چینی یا میٹھا زھر: عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

0

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے “خبر” کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


سفید زہر کہلانے والی موجودہ چینی کی پہلی فیکٹری ہمارے ہاں 1866 میں انگریزوں نے قائم کی۔ آج چینی کی ہماری روزمرہ زندگی میں کیا اہمیت و کردار، یہ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ چینی ہمارے مشروب سے لے کر ہماری بیکری تک, ہمارے کھانوں کے اختتام سے لے کر فرصت کے ٹائم کی کینڈیز تک ہر جگہ چینی ہی چینی ہے۔ ایک عام آدمی محتلف اشیاء میں تقسیم اس چینی کی روز کتنی مقدار استعمال کر جاتا ہے, کیا وہ اسکا تعین کرتا ہے؟ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ زبان کی اس مٹھاس کا حلق کے پار جانے کے بعد ہمارے بدن سے کیا تعلق ہے؟ کیا ہمیںاسکی اتنی ضرورت ہے جتنی ہم استعمال کرتے ہیں؟

چینی آج انڈسٹری ہے۔ ہمارے گھروں کے کچن تک آنے کیلئے یہ کونسا سفر طے کرتی ہے۔ اسکی بھی اپنی تاریخ ہے۔کبھی آپ نے ہائی ویز پر سفر کرتے ٹرالیوں کی طویل قطاروں میں بے ہنگم بھرا یہ گنا دیکھا ہوگا۔ وہ لوگ جو آج چالیس سال سے اوپر کے ہیں, وہ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسا گنا ہے؟ برصغیر کا گنا ایسا تو نہ تھا, پہلے ہمارے ہاں موٹا سبزی مائل پیلا گنا ہوتا تھا، رس سے بھرا اور باریک چھلکے والا, لوگ دانتوں سے چھیلتے اور کاٹ کاٹ کر اسکا رس چوستے تھے۔ آج موٹے چھلکے والا پھیکے سبز رنگ کا یہ گنا ہائی برڈ نسل کا وہ گنا ہے جسے بتدریج رائج کیا گیا۔ یہ اُس سفر میں ہے جب یہ گنا سوائے شوگر مل کے باقی سب کیلئے کشش کھو دے گا۔
چینی صحت کیلئے کتنی فائدہ مند یا نقصان دہ یہ بھی طویل بحث ہے۔ اور ماہرین طب ہی کریں تو بہتر ہے۔ ہاں چینی پر بنیادی معلومات ہر فرد سمجھ لے تو بہتر ہے۔ ہمارے معاشرے میں دو قسم کے افراد ہیں۔ ایک شوگر کے بیمار جن پر چینی حرام سمجھی جاتی ہے, دوسرے وہ جو صحت مند سمجھے جاتے ہیں۔ وہ چینی کا بے تحاشا استعمال فرض سمجھتے ہیں۔
چینی خون میں شامل ہوتے ہی دو بنیادی اقسام میں تقسیم ہوجاتی ہے۔
* گلوکوز ۔ یہ ہر جاندار کہ خلیہ میں قدرت کی طرف سے موجود ہوتا ہے۔ اگر ہم اسے خوراک کےساتھ نہ بھی لیں تو بھی ہمارا جسم یہ بنالیتا ہے۔
* فرکٹوز۔ یہ ہمارا جسم نہیں بناتا نہ ہی یہ جسم کی اشد ضرورت ہے۔
فرکٹوز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے, کہ اسکی ایک مخصوص مقدار ہی ہمارا جگر مستحیل یعنی metabolised کرسکتا ہے۔ یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں اگر ہم اسکی کچھ مقدار کھالیں۔ جیسا کے فروٹس یعنی پھلوں میں ہوتا ہے۔ فروٹس میں فرکٹوز ہی ہوتے ہیں۔ جگر اس فرکٹوز fructose کو گلائکوجن glycogen میں تبدیل کر کے سٹور کرلیتا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ لیکن اگر اسکی ترسیل جاری رہے اور استعمال نہ ہو تو جگر اسے چربی fat میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہاں سے مسائل جنم لیتے ہیں، چربی چڑھنے کی ابتدا ہوتی ہے۔ یاد رکھیں پھلوں سے اتنا فرکٹوز کبھی نہیں ملتا جو جگر کو بھر دے، یہ چینی ہی کی کرامات ہیں۔
جب چینی نہیں تھی, انسانیت تب بھی میٹھا کھاتی تھی۔ تب بھی شہد ہوتا تھا ،گڑ ہوتا تھا۔ آج بھی قدرتی مٹھاس دستیاب ہے۔ مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی تب اُسی تناسب سے تھی۔ آج ہم نے چینی کیلئے اتنی ڈیمانڈ بنادی کے سپلائی اپنے آپ کو قائم رکھنے کیلئے ہم پر ہی نت نئے تجربے کررہی ہے۔ یاد رکھیں ہمھارا جسم گلوکوز تو پراسس کرلیتا ہے۔ لیکن جس مقدار میں ہم اسے فرکٹوز دے رہے ہیں اسکا سارا بوجھ ہمارے liver پر چلا جاتا ہے, liver اسے چربی بنا بنا کر ہماری نسلوں کو مٹاپا اور دائمی بیماریاں دے رہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق
1700 میں ایک عام آدمی 4 پاونڈ چینی سالانہ استعمال کرتا تھا۔
1800 میں یہ 18 پاونڈ ہوگیا۔
1900 میں 90 پاونڈ سالانہ پر چلا گیا۔ اور 2009 کے تخمینہ میں امریکہ میں 180 پاونڈ سالانہ استعمال بنا۔
چینی چھوڑ دینے سے زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا, لیکن اگر زندگی میں مٹھاس لازم رکھنی ہے تو اسکا تناسب بتدریج کم کردیں۔ اپنی اس خواہش کو قدرتی مٹھاس سے پورا کریں۔

اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: