ماشاءاللہ!!!میں ہیرو بن گیا

0

ہیرو کی تلاش میں گم سم ساحر لودھی نے ایک دن سوچا” کیوں نہ میں خود ایک ہیرو بن جاؤں” ملک میں کیا کیا نہیں ہورہا، کرپشن ہورہی ہے، لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، بے روزگاری ہے لیکن ہیرو کی آسامی آج بھی خالی ہے، کیوں نہ میں خود اس آسامی کو بھر دوں! اور اعلیٰ ظرفی کی اعلیٰ مثال قائم کروں، ویسے بھی خدا نے مجھے اس قدر حسن سے نوازا ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھ نہیں ٹھہرتی تو اس حسن باکمال، مردانہ وجاہت کا بھرپور استعمال کرکے ہیرو کیوں نہ بن جایا جائے اور وہ یہ کر گزرے!

ساحر لودھی صاحب ہمارے ملک میں لگتا ہے اب صرف دو کام بچے ہیں، گانا گانا یا پھر ہیرو بن جانا، آپ لوگوں کو رحم نہیں آتا؟ “دنیا میں اور بھی کام ہیں ہیرو بننے کے سوا” اس عنوان پر کاش کوئی مووی بنی ہوتی، تاکہ مجبور پاکستانی عوام کے دلوں میں بھی کچھ ٹھنڈک کا راج ہوتا، ابھی تو صرف کوئلے دھک رہے ہیں۔

آپ نے کبھی چمڑا دیکھا ہے؟ کوئی لچک نہیں پائی جاتی، لیکن اس پر بھی رنگ اور پالش کر کے اسے دیدہ زیب بنادیا جاتا ہے، آپ کے چہرے پر منوں ٹنوں میک خرچ کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی آپ کے چہرے پر نور نہیں آتا،رونق نہیں آتی، بس یوں محسوس ہوتا ہے کھال کو ہڈی سے جڑے رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جن لوگوں کی آوازمیں سر نہیں ہوتاانھیں گانا گانے اور سب کے سامنے گانے کا شوق کیوں ہوتا ہے؟ آپ ہوگئے، رابی پیرزادہ ہوگئیں اور اب وینا بھی میدان میں کود پڑیں! براہ مہربانی ہماری آنکھوں اور سماعتوں پر رحم فرمائیے، ہمارے ماں باپ نے بڑی محنت کرکر ہمیں پڑھا یا لکھایا اور معاشرے کی خدمت کرنے کے قابل بنایا ہے، کچھ لحاظ کیجئے، کچھ اچھا کیجئے اور عمر اور علم سے جڑ کر کیجئے، آپ بہت اچھا نام کما پائیں گے۔

بناوٹی انداز صرف خوابوں خیالوں میں اچھے لگتے ہیں، حقیقت میں نہیں، زندگی ڈرامہ نہیں ہوتی، حقیقت پر مبنی کہانیاں بھی اچھی لگتی ہیں اور ڈرامے بھی لیکن حقیقت کی دنیا کی منظر کشی کرنے میں صرف ایک اچھا کردار نبھانا ہوتا ہے جو حقیقت نہ بھی ہو مگر اس سے قریب تر ہو اور آپ وہ کرادر نبھا نہیں پارہے۔

شاہ رخ خان سے متاثر ضرور ہوں لیکن شاہ رخ خان بننے یا اس کی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ،فلم”راستہ” میں آپ “بھرپور شاھ رخ خان اور آپ کی ہیروئن ادھوری کاجل” دکھائی دے رہے ہیں، کیا کیا نقل کریں گے، شکر ہے چہرے ادھار پر نہیں ملتے ورنہ آپ وہ بھی لگانے سے گریز نہ کرتے، آپ ساحر لودھی ہیں، اس پر فخر کریں، آپ ایک اچھے نامور ریڈیو  جوکی ضرور رہے ہیں مگر ضروری نہیں کہ آپ ایک اچھے اداکار بھی ثابت ہوں، اپنے اندر پائی جانے والی غذائی قلت پر قابو پائیں، کچھ دن آرام کریں صحت بنائیں تاکہ لوگ بھی آپ کی اچھی اچھی باتوں کو سن کر اچھا اچھا محسوس کریں، اس وقت تو آپ ایک کمزور، غزائی قلت کا شکار مریض کی شکل اختیار کرچکے ہیں،جو انتہائی قابل رحم ہے۔ ہم آپ پر رحم کھارہے ہیں خدارا آپ ہم پر بھی رحم فرمائیے اور دوبارہ ہیرو کا کردار نبھانے سے گریز فرمائیے۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: