مذہبی جماعتوں کا اتحاد اور فکری مغالطہ: سلمان عابد

0

پاکستان کے دینی حلقوں سمیت مذہبی سیاست کی حمایت کرنے والے افراد میں ہمیشہ سے دینی جماعتوں کے باہمی اتحاد اور انتخابی سیاست میں مشترکہ حکمت عملی اور ایک پلیٹ فارم سے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی بحث موجود ہے۔ماضی میں پاکستان قومی اتحاد یعنی پی این اے جو عملی طور پر بھٹو دشمنی کی بنیاد پر بنا تھا اس میں مذہبی سیاست کے عمل دخل کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس اتحاد میں مجموعی طور پر مذہبی سیاست سے وابستہ افراد اور جماعتوں نے بھٹو مخالف تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ایک اتحاد ہمیں 2002 کے انتخابات میں ’’ایم ایم اے‘‘ کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔ اس اتحاد میں مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کا سب سے اہم کردار تھا۔ اسی ایم ایم اے کی بنیاد پر مذہبی سیاست کے حامیوں نے پہلی بار خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت بنائی، اگرچہ بعض لوگ اس حکومت کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے جوڑتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ انتخابی سیاست میں سیاسی اتحادوں کی مقابلے میں ہم مذہبی اتحاد کی سیاست کی بنیاد پر انتخابات کیوں لڑنا چاہتے ہیں۔ کیا پاکستان میں کسی بھی سطح پر مذہبی اتحادوں کی سیاست پر اثرات کے حوالے سے کوئی تجزیہ موجود ہے کہ اس طرز کے اتحادوں سے کیا قومی سیاست کی کوئی بڑی خدمت ہوسکی ہے۔ اول تو انتخابی سیاست میں صرف سیاسی اتحاد ہی کی اہمیت ہے۔ کیونکہ جب آپ مذہبی بنیادوں پر اتحاد بناتے ہیں تو عمومی طور پر یہ ملک میں مذہبی اور غیر مذہبی بنیادوں یا فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح اس نقطہ پر بھی بحث ہونی چاہیے کہ کیا جو سیاسی جماعتیں سیاسی بنیادوں پر انتخابی سیاست یا اتحاد بناتی ہیں کیا وہ غیر مذہبی جماعتیں ہیں یا ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح اگر مذہبی جماعتیں اقتدار حاصل بھی کرلیں تو ا س کے بعد کس بنیاد پر ان کو آگے بڑھنا ہے، وہ بھی مسائل پیدا کرے گا، کیونکہ جب زیادہ جماعتیں فرقہ کی بنیاد پر سیاست کریں گی تو سوائے خرابی کے کچھ نہیں کرسکیں گی۔
پاکستان میں زیادہ تر مذہبی جماعتیں فرقہ ورانہ بنیادوں پر کام کرتی ہیں۔ اس لیے ان کا سیاسی دائرہ کار بھی محض ایک فرچہ تک ہی محدود رہتا ہے۔ اسی طرح مذہبی سیاست کا ایک مسئلہ ان کا سیاسی فریم ورک بھی ہے۔ یہ لوگ اسلام اور مذہب پر بات تو بات کرتے ہیں، لیکن سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات میں ان کا فہم سیاست کافی کمزور بھی ہے۔ اصولی طور پر تو مذہبی جماعتوں کو سیاسی اتحاد کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑنا چاہیے۔ ایم ایم اے کی تشکیل اور اس اثرات پر خود مذہبی جماعتوں میں رائے تقسیم ہے۔ ایک طبقہ مذہبی اتحادی سیاست اور دوسرا سیاسی اتحادوں کا حامی ہے۔ ایم ایم اے میں جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جو کسی بھی طرح فرقہ ورانہ سیاست کا حصہ نہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی میں یہ بحث شدت سے موجود ہے کہ ہمیں ایم ایم اے کی سیاست نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن دونوں کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے۔ دونوں 2018کے انتخابات میں ایک بار پھر ایم ایم اے کے طرز کے اتحاد کے حامی ہیں۔ اس اتحاد کو وہ بنیادی طور پر خیبر پختونخواہ میں فوقیت دینا چاہتے ہیں۔ دونوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ سیاست کے طاقت ور مراکز ا ور مذہبی ووٹوں اور مذہبی سیاست کو بنیاد بنا کر اقتدار کی سیاست میں اہم حصہ دار بن سکتے ہیں۔ سراج الحق بنیادی طور پر یہ نقطہ بھول جاتے ہیں کہ ایم ایم اے میں بھی اصل طاقت مولانا فضل الرحمن کو حاصل ہوئی تھی۔ ایم ایم اے کی سیاسی ناکامی یا بری طرز حکمرانی میں کلیدی کردار بھی مولانا فضل الرحمن کا تھا۔ ان کی بدعنوانی اور کرپشن پر مبنی سیاست نے نہ صرف ایم ایم اے کو نقصان پہنچایا بلکہ مذہبی بنیاد پر سیاسی حامیوں کو کافی مایوس کیا۔ مولانا فضل الرحمن 2013کے انتخابات میں بھی مذہبی اتحادی سیاست کو ہتھیار بنا کر سیاسی میدان میں اترنا چاہتے تھے، لیکن جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر سید منور حسن اس مذہبی اتحاد میں رکاوٹ بن گئے او ران کے بقول مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر مذہب کی کوئی خدمت نہیں کی جاسکتی۔ سید منور حسن کے بقول اس طرز کے اتحاد نے ہماری اپنی داخلی سیاست کو بھی نقصان پہنچایا۔
لیکن لگتا ہے کہ سید منور حسن کے مقابلے میں موجودہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو مولانا فضل الرحمن کا سیاسی فارمولہ زیادہ مناسب لگتا ہے، لیکن سراج الحق کو بھی جماعت اسلامی کے اندر سے ایسے گروپ سے مزاحمت کا سامنا بھی ہے اور کرنا پڑے گا جو ایم ایم اے طرز کے اتحاد اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر سیاست کرنے کے حامی نہیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 2002میں ایم ایم اے کا اتحاد بن رہا تھا تو بہت سے سنجیدہ طرز کے اہل دانش نے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی شاطر چالوں سے بچیں اور اس عمل سے جماعت اسلامی کی جو کچھ سیاسی ساکھ موجود ہے وہ بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ وقت نے ثابت کیا اور کئی جماعت کے لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ اس وقت اگر ہم ایم ایم اے سے بچ جاتے تو ہماری داخلی سیاست کو زیادہ نقصان نہ پہنچتا۔ جماعت اسلامی کے وہ لوگ جو اس اتحاد کے حامی ہیں ان کو محض ایک صوبہ کی بنیاد پر پوری قومی سیاست کے معاملات کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی اتحادی سیاست سے ملک کی مجموعی سیاست میں کوئی بڑ ی خدمت نہیں ہوسکتی۔ ہمیں آج بھی سیاسی معاملات کو بڑے سیاسی فریم ورک ا ور بڑے سیاسی فہم کے ساتھ سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ مذہبی سیاست سے وابستہ لوگ اہم ہیں، لیکن جماعت اسلامی کو خاص طور پر مذہبی سیاست کے نام پر فرقہ ورانہ سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔اس وقت بھی سیاسی سطح پر تین بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور تحریک انصا ف موجود ہیں۔ ان ہی بڑی جماعتوں کے ساتھ مذہبی سیاست کے حامیوں کو اپنا سیاسی راستہ بنانا چاہیے۔ لیکن اگر مذہبی سیاست کے لوگ بھی مذہب کو محض سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کے کھیل میں حصہ دار بننے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو وہ مذہب کی ساکھ کو بھی برح طرح متاثر کریں گے۔
دراصل مولانافضل الرحمن سمجھتے ہیں کہ اقتدار کے کھیل میں حصہ دار بننے کے لیے یا بڑی جماعتوں کو سیاسی بلیک میل کرنے اور اقتدار اور اختیارات کی بندر بانٹ کے لیے تمام مذہبی جماعتوں کو اپنے حق میں استعمال کرکے وہ زیاد ہ فائدہ میں رہ سکتے ہیں۔ مذہبی اتحادی سیاست میں دو ہی بڑے گروپس ہیں اول جے یو آئی اور جماعت اسلامی یعنی مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق باقی جماعتیں تو محض ان کے پیچھے کھڑی ہونگی۔ یہ بات یاد رکھیں مولانا فضل الرحمن سیاسی آدمی ہیں اور سیاست میں اقتدار کو وہ اپنی سیاسی ضرورت بھی سمجھتے ہیں۔ اگر اس عمل کے لیے ان کو جائز اور ناجائز جو کچھ کرنا پڑے وہ کریں گے۔ اس لیے تمام مذہبی جماعتوں اور جماعت اسلامی کو مولانا فضل الرحمن کے سیاسی ایجنڈے سے باخبر رہنا چاہیے، وگرنہ اگر ہماری مذہبی جماعتیں مولانا فضل الرحمن کی سیاسی چالوں میں آتی ہیں تو اس سے وہ اقتدار کے کھیل میں حصہ تو لے لیں گے، لیکن اسلام کی ساکھ کو خراب بھی کریں گے۔ کیونکہ مذہبی لوگ جب دیکھیں گے کہ ان کی قیادت مذہب کو بنیاد بنا کر جو اقتدار کی کشمکش میں خرابیاں کررہی ہیں یا اسے قبول کررہی ہیں اس سے ان میں زیادہ مایوسی پیدا ہوگی۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا مذہبی سیاست کے حامی اپنی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھیں گی یا ان ہی غلطیوں کو دوبارہ دہرائیں گی جو ماضی کی سیاست میں ان کی سیاسی حکمت عملیوں کا حصہ رہا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: