عالمی قانون کی ملکی سیاست پر چھاپ – قسط: 1

0

 سیاسی افق کی تابانیاں ہر نئے دور کے ساتھ عوام کیلئے حیرت انگیز کرشماتی دنیا کا دروازہ کھولتی ہیں۔ مگر اس افق کے پیچھے موجود عالمی تناظر کی سے بے خبر لوگوں کیلئے یہ ہمیشہ ایک معمہ ہی رہے گی۔ اگرچہ ملکی سیاست کے اپنے رخ ہیں لیکن عالمی قوانین ہمارے تاریک پہلوؤں میں اضافے کا باعث بنتے رہتے ہیں ۔ اسلامی دنیا میں ان قوانین کا بغور مطالعہ ذرا دیر سے شروع ہوا۔ اب شروع ہؤا بھی تو بہت سے ادارے قائم ہوچکے جنکی اٹھان ہی عالمی قانون پر ہے۔

پاکستان کی ابتدائی قیادت نے علی گڑھ سے قانونِ عالم سیکھا تھا۔ انگریز کیساتھ کھینچا تانی میں مسلم لیگ کی قیادت اس تمام اونچ نیچ سے واقف تھی۔ لیکن بعد ازاں حالات کے دھارے نے ہمارے سیاستدانوں پر عالمی افق کے راستے بند کردئیے۔ پاکستان ایک فٹبال بن گیا۔ یہاں سوشلزم اور جمہوریت کے بے دریغ تجربات  نے اسلامی روایت کا آغاز ہی نہ ہونے دیا۔ مقامی روایت کو دفن کردیا گیا۔ کسی نے پلٹ کر فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ عالمگیریہ کو دیکھا تک نہیں۔ پاکستان کے قبائل کے طرزِ عمل اور اقوام کی عادات و روایات کے مجموعے کو سرے سے سمجھنے کے لائق ہی نہیں جانا گیا۔ اس کے برعکس انگریزی اقوام کی عادات اور روایات کا طومار ہمارے گلے میں ڈال دیا گیا۔ یہ تمام نہ صرف نو آبادیاتی طرزِ عمل تھا بلکہ آج کے دور میں یہ غیر اسلامی اور غیر فطری بھی ثابت ہوتا ہے۔ اسلامی اور مقامی تجربے پاکستان میں آج تک عملی آغاز ہی نہ ہوپایا۔ اب پاکستان قانونی روایات کا عجیب و غریب اکھاڑہ ہے۔ اس اکھاڑے کے کوئی بھی اصول نہیں۔ کبھی ایک انداز جیت جاتا ے تو کبھی دوسرا۔ چونکہ عدلیہ اور مقننہ دونوں قانون سازی میں کردار ادا کرتے ہیں، اس بناء پر دونوں کی روایات کا خمیر بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ لیکن ان پر طرہ یہ کہ کبھی کبھی مقننہ کو گھر بھیج کر مارشل لاء کے تحت فیصلے صادر کئے جاتے ہیں جس کے بعد خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کونسی روایت سے کیا حاصل کیا جانا مقصود ہوگا اور عالمی دباؤ کی صورت میں کب ہتھیار ڈالے جائیں گے۔

سیاسی گروہ اس صورت میں ایک وسیع ترین قوسِ قزح کی صورت اختیار کرتے ہیں جس میں اقوامِ متحدہ کے مکمل پٹھو سے لیکر ان کے سوفیصد مخالف تک کے تمام رنگ بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہیں کسی پاکستانی روایت کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ان کیلئے اقوامِ متحدہ ایک مقدس گائے ہے۔ جس کے فیصلے ہرصورت میں ناٖفذ العمل ہونگے۔ حقیقت بھی اس کے اریب قریب ہی ہے۔ لہٰذا بے چون و چرا دستخط کرکے جان خلاصی کی جاتی ہے ۔ کون ملاعمر کی طرح عالمی دیوِ استبداد کو للکارے یا محمد علی جناح کی طرح عمر بھر بے فیض جہدِ مسلسل کرکے خون تھوکتا ہوئے مرے۔ ہمارے حکمرانوں کو صرف یہ سجھایا جاتا ہے کہ مائی باپ آپ جان چھڑائیں۔ اس بناء پر ہمیں اپنے سیاسی گروہوں کا انجام پہلے سے ہی معلوم ہونا چاہئیے۔ مذہبی گروہوں میں سے جنہوں نے سخت گیر مؤقف اپنایا ہو، انہیں تو پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش آج ہی کرلینی چاہئیے۔ کل کا کوئی بھروسہ نہیں۔ دہشت گردی کا بھوت تو دکھانے کیلئے ہے۔ دراصل عالمی قانون سازی میں کمزور اور تیسری دنیا کے ممالک عقل و دانش کی جنگ ہار چکے ہیں۔ ان کے نظریات و مذاہب کمزور پڑچکے ہیں۔ تفکیری دائرے بالکل ہی جدا ہیں۔ انکی تفکیری پرچھائیاں عالمی قانون کو درست سمت میں دھکیلنے کی کوئی واضح صورت نہیں دکھاتیں۔

1945 میں اقوام متحدہ کے قیام سے کافی قبل یورپ اور امریکہ کے کارپردازوں نے جان لاکی شریعت کو بنیاد بناکر انسانیت کو بادشاہت کے چنگل سے آزاد کیا تھا۔ لیکن ساتھ میں اسے نئی روایات کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ پہلی روایت آزادی کی بے مہار اونٹنی تھی جس پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد رکھی گئی۔ اسلامی گروہ اس وقت یا تو ترکی کے مردِ بیمار کی صورت میں جان کنی کے عالم میں تھے یا پاکستان و سعودیہ کیصورت میں ہنوز عالمِ تشکیل میں تھے۔ ایسے میں کسی اسلامی روایت کا کوئی ذکر عالمی قانونی دستاویزات میں نہیں ہو پایا ۔ لیکن 1945 سے آج تک کوئی ایک بھی اسلامی قانون یا اسلامی قانونی روایت عالمی سطح پر تسلیم نہ کروائی جاسکی ۔ یہ ہمارے لئے حیران کن ہے۔ یا تو اسلام (نعوذ باللہ) ایسی قانونی روایات سے متصف نہیں جنہیں اپنا کر عالمی اداروں میں بہتری لائی جاسکے اور جس کے ذریعے سے ایک مستحکم عالمی انسانی معاشرہ قائم کیا جاسکے۔ اسلام تو تمام عالم کیلئے خیر و برکت کا باعث ہے۔  دراصل ہمارے اندر اس سمجھ اور عقل کی کمی رہی کہ ہم ایسی روایات کو سمجھ کر عالمی ماہرین اور قانونی اداروں سے تسلیم کرواسکیں جن کے ذریعے سے دنیا اسلامی قانونی روایت سے متصف ہوجائے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ہم اپنے اسلامی معاشروں کی بقاء کیلئے قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہوتے۔

اسلام کا قانونِ صلح و جنگ قدیم ترین ہے۔ اس پر امام  محمد بن حسن الشیبانی کی بھی ایک تصنیف سیر الصغیر کے نام سے موجود ہے۔ ایسے ہی موجودہ دور میں بہت سی تحقیق اس موضوع پر موجود ہے۔ لیکن کسی ایک بھی موضوع کو بنیاد بناکر اسلامی قوانین کو عالمی اداروں سے تسلیم کروانے کی مہم کا آغاز نہیں کیا گیا۔ یہ ایک ناکامی ہماری بہت سی ناکامیوں کا باعث ہے۔ اسکا اظہار ہر عالمی قرارداد کے ساتھ ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا چارٹر عالمی قوانین کے دوسرے سرچشموں سے فائدہ اٹھانے کی صریح وضاحت کرتا ہے۔ یہ صراحت اسکے پہلے پیراگراف میں موجود ہے جہاں انسانی امن اور آزادیوں کا ذکر موجود ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اسلام امن کا دین ہے اور اسلام کا بنیادی معنی ہی امن ہے تو اس کیلئے ہمیں دنیا میں اسلامی قوانین کی حقانیت ثابت کرنا چنداں مشکل نہیں ہونا چاہئیے۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تیسرے باب (آرٹیکل 13) کے  پہلے جزو میں مذہب کا منفی حوالہ موجود ہے جہاں مذہب کو نسل، زبان اور جنس کیساتھ ایک تفرقے کی بنیاد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بعینہ آرٹیکل 55 اور آرٹیکل 76 میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔ اس کے سوا اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں مذہب کا کوئی تیسرا حوالہ مذکور نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اقوامِ عالم بنیادی طور پر مذاہب کو اور یوں اسلام کو بھی تفرقہ بازی اور انسانوں میں تفریق کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اس بناء پر اقوامِ عالم کا قانون اسلام کے عالمی قانون سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے۔ یہ تاثر تمام عالمی اداروں کے الفاظ سے ظاہر و باہر ہے۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی لاء سکول سے کورٹنی ہولینڈ نے اپنے 1997 کے مضمون میں اس پر تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ مذہبی قانونی اقدار کا اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے براہِ راست تصادم ہے۔ اس مضمون میں مزید صراحت ہے کہ مذہبی قوانین کی بنیاد پر جتنے ممالک اقوامِ متحدہ کے قوانین سے احتراز کا رویہ اپناتے ہیں، وہ تمام چارٹر سے روگردانی کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔ قانون کا یہی سیدھا سادھا مطلب ہے۔ اس میں کوئی تیسری راہ دیکھنے والے خود کو بے وقوفانہ وقت گزاری کا مجرم گردانیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ اقوامِ متحدہ اور عالمی قانون کے تحریر کنندگان یا تحقیق کار اپنے تیز تر نشتر لئے تمام اقوام اور مذاہب کا سیاسی و معاشرتی آپریشن کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہیں روکنے کیلئے کوئی بھی پرانا حربہ کارگر نہیں ایسے میں وقت گزاری مہلک ترین مسئلہ ہے۔ اسی بناء پر مذہبی اداروں کے اجتماعی کردار کو نظر انداز کرکے انہیں ایک منفی عنصر کے طور پر گنتے ہوئے تمام عالمی اداروں سے باہر کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ اداراتی علوم کے ماہرین کی تعریفات کی روشنی میں یہ ایک بڑی جہالت ہے۔

مذہب کے ایسے تذکرے سے لگتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنی اساس میں مذہب کے اجتماعی کردار سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ اس بناء ہر اقوامِ متحدہ جانبداری سے کام لیتے ہوئے لامذہبیت کو فروغ دینے کی مجرم ہے۔ 1945 سے لیکر آج تک مذہبی اداروں اور سیاسی تحریکات یا تعلیمی کوششوں کو نہ سمجھ پانا، اقوامِ متحدہ کہ ناکامی ہے۔ اس سے اقوامِ عالم کی غیر لچکدار پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔ جیسے آج  تک دنیا میں کوئی تبدیلی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی۔ مذہبی ادارے کسی مثبت عمل کا حصہ نہیں بنے۔ یا ایسی کوئی اسڈڈی ہی نہیں کی گئی جس سے یہ معلوم کیا جاتا کہ مذاہب کے اجتماعی کرادار کو نظر انداز کردینے یا مائنس کردینے سے دنیا پر کیا مثبت اور کیا منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنی اس ایک بنیاد پر آج بھی قائم ہے کہ مذہب انسانوں میں تفرقے کی بنیاد ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ایسی پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں تشکیل دیتے ہیں جن میں اسلامی اداروں، سیاسی جماعتوں اور اسلامی پلیٹ فارموں کو نظر انداز کردیا جائے۔ انہیں غیر مؤثر بنادیا جائے۔ اسلامی ممالک سے کسی دینی یا مذہبی قانون کا عالمی سطح پر اپنانے اور اسے پھیلانے کا سلسلہ موقوف کردیا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اسلامی معاشرے اور قوانین بانجھ ہیں۔ مذہبی ادارے ناکامی کی طویل کتھا ہیں اور اسلامی معاشروں نے اپنے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ اپنے مستقبل کیلئے اپنی روایات کے مطابق کوئی حکمتِ عملی طے نہیں کی۔ کوئی ایسے ادارے تعمیر نہیں کئیے جن سے مذہبی اقدار کے اجتماعی اظہار سے دنیا میں امنِ عالم کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور سیاسی حوالوں کے علاوہ فنی و تعلیمی کاوشوں کا آغاز نہیں کیا گیا۔ جس قدر بھی مذہبی ادارے قائم کئے گئے وہ بیکار تھے۔ انکا کوئی مثبت مقامی یا عالمی تاثر صفر ہی رہا۔

اس پر عبداللہ النعیم نے مثبت طرزِ فکر کیساتھ کچھ کام کرنے کی جانب راہ رکھائی ہے۔ انکا خیال ہے کہ سیکولر سٹیٹ کیساتھ اسلام کا براہِ راست تصادم ہے۔ اس میں وہ جان رال (بحوالہ 2003 میں لکھی گئی کتاب “سیاسی آزادیاں”) کی تجویز پر صاد کرتے ہیں جس میں عالمی سطح پر بنیادی انسانی آزادیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر کچھ حدود قیود عائد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں ۔ حدود و قیود نافذ کرنے کیلئے وہ سماجی دانش یا پبلک ریزن کے استعمال کی گنجائش پاتے ہیں۔ لیکن اس تجویز پر عمل کرنا بہرحال ایک مشکل کام ہے۔اس پر بھیکھو پاریکھ کی تجویز ہے کہ مختلف ثقافتوں کا جامع جائزہ لیا جائے اور مختلف قسم کے قوانین کا جابجا اطلاق کیا جائے۔ یہ بھی ایک گورکھ دھندا ہوگا۔ اس لئے عالمی قانون اپنے نوآبادیاتی پرچھائیوں سے کسی کو بھی صرفِ نظر کرکے بخشنے پر رضامند نہیں محسوس ہوتا۔ پارکھ کے سن دوہزار کے مضمون کے مطابق انسانی حقوق جیسے عالمی اصول اس قدر کزور ہیں کہ یہ تمام ثقافتوں کے بہت سے نازک معاملات کو حل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہماری موجودہ دنیا کا عالمی نظام پر اس قدر وسیع اور گہرا انحصار بہت سے خطرات کا موجب بھی ہے  جس کا ادراک ہمارے عالمی ادارے بروقت نہیں کرپائے۔ لیکن عبداللہ النعیم کے نزدیک اقوامِ متحدہ کو دوسرے معاشروں میں دخل اندازی کا بھرپور حق حاصل ہے۔ وہ دارفور کی مثال دیتے ہیں ۔ لیکن کسی ایک مغربی ملک کو دوسرے پر حملہ کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے وگرنہ یہ نو آبدیاتی دور کا احیاء ہوگا جس سے کم ازکم افریقی بری طرح سے خوفزدہ ہیں ۔

جاری ہے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: