یہ دیکھے بغیرکہ وہ شیزوفرینیا کا  مریض ہے اور کوئی خطیب ہمت کرکے اسے قانون کے حوالے کردے تو ایک کہرام برپا ہوجائے لوگ تھانے کا  محاصرہ کر لیں۔ خطیب کی گاڑی جلا دیں اور ایک انسان کوبچانے والا اپنی جان بچانے کے لئے لوگوں سے چھپتا  پھرے۔

عدم برداشت کا ناسور جوکہ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکا۔ اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے ہمارے رویوں کے تبدیلی کی، ہمارے نصاب کی، ہماری سوچ کی، ہماری پسماندگی کی۔ اورسب سے بڑھ کر ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کی جو سوال کرنے کی اہمیت کو جانتاہے مگر اس کو برداشت کرنے  یا جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتا۔

منٹو نے اسی معاشرے اوراسی سوچ کو چولی پہنانے سے انکار کیاتھا کہ یہ اس کا  کام نہیں درزی کا  کام ہے۔ شاید وہ اس معاشرے کی رہی سہی عزت برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اگر وہ اس معاشرے کوچولی پہنا بھی دیتا تویہ اسے تار تار کرکے دیوانہ وار کوچہ کوچہ قریہ قریہ برہنہ رقص کرتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: