فانی مصور

0

ہر فرد میں ایک مصور چھپا ہوتا ہے۔ کسی کا مصور اسے برُش تھما دیتا ہے، کسی کا قلم کسی کی انگلیاں مصور ہوتی ہیں، کسی کی زبان۔ یہ اظہار کی مصوری ہے۔
ایک ذات کی مصوری ہوتی ہے۔ ہم کسی فرد کو پسند کرتے ہیں۔ اُسکی شکل دل میں نقش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مصور اپنی پسند میں بہت انتہا پسند ہوتا ہے۔ ہم اپنی پسند کے بت کو صرف اچھائیوں سے سجاتے ہیں۔ جہاں اچھائی نہ ملے اسے ہم تصور میں تراش کر اسے آویزاں کرلیتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے, کہ دل میں سجا یہ بت اُس فرد سے بلکل مختلف ہوجاتا ہے۔ ایسے میں جب وہ فرد اس بت کے مقابل آجائے تو ہم اُس فرد کو پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں۔ بت بچا لیتے ہیں, یا بچانے کی جنگ لڑتے ہیں۔
یہی حال ہم نفرت کا بھی کرتے ہیں۔ جس سے نفرت ہوئی, اپنی نفرتوں سے اُسے مجسم شیطان بنالیتے ہیں۔زندگی کے کسی موڑ پر جب وہ انسان دل میں بسے شیطان کے مقابل ہوجائے تو ہم سے اپنی مصوری کا شاہکار توڑا نہیں جاتا۔ ہمارے راہنما بھی ہماری مصوری کی انتہا کے شکار تو ہمارے رشتے ناطے بھی دلوں میں بسے اسی بت خانوں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔
اے مصور ہونے کے دعویدار فانی انسان جب مصور حقیقی نے نظام ہستی میں توازن رکھ کر انسانیت بسائی, خیر و شر کے دو کناروں کے درمیان زندگی کا دریا رواں کیا, تو تمھیں بھی یہ حق نہیں, کہ اپنے شاہکار تراشتے کسی ایک کنارے کی انتہا پکڑ لو۔ کہ ایسے فن پارے انسانوں کی بستی میں خیالی کہلاتے ہیں۔ حقیقت کی اس دنیا میں یہ انتہا تمھیں اپنے خیالوں میں تنہا کردے گی۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: