اسمارٹ فون کو محبوب بنانے والے لڑکے لڑکیاں

0
  • 1
    Share

انفارمیشن ٹیکنالوجی بلاشبہ آج کی صدی میں کسی نعمت سے کم نہیں، دنیا کو گلوبل ولیج بنانے والی یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی “حضرت انسان” کی تخلیقی صلاحیتوں کے عروج و کمال کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہم دور ہوکر بھی عالمی دنیا کے اتنے قریب کبھی نہ تھے، ہزاورں کی مسافتیں پل میں طے کرلینے والی یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی انسان کو ایک دنیا سے دوسری دنیا کی سیر کرادیتی ہے، اپنے پیاروں سے قربت اور رابطے کا بہترین زریعہ ہے مگر کیا ہم اس کے استعمال کو محدود کرسکتے اور کیا ہمیں ایسا کرنا چاہئے، اور اگر کرنا چاہئے تو کب کب کرنا چاہئے؟

کیا ہم موبائل پر صرف “اور سب اچھا ہے کی مہم ہی چلارہے ہوتے ہیں”؟ یعنی کیا ہم نے اپنے خوبصورت اسمارٹ فون کو صرف بات چیت، معلومات تک رسائی اور مختلف موبائل ایپس سے روشناس ہونے کیلئے استعمال کرتے ہیں؟ اور اگر کرتے ہیں تو کس حد تک کرنا چاہئے؟

ہم سب کو علم ہےکہ موبائل فون کا بے جااستعمال روز بروز بڑھ رہا ہے، نوجوان لڑکے لڑکیوں کی اخلاقی اقدار ختم ہورہی ہیں، ہر کسی سے دوستی ہر کسی سے بات چیت، تصاویر کا تبادلہ، اپنی ذاتی معلومات کو شیئر کرنا ہمیں اور ہمارے ماں باپ کو کس دلدل میں پھنسا سکتا ہے ہمیں علم بھی نہیں۔

ہم کیسے یہ تعین کرسکتے ہیں کہ ہم کسی چیز کا بلا ضرورت استعمال کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنا قیمتی وقت بھی برباد کررہے ہیں، میں آپکو انتہائی سادہ سی مثال دینا چاہوں گی، ہم جو چیٹنگ فرماتے ہیں دوست احباب سے، اس چیٹنگ سے ہمیں ہر گز یہ علم نہیں ہوتا کہ والدہ کھانے کیلئے آواز دے رہی ہیں ،ہم اتنے محو ہوتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ کوئی ہم سے مخاطب ہے، ملنے آیا ہے اور ہمیں اس مہمان کو وقت دینا ہے اپنے موبائل کو نہیں!

ہم مہمان سے کم اور موبائل سے ذیادہ شفقت برتتے ہیں، ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارا یہ رویہ کسی کو کتنی تکلیف پہنچا رہا ہے، بس ہماری ٹک ٹک چل رہی ہوتی ہے اور چہرے پر ایک مسکراہٹ آتی ہے دوسری جاتی ہیں۔

ہم نے خود کو لاشعوری طور پر اتنا موبائل کا عادی کرلیا ہے کہ اگر ہم واش روم بھی تشریف لے جاتے ہیں تو بھی ہمارے ساتھ ساتھ موبائل ہر جگہ کی سیر کرتا ہے، اتنے مخلص تو ہم اپنے ماں باپ سے نہیں رہے جتنے مخلص موبائل فون سے ہوگئے، ہر وقت موبائل پر نظر، کوئی میسیج تو نہیں آرہا، کوئی کال تو نہیں آنے والی اور غیر ضروری دوستیاں پالنا ہمارا وتیرہ بن گیا ہے۔

میں نوجوان لڑکے لڑکیوں سے مخاطب ہوں کیا ہمیں اس اینڈرائینڈ فون کے استعمال کو محدود نہیں کرنا چاہئے، مثال کے طور پر جب آپ کھانے کی ٹیبل پر ماں باپ کے ساتھ موجود ہوں؟ آپ سے کوئی مہمان دور سے ملنے آیا ہو؟ آپ سے کوئی بات کر رہا ہو؟ آپ یونیورسٹی میں لیکچر لے رہے ہوں؟ کسی محفل میں مدعو کیے گئے ہوں۔

سیلفی لینے کے لئے ہم یہ نہیں سوچتے ہم کہاں موجود ہیں، کوئی موقع محل بھی ہے سیلفیاں لینے کا ہے؟ یا نہیں؟ سیلفی لینا اور ہر جگہ لے لینا درست نہیں، مہذب محسوس نہیں ہوتا، کیا آپ اپنے جاب انٹرویو کے دوران سیلفی لے سکتے ہیں اور اگر لیں گے تو کیا آپ کو نوکری پر رکھے گا ادارہ؟

ہر چیز کا استعمال موقع محل دیکھ کر کیا جاتا ہے، ٹیکنا لوجی میں ترقی کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ پر ہر چیزحلال ہوجائے اور آپ ہر جگہ اپنے غیر ضروری رویوں کا اظہار فرمائیں، ہم انتہائی غیر مہذب اور بد لحاظ ہو گئے ہیں، یہ غیر ضروری استعمال موبائل فون کا آپکی شخصیت تباہ کر رہا ہے اور آپکی اخلاقی اقدار بھی۔

موبائل فون کا استعمال کریں، مگر اپنے موبائل فون کو لوگوں پر ترجیح نہ دیں، ضرورت کی چیزوں کو ضرورت پر استعمال کیجئے، غیر ضروری استعمال کریں گے تو سب کو آپ سے شکایات رہیں گی۔

لوگوں کو اہمیت اور عزت دینا سیکھئے، موبائل کو نہیں، کیونکہ موبائل کا دل نہیں ہوتا جذبات نہیں ہوتے، مگر انسان میں دونوں ہوتے ہیں، وہ دل ہی کیا جس میں کسی کیلئے درد نہ ہو احساس نہ ہو!

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: