پہچان ۔ الف سے پہلے

0

نوٹ: مضامین کا یہ سلسلہ کسی بھی طرح سے ایک علمی یا تحقیقی موضوعات کا احاطہ نہیں کرتا۔ بلکہ یہ صرف  ایک ایسے سفر کی داستان ہے جو ہمارے معاشرے  میں پیدا ہونے والے اکثر لوگوں کو درپیش ہوتا ہے، اپنی پہچان کا سفر، جو ہر ایک کے لیے الگ  اور منفرد ہوتا ہے۔ ایک بات کا یقین رکھیں، ان مضامین کے آخر میں نہ تو آپ کو کسی مسلک کا جھنڈا ملے گا، نہ ہی کسی بابے کا ڈیرہ، اور نہ ہی خود یا خدا تک پہنچنے کی  مشقوں والی سی ڈی۔ البتہ میرا گمان ہے کہ اگر آپ میرے ساتھ ساتھ اس داستان کا حصہ بنے رہے، تو ایسے بہت سے کرداروں سے ملیں گے، جو ہو سکتا ہے آپ کے آس پاس بھی رہتے ہوں، جو میری پہچان کے رہنما بنے، جو آپ کو آپ کی پہچان تک لے جاسکیں۔  آپ کے وقت اور توجہ کا شکریہ۔


دانہ گندم مجھے سعودیہ میں ملازمت کے لیے لے گیا اور قسمت نے ایک اچھی کمپنی میں کام کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ وہاں ہمارے ساتھ زیادہ تر امریکی کام کرتے تھے۔ دو امریکی ہماری ٹیم میں تھے۔ ان سے میری بڑی دوستی ہوگئی اور زندگی میں پہلی بار یہ بھی اندازہ ہوا کہ جس ملک کو بچپن سے گالیاں دیتے آئے ہیں، وہاں کے لوگ بھی انسانوں کی طرح کے ہوتے ہیں۔
اب مجھے زندگی میں پہلی بار موقع ملا کہ غیر مسلموں سے بھی ایمان، یقین، اور مذہب کے بارے میں بات کر سکوں، اور سمجھ سکوں کہ ان کو وہ ہدائت کیوں نصیب نہیں ہوئی جو ہم سب کو روز روشن کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ ویسے تو سعودیہ جاتے ہی وہاں کے پاکستانی، انڈین، چائینیز، اور بنگلہ دیشی مسلمانوں سے میری خاصی بات چیت ہونے لگی۔ انڈین مسلمان خاص طور پر مذہب کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے اور پاکستانیوں کو مذہب کے معاملے میں اتھارٹی سمجھتے تھے۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ جو بات انکو سمجھانا ہوتی، کسی نہ کسی متعلقہ (اور غیر متعلقہ بھی) حدیث کا حوالہ دیکر منوا لیا کرتا تھا۔
سعودیہ جہاں اسلام کا ظہور ہوا، وہاں کی سرزمین پر مختلف ممالک سے آئے ہوئے مسلمانوں کا اجتماع ایک لحاظ سے خوشگوار تھا۔ سب لوگ جمعہ کی نماز ملکر پڑھنے جاتے۔ عمرہ کے لیے پلان کیے جاتے، اور ویک اینڈ پر عمرہ کے لیے جانے والی بسوں میں بیٹھ کر ویک اینڈ کے دو دنوں میں عمرہ کر آتے۔
مگر اس خوشگواریت کے ساتھ ساتھ کچھ چھوٹے چھوٹے مسائل بھی سر اٹھا لیا کرتے۔ میرے ایک قریبی انڈین دوست نصیرالدین کے والد فوت ہو گئے۔ وہ انڈیا جا کر کفن دفن کر آیا۔ واپس آ کر مجھے کہنے لگا کہ یار انڈیا میں تو ہم چالیسواں کرنا ضروری سمجھتے ہیں مگر اب واحد اسلام (ایک پاکستانی دوست) کہتا ہے کہ چالیسواں کرنا حرام ہوتا ہے۔ تو اب تو بتا کہ میں کیا کروں؟ میں نے کہا تو نہ کر چالیسواں، مسئلہ کیا ہے؟ وہ بولا، مسئلہ میرا نہیں، میری ماں کا ہے، وہ چونکہ بچپن سے انڈیا میں رہی ہے اور اسکو تم پاکستانیوں کی طرح اسلام کی مکمل تعلیمات حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تو وہ کچھ بدعتوں کی عادی ہو گئی ہے۔ چالیسواں ہمارے علاقے میں بہت اہم سمجھا جانے والا عمل ہے۔ اور میری ماں بھی یہی سمجھتی ہے کہ اگر چالیسواں نہ کیا گیا تو مردے کی روح بخشی نہ جائے گی۔ اب میں منع تو کردوں مگر جانتا ہوں اندر ہی اندر میری بوڑھی ماں مرتی رہے گی کہ اس کے مجازی خدا کی روح کو بخشوایا نہیں گیا۔
میں نے اسے کہا کہ وہ واحد اسلام کو اگلے دن کھانے پر اکٹھا کرے ہوسکتا ہے کوئی درمیانی رستہ نکل آئے۔ جس کمپنی میں ہم کام کرتے تھے، واحد بھی وہیں کام کرتا تھا، اور اگلے دن لنچ پر ہم تینوں ایک ہی میز پر بیٹھ گئے۔ میرے انڈین دوست نصیرالدین نے بات شروع کردی کہ اسکی ماں کہہ رہی ہے چاہے ایک ہی دیگ پکا دو، چالیسواں ضرور کرنا۔ واحد اسلام نے قطعیت سے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ بدعت ہوگی اور یہ حرام ہوتی ہے، اور اسکا اتنا اتنا گناہ ہوتا ہے۔ میں نے اب دخل دیا  اور واحد سے پوچھا کہ اس میں بدعت والی کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ چالیسواں اسلام میں نہیں ہے۔ میں نے پوچھا، غریبوں کو کھانا پکا کر کھلانا اسلام میں ہے؟ وہ بولا، ہاں بالکل ہے۔ میں نے کہا، کھانے پر درود و سلام پڑھ لینا اسلام میں ہے؟ کہنے لگا بالکل ہے۔ مگر کوئی خاص دن مقرر کرنا غلط ہے۔ اب میں نصیرالدین کی طرف مڑا اور پوچھا، بالکل چالیسویں دن ضروری تو نہیں، دو دن پہلے یا تین دن بعد کر سکتے ہو؟ نصیرالدین خوشی سے بولا کیوں نہیں ایک دو دن آگے پیچھے کر لیں گے۔ میں نے واحد اسلام کی طرف دیکھا تو وہ بولا، اچھا ٹھیک ہے مگر نیت چالیسویں کی نہ ہو۔ میں نے کہا کس کی نیت؟ کرنے والے کی یا کھانے والوں کی۔ کہنے لگا کرنے والے کی۔ میں نے مسکرا کر نصیرالدین کی طرف دیکھا، اور کہا خبردار جو تونے چالیسویں کا سوچا بھی، جا جا کر ماں کو خوش کرنے کی نیت سے کھانا پکا  اور اللہ کے نام پر غریبوں کو کھلادے، اللہ تجھے ماں کو خوش کرنے کا اجر ضرور دے گا۔
نصیرالدین کو میں نے اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا، وہ اپنی ماں کے آنسوؤں سے بہت پریشان تھا، اب جو ان آنسوؤں کا حل نکل آیا تو اسکے دانت نکل رہے تھے۔ میری زندگی گواہ ہے کہ نصیرالدین نے جتنا اپنی ماں کو خوش رکھا، اللہ نے اتنا ہی نصیرالدین کو خوش رکھا۔ اپنے کالج کے دنوں میں فاقے کرنے والا اور میلوں پیدل چل کر پڑھنے جانے والے کی اولاد آج امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہے۔
میں تو خیر سعودیہ جانے سے بہت پہلے بہت ساری بدعتیں چھوڑ چکا تھا کہ ہمارے ایک استاد دیوبندی مکتب سے تھے اور ہمیں بہت اچھے لگتے تھے۔ اب جو اچھا لگتا ہے اسکی باتیں بھی اچھی لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا گیارہویں کچھ نہیں ہوتی کیونکہ گیارہویں گاف سے شروع ہوتی ہے اور گاف کا حرف ہی عربی میں نہیں ہے تو گیارہ عرب میں کہاں سے آ گیا۔ ہم نے فوراً مان لیا اور میں گھر آ کر اپنی ماں جی سے لڑتا تھا جو ہر جمعرات کو کھانا پکا کر غریبوں میں اور محلے میں بانٹتیں تھیں، اور ہر مہینے کی گیارہویں کو میٹھے چاول یا کھیر وغیرہ۔ میرے لڑنے پر یہ ہوا کہ ماں جی نے چھپ چھپ کر یہ کام کر لینا۔ خیر ماں جی کو ڈرا دھمکا کر بدعت چھڑانے کا ثواب میں نے خوب لوٹا۔
اسکول ہی کے زمانے کی بات ہے کہ ماں جی نے کسی کے کہنے پر ایک چراغ اپنے کمرے میں جلائے رکھنا۔ مجھے پتہ چلا کہ کسی نے اولاد کی صحت و ترقی کے لیے یہ ٹوٹکا بتایا ہے۔ تو لاکھ کریدا مگر ماں جی نے بتا کر نہ دیا کیونکہ انکو پتہ تھا کہ یہ کام فوراً بدعت میں داخل ہو جانا ہے اور انکے “عالم و فاضل” بیٹے نے انکی ایک نہیں سننی۔ خیر اس کے باوجود میں نے ماں جی سے کہا کہ چراغ کو ہٹا دیں۔ اب اس کے بعد وہ چراغ ہٹا دیا گیا۔ کافی ہفتے گذر گئے تو مجھے ایک پرانی کتاب ڈھونڈنے کی ضرورت پڑی۔ کتابوں والی الماری کافی اونچی تھی، کرسی رکھ کر اوپر کی شیلف دیکھنے لگا اور کتابوں کے پیچے ایک مٹی کی ہانڈی پر نظر پڑی۔ اس ہانڈی کے اندر ممتا کا چراغ ویسے ہی جل رہا تھا۔ دو کمروں کے گھر میں ایک ماں کو چھپانے کے لیے ایک ہانڈی کا ہی آسرا ملا۔ میں خوب چیخا چلایا کہ بدعت ابھی تک گھر میں ہے۔ اس کے برسوں بعد میں جان پایا کہ ہر ماں ایک ہی فرقے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ ہے ممتا کا فرقہ، اسکی اولاد کا سکھ۔ باقی سب کہانیاں ہیں۔
خیر سعودیہ واپس چلتے ہیں، جہاں میرے امریکی دوست میری تبلیغ سے بہت متاثر تھے کہ میں انکو اسلام کی بہت اچھی اچھی باتیں بتاتا تھا۔ ان میں سے ایک کا نام کلنٹن سمجھ لیں۔ ایک دن میں اسکو بتا رہا تھا کہ اسلام ہندوازم سے کتنا فرق مذہب ہے۔ ہندو تو گائے کا پیشاب بھی تبرک سمجھ کر پی جاتے ہیں۔ کلنٹن نے پوچھا کہ اگر تمہارے مذہب میں ایسا ہوتا تو تم کیا کرتے؟ میں نے فوراً کہا کہ میں ایسے مذہب کو فوراً چھوڑ دیتا جس میں ایسی گندی باتیں ہوں۔ اس پر کلنٹن نے مجھے بتایا کہ اس نے اسلام کی کچھ ایسی باتیں پڑھ رکھی ہیں جن میں اونٹ کا پیشاب پینے کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ میں پھر بھی نہ مانا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔
اگلے دن کلنٹن وہ کتابیں لے آیا اور پھر سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا کہ اب میں کب اپنا مذہب ترک کرتا ہوں۔ میرے پاس کوئی جواب تو نہیں تھا مگر ظاہر ہے میں مذہب تو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ البتہ کلنٹن نے مجھے زیادہ شرمندہ نہ کیا اور محفل برخواست ہو گئی۔
اگلے دنوں میں وقت لگا کر میں نے ایسی تمام احادیث پڑھیں جو متنازعہ تھیں، یا ضعیف تھیں، یا کسی اور حوالے سے موضوع بحث رہ چکی تھیں۔ میں کلنٹن کا شکر گزار ہوا کہ اسکی وجہ سے مجھے اسلام یا مسلمانوں کی تہذیب کے ان پہلوؤں کے مطالعے کا موقع ملا۔ میں اس پر حیران بھی تھا کہ چھٹی جماعت سے ہمیں گاف گیارہویں پڑھانے والے، شلوار، داڑھی، ٹخنوں، اور احتلام کے مسائل بتانے والوں نے اتنی اہم احادیث ہماری نظر سے اوجھل کیوں رکھیں۔
خیر کچھ دن کی شرمندگی کے بعد زندگی روٹین پر واپس آ گئی، مگر میرے زہن میں بہت سی باتیں تبدیل ہو چکی تھیں۔ سب سے پہلے تو ہندوؤں کے بارے میں یہ نفرت ختم ہو گئی کہ وہ گائے کا پیشاب پیتے ہیں۔ بھئی اگر بیماری کے علاج کے لیے ہمارے مذہب میں اجازت ہے تو ان کو کیا مسئلہ ہے کہ وہ کسی اپنے مذہبی حکم کی وجہ سے ایسے نہ کر سکیں۔
دوسری بات میرا اپنی مذہبی تعلیمات کے بارے میں کافی جاننے کا زعم ختم ہوا۔ اسلام بس وہی ہے جو میں نے پڑھ رکھا ہے، یہ بات زہن سے نکل گئی۔ ایک غیر مسلم نے مجھے وہ احادیث بتائیں جو مجھے خود پتہ ہونا چاہیں تھیں۔
تیسری بات تبلیغ اور دوسروں کو راہ راست پر لانے کا سودا بھی دل سے نکل گیا۔ ظاہر ہے جب اپنا ہی ایمان مکمل معلومات پر نہ ہوتو دوسروں کو کیا سکھا سکتا ہے بندہ۔ بلھے شاہ صاحب نے تو کہہ دیا کہ اکو الف تینوں درکار، مگر یہ انہوں نے اپنے ایمان کے لیے کہا ہے، کسی دوسرے کو ایمان کی دعوت دینا ہو تو الف سے پہلے کے بہت سے مراحل کا علم آپ کو ہونا ضروری ہے۔
چوتھی بات یہ ہوئی کہ میں نے قران و حدیث کو پڑھنا شروع کر دیا، ورنہ مسلمان پیدا ہونے کا تمغہ ہی کافی لگتا تھا۔
ہماری کمپنی میں ایک سینئر دوست تھے۔ پاکستانی تھے اور دبنگ پاکستانی تھے۔ مظہر حمید صاحب۔ اصول کی بات کرتے تھے۔ بہت سخی تھے اور اللہ کے دیے ہوئے کو آگے تقسیم کر کے ضرب دیتے رہتے تھے۔ مذہب پر شدت سے عمل پیرا تھے۔ اور معاملات زندگی میں مذہب کی تعلیمات کو مدنظر رکھتے تھے۔ ان سے میں نے سیکھا کہ عبادت کرنا آسان مگر معاملات زندگی میں میں مذہب پر عمل پیرا ہونا مشکل، بہت مشکل ہے۔ مثلاً انہوں نے مجھے بتایا کہ کوئی چیز بیچتے وقت سچ بولنا ضروری ہے، اور اسکے نقص بتانا بہت ضروری ہے۔ بظاہر مجھے یہ بات بہت آسان لگی، ایک مرتبہ موبائل بیچنا پڑا تو فوراً نقص بتا دیا کہ بیٹری کم ہے، باقی سب ٹھیک ہے، اور بہت خوش ہوا کہ میں نے بھی زندگی کے معاملات پر اللہ کا دین نافظ کر لیا ہے۔ مگر اصل پتہ تب چلا جب میری مہنگی فورویل جیپ میں ایک ایسا نقص پڑ گیا جو بظاہر کسی کو نظر نہیں آتا تھا۔ ہوتا یوں تھا کہ جب جیپ کو اسٹارٹ کر کے نیوٹرل گئیر میں آدھے گھنٹے کے لیے کھڑی رکھتے تھے، تو اسکے بعد چلانے سے اسکا گئیر سلپ ہوتا تھا۔ اب یہ ایسا نقص تھا جو کسی بھی طرح سے پکڑ میں نہیں آ سکتا تھا۔ کیونکہ اکثر آپ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہیں تو گئیر بدلتے چلاتے جاتے ہیں اور جب کھڑی کرتے ہیں تو بند کر دیتے ہیں۔ اس طرح سے گاڑی میں کوئی نقص نہیں آتا تھا۔ مجھے اس نقص کا پتہ ایسے چلا کہ میں اس جیپ پر سعودیہ کے بارڈر پر واقع ملک بحرین چلا گیا۔ بارڈر پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں اور گاڑی کئی کئی منٹ نیوٹرل مگر اسٹارٹ رکھنا پڑتی تھی۔
معذرت اتنی تفصیل میں جانا اس لیے ضروری تھا کہ آپ اندازہ کر سکیں کہ گاڑی کا نقص عام حالات میں سامنے نہیں آ سکتا تھا۔ مکینک کو بھی جا کر بتاتے تو وہ بھی تب تک اس نقص کو پکڑ نہیں سکتا تھا جب تک کوئی اسکو بتائے نہیں۔ اب مجھے اس گاڑی کو بیچنا تھا۔ موبائل تک تو ٹھیک تھا مگر گاڑی کی قیمت میں ریالوں میں ہزاروں اور پاکستانی روپوں میں لاکھوں کا نقصان نظر آ رہا تھا۔
تب زندگی میں پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ اسلام پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے۔ اس اسلام پر نہیں جو مولوی صاب اور ہمارے اسکول کے اساتذہ بتایا کرتے تھے۔ وہ تو آسان تھا۔ وضو، نماز، روزہ ہو ہی جاتا تھا اور تھوڑے بہت نفسی جبر سے کام چل جاتا تھا۔ مگر یہ مظہر حمید صاحب والا اسلام تھا، جو خریدنے بیچنے میں مشکل پیدا کر رہا تھا۔ یہ بہت مشکل اسلام تھا، ہاتھ سے نقدی جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے بہت سی تاویلیں اپنے آپ کو دیں، کہ میں کسی شوروم کے زریعے بیچ دیتا ہوں، جب میں خریدار کے سامنے ہی نہیں ہونگا تو نقص بتانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ یا پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ ایسا گجا (چھپا ہوا) نقص تو خود آسمانی اشارہ ہے کہ اسکو بتانے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟
دوستو! میری بیٹی سچ ہی کہتی ہے۔ اللہ میاں سے بندہ کوئی بات نہیں چھپا سکتا۔ بندے کی کوئی پرائیوسی ہی نہیں رہ جاتی اللہ میاں سے۔ تو جتنے بھی طریقے میں نے سوچے سارے نیت پر آکر فیل ہو جاتے۔ اردگرد دیکھ کر باقی سب جو کر رہے تھے میں بھی وہ کر لیتا مگر مظہر حمید صاحب کی چہرہ سامنے آتا تو دل شرمندہ کرتا کہ اب بن کے دکھا مسلمان۔
خیر قصہ مختصر، گاڑی نقص بتا کر ہی بیچی اور بعد کے کئی سال اللہ میاں سے دعا بھی مانگی کہ یااللہ ایسی آزمائشوں کے قابل تیری یہ گنہگار بندہ بالکل نہیں ہے۔
مظہر حمید صاحب کو اللہ نے بہترین اولاد سے نوازا اور انکی ساری بیٹیاں انکی آنکھوں کی ٹھنڈک اور بہترین انسان تھیں۔ اولاد نرینہ نہ ہونے کا کوئی غم یا گلہ ان سے کبھی نہ سنا۔ انکی اہلیہ بھی انہی کی طرح اللہ سے قریب تھیں۔ مظہر صاحب اکثر فارغ وقت میں اپنے آفس میں گپ شپ کے لیے بلا لیتے تھے۔ زیادہ تر موضوعات میں مذہبی بحثیں ہی ہوا کرتی تھیں۔
ایک دن میں خود ہی انکے کمرے میں جا دھمکا، دیکھا تو کسی گہری سوچ میں گم ہیں۔ ایک کتاب سائڈ ٹیبل پر رکھی ہے۔ میں نے کریدا تو کہنے لگے یہ حدیث پہلے بھی پڑھ چکا ہوں۔ آج دوبارہ پڑھ کر کچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے پوچھا کونسی حدیث اور کیا سوچ رہے تھے؟ کہنے لگے یہی قبرستان والی حدیث، پھر انہوں نے وہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ عورتوں کا قبرستان جانا منع ہے۔ میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ میں سوچ رہا تھا میری بیٹیاں کبھی میری قبر کو چھو نہیں سکیں گی۔ یا فاتحہ پڑھنے نہیں آئیں گی؟ بس اس بات سے پریشان ہو گیا، خیر اللہ مالک ہے۔
میں تب صرف ایک بیٹی کا باپ تھا۔ میری حلق میں ایک کانٹا سا اٹک گیا ان کے چہرے کو دیکھ کر۔ اپنے لیے نہیں کہ مجھ سے ازلی گنہگار کی بیٹی قبرستان آ بھی جاتی، مگر ان کے چہرے کو دیکھ کر۔ میرے دل میں نمک بھرنے لگا۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ انکو کیسے تسلی دوں۔ مجھے زرا بھی شبہ نہیں تھا کہ وہ اس حدیث پر عمل نہیں کریں گے۔ اسی لیے میں کوئی رستہ کوئی تاویل، کوئی حجت ڈھونڈ رہا تھا کہ ان کے دکھتے دل کو تسلی دے سکوں۔ مگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ اللہ کے حکم کی ہر حال میں پیروی کرنے والے، میری کسی تاویل کو نہیں مانیں گے۔ خیال ہی خیال میں میں نے انکی قبر کو، اور انکی اپنے باپ کی محبت میں بلکتی بچیوں کو دیکھا اور دل میں سوچا کہ نبی رحمت ﷺ نے ہر گز بیٹیوں کو اپنے باپ کی قبر پر دعائے مغفرت سے نہیں روکا ہوگا، مگر بیچ کے چودہ سو سال بھی تو ہیں اور تشریح کرنے والے بھی تو ہیں۔
اس رات میں نے اللہ سے دعا کی کہ یااللہ تو مظہر صاحب کی بیٹیوں کو باپ کی قبر پر ضرور جانے دینا وہ اپنے باپ سے بہت محبت کرتی ہیں۔
نصیرالدین کی ماں کے اپنے شوہر کے لیے چلیسویں کی خواہش، اور مظہر حمید صاحب کی خیالی قبر نے مجھے یہ سمجھا گئیں کہ سچ تک پہنچنے کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہے، ہر سچ کے کئی رخ ہو سکتے ہیں۔ رب کائنات کا بھیجا ہوا دین، جس کو دین فطرت بھی کہا جاتا ہے اور میرے محدود علم کے مطابق یہی سارے زمانوں پر محیط واحد پیغام ہے جو ازل سے خالق نے اپنی مخلوق کے لیے چن رکھا ہے، اگر سارے زمانوں اور سارے انسانوں کے لیے ہے تو اسکی تعلیمات کبھی صرف ایک انسانی گروہ کے حق میں نہیں ہو سکتیں۔
ہم جب مختلف انسانی گروہوں کی تشریحات پڑھتے ہیں تو ہر ایک اپنی سمجھ کے حساب سے اللہ اور اس کے پیامبرﷺ کا پیغام ہم تک پہنچاتا ہے۔ اب یہ زمہ داری ہم پر آ جاتی ہے کہ ہم عقیدت میں اندھے ہونے کی بجائے اس آفاقی پیغام کی تشریحات کو رب کائنات کے دیی ہوئی عظیم نعمت، یعنی عقل و فکر سے سمجھیں۔ اور جہاں ہمیں ان تشریحات کے غلط ہونے کا شبہ ہو، سوال پوچھنے سے نہ جھجکیں۔
اب میں نے کلام اللہ کی مختلف تفاسیر پڑھنا اور سوال مرتب کرنا شروع کر دیے۔ مختلف تفاسیر پر جب کافی سوالات اکٹھے ہوگئے تو مظہر حمید صاحب کے پاس گیا اور رپورٹ پیش کی۔ مسکرائے اور کہنے لگے تم صرف قران و حدیث کو ڈائرکٹ پڑھو اور ان پر سوالات لیکر آؤ۔ میں واپس چلا آیا اور ایک ہفتے بعد پھر انکے کمرے میں احادیث پر سوال لیکر موجود تھا۔ انکے ماتھے پر تیوری آئی اور چلی گئی، کہا تم صرف قران پڑھو اور پھر سوال کرو۔ اگلے ہفتے میں پھر انکے کمرے میں موجود تھا۔ انہوں نے اپنی قریب کی عینک لگائی، ایک سوال پڑھتے عینک کے اوپر سے مجھے دیکھتے، پھر اگلا سوال پڑھتے اور عینک کے اوپر سے مجھے دیکھتے، پھر سوالوں والا صفحہ ایک طرف رکھ دیا اور کہنے لگے تم صرف قران کو بار بار پڑھتے رہو، ان سب سوالوں کے جواب خود بخود مل جائیں گے۔
سچے ایمان کی ایک کڑی شرط ہے۔ یہ خدا پر ہونا چاہیے۔ اس خدا پر جو دلوں کے اندر پلنے والے وسوسے، اور نیتوں کی نیت جانتا ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا کو ماننے میں یہ فائدہ ہے کہ اگر خدا نہیں ہے تو کچھ ہوگا نہیں اور اگر ہے تو ہم ایمان والے ہو کر بچ جائیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ ایسے ماننے والے نیتوں کو جاننے والے خدا کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔

——–

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کریں

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: