ہندو توا کی جنونیت اور مسلمان ۔۔۔۔ فارینہ الماس

1

بھارت میں ہندوؤں کو مسلمانوں سے نفرت نبھاتے ہوئے کئی دھائیاں گزر چکی ہیں۔ اس نفرت کا اظہار وقت کے مختلف صفحات پر بصورت ہندو مسلم فسادات تاریخ در تاریخ درج ہوتا چلا آیا ہے۔1992-93 میں بابری مسجد کے انہدام کے واقعے ہی کے بعد کئی شہروں میں یہ فسادات آگ کی طرح پھیلتے چلے گئے اور محض ممبئی ہی میں ایک ہزار سے زائد بے گناہ مسلمان بے دردی سے مار دئیے گئے۔ گجرات میں ان فسادات کی آڑ میں 2002 ءمیں تقریباً 2500 مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اور ظلم تو یہ تھا کہ یہ فساد خود ریاستی حکومت کی پشت پناہی سے برپا کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے فسادات میں اب تک تقریباً 25000 مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ کشمیر کی شہادتوں کا شمار علیحدہ ہے۔ جہاں یہ اعداد و شمار ایک لاکھ سے بھی ذیادہ ہیں۔دیگر فسادات کی فہرست کچھ ایسی طویل ہے کہ اس کا اندراج ممکن نہیں۔ لیکن بنا کسی مبالغہ آرائی کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے اکثر واقعات کی پشت پناہی خود بھارتی ریاستی مشینری کرتی ہے۔اس دہشت گردی میں نا صرف بی۔جے۔پی بلکہ کانگرس بھی اپنے دور حکومت میں ملوث پائی گئی۔ موجودہ مودی سرکار تو ان سب سابقہ حکومتوں میں سے سب پر سبقت لے گئی۔
اب صورت احوال یہ ہے کہ ایک طرف تو حکومت نے اسلامی تمدن اور بنیادی اسلامی تعلیمات کا تمسخر اڑانے کے لئے طارق فتح جیسے افرادکو منافرت اور انتشار پھیلانے کا ذمہ دے رکھا ہے، تو دوسری طرف بی۔جے۔پی کے غنڈوں کے ذریعے مسلم آبادیوں پر کسی نہ کسی بہانے ظلم و جور توڑنے کے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں۔ ہندو توا کی جنونیت کو بڑھوتری دینے کے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جس میں گائے کے مسئلے کو لے کر مسلمانوں پر عرصہءحیات تنگ کیا دیا جا رہا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ وہاں سرمایہ داروں اور مذہبی ٹھیکے داروں کا تو گٹھ جوڑ ہے ہی۔جو کہ کسی بھی معاشرے کے روبہ زوال ہونے کی ایک واضح نشانی ہوتی ہے۔لیکن یہاں ایسا غیر انسانی کھیل کھیلنے کے لئے اور مقامی لوگوں کے نقطہءنظر کو بدلنے کے لئے پڑھے لکھے دانشور طبقے کے بھی کچھ عناصر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک متعصب اور انتشار آمیز خیالات کا حامل پڑھا لکھا طبقہ معاشرے میں پھیلائی جانے والی نفرت کا سب سے بڑا شاخسانہ بن سکتا ہے۔ ایک طر ف تو مودی سرکار “دھرم جگران سمیتی” مہم کے ذریعے گھر واپسی یعنی بھارت میں تمام آباد غیر ہندو اقوام کو ہندو بنانے کے محاذ پر سرگرم ہے تو دوسری طرف اس مہم کو نہ ماننے والی قوموں خصوصاً مسلمانوںکو غیر انسانی،ظالمانہ طریقوں سے ہراساں کئے ہوئے ہے۔ مسلمان لڑکیوں کی عصمت دری، گاؤ ماتا کے مسئلے پر مسلمانوں کا قتل عام اور انہیں ملازمتوں میں مخصوص کوٹہ نہ دینے جیسے عوامل ان کی تضحیک و تزلیل کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم میں اگر کچھ وقفہ آنے لگے تو پھر سے کسی نا کسی اوٹ سے نفرت اور حقارت کا کوئی شاخسانہ پھوڑ کر اس فضا کو بحال رکھا جاتا ہے۔مثلاً کچھ عرصہ پہلے ایک ممبر پارلیمنٹ کی طرف سے یہ راگ الاپا گیا کہ مسلمانوں کے قبرستان ختم کر دینا چاہئیں کیونکہ ان کی وجہ سے انسانی آبادی کی آباد کاری میں زمین کی کمی کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اور آئندہ بھی مسلمانوں پر ان کے مردے دفنانے کی بجائے جلانے کی پابندی ہونی چاہیئے۔
اب حال ہی میں معروف گائیک سونو نگم کی طرف سے چھیڑی گئی بحث نے اک بار پھر اس عداوت و حقارت کو بڑھاوا دے رکھا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اذان جو کہ مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی طرف مائل کرنے کا ایک طریقہ ہے، ہندوؤں کے آرام میں مخل ثابت ہوتا ہے۔ ان کے بقول صبح کی اذان ان کی نیند کا تسلسل توڑ دیتی ہے اور مسلمان نا ہونے کے باوجود انہیں صبح سویرے اس آواز کی وجہ سے اٹھنا پڑ جاتا ہے۔اسے انہوں نے مذہبی غنڈا گردی سے تشبیہہ دیتے ہوئے اپنا ٹیوٹ لکھا کہ” آخر کب ہندوستان سے یہ مذہبی جذبات تھوپنے کی روایت ختم ہو گی۔”ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ کوئی مندر یا گردوارہ بجلی کا استعمال لوگوں کو جگانے کے لئے نہیں کرتے۔انہوں نے لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے خلاف بولتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ محمد ﷺ کے دور میں تو بجلی تھی ہی نہیں۔پھر ایسا کیوں ہے۔؟ لیکن ایسا شاید پہلی بار ہی ہوا ہے کہ اس بیان کے خلاف رد عمل کا اظہار پاکستان کی بجائے خود بھارت سے ہی کیا گیا۔ہمارا دانشور لبرل حلقہ عموماً پاکستان میں تو اقلیتوں سے ہونے والے سلوک کا خوب واویلہ کرتا ہے لیکن بھارت کے ایسے کسی واقعے یا رویے پر عموماً چپ سادھے رکھتا ہے۔ اس سارے معاملے پر بھی جتنا ردعمل سامنے آیا وہ بھارت ہی کی طرف سے آیا جو کہ کچھ ملا جلا رہا۔ بہت سوں نے اس بیان کی حمایت کی تو دوسری طرف بہت سی آوازیں اس بیان کے خلاف بھی اٹھتی سنائی دیں۔مثلاً ایک بھارتی ہندو شہری نے اپنی ویڈیو میں کہتا سنائی دے رہا ہے کہ وہ سونو نگم کے اس بیان کے بعد خود سے عہد کر رہا ہے کہ وہ کبھی بھی اس کے گانے نہیں سنے گا۔اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بیان سے پہلے سونو کے گانوں کا دیوانہ تھا لیکن اب اسے اس کی آواز تک سے نفرت ہو گئی ہے۔ان صاحب نے سونو کو کچھ اس طرح لا جواب کیا کہ ” سونو جی آپ جس لاؤڈ سپیکر کو اپنے آرام میں مخل ہونے کا باعث کہہ رہے ہو مت بھولو کہ اسی کا سہارہ لے کر تم اپنے گانے لوگوں کے کانوں میں اتارتے ہو۔اور شہرت پاتے ہو۔ تمہیں کوئی حق نہیں کہ دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے پھرو۔”نا صرف یہ کہ بہت سے ہندو شہریوں نے اسے اس کے اس بیان پر لتاڑا بلکہ خود ہندی سینما کی قابل زکر شخصیات نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لیا۔اس سلسلے میں ایک اہم بیان بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت کی طرف سے آیا کہ وہ ذاتی طور پر اذان سے محبت کرتی ہے۔اور اپنی ایک فلم کی ریکارڈنگ کے دوران جب اذان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکراتی تھی تو وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر اس میں گم ہو جاتی تھی۔پریانکا چوپڑہ نے کہا کہ اسے تو اذان کی آواز سن کر دلی سکون ملتا ہے۔ اور اپنی صبح کا آغاز اذان کی آواز سے کرنا اچھا لگتا ہے۔سونو نگم کی ایک ہمسائی اداکارہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ سونو کی قریبی ہمسائی ہے لیکن اسے کبھی بھی علی الصبح اذان کی آواز نہیں آئی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ آیا سونو نگم نے یہ بیان کسی کے کہنے پر دیا یا اپنی مٹتی ہوئی شہرت کو ایک بار پھر سے دوام دینے کے لئے دیا بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس معاشرے کی ایک پسی ہوئی،بے بس اور بے آسرا اقلیت کے عباداتی فلسفے سے متعلق ایسے بیانات داغنا نہ صرف مسلم اقلیت کے لئے بلکہ خود ہندو معاشرے کے لئے بھی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت کی مذہبی انتہا پسندی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کی اپنی پھیلائی ہوئی منافرتوں اور تفرقوں کا نتیجہ ان کے سماجی و تمدنی بٹوارے کے ساتھ ساتھ ان کے کئی جغرافیائی ٹکڑوں کی صورت سامنے آ سکتا ہے۔
گو کہ بھارتی معاشرے میں اقلیتوں سے بڑھتا نفرت آمیز رویہ دراصل انہیں اپنی قدیم روایات کو خاتمے سے بچانے کی خاطر اپنانا پڑ رہا ہے وگرنہ ان کی نوجوان نسل خود اپنے غیر انسانی اور فرسودہ روایات کے نظام سے بغاوت کرتے ہوئے اس مذہب کو ہی پس پشت ڈال دیں۔اس سلسلے میں باقاعدہ ایسے قوانین اور آئینی شقوں سے بھی مدد لی جا رہی ہے جو ہندو دھرم کو بچانے کے لئے بنائے گئے۔لیکن دوسری طرف بھارت کی اکثریتی آبادی مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کی متمنی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ہندو انتہا پسندی کا خاتمہ ہو۔کیونکہ کسی ایک نظریئے کو سب پر لاگو کرنا نا ممکن ہے۔اور اس صورت میں خطرناک بھی جب اسے دھونس اور جبر سے لاگو کروانے کی کوشش کی جائے۔ایک کثیر اقلیتی ریاست کی بقا اسی میں ہوتی ہے کہ تمام تر اقلیتوں کو ان کے اپنے اپنے نظریات پر چلنے اور عمل پیرا ہونے کی اجازت فراہم کی جائے۔کسی بھی نظریئے کو دبانے کی کوشش تمام تر نظریاتی سسٹم کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Sonu has criticised the loud speaker for the use of aazan .he is not talking about irrelevent use in sense of preech or khutba we are also against about the misuse of a d loudspeaker.but aazan is a call to remind a muslim his prayer time .even hindu actors said that they get spirituality through the voice of Aazan

Leave A Reply

%d bloggers like this: