کامیابی میں پیشن (Passion) کا کتنا کردار ہے؟

0
  • 2
    Shares

یہ ایک عام عقیدہ ہے کہ آدمی اگر اپنے پیشن (Passion) یعنی کوئی ایسا کام جس سے اسے محبت ہو کو پورا پورا وقت دے اور اسی کو اپنا پیشہ بنا لے تو وہ خوش و خرم بھی رہے گا اور کامیابیاں بھی اس کے قدم چومیں گی۔ اسی کا پرچار موٹیویشنل اسپیکرز بھی عموما کرتے ہیں۔  منطق بہت سادہ ہے: جو کام آپ کو بہت پسند ہے اگر آپ وہی کریں تو آپ اسے پوری محنت اور لگن سے خوشی خوشی کریں گے  جس کے نتیجے میں آپ اس میں کمال پیدا کرلیں گے ( اور یہی اس منطق کا مسئلہ بھی ہے کہ یہ بہت سادہ ہے!)۔

موٹیویشنل اسپیکرز سے چونکہ ہماری  چھیڑ چھاڑ جاری رہتی ہے تو چند روز قبل  کچھ مزاحیہ و استہزائیہ تبصرے پیشن کے حوالے سے فیس بک پر پوسٹ کردیے۔ اس پر ایک انتہائی قابلِ احترام شخصیت کی طرف  سے ہلکی سی سرزنش ہوئی کہ یہ تبصرے کچھ بچکانہ سے ہیں۔ بجا کہ کامیابی اپنے پیشن کا تعاقب کرنے والے ہر شخص کے قدم نہیں چومتی لیکن ایسی بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں اپنے پیشن کو ہی اوڑھنا بچھونا بنانے والوں نے غیر معمولی کامیابیاں سمیٹیں۔ مزید یہ کہ آخر “کامیابی” ضروری ہی کیوں ہے۔ کئی لوگ اپنے پیشن کے تعاقب میں معاشی طور پر مکمل ناکام رہ جاتے ہیں لیکن وہ پرواہ نہیں کرتے۔ اور پھر ہمارے ملک میں  تو لوگ  کیریئر کا انتخاب بھی سماجی دباؤ اور بھیڑ چال میں کرتے ہیں۔ نتیجتاً ہمیں  ملک کی صف اول کی جامعات  کے اعلیٰ تعلیمی درجوں میں  بھی  ایسے طلبہ  ملتے ہیں جن کے اندر اپنے مضامین سے بنیادی نوعیت کی واقفیت پیدا کرنے کا جذبہ بھی نہیں پایا جاتا (کیونکہ  یہ مضامین ان کا اپنا انتخاب نہیں تھے) ۔ ان کی بے رنگ زندگیوں کا تصور کرکے تو آدمی  خواہش کرتا ہےکہ کاش ہمارے ملک  میں لوگ خوف اور بے بسی کے احساس کے تلے زندگیاں گزارنے کی بجائے  کبھی اپنے پیشن  کو اپنانے کا حوصلہ پیدا کریں۔  اس تبصرے  کو دیکھ کر پیشن کے متعلق سنجیدگی اور  نسبتا تفصیل سے کچھ عرض کرنے کی  ضرورت محسوس ہوئی  تاکہ جہاں ہمارے  ناچیز  موقف کے وضاحت ہوسکے وہیں  پیشن کی کامیابی کے آفاقی فارمولے کے طور پر مارکیٹنگ  کے متعلق کچھ مزید  سوالات بھی اٹھائے جاسکیں۔

 پیشن کے بارے میں زیادہ تر تقریر بازی اور عبارت    آرائی کی تہ میں کچھ  بنیادی نوعیت کے  عجیب و غریب مفروضے کارفرما محسوس ہوتے  ہیں جنکی علمی بنیادوں سے کم از کم ہم تو واقف نہیں ۔ مثلاً   یہ کہ ہر شخص  کوئی نہ کوئی پیشن لے کر پیدا ہوتا ہے ،  اسے  دریافت کرکے پیشے کے طور پر اپنا سکتا ہے، پیشن مستقل ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہماری طالب علمانہ  رائے میں یہ خیال کرنا کہ پیشن کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جسے ہم لے کر پیدا ہوتے ہیں انسانی شخصیت اور ماحول کے درمیان انتہائی پیچیدہ اور دو طرفہ تعامل سے ناواقفیت   کی دلیل ہے۔  زیادہ تر لوگوں کے معاملے میں  پیشن  ان کے ماحول میں موجود  چیزوں یا مواقع ، ان  چیزوں اور مواقع کےساتھ ان کے ارادی و غیر ارادی اور اختیاری و غیر اختیاری  تعارض  اور اس تعارض کے مثبت و منفی نتائج کے نیتجے کے طور پر  رفتہ رفتہ  نمو پاتا ہے۔  یہ تصور کرنا ذرا مشکل ہے کہ پکاسو اگر افریقہ کے کسی گاؤں میں پیدا ہوتا اور پلتا بڑھتا تو بھی  مصوری ہی اسکا پیشن ہوتی یا بل گیٹس  1850 ء میں پیدا ہوتا  تو  بھی معجزانہ طور پر  سوفٹ ویئر  کا پیشن ہی اس کے دل میں ٹھاٹھیں ماررہا ہوتا۔

ہمارے اردگرد کئی چیزیں، کام اور مواقع موجود ہوتے ہیں جن میں ہم  فطری تجسس ، معاشرتی رسم  یا مجبوری کے تحت حصہ لیتے ہیں  اور اگر اس میں  کچھ کامیابی  ملے, مہارت حاصل ہوجائے یا تحسین ہو  تو اس میں ہماری دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسے کسی کام میں ہماری مشغولیت کے  جاری رہنے  اور اس میں ہماری مہارت بڑھنے کے نتیجے میں یہی دلچسپی پیشن کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

برآں مزید، جس چیز کو ہم پیشن سمجھتے ہیں   وہ موٹیویشنل  اسپیکرز کی تقریریں سن کر  اور انکی  کتابیں پڑھ کر پیدا ہونے والے تاثر کے برعکس  ایک سے زائد اجزاء پر مشتمل  ایک کثیر الجہت شے ہے۔      یعنی ایک آدمی جو اپنے کام کو توجہ، محنت اور   خوبی سے انجام دیتا   اور اس سے خوشی کشید کرتا نظر آتا ہے تو  ہم فوراً فرض کرلیتے ہیں کہ  اس شخص کی اس کام میں دلچسپی ہوئی  ہوگی  اور  چونکہ اسے یہی  کام کرنے کا موقع مل گیا تو یہ اتنے پیشن سے کام کررہا ہے اور خوش و خرم ہے (گویا اپنے پیشن کو فالو کرنے کے نتیجے میں خوش ہے)۔ تاہم مختلف تحقیقات کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ   کسی کام کو کرتے ہوئے خوش ہونے کا انحصار  اس کام  میں آدمی کی مہارت،   اپنے طریقے سے کام کرنے کی آزادی، کام سے ملنے والے فیڈبیک ا ور اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے خوشگوار تعلقات  وغیرہ جیسے  متعدد عوامل پر ہوتا ہے۔   جن میں  کسی ایک  میں کمی بیشی سے بھی  کام میں دلچسپی اور اس سے حاصل ہونے والی خوشی  پر   مثبت یا منفی  اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر  آپ اگر آپ کو کام  پسند ہے لیکن جن لوگوں کے ساتھ آپ کو کام کرنا پڑ رہا ہے ان سے آپکے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو آپ کا پیشن تحلیل بھی ہوسکتا ہے اور آپ کی ‘ڈریم جاب’ بھی ڈراؤنا خواب بن سکتی ہے۔

پھر خود دلچسپی کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ دلچسپی کام، مہارت اور کامیابی سے پہلے آئے۔ کئی دفعہ ہم کوئی کام دلچسپی کے بغیر کسی موقع کا فائدہ اٹھانے کیلئے یا مجبوری میں بھی شروع کرتے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں ملنے والی کامیابی یا اس کام میں مہارت کے نتیجے میں ہماری دلچسپی اس میں بڑھ جاتی ہے۔ کئی دفعہ اس کے بالکل برعکس بھی ہوتا ہے۔ آپ کو ایک کام بہت دلچسپ معلوم ہوتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ یہی آپ کا پیشن ہے لیکن جب کرنے بیٹھتے ہیں تو آپ اس سے جلدہی اکتا جاتے ہیں۔

کال نیوپورٹ نے اپنی کتاب میں متعدد ایسی مثالیں جمع کی ہیں جن سے بڑی حد تک واضح ہوجاتا ہے کہ دلچسپی یا پیشن کوئی کام شروع کرنے کے بعد متعدد دوسرے عوامل کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی مثال عہد ساز موجد اسٹیوجابز کی ہے۔ 1975ء تک صورتِ حالات یہ تھی کہ جابز کو کمپیوٹرز سے زیادہ بدھ مت میں دلچسپی تھی۔ 1975ء میں اس کے دوست ووزنیک ایک کام کی آفر ملی تو اس نے اسٹیوجابز کو بھی ساتھ گھسیٹ لیا کہ وہ کاروباری معاملات دیکھ لے گا تاہم تھوڑے ہی دنوں بعد وہ کسی کو بتائے بغیر ایک بدھ اجتماع میں شرکت کیلئے چلا گیا۔ اس کی واپسی تک اس کو کام سے نکالا جاچکا تھا۔ اسی طرح ایپل کا آغاز بھی یوں ہوا کہ اسٹیو جابز اور ووزنیک نے اپنا اپنا کام جاری رکھتے ہوئے فالتو وقت میں ایک موقعے کا فائدہ اٹھانے کیلئے صرف 100 سرکٹ بورڈز بنا کر بیچنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے ایک غیر قانونی آلہ بھی بنا کر بیچا جس سے لوگ لمبی کالیں کم پیسوں میں‌کرسکتے تھے۔ اس سے پھر انہیں کمپیوٹرز بنانے کا خیال بھی آیا اور موقع بھی ملا۔ اور پھر ہر کامیابی کے ساتھ اسٹیو جابز کا پیشن بڑھتا گیا۔ اہم بات یہ ہے یہاں پیشن سے کامیابی پیدا نہیں ہوئی بلکہ کامیابی اور پیشن دونوں نے مہارت، ضرورت، موقعے، ماحول اور کامیابی کے کثیر الاطراف اور پیچیدہ تعامل سےجنم لیا۔

الغرض، ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیشن سے شروع ہو کر کامیابی پر ختم ہونے والا تصور جو ذیل میں دیے گئے خاکے سے واضح کیا جاسکتا ہے ایک بیش سادہ تصور ہے۔

 اس کے برعکس اگر ہم سہل فکری سے اجتناب کرتے ہوئے انسان، اسکی مختلف کیفیات و محرکات اور ماحول کو ایک بڑے تناظر میں دیکھنے کا حوصلہ پیدا کریں تو صورت حالات اس سے کہاں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے جس کو ذیل میں دیے گئے خاکے سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ کام، مہارت، کامیابی اور دلچسپی/ پیشن جیسے عوامل میں سے ہر ایک نہ صرف دوسرے عوامل پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ ان میں سے ہر ایک انفرادی اور یہ سب ایک مجموعے کی شکل میں اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثر قبول کرتے اور اس پر اثرانداز ہوتے بھی ہیں۔

اب اس صورتِ حالات میں   ہر کسی کو  اپنے پیدائشی پیشن کو تلاش کرکے اسے فالو کرنے کی ایڈوائس  کی افادیت کتنی ہے یہ فیصلہ تو ہم قارئین  پر ہی چھوڑ دیتے ہیں  تاہم اس  سرگرمی کے کچھ مضر  پہلووں کی طرف ہم اشارہ ضرور کرنا چاہیں گے۔

پیشن کو فالو کرنے کی ایڈوائس  صرف کامیابی کے ایک فارمولے کے طور پر ہی پیش نہیں کی جاتی بلکہ موٹیویشنل اسپیکر حضرات  اسے عموما  ‘بامقصد زندگی’  اور ‘ اپنی ذات کی پہچان’ کے متعلق جذباتی  نعروں کے درمیان   کچھ اس ڈھنگ سے  پیش کرتے ہیں کہ پیشن کو فالو کرنا ‘ بامقصد’  زندگی کیلئے ضروری لگنے لگ پڑتا ہے۔ ‘اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی’، ‘جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے رب کو پہچان لیا’، ‘ دنیا میں آئے ہو تو کچھ بڑا کرجاؤ’، ‘جنہوں نے اپنے آپ کو پہچانا وہ امر ہوگئے’، ‘اگر تمہارے آنے سے دنیا میں فرق نہیں پڑا تو تمہارے جانے سے بھی نہیں پڑے گا’ وغیرہ جملوں پر جب آدمی تالیاں پیٹ کر فارغ ہوتاہے تو اسے یقین ہوچکا ہوتا ہے کامیابی اور’ بامقصد’ زندگی کیلئے پیشن کی پہچان ضروری ہے اور اگر وہ پیشن نہ پہچان پایا تو نہ کامیاب ہوسکے گا اور نہ ہی  ‘بامقصد’ زندگی گزار  پائے گا۔

تاہم  جب وہ سوچنا شروع کرتا ہے کہ اس کا پیشن کیا ہے تو  پریشان ہوجاتا ہے۔ اسے سوجھ کر ہی نہیں دیتا کہ  آخر کونسا کام اس کا پیشن ہے۔ کس کام میں اس کی دلچسپی ہے اور  کونسا کام کرتے ہوئے وہ ‘تھکتا نہیں ہے’۔ اب چونکہ پیشن کے نہ ہونے کا  سیدھا مطلب ناکامی اور بے مقصد زندگی ہے تو اگر قارئین خود کبھی فرسٹریشن اور  ڈپریشن  کی اس کیفیت سے نہیں بھی گزرے تو  اندازہ لگا سکتے ہیں تو کہ ایسے شخص کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی  اور اس سے کیسی بے عملی، بے سکونی اور مایوسی  (جس کے پھیلانے کا الزام ہم پر لگایا جاتا ہے) پھیلتی  ہوگی۔

ہمیں شبہ ہے کہ طلباء میں مایوسی کی سی کیفیت  میں  بھی  پیشن کے تعاقب کے بے جا پرچار کا کچھ نہ کچھ دخل ہوسکتا ہے کہ  کیونکہ طلباء خواہ مخواہ ہی فرض کرلیتے ہیں کہ انہیں والدین کی جانب سے جس چیز پر لگایا گیا ہے کہ وہ ان کا اپنا انتخاب  نہ ہونے کی وجہ  سے ان کا پیشن کا نہیں بن سکتی ۔ اسے  تو محض ہماری قیاس آرائی ہی  سمجھا جائے  تاہم یہ تسلیم کرلینا بھی خاصا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ طلباء کا اپنے مضامین میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ بھی صرف  پیشن  کو پہچان کر اسے فالو نہ  کرپانا بھی ہے۔ ہمارے ملک میں طلبہ کی مختلف مضامین بلکہ سیکھنے کے عمل میں عمومی عدم دلچسپی یا قابلیت کے فقدان  کے ذمہ دار پرائمری اسکول  بلکہ گھر سے شروع ہوجانے والے متعدد  سماجی،  معاشی اور ادارہ جاتی مسائل ہیں  جن پر علیحدہ سے کئی دفتر لکھے جاسکتے ہیں۔

بھرے پیٹ کے ساتھ پیشن کے لیے سب کچھ تج دینے کے نعرے تو لگائے جاسکتے ہیں لیکن وہ  والدین جن کے پاس اپنی اور بچوں کی زندگیوں کے ساتھ تجربے کرنے کا مارجن تھوڑا ہوتا ہے ان کیلئے پہلے بچوں کے معاش کی فکر کرنا فطری ہے۔ رہیں دلچسپیاں تو وہ کئی ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہوتی رہتی ہیں۔ قارئین اگر سوچ کر دیکھیں کہ دس سال پہلے ان کی دلچسپیاں کیا تھیں تو کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں کتنی تبدیلیاں واقع ہوچکی ہیں  (ہماری یاد کرنے کی صلاحیت خاصی محدود ہے تاہم اگر کوئی ڈائری وغیرہ لکھنے کا عادی ہے تو اس کیلئے اپنی پرانی ڈائریوں کا مطالعہ خاصا چشم کشا ہوسکتا ہے)۔ عام مشاہدہ اور تحقیق دونوں ہی تصدیق کرتے ہیں ہماری دلچسپیوں  بلکہ اقدار اور شخصیت تک میں تمام عمر  تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں (جنکی رفتار البتہ بڑھتی عمر کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے)۔  اس کے ساتھ اگر یہ بھی ذہن میں رکھ لیا جائے کہ کتنی دفعہ ہمیں دور کا کوئی ڈھول سہانا لگتا ہے جس کے پاس جا کر مایوسی ہوتی ہے تو ہر وقتی دلچسپی کو پیشن سمجھ کر اس کے تعاقب کے ذریعے زندگی کو ‘بامقصد’ اور ‘کامیاب’ بنانے کی سعی میں جت جانے کی بجائے اپنے انتخابات کھلے رکھنے کی حکمت عملی زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے۔  اگر آپ دلچسپیاں قائم رہیں اور معاشی حالات بہتر ہوں تو لوگ اتوار کو کرکٹ کھیل کر، شام کو کتابیں پڑھ کر اور گھر میں پھول اگا کر بھی اپنا شوق پورا کرتے ہی رہتے ہیں۔ پیشہ بنانا ضروری تو نہیں۔

رہے وہ فاقہ مست اہل جنوں جو ہر قیمت چکا سکتے ہیں تو (الف) وہ تھوڑے ہوتے ہیں، اور (ب) انہیں نہ ہی موٹیویشنل تقریروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہماری تقریریں ان کی راہ کھوٹی کرسکتی ہیں۔ ان کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: