ہم کوکنگ آئل کے نام پہ کیا کھارہے ہیں؟

0

عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

زیادہ قدیم بات نہیں صرف اُنیسویں صدی کے اوائل کے لگ بھگ آج کا گھی اور کوکنگ آئل نہیں تھا۔ انسان تب بھی بستے تھے اور کھاتے پیتے تھے۔ اُس وقت دیسی گھی ہوتا تھا، یا مکھن بطور گھی کا استعمال ہوتا تھا۔ ہاں کچھ جگہ سرسوں کا تیل ہوتا تو کہیں کوکونٹ یا زیتون کا تیل ہوتا۔ سرسوں سے زیتون اور کوکونٹ میں ایک چیز مشترک تھی، کہ یہ دباو کے ذریعے نکالے جاتے تھے۔
تب انیسویں صدی آئی، مشینوں اور کیمکل کا دور آیا، میڈیا کا دور شروع ہوا، وہ دور جس میں تجارت نے اپنے جواز کیلئے میڈیا کا سہارا لیا اور یہ طے کرنا شروع کردیا کہ ہماری زندگی کیسے ہو، کیا ہو، کس طریقے سے ہو، کیا کھائیں ، کیا پئیں؟ یہاں سے گھی اور کوکنگ آئل کا دور بھی شروع ہوتا ہے۔ ہم نے تیل سویابین، کارن یعنی مکئی سورج مکھی اور مونگ پھلی جیسی اشیاء سے نکالنا شروع کردیا۔ یعنی مشہور زمانہ ویجیٹیبل آئل کا دور شروع ہوا۔
یہ تیل کیسے نکلتا ہے پہلے یہ سمجھ لیا جائے۔
جیسے مرغیوں، مچھلیوں اور سبزیوں کی ہائی برڈ فارمنگ ہے ایسے ہی ان کی فارمنگ ہوتی ہے۔ یہ بیچ اس فارم سے جب پلانٹ میں آتے ہیں تو اول انہیں ہائی ٹمپریچر پر گرم کیا جاتا ہے۔ یہ آکسیڈائزڈ ہو کہ باسی ہو جاتے ہیں۔ پھر انہیں پیٹرولیم سولونٹ کے ساتھ پراسس کرتے ہیں تو تیل نکلتا ہے۔ دوبارہ گرم کیا جاتا ہے۔ کچھ تیزاب اور بلیچنگ ارتھ ڈال کر ان سے آلائشیں نکالی جاتی ہیں۔ اس کے بعد اسکا رنگ کیمکل پراسس کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ اور آخر میں کیمکلز کے ساتھ انکی خوشبو بنائی جاتی ہے۔
یہاں سے polyunsaturated fats یا PUFAs کا وہ قصہ ہے جو کوئی اشتہاری فرم ہمیں نہیں بتاتی۔ انکی اشتہاری مہم اس میں اپنی مرضی کی چیزیں جیسے اومیگا 3 اور 6 کے قصے سناتی ہیں۔ 1960 کی دہائی کے اشتہارات جس چیز کو زندگی کی علامت بتارہے تھے۔ 2000 کے اشتہارات میں وہی مسائل کی جڑ قرار پائے۔ جسم کیلئے فائد مند ایک دو چیزوں پر اشتہاری مہم بنالی جاتی ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے کہ کیا وہ ہمیں اسی تناسب سے درکار بھی ہیں جو یہ کھلا رہے ہیں۔ اور سیر پر سوا سیر ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک جہاں حکومتی کنٹرول کنزیومر آئٹمز پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں سٹینڈرڈ اپریٹنگ پراسیجر میں اگر چار دفعہ فلٹر پریس سے نکالنا ہوتا ہے۔ تو گھی کمپنیاں ایک یا دو بار نکالتی ہیں۔ اس سے وزن yield بڑھ جاتی ہے۔
نام کے ساتھ ویجیٹیبل لگانے سے یہ سبزیاں نہیں بن جاتیں۔ یہ بیچ قدرت نے اس استعمال کیلئے نہیں بنائے جس کیلئے ہم انہیں بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ کے ان بیچوں کو ہائی بریڈ کرکے ان کا اومیگا 6 فیٹی ایسڈ پولی ان سیچیروریٹڈ لیول بہت بدل لیا ہے۔ جبکہ اسی پراسس پر کوکونٹ آئل بنائیں تو اس کا رزلٹ پھر بھی بہتر ہوتا ہے۔
ایک اور مسئلہ پراسس فوڈز کا ہے۔ آجکل پراسسڈ فوڈز فیشن کی طرح ہماری طرز زندگی میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس میں ہائیڈروجن کو مائع ویجیٹبل آئل کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ یہ ٹرانس فیٹس کہلاتے ہیں۔ اسے آپ کولیسٹرول کا خزانہ سمجھ لیں۔ یہ بیکڈ اشیاء، سنیکس فرائڈ ڈبہ بند خوراکوں غرض ہر پراسسڈ فوڈ میں استعمال ہوتے ہیں۔

آج کینسر بلڈ پریشر شوگر اور کولیسٹرول کی بیماریاں عروج پر ہیں۔ مانا یہ دوائیوں کی انڈسٹریاں بھی چلنی ہیں۔ ایک انڈسٹری بیماریاں دے رہی ہے۔ ایک اسکی دوائیاں۔ ہم دونوں کی مارکیٹ ہیں۔ ہمارے پاس آپشن بھی کم ہیں۔ لیکن ہم انکا بے دریغ استعمال تو کم کرسکتے ہیں۔۔۔؟؟؟


اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ دیکھئے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: