بریکنگ نیوز — بریکنگ نیوز — بریکنگ نیوز

0

ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ تین گھنٹے پہلے شہر کے مصروف ترین بازار جندریاں والا میں وقفے وقفے سے دو دھماکوں کی آواز سنائی دی گئی تھی۔

دوسرا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ دس کلومیٹر دور جنگل کے درختوں کے آدھے پتے اور تمام پرندے اُڑ گئے تھے۔ آئی جی پولیس کے مطابق انہیں پہلے ہی سے معلوم تھا کہ دھماکہ جہاں بھی ہو گا خود کُش ہو گا اس لیے حملہ آور کا سر، جیکٹ اور اصلی والا شناختی کارڈ ایک دن پہلے ہی اپنے قبضے میں لے کر نادرہ  اور فورینزک لیب کو بھجوا دئیے گئے تھے۔

جن لوگوں نے بھی عینی شاہد ہونے کا دعوٰی کیا ہے انہیں مشکوک سہولت کار سمجھ کر احتیاطاً نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سڑک پر دہائیاں دیتے زخمیوں سے میڈیا انٹرویو کر رہا ہے اور ان کی شہادت یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ان کے خاندانوں کو کسی باوقار تقریب میں پانچ پانچ لاکھ روپے کی خطیر رقم کے چیک بانٹے جا سکیں۔۔ اس کے باوجود جو بدنصیب زخمی ہی رہ گئے ہیں انہیں پچاس پچاس ہزار روپے کے چیک کا پرنٹ دیا جائے گا۔

اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتالوں میں پہنچنے والوں سے ڈومیسائل اور مقامی کونسلر سے زخمی ہونے کا سرٹیفیکیٹ طلب کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی مجرم مفت طبی امداد کی سہولت کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھا سکے۔

مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں، اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے درمیان پہلے پہنچنے اور خبر دینے کے دعووں کا پرجوش مقابلہ جاری ہے۔

کچھ مذہبی تنظیموں کی جانب سے ملک کے بازاروں سے اگربتیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے موم بتیوں کا پورا سٹاک رکھنے کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ماچسوں اور لائٹروں کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔ پرانے ٹائروں والے دکانداروں نے ریٹ بڑھا دیے ہیں جس کے لیے مظاہرین کو شدید گرمی میں ہر بار ایک علیحدہ مظاہرہ کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت اور حزبِ اختلاف کی جانب سے مذمتی بیان کے فارم میں تازہ معلومات بھر کر ایک دوسرے سے پہلے میڈیا کو پہنچانے کی مخلصانہ جدوجہد نظر آ رہی ہے۔ وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت، وزارتِ داخلہ اور محکمہ موسمیات کے تعاون سے پیشگی اطلاع دینے والے ایسے نظام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے جس کی مدد سے دھماکہ خیز مواد کے وزن اور معیار کی بنیاد پر نقصانات کا اندازہ کیا جا سکے یا جانی نقصان کے حساب سے دھماکہ خیز مواد کا درست وزن معلوم کیا جا سکے۔

باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ دھماکہ کسی بھی اہم مقام پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے فول پروف سکیورٹی کو پہلے کی طرح یقینی بنا دیا گیا ہے۔

دھماکوں کے لیے پہلے سے تیار جے آٹی ٹی اور کمیشن فعال ہو چکے ہیں اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں اپنی رپورٹ دینے کے ہمیشہ کی طرح پابند ہیں۔ اس بنیاد پر شہداء اور زخمیوں کو مکمل اطمینان ہونا چاہیے کہ کوئی نہ کوئی جلد ہی ضرور کیفرِ کردار تک پہنچ جائے گا۔

نوٹ: خبر، نام اور مقام فرضی ہیں۔ کوئی بھی مماثلت اتفاقی ہو گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: