۔۔۔۔ تم جیتو یا ہارو ۔۔۔۔

0

فیصلہ آخر آہی گیا ہر کوئی اپنی اپنی بساط اور سمجھ کے مطابق سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو قانون جانتے ہیں وہ قانونی باتیں سمجھا رہے ہیں۔
جو عقل رکھتے ہیں وہ عقلمندی سے عقلی دلائل پیش کر رہے ہیں ۔
قوم کی اکثریت اشارے کی زبان جانتی اور سمجھتی ہے۔ اسی لیے جمہوریت میں اکثریت کی رائے کو مقدم سمجھا اور مانا جاتا ہے۔
قوم سمجھ رہی ہے فیصلہ کرنے والے تین اور دو میں تقسیم ہو گئے ہیں۔
کوئی دو انگلی اٹھا رہا ہے تو کوئی تیسری بھی ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے کسی کے کردار پر اگر ایک بھی انگلی اٹھ جائے تو کردار کا شیرازہ بکھر جاتا ہے ۔
قومیں اپنے لیڈروں سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ جب معیار یہ ہو جائے دو نے کہا ہے اور تین نے نہیں کہا ہے۔
ایمانداری کا درس جو آج دے رہے ہیں قوم اور میڈیا حیران ہے۔ درحقیقت اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیوں کہ اسی عدلیہ نے ان کو رہا کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا ۔
جب رہائی مل جاتی ہے تو آزادی شروع ہو جاتی ہے پوری قوم اور دنیا جانتی ہے ان لوگوں کی کرپشن ۔ اگر مانتے نہیں ہیں تو صرف ہمارے منصف۔
وہ کہتے ہیں ان اخباری ثبوتوں پر پکوڑے کھائے جا سکتے ۔ قوم سوال کرتی ہے یہ ردی کے اخبار بھی تو کسی ترازو میں تولے جاتے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔
اگر اخبار کی خبروں کی اہمیت نہیں ہوتی تو پھر ڈان لیک کی خبر کو اتنی اہمیت کیوں مل رہی ہے۔
دنیا پاکستانی قوم کے کردار کی طرف دیکھ رہی ہے۔ قوموں کے کردار کی پرورش انصاف کے ترازو کے سائے میں ہوتی یے۔
قانون اندھا ہو سکتا ہے مگر انصاف اندھا نہیں ہوتا ہے۔
ہم سبھوں نے بچن میں سنا تھا۔
پیسہ پھینک تماشا دیکھ”
آج پوری قوم دنیا کے آگے ایک تماشا بن گئ ہے ۔
جو جیتا وہ مٹھائیاں تقسیم کر رہا ہے اور جو ہارا وہ بھی مٹھائیاں تقسیم کر رہا ہے۔
تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے ۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: